Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

موجودہ پاکستان دراصل پنجابستان ہے۔ الطاف حسین


موجودہ پاکستان دراصل پنجابستان ہے۔ الطاف حسین
 Posted on: 3/3/2019 1
موجودہ پاکستان دراصل پنجابستان ہے۔ الطاف حسین 
وفاقی وزیر فوادچوہدری کے اس بیان سے کہ ’’ جنگ کاسب سے زیادہ نقصان دونوں طرف کے صرف پنجابیوں
کاہوتاہے‘‘ بلی تھیلے سے باہرآگئی ہے
جب معاملہ پاکستان کانہیں بلکہ صرف پنجاب اورپنجابیوں کے مفاد کاہے تو پھرباقی قومیں پاک فوج زندہ بادکانعرہ
کیوں لگائیں؟ اوران کے لئے قربانیاں کیوں دیں؟
پنجابستان کی نظرمیں مہاجروں، بلوچوں، پشتونوں، سندھیوں اوردیگرمظلوم قوموں کی کوئی حیثیت نہیں ہے
مہاجر،بلوچ ،پشتون اوردیگرمظلوم قومیں کسی خوش فہمی میں نہ رہیں اور اپنی بقاء کاسامان کریں
مہاجر کب تک ’’بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانے ‘‘ بنے رہیں گے۔الطاف حسین
اگرمہاجروں کاطرزعمل یہی رہاتوان کامقدرغلامی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ الطاف حسین

لندن ۔۔۔3 مارچ 2019ء
متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ وفاقی وزیراطلاعات فوادچوہدری کاپارلیمنٹ میں یہ بیان کہ ’’ جنگ ہوتی ہے تواس کاسب سے زیادہ نقصان دونوں طرف کے صرف پنجابیوں کاہوتاہے ‘‘یہ ثابت کرتاہے کہ موجودہ پاکستان دراصل پنجابستان ہے اورپنجابستان کی نظرمیں مہاجروں، بلوچوں، پشتونوں، سندھیوں اوردیگرمظلوم قوموں کی کوئی حیثیت نہیں ہے لہٰذامہاجر،بلوچ ،پشتون اوردیگرمظلوم قومیں کسی خوش فہمی میں نہ رہیں اور اپنی بقاء کاسامان کریں۔ انہوں نے یہ بات آج سوشل میڈیاکے ذریعے اپنے اہم خطاب میں کہی ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ فوادچوہدری کے بیان سے بلی تھیلے سے باہرآگئی ہے ، فوادچوہدری کا بیان دراصل فوج اورآئی ایس آئی کے ہیڈکوارٹرزمیں جرنیلوں کے دوران ہونے والی گفتگواوران کی پالیسی ہے جوفوادچوہدری کی زبان سے نکل گئی ۔ انہوں نے مہاجروں، بلوچوں، پشتونوں،سندھیوں، گلگتی بلتستانیوں سے سوال کرتے ہوئے کہاکہ کیاآپ کو پاکستانی سمجھاجاتاہے؟ کیاآپ کے ساتھ برابرکے پاکستانیو ں جیساسلوک کیاجاتاہے؟ جب معاملہ پاکستان کانہیں بلکہ صرف پنجاب اورپنجابیوں کے مفاد کاہے تو پھرباقی قومیں کس لئے اس جنگ کاحصہ بنیں اور پاکستان زندہ باد اورفوج زندہ بادکانعرہ کیوں لگائیں؟ اوران کے لئے قربانیاں کیوں دیں؟
جناب الطا ف حسین نے مہاجروں کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ نے پاکستان بنانے کے لئے 20لاکھ جانوں کانذرانہ پیش کیا، پھر1971میں پاکستان بچانے کیلئے 10لاکھ جانیں دیں، لیکن کیاآپ کوآج بھی پاکستانی سمجھاجاتاہے؟ 1971ء میں پاکستان بچانے کے لئے فوج کا ساتھ دینے والے لاکھوں مہاجرآج بھی بنگلہ دیش میں ریڈکراس کے کیمپوں میں جانوروں سے بدترزندگی گزارنے پرمجبورہیں لیکن انہیں آج تک پاکستان واپس کیوں نہیں لایا گیا؟ انہوں نے کہاکہ فوج نے تومہاجروں کوکبھی پاکستانی نہیں سمجھابلکہ ہمیشہ ان پر ریاستی مظالم ڈھائے اورخاص طورپر1992سے ہزاروں بے گناہ مہاجروں کاماورائے عدالت قتل کیا،ہزاروں کولاپتہ کیا اورمہاجرماؤں بہنوں بزرگوں کی بے حرمتی کی لیکن مجھے افسوس ہے کہ پاکستان اوربھارت میں جوکشیدگی ہوئی اس میں ایک بارپھربیشتر مہاجروں نے فوج کی حمایت شروع کردی اوراپنی قوم پرہونے والے مظالم کوفراموش کردیا۔انہوں نے کہاکہ مہاجرآخرکب تک غفلت کا شکاررہیں گے اور کب تک ’’بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانے ‘‘ بنے رہیں گے۔ انہوں نے کہاکہ اگرمہاجروں کاطرزعمل یہی رہاتوان کامقدرغلامی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ جناب الطاف حسین نے بلوچوں اور پشتونوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ کب تک اس فوج کاساتھ دیتے رہیں گے جس نے ہمیشہ آپ پر مظالم ڈھائے، فوج نے 1948ء سے اب تک ہر جنگ میں پشتونوں کواستعمال کیا اورآج بھی کررہی ہے ۔ اسی طرح فوج نے بندوق کے ذورپر بلوچستان پر قبضہ کرلیا، فوج بلوچوں کوقتل کررہی ہے اوربلوچ سرزمین کے وسائل اوردولت کولوٹ رہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ میں بلوچوں کومظلوم سمجھتاہوں اورپنجاب کی فوج سے ان کی آزادی اورخودمختاری چاہتاہوں۔ جناب الطاف حسین نے سندھیوں کوبھی مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ صرف نعرے لگانے سے آزادی نہیں ملتی، سندھیوں کو بھی بیدارہوناہوگااوراپنے دوستوں اوردشمنوں کوپہچاننا ہوگا۔ انہوں نے عظیم سندھی قوم پرست رہنما سائیں جی ایم سید کوخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ وہ آخری وقت تک اپنے مؤقف پر ڈٹے رہے ، جی ایم سید کاکہناتھاکہ مہاجر سندھیوں کے دشمن نہیں ہیں لہٰذا سندھیوں کوجی ایم سید کے نظریات سے رہنمائی لینی چاہیے اورمہاجروں کواپنادشمن نہیں سمجھناچاہیے۔ 
جناب الطا ف حسین نے کہاکہ پلوامہ میں دہشت گردی کے بعد پاکستان انڈیا میں کشیدگی ہوئی توپاکستان کی فوج کے ڈی جی ISPR نے پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ فوج نے انڈیا کے دوجنگی طیارے مارگرائے اوردوانڈین پائلٹ کوحراست میں لیا لیکن چندگھنٹوں بعدڈی جی ISPR نے کہاکہ ہماری حراست میں صرف ایک انڈین پائلٹ ہے۔ فوج نے 1971ء میں بھی اسی طرح قوم سے جھوٹ بولاتھا، اس وقت مشرقی پاکستان میں ہتھیارڈالے جاچکے تھے۔۔۔لیکن قوم کوبتایاجارہاتھاکہ ہماری فوجیں ہرمحاذ پر لڑ رہی ہیں۔جناب الطا ف حسین نے کہاکہ آج پوری دنیاکہہ رہی ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں، جیش محمدجس نے پلوامہ میں خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کی اس کاہیڈکوارٹرپاکستان میں ہے ۔ پاکستان سے جیش محمداوراس کے سربراہ مسعود اظہرکے بارے میں سوالات کئے جارہے ہیں اوراسے گرفتارکرنے کے لئے کہاجارہاہے تو وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے غیرملکی میڈیا کوانٹرویومیں اعتراف کیاکہ مسعوداظہرپاکستان میں ہے لیکن بیمارہے۔ انہوں نے کہاکہ اب بعض میڈیا پر یہ خبرآرہی ہے کہ مسعوداظہرکا2مارچ کوانتقال ہوچکاہے ۔ اگریہ خبردرست نکلی تویہ سمجھ لیاجائے کہ جس طرح مولاناسمیع الحق کو قتل کیاگیاتھااسی طرح مسعوداظہرکوبھی پنجابی فوج نے اپنے آپ کوبچانے کے لئے رخصت کیاہوگا۔ جناب الطا ف حسین نے سوال کیاکہ طالبان ، القاعدہ،جیش محمد، لشکرطیبہ، حرکت المجاہدین، حرکت الانصار ، جماعت الدعوۃ ، تحریک لبیک اوردیگرعسکری تنظیمیں کس نے قائم کیں؟ پاکستان کے ہرشہر،ہرگلی میں جہادی مدرسے کس نے قائم کئے ؟ آج جب ان کی وجہ سے فوج مشکل میں آرہی ہے توعوام سے کہاجارہاہے کہ وہ فوج کی حمایت میں ریلیاں نکالیں ۔انہوں نے کہاکہ عوام فوج کی حمایت میں کیوں نکلیں اورکیوں ان کاساتھ دیں۔انہوں نے مہاجروں، بلوچوں، پشتونوں،سندھیوں، گلگتی بلتستانیوں سے کہاکہ وہ بیدارہوجائیں اورپنجابی فوج کی غلامی سے نجات حاصل کرنے کے لئے جدوجہد شروع کردیں۔جناب الطاف حسین نے پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنمامنظورپشتین کانام ای سی ایل میں ڈالنے اوران کے دیگررہنماؤں اورکارکنوں کی گرفتاریوں کی شدید مذمت کی اوران کی فوری رہائی کامطالبہ کیا۔ 

*****

9/19/2019 6:27:29 AM