Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

کشمیر سے زیادہ ظلم کراچی، حیدراۤباد اورسندھ کے شہری علاقوں میں ہورہاہے۔ڈاکٹرندیم احسان


کشمیر سے زیادہ ظلم کراچی، حیدراۤباد اورسندھ کے شہری علاقوں میں ہورہاہے۔ڈاکٹرندیم احسان
 Posted on: 8/22/2019

کشمیر سے زیادہ ظلم کراچی، حیدراۤباد اورسندھ کے شہری علاقوں میں ہورہاہے۔ڈاکٹرندیم احسان

مقبوضہ کشمیر کے رہنماوئںکوصرف نظربند کیا جاتا ہے جبکہ کراچی میں ایم کیوایم کے رہنماوئں، کارکنوں کو گرفتار کرکے ماوراأے عدالت قتل کردیاجاتا ہے، لاپتہ کردیاجاتاہے

ہمارے کارکنوں، ماوئں، بہنوں اوربزرگوںکواپنے شہیدوں کی یادگارپر جانے اورفاتحہ پڑھنے تک کی اجازت نہیں

کراچی اورسندھ کے شہری علاقے مقبوضہ بنے ہو"ے ہیں، میڈیاپرقدغن ہے، ان مظالم کورپورٹ تک نہیں کرسکتا

کشمیرکی صورتحال پر احتجاج کرنے والے کراچی ،حیدراۤباداورسندھ کے شہری علاقوں میں ظلم بند کرنے پر تیارنہیں ہیں

اسٹیبلشمنٹ چاہے کتنے ہی مظالم ڈھالے ہم قاأدتحریک الطاف حسین کاساتھ نہیں چھوڑیںگے اور حقوق کی جدوجہد جاری رکھیںگے

گراوئنڈ پر کھڑے ہونے کادعویٰ کرنے والوںنے شہیدوں کے لہو کاسوداکیا، اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ملکرتحریک پرقبضہ کیا

22 اگست 2016ئ کے حوالے سے مناأے جانے والے '' یوم عزم وفا '' کے موقع پر وڈیوبریفنگ سے خطاب

تمام ترریاستی مظالم کے باوجود قاأدتحریک الطاف حسین سے وفانبھانے والے تمام لاپتہ اوراسیروں سمیت تمام کارکنوں،

نوجوانوں، بزرگوںاورخواتین کوسلام تحسین پیش۔ شہیدوںکوخراج عقیدت

یوم عزم کے حوالے سے مختصر دستاویزی فلم بھی پیش کی گئی، رابطہ کمیٹی کے تمام ارکان نے کھڑے ہوکر تحریک سے اپنے عہد کی تجدید کی

لندن ۔۔۔۔۔۔ 22 اگست 2019ئ

ایم کیوایم کے کنوینرڈاکٹرندیم احسان نے کہاہے کہ کشمیر سے زیادہ ظلم کراچی، حیدراۤباد اورسندھ کے شہری علاقوں میں ہورہاہے لیکن کشمیرکی صورتحال پر احتجاج کرنے والے کراچی ،حیدراۤباداورسندھ کے شہری علاقوں میں ظلم بند کرنے پر تیارنہیں ہیں۔ انہوں نے یہ بات اۤج 22 اگست 2016ئ کے حوالے سے مناأے جانے والے '' یوم عزم وفا '' کے موقع پر وڈیوبریفنگ سے خطاب کرتے ہو"ے کہی۔ اس موقع پر ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینرقاسم علی رضا اوررابطہ کمیٹی کے ارکان مصطفےٰ عزیزاۤبادی، سفیان یوسف اورمنظوراحمدبھی موجود تھے۔ ڈاکٹرندیم احسان نے کہا کہ جب سے 11جون 1978ئ کوقاأدتحریک الطاف حسین نے تحریک شروع کی اس وقت سے ریاستی مظالم میں اضافہ ہوگیاہے۔گزشتہ کئی برسوںسے خاص طورپر مہاجروں کوریاستی اۤپریشن کانشانہ بنایاجارہاہے،مہاجرنوجوانوںکاماوراأے عدالت قتل کیاجارہاہے، ان کولاپتہ کیاجارہاہے، قاأدتحریک الطاف حسین نے مظالم ڈھانے والوں کے خلاف اۤوازاٹھاأی توان کی تقریرپر پابندی عاأد کردی گئی ۔قاأدتحریک الطاف حسین نے ان ریاستی مظالم کے خلاف سابق اۤرمی چیف جنرل راحیل شریف اور موجودہ اۤرمی چیف جنرل قمرباجوہ کوخطوط بھی لکھے لیکن انکی کو"ی سنواأی نہیںہو"ی، جب ان مظالم کے خلاف ایم کیوایم کی جانب سے کراچی پریس کلب پر بھوک ہڑتال کی جارہی تھی لیکن کسی نے ہماری فریادوںکونہیں سنا، کسی نے انصاف فراہم نہیں کیا توقاأدتحریک الطاف حسین نے 22 اگست 2016ئ کواپنے خطاب میں اس ظالمانہ نظام کومردہ بادکہاتو ہم پرفوج کشی کردی گئی ، ناأن زیروکوسیل کردیاگیا، ایم کیوایم کے دفاتر کو بند کردیا گیا ، مسمار کردیا گیا، ہزاروںکارکنوں کو گرفتارکرکے لاپتہ کردیاگیا، ایم کیوایم کی تمام سیاسی وفلاحی سرگرمیوںپر پابندی عاأدکردی گئی ۔ انہوں نے کہاکہ قاأد تحریک الطاف حسین کاقصورکیاتھا؟ انہوں نے ظلم کوظلم کہاتھا،ظالموں کی مذمت کی تھی اور مظلوموں کے لئے انصاف مانگاتھا لیکن اسٹیبلشمنٹ نہ کل مہاجروں کو انصاف اور حقوق دینے کے لئے تیار تھی اورنہ اۤج ہے ۔ڈاکٹرندیم احسان نے کہا کہ پاکستان کے حکمراں اورنام نہاد سیاسی رہنمامقبوضہ کشمیر کی بات کرتے ہیں اوروہاں ہونے والے حالات وواقعات پر بہت شورکرتے ہیں ، حقیقت یہ ہے کہ کشمیر سے زیادہ ظلم کراچی، حیدراۤباد اورسندھ کے شہری علاقوں میں ہورہا ہے ،مقبوضہ کشمیر میں تووہاں کے رہنماوئںکوصرف گھروں میں نظربند کیا جاتا ہے جبکہ کراچی اورسندھ کے شہری علاقوں میں ایم کیوایم کے رہنماوئں، کارکنوں کو تو گرفتار کرکے لاپتہ کردیاجاتاہے، انہیں ماوراأے عدالت قتل کردیاجاتا ہے، ایم کیوایم کوکسی قسم کی سیاسی وفلاحی سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہے ، قاأدتحریک الطاف حسین کے کارکنوںکوپکڑ پکڑ جبری گمشدہ کیاجارہاہے۔ انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیرمیں کرفیو اورفوج کشی کی بات کی جاتی ہے جبکہ کراچی میں 1988 سے فوج کاقبضہ ہے ، 1992ئ سے کراچی اورسندھ کے شہری علاقوںمیں کرفیوہے، یہ شہر مقبوضہ علاقے بنے ہو"ے ہیں، یہاں میڈیاپرقدغن ہے، کو"ی ان مظالم کورپورٹ نہیں کرسکتا، وہاں ہرقسم کی پابندی ہے، حتیٰ کہ ہمارے کارکنوں، ماوئں، بہنوں اوربزرگوںکواپنے شہیدوں کی یادگارپر جانے اورفاتحہ پڑھنے تک کی اجازت نہیں ہے ۔مقبوضہ کشمیر کی بات کرنے والے اتنے بہادرہیں تووہ کشمیر جاکراسے اۤزادکیوں نہیں کرالیتے؟ ان کی ساری بہادری صرف کراچی ، حیدراۤباد اورشہری علاقوںکےلئے ہے۔ انہوں نے کہاکہ قاأدتحریک الطاف حسین نے مسئلہ کشمیر کے بارے میں اپنے حالیہ پیغامات میں کئی سوالات ا ٹھاأے جن کافوج اورسول حکومت کے پاس کو"ی جواب نہیں ہے ۔ڈاکٹرندیم احسان نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد سے ایک طے شدہ پالیسی کے تحت مہاجروںکے ساتھ ناانصافیاں کی جارہی ہیں،ایک طرف مہاجروں کی اۤوازایم کیوایم کوکچلنے کےلئے ریاستی اۤپریشن کیاجارہاہے اوردوسری طرف مہاجروںکوان کے جاأز حقوق دینے کے بجاأے ان کاسیاسی، تعلیمی ، معاشی اور جسمانی قتل عام کیاجارہاہے، کراچی سرکلر کے نام پر کراچی میںمہاجروں کے 40، 40 سال اور50، 50سال پرانے جاأز ہزاروںگھروںکومسمار کردیا گیا جبکہ غیرمہاجروں کے علاقوںکونہیںچھیڑاگیا، کراچی جوپہلے ہی ملک کو70 فیصدریونیودیتاہے اس سے اب ایف بی اۤرنئے نئے ناموںسے مزید ٹیکس وصول کررہی ہے اورکراچی اورسندھ کے شہری علاقوں کے ساتھ حق تلفیاں کی جارہی ہیں۔ ڈاکٹرندیم احسان نے کہا کہ مہاجروں کوجب ریاستی مظالم سے ختم نہیں کیاجاسکاتوریاستی طاقت اورسازشوں کے ذریعے ایم کیوایم کوٹکڑے ٹکڑے کیاگیا، ایم کیوایم کے کچھ لوگوں کے ضمیرخریدے گئے ۔ تحریک کے وہ بڑے بڑے نام جنہوں نے ایم کیوایم کی وجہ سے نام ، مقام اورمال ومراعات حاصل کیں جب 22 اگست کو اۤزماأش کاوقت اۤیاتوا ن ضمیرفروشوں نے اسٹیبلشمنٹ کی ایماأ پرنہ صرف قاأدتحریک الطاف حسین سے لاتعلقی اختیارکی بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ملکرایم کیوایم پرقبضہ کیا، تحریک کے اۤءین سے قاأدتحریک الطاف حسین کانام نکالا، حتیٰ کہ سندھ اسمبلی میں ایک قرارداد منظورکرواکر قاأدتحریک الطاف حسین کواۤءین کے اۤرٹیکل 6کے تحت سزادینے کامطالبہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوںاپناسودا کرنے والے یہ ضمیرفروش دعوتے کرتے تھے کہ ہم گراوئنڈ پر کھڑے ہیں لیکن انہوں نے درحقیقت شہیدوں کے لہو کانہ صرف سوداکیابلکہ تحریک کے لئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے شہیدوںکو'' مرنے والے '' اورشہیدوں کے لواحقین کو '' شرپسند '' تک قراردیا۔ انہوں نے مہاجروں کے حقوق کاسوداکیا، کراچی کی اۤبادی مردم شماری میں اۤدھی کردی گئی لیکن انہوں نے اس پر خاموشی اختیارکی ، اسٹیبلشمنٹ کی ایماأ پر مہاجروں کی بستیوںکومسمار کیا۔ انہوں نے کہاکہ ایک طرف یہ ضمیرفروش ہیں جبکہ دوسری طرف وہ وفاپرست کارکنان ہیں جوگرفتاریوں، چھاپوں، جبری گمشدگیوںاورتشددکے باوجود تمام ترریاستی مظالم کے باوجود اپنی وفاپر قاأم رہے ۔ انہوں نے کہاکہ اۤج 22 اگست ہے اوراۤج کادن ہم '' یوم عزم وفا '' کے طورپرمنارہے ہیں، ہم ایک بارپھر اپنے اس عزم کااعادہ کرتے ہیںکہ اسٹیبلشمنٹ چاہے کتنے ہی مظالم ڈھالے ہم قاأدتحریک الطاف حسین کاساتھ نہیں چھوڑیںگے اورقاأدتحریک الطاف حسین کی قیادت میں مہاجروں کے حقوق کی جدوجہد جاری رکھیںگے۔ ڈاکٹرندیم احسان نے تحریک کے شہیدوں کوخراج عقیدت پیش کیااور تمام ترریاستی مظالم کے باوجود قاأدتحریک الطاف حسین سے وفانبھانے والے تمام لاپتہ اوراسیروں سمیت تمام کارکنوں، نوجوانوں، بزرگوںاورخواتین کوسلام تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر یوم عزم کے حوالے سے ایک مختصر دستاویزی فلم بھی پیش کی گئی جبکہ رابطہ کمیٹی کے تمام ارکان نے کھڑے ہوکر تحریک سے اپنے عہد کی تجدید بھی کی ۔

٭٭٭٭٭



11/18/2019 2:50:15 AM