Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پاکستان کاموجودہ وفاق ملک میں آبادنسلی ولسانی اکائیوں کے حقوق اورمحرومیوں کے مسئلے کوحل نہیں کرسکتا۔الطاف حسین


پاکستان کاموجودہ وفاق ملک میں آبادنسلی ولسانی اکائیوں کے حقوق اورمحرومیوں کے مسئلے کوحل نہیں کرسکتا۔الطاف حسین
 Posted on: 3/8/2019 1
پاکستان کاموجودہ وفاق ملک میں آبادنسلی ولسانی اکائیوں کے حقوق اورمحرومیوں کے مسئلے کوحل نہیں کرسکتا۔الطاف حسین
وقت آگیاہے کہ امریکی ریاستوں کی طرح پاکستان میں بھی خودمختار ر یاستیں قائم کی جائیں ، ہرر یاست کااپناجھنڈاہواوروہ اپنے
معاملات چلانے میں مکمل طورپرخودمختارہو
سندھ، پختونخوا اوربلوچستان کوفوج نے مقبوضہ علاقہ بنایاہواہے،ان صوبوں کی حکومتیں، اسمبلیاں اورعوام غلام بنے ہوئے ہیں
مہاجر،بلوچ اورپشتون پنجاب کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ نہیں رہ سکتے، وہ حق خودارادیت چاہتے ہیں
اقوام متحدہ اور انٹرنیشنل کمیونٹی مہاجروں اوردیگرمظلوم قوموں کوریاستی مظالم سے بچانے کے لئے آگے آئیں
اگرمظلوم قوموں پر مظالم جاری رہے توا نٹرنیشنل کمیونٹی کومداخلت کرنی پڑیگی اورپھرمسئلہ حل کرنے کیلئے جغرافیائی تبدیلیاں کرنی ہوں گی
پاکستان اورانڈیا کے درمیان کشیدگی جنگ کی طرف جارہی ہے اورجنگ کاخطرہ موجود ہے
جیش محمد، لشکر طیبہ،جماعت الدعوۃ، سپاہ صحابہ، تحریک لبیک اور دیگرجہادی گروپ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے بچے ہیں، اسٹیبلشمنٹ ان کے
خلاف کوئی بھی سخت ایکشن نہیں لے سکتی، عمران خان حکومت فوج کی کٹھ پتلی ہے
یہ کالعدم تنظیموں کے لوگوں کوگرفتارنہیں کررہے ہیں بلکہ حفاظتی تحویل میں لیکر دنیا کوبیوقوف بنانے کی کوشش کررہے ہیں
منظورپشتین کے لئے دعاگوہوں، پشتون موجودہ آئین وقانون کے دائرے میں اپنے حقوق حاصل نہیں کرسکتے
کینیڈاکے ’’ ٹیگ ٹی وی ‘‘ کے لئے ممتازاینکرانیس فاروقی کودیے گئے خصوصی انٹرویومیں گفتگو

لندن ۔۔۔ 8 مارچ 2019ء
متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ پاکستان کاموجودہ وفاق ملک میں آبادنسلی ولسانی اکائیوں کے حقوق اورمحرومیوں کے مسئلے کوحل نہیں کرسکتا لہٰذا وقت آگیاہے کہ امریکہ کی ریاستوں کی طرح پاکستان میں خودمختار ر یاستیں قائم کی جائیں ، ہرر یاست کااپنااپناجھنڈاہواوروہ اپنے اپنے معاملات چلانے میں مکمل طورپرخودمختارہوں۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کوکینیڈاکے مقامی ٹی وی چینل ’’ ٹیگ ٹی وی ‘‘ کے پروگرام ’’ لائیو ود انیس فاروقی ‘‘ کے لئے ممتازاینکرانیس فاروقی کودیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہی۔ جناب الطاف حسین نے اپنے انٹرویو میں پاکستان اوربھارت میں پائی جانے والی حالیہ کشیدگی، پاکستان میں مظلوم قوموں کے خلاف جاری ریاستی آپریشن،دوقومی نظریہ، قوم اورقومیت کے نظریہ اورملک کی صورتحال کے بارے میں مختلف سوالات کے جوابات دیتے ہوئے تفصیلی اظہارخیال کیا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ اگرچہ سندھ، پختونخوا اوربلوچستان علیحدہ علیحدہ صوبے ہیں لیکن ان تینوں صوبوں کوفوج نے طاقت کے ذریعے اپنامقبوضہ علاقہ بنایاہواہے اوران صوبوں کی حکومتیں، اسمبلیاں اورعوام غلاموں کی طرح رہ رہے ہیں۔ وقت آگیاہے کہ اب ایک نیاسوشل کنٹریکٹ کیاجائے، مہاجروں، پشتونوں،سندھیوں، سرائیکیوں کوخودمختاری دینی ہوگی، بلوچستان کومکمل آزادی دینی ہوگی کیونکہ بلوچستان پاکستان کاحصہ نہیں تھا، اس پر فوج کی طاقت کے زورپر قبضہ کیاگیا۔ انہوں نے کہاکہ جب پشتونوں، بلوچوں اورمہاجروں نے فوج کے مظالم سے تنگ آکر یہ نعرہ لگایاکہ ’’ یہ جودہشت گردی ہے ۔۔۔ اس کے پیچھے وردی ہے ‘‘ توفوج نے ان پر ریاستی مظالم اوربڑھادیے لیکن جب اسٹیبلشمنٹ کی زیادتیوں کی وجہ سے پنجاب میں عوام نے فوج اورآرمی چیف کانام لیکر یہی نعرے لگائے تووہاں کوئی فوجی آپریشن نہیں کیاگیا۔انہوں نے کہاکہ اس ساری صورتحال کودیکھ کرمہاجر،بلوچ اورپشتون اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ وہ پنجاب کی اس اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ نہیں رہ سکتے، اب وہ اقوام متحدہ کے چارٹرکے تحت حق خودارادیت چاہتے ہیں، وہ امریکہ کی ریاستوں کی طرح مکمل خودمختاری چاہتے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں صرف مہاجروں ہی کیلئے نہیں بلکہ پشتونوں، بلوچوں، سندھیوں، سرائیکیوں، ہزارے وال ، گلگتی ، بلتستانیوں سمیت تمام قومیتوں کیلئے حق خود ارادیت چاہتاہوں۔ انہوں نے کہاکہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ملک کے موجودہ آئین وقانون کے تحت اپنے حقوق حاصل کرلیں گے وہ غلط فہمی میں مبتلاہیں ۔ جناب الطاف حسین نے اقوام متحدہ اور انٹرنیشن کمیونٹی سے اپیل کی کہ وہ پاکستان میں مہاجروں اوردیگرمظلوم قوموں پر ہونے والے ریاستی مظالم کانوٹس لیں اوراسے بندکروانے کیلئے اپنا اثر رسوخ استعمال کریں اورمظلوم قوموں کوبچانے کیلئے آگے آئیں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ اگرمظلوم قوموں پر مظالم اسی طرح جاری رہے توایک وقت آئے گاکہ انٹرنیشنل کمیونٹی کومداخلت کرنی پڑے گی اورپھرقوموں کامسئلہ حل کرنے کے لئے جغرافیائی تبدیلیاں کرنی ہوں گی۔ 
پاکستان اوربھارت کے درمیان جاری سخت کشیدگی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کی صورتحال تونہیں ہے البتہ یہ کشیدگی جنگ کی طرف ضرور جارہی ہے اورجنگ کاخطرہ موجود ہے ۔پاکستان میں کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کے بارے میں انہوں نے کہاکہ جیش محمد، لشکر طیبہ،جماعت الدعوۃ، سپاہ صحابہ، تحریک لبیک اوراسی طرح کے دیگرجہادی گروپ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے بچے ہیں لہٰذا اسٹیبلشمنٹ ان کے خلاف کوئی بھی سخت ایکشن نہیں لے سکتی۔ یہ کالعدم تنظیموں کے لوگوں کوگرفتارنہیں کررہے ہیں بلکہ حفاظتی تحویل میں لیکر دنیا کوبیوقوف بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی موجودہ حکومت فوج کی کٹھ پتلی ہے ، عمران خان خود فوج کی کٹھ پتلی ہے جسے فوج اقتدارمیں لے کرآئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں جیش محمد، لشکرطیبہ اوراسی طرح کے دیگرمسلح لشکروں کے خلاف کارروائی ناگزیرہے، اگران کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی تووہ پاکستان سے نکل کردنیابھرمیں دہشت گردی کریں گے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان کامیڈیاکشمیرمیں ہونے والے مظالم کوخوب دکھاتاہے لیکن یہ بات افسوسناک ہے کہ انڈین میڈیاپاکستان میں مہاجروں، بلوچوں، پشتونوں اوردیگرمظلوم قومیتوں پر ہونے والے مظالم کاذکرنہیں کرتا، کراچی میں ہزاروں مہاجروں کوماورائے عدالت قتل کردیاگیا، ہزاروں لاپتہ اورہزاروں جیلوں میں ہیں، بلوچستان میں مظلوم بلوچوں کی مسخ شدہ لاشیں اوراجتماعی قبریں مل رہی ہیں، بلوچوں کی آبادیوں کوختم کیاجارہاہے ، اسی طرح پشتونوں کوغائب کیاجارہاہے ۔ یہی وہ مظالم ہیں جن کی وجہ سے حق خودارادیت کامطالبہ کیاجارہاہے ۔ وقت آگیاہے کہ انڈین میڈیابھی ان مظالم کونمایاں کرے اوردنیاکوبتائے کہ کس طرح مہاجروں پر ظلم ہورہاہے، پروفیسرڈاکٹرحسن ظفر عارف کوگرفتارکرکے بیدردی سے شہیدکردیاگیا، کس طرح سید علی رضاعابدی کوشہیدکردیاگیا، لورالائی میں پشتون پروفیسرارمان لونی کوشہید کردیاگیا۔ پی ٹی ایم کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں منظورپشتین کے لئے دعاگوہوں لیکن ان سے کہتاہوں کہ وہ ان لوگوں سے ہوشیاررہیں جوانہیں خاموش رہنے اورپیچھے ہٹنے کے مشورے دیتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ کیاپشتون موجودہ آئین وقانون کے تحت اپنے حقوق حاصل کرسکتے ہیں؟ انہوں نے کہاکہ آج تک نقیب اللہ محسوداورارمان لونی کے قاتل نہیں پکڑے گئے، پشتونوں کودھوکہ دیاجارہاہے جس طرح مہاجروں اوربلوچوں کودھوکہ دیاگیا ۔ انہوں نے کہاکہ میں اپنی جدوجہدجاری رکھے ہوئے ہوں اورمجھے یقین ہے کہ دنیاایک دن ہماری بات ضرور سنے گی۔ انہوں نے کارکنوں اورتمام ہمدردوں سے کہاکہ وہ اپنے نظریہ پرقائم رہیں، ثابت قدمی اورمستقل مزاجی سے جدوجہد کرتے رہیں، انشاء اللہ ہماری جدوجہد کامیابی سے ضرورہمکنارہوگی۔ انٹرویوکے اختتام پر جناب الطا ف حسین نے اینکرانیس فاروقی کی فرمائش پر علامہ اقبال کی مشہورنظم ’’ ترانہ ہندی ‘‘ ترنم کے ساتھ پیش کی ۔ 
*****

3/26/2019 5:33:24 PM