Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیوایم کے شہداء کی یادگار فوج اورآئی ایس آئی نے مسمار کرائی۔ الطاف حسین


ایم کیوایم کے شہداء کی یادگار فوج اورآئی ایس آئی نے مسمار کرائی۔ الطاف حسین
 Posted on: 12/14/2019
ایم کیوایم کے شہداء کی یادگار فوج اورآئی ایس آئی نے مسمار کرائی۔ الطاف حسین 
 فوجی جرنیل یادگارشہدا کومسمار کرنے پر معافی مانگیں اور مہاجر شہداء کی یادگار توڑنے والوں کو گرفتارکریں
فوج نے شہیدوںکی یادگار مسمار کرکے صرف الطاف حسین کو اشکبار نہیں کیا بلکہ پوری قوم کو خون کے آنسو رلائے ہیں
ایم کیوایم کے قائدالطاف حسین کاہفتہ کی شب ہنگامی وڈیوخطاب

لندن۔۔۔15،دسمبر2019ئ
متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائد جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان کے مظلوم عوام اچھی طرح جان چکے ہیں کہ پاکستان کے فوجی جرنیلوں اورآئی ایس آئی نے 14، دسمبر کو یادگار شہداء مسمار کرائی،14، دسمبرکو سانحہ قصبہ علیگڑھ کرایا ، 16، دسمبرکو پاکستان دولخت کیا اور 16دسمبرکو ہی آرمی پبلک اسکول پشاور کے معصوم بچوں کے قتل عام کیا ہے ، انشاء اللہ ظالموں کا عبرتناک انجام ہوگااور مظلوم بلوچوں، پشتونوں، سندھیوں ، مہاجروں ، سرائیکیوں، گلگتیوں، بلتستانیوں اور ہزاروال کی فتح ہوگی۔ان خیالات کااظہار انہوںنے ہفتہ کی شام ہنگامی وڈیو خطاب میں کیا۔وڈیوکانفرنسنگ کے ذریعے اپنے براہ راست خطاب میںجناب الطاف حسین نے عزیزآباد میں یادگارشہدائے حق مسمار کیے جانے پر شدید غم وغصہ کا اظہارکیااورسانحہ قصبہ علیگڑھ کالونی،سانحہ مشرقی پاکستان، سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور کے سانحات پر خاموشی اختیارکرنے والے صحافیوں ، اینکرپرسنز اورتجزیہ نگاروں پربھی شدید تنقید کی ۔ انہوںنے کہاکہ اگر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اجازت دیں تو میں عالمی عدالت انصاف میں ثابت کرسکتا ہوں کہ آرمی پبلک اسکول پشاور میں معصوم بچوں کے قتل عام میں پاکستان کی فوج اورآئی ایس آئی ملوث ہے۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ سلطنت برطانیہ نے سازش کے تحت مذہب کی آڑمیں ہزاروں سال سے ایک زمین پر رہنے والوں کو تقسیم کردیا۔پاکستان میں علمائے کرام کی جانب سے وعظ اور خطبات میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، نماز ، روزہ ، حج اور جہاد کی باتیں تو کی جاتی ہیں لیکن 99.9 فیصدعلماء اپنی کمائی کے بجائے حکومت کے خرچ پر حج کرتے ہیں، بغیرتنخواہ کے نہ تو کوئی امام نماز پڑھاتا ہے اور نہ ہی کوئی مؤذن اذان دیتا ہے۔انہوںنے کہا کہ دین اسلام میں ایک ہی امام کے پیچھے نماز پڑھنے کا تصور نہیں ملتا اورحضوراکرم ۖ کے زمانے میں جوزیادہ معتبراور نیکوکار سمجھاجاتا تھا اسے باجماعت نماز کی امامت کیلئے آگے کردیا جاتا تھا، جہاںنماز پڑھانے اوراذان دینے کی قیمت وصول کی جاتی ہو اور حج دوسروںکے پیسے سے ادا کیاجاتا ہوان ممالک کا حال دنیا کے 57 مسلم ممالک جیسا ہی ہوتا ہے ، کوئی ایک بھی مسلم ملک ایسا نہیں ہے جو کسی بھی لحاظ سے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میںکھڑا ہو۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ مسجد، مندراور چرچ کی دیکھ بھال کیلئے انتظامیہ تو بنائی جاسکتی ہے لیکن مذہب کی تبلیغ کیلئے پیسے کی ضرورت نہیں ہوتی یہ نماز پڑھانے کیلئے کسی علماء کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اسی طرح بغیر کسی معاوضے کے محفل ذکرمصطفی ۖ یا ذکرحسین  منعقد کی جائے تو دعا اور ذکر میں اثر ہوتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان ، آئین کی شق 62-63 پرپورا نہیں اترتے، وہ تمام علمائے کرام جوموجودہ نام نہاد جمہوری حکومت اور وزیراعظم عمران خان کے قصیدے پڑھتے ہیں میں انہیں چیلنج د یتاہوںکہ وہ مجھے غلط ثابت کریں ،میں ثابت کردوں گا کہ معاوضہ لیکر نمازپڑھانے والا بھی غلط ہے اور عمران خان بھی غلط ہے ، عمران خان اسلامی اور معاشرتی لحاظ سے اس قابل نہیں ہے کہ وہ اس ملک کا وزیراعظم بن سکے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ بعض علما ئے کرام دوسروںکو جہاد کا درس دیتے ہیں لیکن ان میں کسی ایک نے بھی اپنے بچوں کو جہادپربھیج کر اللہ اور دین کیلئے قربان نہیں کیا۔اسی طرح قیام پاکستان سے آج تک جتنے بھی آرمی چیف آئے ، کورکمانڈرز آئے جو خود کوسب سے بڑا محب وطن قراردیکر جہاد فی سبیل اللہ کادرس دیتے رہے ان میں سے کسی ایک کانام بتائیں جس کی اولاد جہاد میں شہید ہوئی ہو۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ بائیں بازو نظریات سے تعلق رکھنے والے حسن ناصر شہید کے بعد کسی میں سچ بولنے کی جرات نہیں رہی، اس نظریے کے آخری فرد شہید وفاپروفیسر ڈاکٹر حسن ظفرعارف رہ گئے تھے جنہیں اسلام کا درس دینے والی ظالم پاکستانی فوج نے بلاجوازقتل کردیا جو دین اسلام پر کسی دھبہ سے کم نہیں ہیں۔ بائیں بازو یا خود کوماڈریٹ کہنے والے ٹی وی ٹاک شوز میں ہرظلم پربات کرتے ہیں لیکن اپنے ملک کی کمزور قومیتوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر نہ دائیں بازو والے بولتے ہیں اور نہ ہی بائیں بازو والے بولتے ہیں ۔ جب امریکہ نے سفاک پولیس افسر راؤ انوار کو بلیک لسٹ کیا تو ٹی وی پر تبصرے آنے لگے کہ اگر ہمارا ملک قانون کے مطابق جزا اور سزا کے معاملات طے کرتا تو امریکہ کو بلیک لسٹ کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی ، تجزیہ نگاروں کی جانب سے کہاجاتا ہے کہ راؤ انوار کے گھر کو سب جیل قراردے دیا گیا لیکن وہ آزادپھر رہا ہے ، سپریم کورٹ کا حکم نہیں مانا گیا اور اسے سپریم کورٹ کے خصوصی راستے سے لایاجاتاہے کیونکہ اس کے پیچھے ریاست ہے ۔ انہوں نے سوال کیاکہ ریاست کاکیامطلب ہے ؟ ریاست کومعنوی اعتبار سے ملک سے تشبیہ دی جاتی ہے اورریاست ایسی غیرجاندار چیز ہے جہاںجاندار انسان ، چرند پرند رہا کرتے ہیں۔ اگر یہ سچے ہوتے تو لفظ ریاست استعمال کرنے کے بجائے صاف صاف کہتے کہ پاکستان کی فوج، آئی ایس آئی ، ایم آئی ، کورکمانڈرز اور چیف آف آرمی اسٹاف سب سے بڑے جھوٹے ہیں۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ جمعہ کی شب فوج ، رینجرز ، پولیس او رسادہ لباس میں ملبوس اہلکاروں نے یادگارشہداء میں توڑپھوڑ کی اور مہاجروںکے جذبات مجروح کیے ہیں انشاء اللہ بہت جلد ایساظلم کرنے والوںپر اللہ کاقہرنازل ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ ڈاکٹروں اوروکیلوںکے جھگڑے کو ظلم کہنے والے اینکرپرسنز اب نہیں بول رہے کہ یادگارشہداء پر سفاکانہ کارروائی ظلم ہے ،میں انہیں حق پرست صحافی نہیں کہوں گاکیونکہ انہوںنے پروفیسر حسن ظفرعارف ، میرے بڑے بھائی ناصر حسین ، بھتیجے عارف حسین اور 25 ہزار مہاجرشہداء کا تذکرہ نہیں کیا، آپ الطاف حسین کا نام نہ لیںلیکن ظلم کو ظلم تو کہیں لیکن کسی نے آج تک یہ نہیں کہاکہ پروفیسر حسن ظفرعارف کو کس نے قتل کیاہے کیونکہ قتل کرنے والے فوج اور آئی ایس آئی کے لوگ تھے ۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ چاربرسوں سے یوم شہداء کے موقع پر یادگارشہداء اور شہداء قبرستان جانے والے تمام راستے بند کردیے جاتے ہیں ، ا س عمل کو کوئی ظلم نہیں کہتا، کوئی کھل کرنہیں کہتاکہ جن بزدلوںنے شہداء کی یادگارتوڑی ہے ایسے عناصر یزید ی فوج سے بھی بدتر ہیں ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ مہاجرشہداء کی یادگار نے تمہارا کیا بگاڑا تھا ، تم اس یادگار سے ڈرتے ہو۔ انہوںنے کہاکہ میری طرح کوئی جلاوطن لیڈر کھل کربات نہیں کرتا اورمیں آج ایک مرتبہ پھر کہہ رہا ہوں کہ آرمی پبلک اسکول پشاور میں فوج اورآئی ایس آئی نے طالبان کے ساتھ مل کر حملہ کیاتھالیکن ایک اینکر آرمی پبلک اسکول پشاور میں معصوم بچوں کے قتل عام کی ذمہ داری قبول کرنے والے احسان اللہ احسان کو اپنے پروگرام میں بلاکر اس سفاک قاتل کو دانشور، شاعر اور ادیب کہتا ہے ، ایسااینکرانسان کہلانے کامستحق نہیں۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان کی مظلوم قوموں کے ساتھ فوج نے جوظلم کیا ہے وہ اللہ جانتا ہے ، بلوچوں، پشتونوں اورسندھیوں کی ماؤں بہنوں کا حشر نشر کردیا لیکن پاکستان میں کوئی اینکر اور انسانی حقوق کی بات کرنے والا اس پر آوازبلندنہیں کرتا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے مظلوم اچھی طرح جان چکے ہیں کہ فوجی جرنیلوں اورآئی ایس آئی نے 14، دسمبر کو یادگار شہداء مسمار کرائی،14، دسمبرکو سانحہ قصبہ علیگڑھ کرایا ، 16، دسمبرکو پاکستان دولخت کیا اور 16دسمبرکو ہی آرمی پبلک اسکول پشاور کے معصوم بچوںکے قتل عام کیا ہے ، انشاء اللہ ظالموں کا عبرتناک انجام ہوگااور مظلوم بلوچوں، پشتونوں، سندھیوں ، مہاجروں ، سرائیکیوں، گلگتیوں، بلتستانیوں اور ہزاروال کی فتح ہوگی۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں ہندوؤں، سکھوں، عیسائیوں اور احمدیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں لیکن میرا وعدہ ہے کہ مظلوم قوموں کو جہاں جہاں آزادی ملے گی ان آزاد علاقوں میں کسی بھی غیرمسلم کے بنیادی انسانی حقوق پامال نہیں کیے جائیں گے نہ ان پر کوئی ظلم کرسکے گا۔ اگرمیری زندگی میں مذہب یاعقیدے کی بنیادپر کسی پر ظلم ہوا تو میں اس کے خلاف آواز احتجاج بلند کرنے کا یقین دلاتا ہوں۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ کیا تاریخ کے طلباء نے 1450 سالوں کی تاریخ میں کبھی پڑھا ہے کہ تقریباً ایک لاکھ کی تعداد میں پاکستانی فوج کے علاوہ کسی اورملک کی فوج نے دشمن کے سامنے ہتھیارڈالے؟ ان ظالم فوجی جرنیلوں کو مظلوم بلوچوں، پشتونوں، سندھیوں ، مہاجروں اوردیگر مظلوم قوم کے افراد کو غائب کرنے اور قتل کرنے کا بہت شوق ہے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ کیا تاریخ کے طلباء نے تاریخ میں کبھی پڑھا ہے کہ تقریباً ایک لاکھ کی تعداد میں پاکستانی فوج کے علاوہ کسی اورملک کی فوج نے دشمن کے سامنے ہتھیارڈالے؟ ان ظالم فوجی جرنیلوں کو مظلوم بلوچوں، پشتونوں، سندھیوں ، مہاجروں اوردیگر مظلوم قوم کے افراد کو غائب کرنے اور قتل کرنے کا بہت شوق ہے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ کئی دہائیاں گزرجانے کے بعد بھی پاکستانی فوج کا ساتھ دینے والے مہاجرین مشرقی پاکستان کو وطن واپس نہیں لایا گیا اورانہیں بنگلہ دیش میں ریڈ کراس کے 66 کیمپوںمیں کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبورکردیاگیا۔انشاء اللہ ایک دن مظلوم قوموں کوآزادی ملے گی اور آزاد قوم مہاجرین مشرقی پاکستان کو وطن واپس ضرور لائے گی ۔ 
انہوںنے کہاکہ ایک منظم سازش کے تحت کراچی اور حیدرآباد میں پٹھان مہاجر جھگڑے کرائے گئے ، قصبہ علیگڑھ ، سہراب گوٹھ میں بے گناہ مہاجروں کا قتل عام کرایا گیا،30، ستمبر1988ء میں آئی ایس آئی کے پے رول پر کام کرنے والے نام نہاد سندھی قوم پرستوں کو اسلحہ اور گاڑیاں فراہم کرکے حیدرآبادمیں بے گناہ مہاجروں کاقتل عام کرایا گیالیکن مہاجروں کے قتل عام کے خلاف کوئی صحافی یاتجزیہ نگار بات نہیں کرتا۔جناب الطاف حسین نے سندھی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اگر وہ آئی ایس آئی کے پے رول پر کام کرنے والے جعلی قوم پرستوں کا ساتھ دیں گے تو سندھ دھرتی ماں کے غدار کہلائے جائیں گے ۔ 
انہوںنے مہاجرقوم کے غداروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ان غداروں کو مہاجروں کا قتل عام دکھائی نہ دیا اور صرف پاکستان مردہ باد کے نعرہ یاد رہا ،یہ غداران قوم بھول گئے کہ انہیں منتخب ایوانوں کی رکنیت شہیدوں کی قربانیوں کی ہی بدولت ملی تھیں ورنہ انہیں گلی کا کتا بھی نہیں جانتا تھا،وہ آج جس مقام اورپوزیشن پر ہیں وہ شہیدوں کی قربانیوں کی مرہون منت ہے لیکن افسوس ان غداروںنے رینجرز کے ساتھ مل کر مہاجرقوم کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے، انہیں بھی شہیدوں کی یادگارکی توڑپھوڑ کا حساب دینا ہوگا۔فاروق ستار کہتا ہے کہ مودی سے مددمانگنے پر نظریں جھک گئیں لیکن جب اس کے کوآرڈی نیٹر آفتاب احمد کو بلاجواز ماورائے عدالت قتل کیاگیا تھا تو اس وقت اسکی نظریں کیوں نہیں جھکیں؟جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہمارے ہزاروں معصوم نوجوانوں کو ریاستی آپریشن کے دوران ماورائے عدالت قتل کیاگیا، سابق وفاقی وزیرداخلہ چوہدری شجاعت حسین نے سینیٹ میں اعتراف کیاتھا کہ پیپلزپارٹی کے وزیرداخلہ نصیراللہ بابر نے ایم کیوایم کے کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کرکے ان کی لاشیں اسلام آباد کی مارگلہ پہاڑیوںمیں دفنادی تھیں، میرے بڑے بھائی ناصر حسین اور بھتیجے عارف حسین کو جس کے دورحکومت میں ماورائے عدالت قتل کیاگیا ، قدرت نے پولیس کے ذریعے اس کے بھائی کو ماورائے عدالت قتل کرادیا۔ انہوں نے پاکستان کے فوجی جرنیلوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ یادگارشہدا کومسمار کرنے پرآرمی وا لے معافی مانگیں اور مہاجر شہداء کی یادگار توڑنے والوں کو گرفتارکریں،فوج نے شہیدوںکی یادگار مسمار کرکے صرف الطاف حسین کو اشکبار نہیں کیا بلکہ پوری قوم کو خون کے آنسو رلائے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اگر فوج کے جرنیل جہاد فی سبیل اللہ کرسکتے ہوتو ہم جہاد حقوق العباد کریں گے ۔ جناب الطاف حسین نے تحریک کے تمام شہداء کو زبردست خراج عقیدت بھی پیش کیا۔
٭٭٭٭٭


6/3/2020 7:15:07 AM