Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

عمران خان کشمیر کے نام پر امریکہ اوردنیابھرمیں ملت اسلامیہ کاچورن بیچنے کی کوشش کررہے ہیں۔ الطاف حسین


عمران خان کشمیر کے نام پر امریکہ اوردنیابھرمیں ملت اسلامیہ کاچورن بیچنے کی کوشش کررہے ہیں۔ الطاف حسین
 Posted on: 9/30/2019

عمران خان کشمیر کے نام پر امریکہ اوردنیابھرمیں ملت اسلامیہ کاچورن بیچنے کی کوشش کررہے ہیں۔ الطاف حسین

اسلامی ممالک اورپوری دنیامذہب کے نام پرنگ وجدل سے باہر اۤگئی ہے، یہ مذہب کے نام پرجنگ کانہیں امن کازمانہ ہے

امریکہ میں نریندر مودی سب کی توجہ اوردلچسپی کامرکز بنے ہو"ے تھے، یہ عوام کے منتخب کردہ اورفوج کے '' سلیکٹڈ '' وزیراعظم کافرق ہے

انٹرنیشنل کمیونٹی اپنے نماأندے پاکستان بھیجے اوردیکھے کہ مہاجروں، بلوچوں،پشتونوںاوردیگر اقلیتوںپر کیسے مظالم ڈھاأے جارہے ہیں

2013ئ سے ہم پر غیراعلانیہ مارشل لاأ نافذ ہے، ہماری تمام سیاسی وفلاحی سرگرمیوںپرپابندی عاأد ہے،تین سال سے میراگھرسیل ہے

میں مہاجروں کوانصاف دلانے کےلئے عالمی عدالت میں جاناچاہتاہوں لیکن ہم مالی مشکلات کے سبب ایساکرنے سے قاصر ہیں

اگر دنیاکاکو"ی بھی ملک ہماری مالی معاونت کرے تومیں عالمی عدالت انصاف میں اپنامقدمہ پیش کرسکتا ہوں،

اۤرمی چیف اوراۤءی ایس اۤءی کے سربراہ کوپیشکش کرتاہوں کہ وہ ریاستی اۤپریشن بندکرکے Truth and Reconciliation Commission قاأم کریں تو میں مہاجروں کے ساتھ ساتھ بلوچوں، پشتونوںکوبھی مصالحت پر اۤمادہ کرسکتاہوں

ایم کیوایم کے قاأدالطاف حسین کاسوشل میڈیا کے ذریعے کارکنان وعوام سے براہ راست خطاب

لندن ۔۔۔۔۔۔ 29 ستمبر 2019ئ

ایم کیوایم کے قاأدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ اسلامی ممالک اورپوری دنیامذہب کے نام پر لڑاأی اورجنگ وجدل سے باہر اۤگئی ہے لیکن جنرل ضیا کے بعد اب عمران خان کو ملت اسلامیہ کومتحدکرنے کابخارچڑھ گیاہے اوروہ فوج کے اشارے پرکشمیر کے نام پر امریکہ اوردنیابھرمیں ملت اسلامیہ کاچورن بیچنے کی کوشش کررہے ہیں۔پاکستان کی فوج نے اپنے مفادات کےلئے ہمیشہ اسلام کواستعمال کیاہے اوروہ اسلام کے چورن سے پاکستان کے عوام اور پوری دنیاکوبیوقوف بنانی رہی ہے، اب عمران خان کے ذریعے ایک بارپھرپاکستان کے عوام اوردنیاکوالوبنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار اتوار کی شام لندن سے سوشل میڈیاکے ذریعے کارکنان وعوام سے اپنے تفصیلی خطاب میں کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے پاکستان اور انڈیا کے وزراأے اعظم کے دورہ امریکہ کاتقابلی جاأزہ پیش کیااوروزیراعظم عمران خان کی جنرل اسمبلی سے خطاب ، پاکستان میں مہاجروں، بلوچوں، پشتونوں اور دیگر مظلوم قوموںاورمذہبی اقلیتوںپر ڈھاأے جانے والے مظالم کے حوالے سے تفصیلی اظہارخیال کیا۔ ان کایہ خطاب دوگھنٹے سے زاأد وقت تک جاری رہا۔

پاکستان اور انڈیا کے وزراأے اعظم کے دورہ امریکہ کاموازنہ کرتے ہو"ے انہوںنے کہاکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے دنیا بھر کے سربرابان حکومت گئے تھے لیکن سب جگہ انڈیا کے وزیراعظم نریندرمودی اور پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے دورے کازکرہے ۔ انہوںنے کہا کہ اس دورے کے دوران اگرشانداراستقبال، عز ت افزاأی،احترم، جوش وجذبے، جراتمندانہ تقریرکاموازنہ کریںتو سب یہی کہہ رہے ہیںکہ انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی سب کی توجہ اوردلچسپی کامرکز بنے ہو"ے تھے ۔ ہیوسٹن میں تاریخی جلسہ میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اورانڈیاکے وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان جوپیار، محبت،دوستی اورگرمجوشی نظراۤءی اسے پوری دنیانے دیکھا، ایسالگ رہاتھاکہ دونوں بچپن کے دوست ہوں۔ اسی طرح دونوں وزراأے اعظم کی صدرڈونلڈٹرمپ سے ملاقاتوں میں جوباڈی لینگویج اورگفتگو تھی وہ بھی سب نے دیکھی۔ انہوں نے کہاکہ دراصل یہ عوام کے منتخب کردہ اورفوج کے '' سلیکٹڈ '' وزیراعظم کافرق ہے۔ نریندر مودی کوانڈیاکے عوام نے منتخب کیاہے جبکہ عمران خان کوپاکستان کی فوج نے '' سلیکٹ '' کیاہے اسی لئے ہرجگہ عوام کے منتخب لوگوںکی عزت ہوتی ہے۔

جناب الطاف حسین نے کہاکہ عمران خان نے امریکہ کے دورے میں ہونے والی ملاقاتوں اوراقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں کشمیرکی اۤڑ میں ملت اسلامیہ اوراسلام کاچورن بیچنے کی کوشش کی لیکن اۤج او اۤءی سی کے رکن ممالک سمیت پوری اسلامی دنیااس جھگڑے سے باہراۤچکی ہے، سب سمجھ گئے ہیں کہ یہ مذہب کے نام پر عوام کواۤپس میں لڑانے اورجنگ وجدل کانہیں بلکہ امن کازمانہ ہے، یہ جہاد اورمذہب کے نام پر لوگوںکودوسرے ممالک میں بھیج کر دہشت گردی کرانے کادورنہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیرکے معاملے پر سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات تک نے پاکستان کاساتھ نہیں دیا۔ اب ملت اسلامیہ اور مسلم امہ کے نام پر دنیا کوالونہیں بنایاجاسکتا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں کہاکہ کشمیر میں پچاس دنوںسے انڈیاکی فوج نے کشمیریوںکومحصورکررکھاہے، اس طرح انہوں نے دنیاکویہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ انہیں کشمیریوںکابڑا دکھ ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں امریکہ سمیت پوری انٹرنیشنل کمیونٹی سے کہتاہوںکہ وہ پاکستان میں اپنے نماأندے بھیجیں اوردیکھیں کہ وہاں مہاجروں، بلوچوں، پشتونوں،سندھیوں، سراأیکیوں، گلگت، بلتستان ، ہزارے وال کے مظلوم عوام پر کیسے کیسے مظالم ڈھاأے جارہے ہیں، کس طرح اپنے جاأز حقوق مانگنے پر ان کو ریاستی طاقت کے ذریعے کچلنے کی کوشش کی جارہی ہے ، ان کاماوراأے عدالت قتل کیاجارہاہے، انہیں لاپتہ کیاجارہاہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر گزشتہ 72 سالوں میں انڈین کشمیراورپاکستان میں ریاستی مظالم کے نتیجے میں مارے جانے والے افراد کی تعداد کاموازنہ کیاجاأے توجتنے لوگ انڈین کشمیرمیں مارے گئے ہیں اس سے کئی گنازیادہ مہاجر، بلوچ ،پشتون، سندھی، ہزارے وال، گلگت بلتستانی، اہل تشیع اوردیگرکمیونٹیز کے افراد پاکستان میں فوج، رینجرزاور سیکوریٹی فورسز کے ہاتھوں قتل کئے گئے ہیں، ان کی اجتماعی قبریں ملی ہیں، ہمارے شہیدوں کی میتوںسے قبرستان بھرے پڑے ہیں۔صرف 1992ئ سے ایم کیوایم کے خلاف بالخصوص اورمہاجروںکے خلاف بالعموم ہونے والے ریاستی اۤپریشن کے دوران 17ہزار سے زاأد مہاجر بیدردی سے شہید کئے گئے جن میں نوجوانوںکے ساتھ ساتھ بزرگ بھی شامل ہیں۔ انہوں نے ایم کیوایم کے بزرگ رہنماپروفیسر ڈاکٹرحسن ظفر عارف شہید اورنوجوان کارکن اۤفتاب احمد شہید کے سفاکانہ قتل کاخصوصی زکرکرتے ہو"ے ان کی وڈیوزاورتصاویر بھی دکھاأیں ۔ انہوںنے کہاکہ سابق اۤرمی چیف جنرل راحیل شریف نے رینجرز کی حراست میں اۤفتاب احمدشہید کے ماوراأے عدالت قتل کی تحقیقات کرانے اورذمہ داروں کوسزادینے کااعلان کیاتھالیکن وہ صرف اعلان کی حد تک رہا۔ انہوں نے مزیدکہاکہ ہرسال یوم شہداأ کوہمارے شہید وںکے لواحقین ، نوجوان، بزرگ، ماأیں بہنیں بچے اپنے شہیدوں کی یادگارپر جاناچاہتے ہیں لیکن پیراملٹری رینجرز، پولیس اورسیکوریٹی ایجنسیز کے لوگ ان پر تشددکرتے ہیں، ان کوگرفتارکرتے ہیں، ہماری ماوئںبہنوںپر گنیں تانتے ہیںاوراپنے شہیدوں کی یادگارپرفاتحہ پڑھنے تک کی اجازت انہیں دی جاتی ، 2013ئ سے ہم پر غیراعلانیہ مارشل لاأ نافذ ہے، ہماری تمام سیاسی وفلاحی سرگرمیوںپرپابندی عاأد ہے،تین سال سے میراگھرسیل ہے، تمام دفاترمسمار یاسیل کردیے گئے ہیں۔

جناب الطاف حسین نے انڈیا کے رہنماوئںاورعوام کومخاطب کرتے ہو"ے کہاکہ ہم تقسیم ہند سے قبل اۤپ کے ساتھ ہی پیارمحبت سے رہتے تھے، تقسیم ہند سے ہم تقسیم ہوگئے ، ہم یوپی ،سی پی،بہار، حیدراۤباد دکن، لکھنو، اۤگرہ، دہلی، علی گڑھ اوربیشترعلاقوںسے ہجرت کرکے اۤءے ، ہمارے اۤباوأجدادکی قبریں اور یادگاریں اۤج بھی انڈیا میں موجود ہیں، ہم 70ملین مہاجروںکواۤج 72سال گزرجانے کے باوجود پاکستان میں برابرکاشہری نہیں سمجھاجاتا، ہمارے ساتھ اۤج بھی تیسرے اورچوتھے درجے کے شہریوں جیساسلوک کیاجاتاہے، اپناجاأزحق مانگنے پر ہمیں برسوںسے ریاستی مظالم کانشانہ بنایاجارہاہے، اب تک 22ہزار مہاجروںکوشہید کیاجاچکاہے، اب بھی ایم کیوایم کے ایک ہزارکارکن لاپتہ ہیںجبکہ دس ہزارسے زاأد کارکنان اۤج بھی مختلف جیلوںمیں قید ہیں، ہمارے شہداقبرستان بھرے پڑے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ میں مہاجروں کوانصاف دلانے کےلئے عالمی عدالت میں جاناچاہتاہوں اوردنیاکو بتانا چاہتا ہوں کہ پاکستان میںمہاجروں اوردیگرمظلوم قوموںکے ساتھ کیاہورہاہے لیکن ہم مالی مشکلات کے سبب ایساکرنے سے قاصر ہیں۔ انہوںنے کہاکہ اگر امریکہ، برطانیہ، انڈیایا انسانی حقوق پر یقین رکھنے والادنیاکاکو"ی بھی ملک ہماری مالی معاونت کرے تومیں عالمی عدالت انصاف میں اپنامقدمہ پیش کرسکتا ہوں، اگرمیں انٹرنیشنل کورٹ میںمہاجروں، بلوچوں، پشتونوںاوردیگرقوموںکے ماوراأے عدالت قتل ،جبری گمشدگیوںاورمظالم کوثابت نہ کرسکوں تومیں ہر سزابھگتنے کے لئے تیارہوں۔ انہوںنے مزیدکہاکہ پاکستان میں مہاجروںاوریگرقوموںپر اس قدرمظالم ڈھاأے جاتے ہیں لیکن یہ انتہاأی افسوسناک بات ہے کہ انڈیاکامیڈیاان مظالم کواجاگرنہیں کرتااوردنیاکونہیں بتاتاکہ پاکستان کی فوج اورپیراملٹری فورسزاپنے ہی شہریوںپر کیاکیامظالم ڈھارہی ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ انٹرنیشنل کمیونٹی کومہاجروں، بلوچوں،پشتونوں ،سندھیوں اورتمام مظلوم قوموںکی ہرطرح سے مددکرناچاہیے ، یہ غلط نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے چارٹرکے تحت جاأز ہے ۔انہوںنے کہاکہ یہ بات میں نہیں بلکہ پاکستان کے سابق سفیروں نے خودمیڈیاپر بیٹھ کرواضح الفاظ میں بیان کی ہے کہ جس گروپ پربھی ظلم ہو اوراس کے لئے سارے راستے بندہوںتواقوام متحدہ کے چارٹرکے تحت اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ دنیامیں کسی بھی ملک سے مدد حاصل کرے اوردنیاکوبھی اس گروپ کی مدد کرناچاہیے ، ایساکرنا اقوام متحدہ کے چارٹرکے تحت جاأز ہے ۔

جناب الطا ف حسین نے کہاکہ عمران خان نے امریکہ کے دورے پر کہاکہ پاکستان نے تمام جہادی تنظیموں پر پابندی لگارکھی ہے جوکہ سراسر جھوٹ ہے، کالعدم تنظیموںکواۤج بھی کام کرنے کی اۤزادی حاصل ہے، حافظ سعید کواۤج بھی سرکاری تعاون حاصل ہے، پاکستان کی درخواست پر ہی حافظ سعید کابینک اکاوئنٹ بحال کردیاگیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ عمران خان انڈیا میں کشمیر یوںاوراقلیتوںپر ظلم کی بات کرتے ہیں لیکن پاکستان میں لسانی اکاأیوں کے ساتھ ساتھ ہندووئں، عیساأیوں، احمدیوں اوراہل تشیع کے ساتھ جو زیادتیاں کی جارہی ہیں ، انہیں جس طرح مظالم اورامتیازی سلوک کانشانہ بنایاجارہاہے وہ کسی سے ڈھکاچھپانہیں ہے، پاکستان میں ہندو لڑکیوں کی جبری شادیاں کرانے کےلئے ان کامذہب تبدیل کیاجارہاہے، مندروںاورگرجاگھروںکونقصان پہنچایا جارہاہے، اہل تشیع اوراحمدیوںکوکافرکہہ کرمارا جارہاہے، حتیٰ کہ انہیں بازاروںمیں خریداری سے روکنے اورمکانات کراأے پرلینے تک سے روکنے کے لئے باقاعدہ پوسٹرلگاأے جارہے ہیں، کیاپاکستان اسلئے بنایا گیا تھا؟ انہوں نے کہاکہ جب میں ان مظالم کواٹھاتاہوں اورحقاأق بیان کرتاہوںتومجھ پر انڈین ایجنٹ ہونے کاالزام لگایاجاتاہے، میں کسی کاایجنٹ نہیں، میں مظلوم عوام کاایجنٹ ہوںاورجب تک میرے جسم میںجان ہے میں ان مظالم کے خلاف اۤواز بلند کرتارہوںگا۔ میراقصور یہ ہے کہ میں نے سرکاری ایجنسیوں کے ہاتھوں اپناسوداکرنے سے انکارکردیاکیونکہ مجھے اپنے کاز اوراپنے عوام سے محبت ہے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہاکہ اگرمیں کشمیرمیںہوتااورفوج میرے گھر والوں اور بہنوںپر ہاتھ ڈالتی تومیں بھی ہتھیاراٹھالیتا۔ انہوں نے کہاکہ عمران خان جواب دیںکہ جب مہاجروں، بلوچوں، پشتونوں کے ہزاروں بے گناہ نوجوانوں کو پکڑ پکڑکرسفاکی سے ماوراأے عدالت قتل کیاجاأے، ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکی جاأیں، ان کی بہنوں بیٹیوںکواٹھایاجاأے، ان پر گنیں تانیں جاأیں اوران مظالم پر اگروہ ہتھیاراٹھاأیںتواسے ناجاأز اوردہشت گردی کیسے قراردیا جاسکتاہے۔ جناب الطاف حسین نے پاکستان کے اۤرمی چیف اۤف جنرل قمرباجوہ، اۤءی ایس اۤءی چیف اوراسٹیبلشمنٹ کومخاطب کرتے ہو"ے کہاکہ میں تنازعات کے حل کیلئے ساوئتھ افریقہ کے عظیم رہنمانیلسن مینڈیلا کےTruth and Reconciliation Commission کا حامی ہوں اوراۤج ایک بارپھر فوج اوراۤءی ایس اۤءی کے سربراہ کوپیشکش کرتاہوں کہ اگر وہ اۤج بھی مہاجروںاورتمام مظلوم قوموںکے خلاف جاری ریاستی اۤپریشن بندکرکے Truth and Reconciliation Commission قاأم کریں تو میں مہاجروں کے ساتھ ساتھ بلوچوں، پشتونوںکوبھی مصالحت پر اۤمادہ کرسکتاہوں لیکن شرط یہ ہے کہ یہ ماضی کی طرح نہیں ہوناچاہیے کہ بلوچوںسے قراۤن پر ہاتھ رکھ کرقسم کھاأی گئی کہ اگروہ پہاڑوںسے نیچے اتراۤءیں توان کے ساتھ کو"ی زیادتی نہیں ہوگی بلکہ ان کے مطالبات کوتسلیم کیاجاأے گالیکن جب وہ نیچے اترے توان کوگرفتارکرکے پھانسیاں دیدی گئیں۔ اب ایسانہیں ہوناچاہیے، جس جس نے بھی معصوم وبے گناہوںکو بے قصورمارا ہے اورظلم کیاہے اسے Truth and Reconciliation Commission کے سامنے پیش ہوکر سچاأی اورنیک نیتی کے ساتھ ساتھ اپنے جرم کااعتراف کرناہوگا اورانصاف کرناہوگا۔ انہوںنے مزیدکہاکہ میں جنگ کانہیں امن کاحامی ہوں ، میں لڑاأی نہیں بلکہ پرامن طریقے سے ہی مساأل کوحل کرناچاہتاہوں، میری کسی سے کو"ی ذاتی دشمنی نہیں ، میں اپنے لوگوں کے حقوق اوران کے ساتھ انصاف چاہتاہوں۔

٭٭٭٭٭


10/20/2019 9:12:34 PM