Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

جلد خلیجی ممالک میں وفاپرستوں کی ایک نئے نام سے تنظیم کا اعلان کردیا جاأے گا، قاأد تحریک الطاف حسین


 Posted on: 11/15/2019

جلد خلیجی ممالک میں وفاپرستوں کی ایک نئے نام سے تنظیم کا اعلان کردیا جاأے گا، قاأد تحریک الطاف حسین

نظریہ دینے والی شخصیت کبھی اپنے مشن ومقصد اورنظریہ سے کبھی انحراف نہیں کرتی، الطاف حسین

جب جب شہداأ کے لواحقین کاذکراۤءے گااس میں الطاف حسین کا نام لازمی لیاجاأے گا، الطاف حسین

حق پرستی کی اس جدوجہد میں میرا پورا خاندان دربدر ہوگیا،الطاف حسین

ایک بڑی بہن کے سوا تمام بہن بھاأیوں کو اپنے بھرے گھروں کو تالا لگاکر ملک چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا،الطاف حسین

پروفیسرحسن ظفرعارف نے حق پرستی کاراستہ ترک نہ کیااوراۤخری سانس تک عہدوفانبھایاتو انہیں بھی ماوراأے عدالت قتل کردیا گیا

ہمیشہ ریاستی مظالم کے خلاف پرامن اور جمہوری احتجاج کا درس دیا ہے اورکبھی پرتشدد کاررواأی کی تلقین نہیں کی،الطاف حسین

برصغیر کی تقسیم سے صرف جغرافیہ تقسیم نہیں ہوا تھا بلکہ خاندان بھی تقسیم ہو"ے تھے ، یہ مسلمانوں کی تقسیم تھی ،الطاف حسین

اس تقسیم کے نتیجے میںبرصغیرکے مسلمانوں کی طاقت تین ممالک میں تقسیم ہوگئی،الطاف حسین

میری جدوجہد کا بنیادی مقصد مظلوم قوموںکو متحد کرکے ظلم وجبرکے فرسودہ نظام نجات حاصل کرناہے، الطاف حسین

سعودی عرب کے وفاپرست ذمہ داران وکارکنان سے ٹیلی فون پر خطاب

لندن۔۔۔15، نومبر2019ئ

    متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقاأد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ بہت جلد خلیجی ممالک میں وفاپرستوں کی ایک نئے نام سے تنظیم کا اعلان کردیا جاأے گا۔ یہ بات انہوںنے سعودی عرب کے وفاپرست ذمہ داران وکارکنان سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہو"ے کہی ۔ اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ 19، جون1992ئ کے فوجی اۤپریشن کے دوران سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ریاستوں میں مقیم کارکنان نے محنت ولگن اورجانفشانی سے تحریکی جدوجہد جاری رکھی اور تحریک کو مالی مشکلات سے نکالنے کیلئے بڑھ چڑھ کر کام کیا، اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ خلیجی ممالک میں مقیم کارکنان کی اکثریت مشکل اورکٹھن حالات کے باوجود اۤج بھی ذہنی اورروحانی طورپر اپنے عہدوفاکو نبھارہی ہے جس پرمیں انہیں سلام تحسین پیش کرتاہوں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں اپنی فکری نشستوں میں باربار واضح الفاظ میں بتاتارہاہوں کہ تحریک میں شامل فرد خواہ کسی بھی مقام یاعہدے پر فاأزہواور بظاہرکتناہی مخلص کیوں نہ دکھاأی دے لیکن وہ کسی نہ کسی وقت اپنے وعدے اور حلف سے انحراف کرسکتا ہے لیکن تحریک میں صرف ایک شخصیت ایسی ہوتی ہے جو اپنی جان تو دے سکتی ہے لیکن اپنے مشن ومقصد اورنظریہ سے کبھی انحراف نہیں کرتی اور وہ صرف اورصرف نظریہ دینے والی شخصیت ہوتی ہے ۔انہوںنے کہاکہ قاأد کسی فیکٹری یا یونیورسٹی میں پیدا نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ جس کو قاأد بناتاہے وہ سقراط کی طرح زہر کا پیالہ تو پی لیتا ہے مگراپنے نظریے سے انحراف نہیںکرتا۔

جناب الطاف حسین نے کہاکہ خلیجی ممالک میں مقیم ساتھیوں کو بعض مجبوریوں کے تحت فلاحی تنظیم کے تحت کام کرناپڑتا ہے لیکن اب ہم محبان پاکستان کے نام سے تنظیمی کام نہیں کریں گے، ایسا نام رکھاجاأے گا جس میں انسانیت کا درس ملتا ہو اور بہت جلد خلیجی ممالک میں وفاپرستوں کی تنظیم کے نئے نام کا اعلان کردیا جاأے گا۔ انہوں نے کہاکہ الطاف حسین کوطعنے دیئے جاتے رہے ہیں کہ لیڈرکا تقاریر کرکے لوگوں کو جذبات میں لانا اور ان سے قربانیاں لینا بہت اۤسان ہوتاہے مگر کو"ی لیڈراپنے گھرسے کسی کی قربانی دینے کیلئے تیار نہیں ہوتا لیکن ایم کیوایم کی تاریخ میں جب جب شہداأ کی قربانیوں کا تذکرہ اۤءے گا اور شہداأ

کے لواحقین کی بات کی جاأے گی تو شہداأ کے لواحقین میں الطاف حسین کا نام لازمی لیاجاأے گا۔ انہوںنے کہاکہ حق پرستی کی اس جدوجہد میں میرے 77 سالہ بڑے بھاأی ناصر حسین اور 28 سالہ بھتیجے عارف حسین کو بلاجواز گرفتارکرکے تین دن تک وحشیانہ تشدد کا نشانہ بناکر ماوراأے عدالت قتل کردیا گیا، میرے بہنو"ی اسلم ابراہانی کو گرفتارکرکے اڈیالہ جیل میں بدترین تشددکا نشانہ بنایاگیاجس سے وہ جانبر نہ ہوسکے ، اسی طرح میرے بڑے بھاأی افضال حسین کو نیشنل موٹرز میں اس قدر تشدد کا نشانہ بنایاگیا کہ وہ اپنا ذہنی توازن کھوبیٹھے اور ان پر ڈھاأے جانے والا تشددجان لیوا ثابت ہوا۔ انہوں نے کہاکہ حق پرستی کی اس جدوجہد میں میرا پورا خاندان دربدر ہوگیا، میری ایک بڑی بہن کے سوا تمام بہن بھاأیوں کو اپنے بھرے گھروں کو تالا لگاکر ملک چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔

    جناب الطاف حسین نے کہاکہ 7 ستمبر2015ئ کو لاہورہاأی کورٹ نے میری تحریر، تقریراورتصویر کو نشر وشاأع کرنے پر پابندی عاأد کی جوکہ اۤج کے دن تک جاری ہے لیکن ستم یہ ہے کہ اس پابندی کے باوجود میڈیاپر فوجی اسٹیبلشمنٹ کے نمک خوار اینکرپرسنز اور تجزیہ نگارمیرا نام لیکر مجھ پر بہتان تراشی کرتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ اس پابندی کے بعد میں نے پہلے سوشل میڈیاکے ذریعے اۤڈیو خطابات کیے اور پھر وڈیو خطابات کاسلسلہ جاری رکھا ۔ میںنے ہمیشہ ریاستی مظالم کے خلاف پرامن اور جمہوری احتجاج کا درس دیا ہے اورکبھی پرتشدد کاررواأی کی تلقین نہیں کی ۔ ماضی میں جب مہاجربستیوں پر حملے کیے گئے ، مہاجربستیوں کو اجاڑا گیا تومیںنے کبھی کسی کی بستی پر حملے کادرس نہیں دیابلکہ اگرکہیں اس کے ردعمل میں بعض مشتعل نوجوانوںنے غریبوں کے ٹھیلے جلاأے تو میں نے اس کا فوری نوٹس لیکر متاثرین کو ناأن زیروعزیزاۤباد بلاکر انہیں ان کے نقصان کا معاوضہ ادا کیااور انہیں بتایاکہ یہ ایک سازش کے تحت کیاگیا ہے جبکہ ایم کیوایم کی کسی قومیت سے کو"ی لڑاأی نہیں ہے ۔

    جناب الطاف حسین نے کہاکہ برصغیر کی تقسیم سے صرف جغرافیہ تقسیم نہیں ہوا تھا بلکہ خاندان بھی تقسیم ہو"ے تھے ، یہ مسلمانوں کی تقسیم تھی ، اس تقسیم کے نتیجے میں برصغیرکے مسلمان بھارت ، پاکستان اور بنگلہ دیش میں تقسیم ہوگئے اور برصغیرکے مسلمانوں کی طاقت تین ممالک میں تقسیم ہوگئی۔ انہوںنے کہاکہ بنگالی زیادہ سمجھ دار تھے انہوںنے 25 سال پنجابی اسٹیبلشمنٹ کے مظالم اورناانصافیوں کو برداشت کیا اور لاکھوں جانوں کی قربانی دیکر علیحدہ وطن حاصل کرلیا۔ جناب الطاف حسین نے کہ اۤج بھی ایم کیوایم کے ہزاروں کارکنان جیلوں میں اسیرہیں، ماوراأے عدالت قتل کردیئے گئے اورجبری طورپر لاپتہ کردیئے گئے جنہیں ان کے والدین کے سامنے گرفتارکیاگیا تھا لیکن ریاست ان کی گرفتاری سے انکارکرتی ہے ، عدالتوں میں پٹیشن داأر ہیں لیکن ہمیں عدالتوں سے بھی انصاف نہیں ملتا ۔انہوںنے سوال کیا کہ ایسے ملک کی سلامتی کیسے ممکن ہوسکتی ہے جس کی عدالتیں اپنے شہریوں کو انصاف فراہم نہ کرسکیں۔ ظلم کی انتہاأ یہ ہے کہ 73 سالہ بزرگ دانشور پروفیسر حسن ظفرعارف جنہوں نے 40 سال تک جامعہ کراچی میں لاکھوں طلباأ کو زیورعلم سے اۤراستہ کیا جب انہوںنے ریاستی مظالم کے خلاف میدان عمل میں اۤنے کا فیصلہ کیا تو انہیں بلاجوازگرفتارکرکے چھ ماہ قیدمیں رکھا گیا اورانہیں الطاف حسین کا ساتھ دینے کی پاداش میں سنگین نتاأج کی دھمکیاں دی گئیں لیکن جب انہوںنے حق پرستی کاراستہ ترک نہ کیااوراۤخری سانس تک عہدوفانبھایاتو انہیں بھی ماوراأے عدالت قتل کردیا گیا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ یہی مظالم بلوچوں ، پشتونوں، سندھیوں اوردیگرمظلوم قوموں پر ڈھاأے جارہے ہیں اور میری جدوجہد کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ مظلوم قوموںکو متحد کرکے ظلم وجبرکے فرسودہ نظام اورپنجابی اسٹیبلشمنٹ کی اجارہ داری سے نجات حاصل کی جاأے ۔ انہوںنے تمام وفاپرستوں پر زوردیاکہ وہ اسی طرح ثابت قدمی سے اپنی جدوجہد جاری رکھیں ، حالات کے جبر سے ہرگز مایوس نہ ہوں ،ہماری جدوجہد تمام تر کٹھن اورمشکل حالات کے باوجود منزل کے حصول تک جاری رہے گی اورانشاأ اللہ فتح مظلوم قوموں کا مقدرثابت ہوگی۔

٭٭٭٭٭



12/15/2019 10:45:47 AM