Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

محمد انور اورطارق میرکا اخلاقی فرض ہے کہ وہ تحریک کی امانتیں غیرمشروط طورپر قائد تحریک جناب الطاف حسین اورایم کیوایم کے حوالے کردیں۔ رابطہ کمیٹی


 محمد انور اورطارق میرکا اخلاقی فرض ہے کہ وہ تحریک کی امانتیں غیرمشروط طورپر قائد تحریک جناب الطاف حسین اورایم کیوایم کے حوالے کردیں۔ رابطہ کمیٹی
 Posted on: 4/10/2019
محمد انور اورطارق میرکا اخلاقی فرض ہے کہ وہ تحریک کی امانتیں غیرمشروط طورپر قائد تحریک
جناب الطاف حسین اورایم کیوایم کے حوالے کردیں۔ رابطہ کمیٹی 

ؒ لندن۔۔۔10، اپریل2019ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے کہاہے کہ لندن میں دونوں پراپرٹیز کے Beneficiary قائد تحریک جناب الطاف حسین اورایم کیوایم ہیں لہٰذا محمد انور اورطارق میرکا اخلاقی فرض ہے کہ وہ تحریک کی امانتیں غیرمشروط طورپر قائد تحریک جناب الطاف حسین اورایم کیوایم کے حوالے کردیں ،ان دو پراپرٹیز کے حوالے سے ایم کیوایم قانونی کارروائی کررہی ہے اور مقررہ مدت تک محمد انور اور طارق میر نے مثبت جواب نہ دیا تو ایم کیوایم یہ معاملہ کورٹ میں لے جانے میں قطعی حق بجانب ہوگی اور ان پراپرٹیز کے حصول کے لئے پرامن اورقانونی طریقہ کاراختیار کرے گی۔ رابطہ کمیٹی نے یہ بات بدھ کوایم کیوایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میں آن لائن وڈیوبریفنگ میں کہی۔وڈیوبریفنگ میں رابطہ کمیٹی کے کنوینرڈاکٹرندیم احسان، ڈپٹی کنوینر قاسم علی رضااوررابطہ کمیٹی کے ارکان مصطفےٰ عزیزآبادی، منظوراحمد اورسفیان یوسف شریک تھے ۔ ڈاکٹرندیم احسان نے کہاکہ ہم گزشتہ کئی برسوں سے ایم کیوایم کے سابق اراکین محمد انور اور طارق میرکاغیرمہذبانہ اورغیرشریفانہ طرزعمل دیکھنے کے باوجود خاموش تھے اور ہماری خواہش تھی کہ تحریک کی امانتوں کی منتقلی کے معاملات افہام وتفہیم سے حل ہوجائیں لیکن جب ان دونوں حضرات نے ایک سازش کے تحت میڈیاپرقائد تحریک جناب الطاف حسین کے خلاف من گھڑت الزامات عائد کرنے کا سلسلہ شروع کیاتوپھرہمارے لئے ضروری تھاکہ ان کو آئینہ دکھایاجائے ۔ طارق میر اور ایم انوردونوںیہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ چارٹڈاکاؤنٹینٹ ہیں اور یہ دونوں حضرات ایم کیوایم کے مالی معاملات کی نگرانی کیاکرتے تھے ۔ فنڈز کی آمد اوراخراجات کا حساب کتاب رکھنا ان دونوں کی ذمہ داریوں میں شامل تھا۔ قائد تحریک جناب الطاف حسین بھائی نے محمد انوراور طارق میر پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں تنظیم کے تمام مالی معاملات کی ذمہ داری سونپ دی اور ہمیشہ یہی تلقین کی کہ آپ برطانیہ کے قوانین سے واقف ہیں لہٰذا برطانوی قانون کے مطابق فنڈز کے آنے اور اخراجات کا حساب کتاب رکھنا آپ کی ذمہ داری ہے۔ یہ دونوں افراد قائد تحریک الطاف حسین کو یقین دلاتے رہے کہ ہمارے تمام مالی معاملات قانون کے مطابق ہیں لیکن افسوس کہ انہوں نے اپنے بنیادی فرائض پر اپنے اوراپنے خاندانی مفادات کوترجیح دی۔ فرائض میں مجرمانہ غفلت کے مظاہرے پرمحمد انور اور طارق میر کوکئی سال پہلے انکی ذمہ داریوں سے سبکدوش کیاجاچکا ہے۔ ڈاکٹرندیم احسان نے کہاکہ قائد تحریک جناب الطاف حسین نے تنظیمی اخراجات اور غریب ومستحق افراد کی امداد کیلئے پاکستان میں مہاجرقومی فنڈ(MQF) متعارف کرایا تھا ، پاکستان اوراوورسیز ممالک میں ایم کیوایم کے لاکھوں کارکنان اورمخیر حضرات ہرماہ اپنی آمدنی کا ایک فیصد ایم کیو ایف میں جمع کرایاکرتے تھے ۔ اس رقم سے پاکستان اورلندن میں پراپرٹیز خریدی گئیں تاکہ مستقبل میں کسی مشکل وقت میں کام آسکے ۔ایم کیوایف سے جمع ہونے والی رقم ہرماہ طارق میرکے پاس آیا کرتی تھی ۔ محمد انور اورطارق میر کے مشورے سے لندن میں دو پراپرٹیزکاٹائٹل قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے محمد انور اور طارق میر کے نام پررکھاگیا ۔جب محمد انور اور طارق میر کو ان کی ذمہ داریوں سے سبکدوش کردیا گیا اور رابطہ کمیٹی کی جانب سے ان دونوں حضرات سے کہاگیا کہ تحریک کی امانت تحریک کوواپس کردی جائے تو انہوں نے صاف انکارکردیا۔اب یہ مختلف حیلے بہانے کرکے تحریک کی امانت نہیں لوٹارہے اور ان پراپرٹیز پرقبضہ رکھنا چاہتے ہیں۔ اسی طرح پارٹی اخراجات پورے کرنے کیلئے ایک پراپرٹی کو کرائے پردیاگیاتھا۔ اس مکان کو طارق میر نے کرائے پر دیا تھاجب ان کو ذمہ داری سے فارغ  کیاگیا تو اس مکان کا کرایہ آنابند ہوگیا۔ رابطہ کمیٹی کو آج تک یہ علم نہیں ہے کہ طارق میر نے یہ گھر کن قواعد وضوابط کے تحت کرائے پر دیا ہے ۔ جب کرائے دار کی جانب سے کرایہ کی عدم ادائیگی پرطارق میرسے کہاگیاکہ مکان خالی کرایا جائے تو انہوں نے پہلے وعدہ کیا لیکن بعد میں صاف انکارکردیا۔ اس مکان کو خالی کرانے کیلئے بھی ایم کیوایم نے عدالت سے رجوع کیا ہواہے۔ طارق میرسے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ اگرکسی معاملہ میں آپ کو میری مشاورت کی ضرورت ہے تومیں سیکریٹریٹ کے علاوہ کہیں اور میٹنگ کروں گااور آپ کو میری فیس ادا کرنی ہوگی۔ چونکہ ایم کیوایم کے مالی معاملات طارق میر دیکھا کرتے تھے لہٰذا رابطہ کمیٹی کے اراکین کو کئی بار انکی مدد کی ضرورت پیش آئی اورطارق میر نے ہرمیٹنگ کا بل رابطہ کمیٹی سے وصول کیا۔اس کے ثبوت ہمارے پاس موجود ہیں۔انہوں نے کہاکہ قائدتحریک الطاف حسین نے محمد انور اورطارق میراوران کے خاندانوں کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا ، انہیں نام ، مقام، عزت اور شہرت ملی لیکن جب تحریک پر برا وقت آیا تو محمدانور اورطارق میر نے الطاف حسین بھائی کا ساتھ چھوڑ دیااور ایسے نظریں پھیرلیں جیسے وہ الطاف حسین بھائی کو جانتے تک نہیں ہیں۔ظرف وضمیر رکھنے والا کوئی بھی فرد اپنے محسن کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کرتا۔ یہ دونوں افراد پارٹی کودرپیش شدید مالی مشکلات اور حالات سے فائدہ اٹھاکر تحریک کی امانتوں پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔سن چیریٹی:ڈاکٹرندیم احسان نے کہاکہ جس طرح غریب ومستحق افراد کی امداد کیلئے پاکستان میں KKF قائم کی گئی اسی طرح لندن میں فلاحی سرگرمیوں کے حوالے سے قائد تحریک جناب الطاف حسین کی اجازت سے سن چیریٹی کے نام سے ایک آرگنائزیشن رجسٹرکرائی گئی اور اس کی ذمہ داری طارق میر کو دی گئی تاکہ ملکی اوربین الاقوامی سطح پر مستحقین کی امداد کا سلسلہ جاری رہے ۔ الطاف حسین بھائی نے ہی طارق میرکو ٹرسٹی بنانے کی منظوری دی اور ان کی ہدایت پر ہی دیگر ٹرسٹیز مقررکیے گئے ۔ سن چیریٹی کے آفس کی ضرورت محسوس کی گئی تو طارق میر نے مکان خریدنے کیلئے ایم کیوایم ،یعنی الطاف حسین بھائی سے ادھار لیا۔ طارق میرگزشتہ دس سال سے اس مکان کا کرایہ اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں اور اس مکان پر بھی قبضہ کررکھاہے ،جب رقم کا تقاضا کیاجائے تو طارق میرکی جانب سے شہداء ،لاپتہ اور اسیرکارکنان کے اہل خانہ کی مدد کرنے سے صاف انکار کیاجاتا ہے۔قائد تحریک جناب الطاف حسین کی ہدایت پر کراچی کے علاقے فیڈرل بی ایریا میں غریب طلباء کو معیاری تعلیم کی فراہمی کیلئے سن اکیڈمی اسکول کھولا گیالیکن اس اسکول پر بھی طارق میرقابض ہے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ 1997ء سے آج کے دن تک سن چیریٹی میں جو عطیات جمع ہوئے ہیں، ایم کیوایم کے آئین کے مطابق اس کی تمام ترٹریل رابطہ کمیٹی کو دی جائے ۔انہوں نے مزیدکہاکہ تحریک کی امانتیں محمدانوراورطارق میر کی خاندانی ملکیت نہیں ہیں کہ وہ انہیں ہڑپ کرلیں ۔185 اور221 وٹ چرچ لین:ڈاکٹرندیم احسان نے کہاکہ لندن میں وٹ چرچ لین پرواقع دومکانات کے حوالے سے 8، اپریل 2019ء کو روزنامہ جنگ ، دی نیوز اور جیونیوز میں بانی ایم کیوایم اور رابطہ کمیٹی کے سابق اراکین طارق میراور محمد انور کے درمیان دوملین پاؤنڈ مالیت کی دوپراپرٹیز کے معاملات پر اختلافات کی خبرشائع اور نشر ہوئی اوراسی دن لندن وقت کے مطابق صبح 8 بجکر 36 منٹ پر محمد انور نے ٹوئٹ کیا کہ وہ اور طارق میر اپنے خلاف پروپیگنڈے کے حوالے سے پریس کانفرنس کریں گے۔ 9، اپریل2019ء کو روزنامہ جنگ، دی نیوز اورجیونیوز میں یہ خبرشائع اور نشر ہوئی کہ محمد انور اور طارق میر کی جانب سے بانی ایم کیوایم کو قانونی نوٹس میں خبردار کیاگیا ہے کہ اگران کے خلاف سوشل میڈیاپر مہم ختم نہ کی گئی تو وہ ڈاکٹرعمران فاروق قتل کا راز فاش کردیں گے۔اسی دن لندن وقت کے مطابق صبح 10بجکر 50 منٹ پر محمد انور نے ٹوئٹ کرکے اس خبرکو بے بنیاد قراردیا۔انہوں نے کہاکہ ہمارا سوال ہے کہ اگر محمدانور اپنے مؤقف میں سچے ہیں تو انہوں نے جھوٹی خبر شائع کرنے پراب تک جنگ اور جیو کی انتظامیہ اور متعلقہ رپورٹر کے خلاف قانونی کارروائی کیوں نہیں کی؟اور صرف سماجی ویب سائٹ پر تردید کرکے عوام کوگمراہ کرنے کی کوشش کیوں کی؟ انہوں نے کہاکہ اگرکوئی بھی شخص شہیدوں کی امانت میں خیانت کریں گے ، تحریک کی امانت واپس لوٹانے کے بجائے بلیک میلنگ کاراستہ اختیار کرے تو سات کروڑ مہاجروں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ تحریکی امانت پر قبضہ کرنے والوں کو آئینہ دکھائیں اور ان سے مطالبہ کریں کہ وہ شہیدوں کی امانت واپس کریں ۔
انہوں نے کہاکہ حقیقت یہ ہے کہ لندن میں دونوں پراپرٹیز کے Beneficiary قائد تحریک جناب الطاف حسین اورایم کیوایم ہیں ، محمد انور اورطارق میرکا اخلاقی فرض ہے کہ وہ تحریک کی امانتیں غیرمشروط طورپر قائد تحریک جناب الطاف حسین اورایم کیوایم کے حوالے کردیں ورنہ ایم کیوایم کے کارکنان پرامن اورقانونی طریقہ کاراختیار کرتے ہوئے تحریکی امانت میں خیانت کرنے والوں کا چہرہ دنیا بھرمیں بے نقاب کرتے رہیں گے ۔انہوں نے کہاکہ ہمیں برطانیہ کے نظام انصاف پر پورا بھروسہ ہے اور کامل یقین ہے کہ جب یہ معاملہ عدالت کے روبرو آئے گا تو دودھ کا دودھ اورپانی کا پانی ہوجائے گا۔ جہاں تک شہیدوں اور تحریک کی امانتوں کا تعلق ہے کہ ہم اراکین رابطہ کمیٹی شہیدوں کی امانتوں کے حصول کیلئے قانونی راستہ اختیارکررہے ہیں اورجب تک ایک بھی وفاپر ست زندہ ہے ہماری یہ قانونی جدوجہد جاری رہے گی۔ رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر قاسم علی رضانے کہاکہ طارق میراور محمد انور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ایم کیوایم سے قبل وہ ایک فرم چلاتے تھے اور ان کی بہت ہینڈسم آمدنی تھی، ایم کیوایم میں آنے کے بعد وہ فرم ختم ہوگئی جس سے انہیں شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ا نہوں نے طارق میر اور محمد انور سے سوال کیا کہ ایم کیوایم میں آنے سے قبل ان کی مالی حیثیت کیاتھی اوروہ کتنے اثاثوں کے مالک تھے ؟ اورآج ان کی برطانیہ ، دبئی اوردیگر ممالک میں کتنی جائیدادیں ہیں۔ لندن میں بس ڈرائیور کی ملازمت کرنے والے احسن عرف چنوں عرف ماموں راتوں رات ار ب پتی کیسے ہوگئے؟ کارکنان وعوام اچھی طرح آگاہ ہیں ۔انہوں نے کہاکہ جہاں تک میڈیا کے ذریعہ دھمکیوں کا تعلق ہے تو دھمکیوں سے وہ ڈرے جس نے کوئی جرم کیاہو،ایم کیوایم کے کنوینر ڈاکٹر عمران فاروق کو 16 ستمبر2010ء میں شہید کیاگیاتھا۔ ایم کیوایم اور الطاف حسین بھائی کا شروع دن سے یہ مؤقف رہا ہے کہ شہید انقلاب ڈاکٹرعمران فاروق کو ایک گھناؤنی سازش کے تحت لندن میں قتل کیاگیا ہے ۔ایم کیوایم کو برطانیہ کی عدالتوں اورانصاف کے نظام پر پورا بھروسہ ہے اور ہماری خواہش ہے کہ ڈاکٹرعمران فاروق کے قاتلوں کو قرارواقعی سزا ملے اور اس گھناؤنی سازش کی منصوبہ بندی کرنے والے عناصر عوام کو سامنے بے نقاب کیاجائے۔ اس موقع پر رابطہ کمیٹی کے ارکان مصطفےٰ عزیزآبادی، منظوراحمداورسفیان یوسف نے بھی اظہارخیال کیا۔ 

*****

6/20/2019 10:04:58 AM