Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پلوامہ خودکش حملہ پشتونوں، بلوچوں، مہاجروں اوردیگر مظلوم قوموں میں بیداری کودبانے کیلئے کرایاگیا ۔الطاف حسین


 پلوامہ خودکش حملہ پشتونوں، بلوچوں، مہاجروں اوردیگر مظلوم قوموں میں بیداری کودبانے کیلئے کرایاگیا ۔الطاف حسین
 Posted on: 2/22/2019

پلوامہ خودکش حملہ پشتونوں، بلوچوں، مہاجروں اوردیگر مظلوم قوموں میں بیداری کودبانے کیلئے کرایاگیا ۔الطاف حسین
فوج کے منصوبے کے تحت پاکستان کے عوام کوجنگی جنون اورمذہبی انتہاپسندی کے راستے پر ڈالاجارہاہے، مذہبی جہادی تنظیموں کودوبارہ سے سرگرم کردیاگیاہے۔الطاف حسین
پی ایس پی اوربہادرآباد ٹولے سے بھی انڈیاکے خلاف احتجاجی مظاہرے کروائے جارہے ہیں۔الطاف حسین
بہادرآباد ٹولہ بتائے کہ انڈیانے تمہارے خلاف کیاکیاہے کہ تم اس کے خلاف مظاہرہ کرنے جارہے ہو؟
کیا مہاجروں کے خلاف ریاستی آپریشن اورہزاروں مہاجروں کاقتل انڈیا نے کیاہے؟
تحریک کے سچے کارکنان اورتمام غیرتمند مہاجر بہادرآباد ٹولے کے احتجاجی مظاہرے کامکمل بائیکاٹ کریں۔الطاف حسین
فوج کوپیشکش کرتاہوں کہ وہ مہاجروں کومکمل خودمختاری دیدیں، میںآج پاکستان آنے کیلئے تیارہوں۔الطاف حسین
مہاجروں کوبھی اب فیصلہ کرناہوگاکہ انہیں غلام بنناہے یاباعزت زندگی گزارنی ہے ۔الطاف حسین

لندن ۔۔۔ 22 فروری 2019ء
متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ پلوامہ میں خودکش حملہ پشتونوں، بلوچوں، مہاجروں اور پاکستان کی دیگر محروم ومظلوم قوموں میں اپنے حقوق کے حصول اور انسانی حقوق کے لئے پیدا ہونے والی بیداری کودبانے اوران مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے کرایاگیا ، اس کی آڑ میں اب پاکستان کے عوام کوجنگی جنون اورمذہبی انتہاپسندی کے راستے پر ڈالاجارہاہے۔ انہوں نے یہ بات آج اپنے ایک اہم خطاب میں کہی۔ اپنے اس اہم خطاب میں جناب الطاف حسین نے پاکستان بھارت کشیدگی، خطے کی صورتحال، پاکستان میں تیزی سے پیدا کی جانے والی مذہبی انتہاپسندی اور موجودہ حالات کے بارے میں انتہائی اہم خیالات کااظہار کیا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پلوامہ حملہ جس میں انڈیاکی فوج کے 44فوجی ہلاک ہوئے،اس کی ذمہ داری جیش محمدنے قبول کی اوردھماکہ کی ذمہ داری قبول کرنے والے کاتعلق بھی جیش محمدسے تھا، اس خودکش حملے کے پیچھے کارفرمامقاصد کو جاننے میں انڈیاکی حکومت اور ادارے بھی فیل ہوگئے۔ انہوں نے کہاکہ دراصل معاملہ یہ ہے کہ پاکستان میں جب بھی فوج کوعوام کی توجہ ان کے اصل مسائل سے ہٹاناہوتی ہے تووہ کوئی نہ کوئی بڑاواقعہ کرواکرعوام کواس میں الجھادیتی ہے ، اب بھی پاکستان میں مہاجروں، پشتونوں، بلوچوں اوردیگرمظلوم قوموں میں اپنے حقوق کے لئے بیداری پیداہورہی تھی، تمام مظلوم قومیں یہ سمجھنے لگی ہیں کہ ان کے مسائل کیاہیں،مسائل کس کے پیداکردہ ہیں اوران کے حقوق کون غصب کررہاہے ،پاکستان کے ہرشہرمیں یہ نعرے لگنے لگے کہ ’’ یہ جودہشت گردی ہے ،اس کے پیچھے وردی ہے ‘‘ ۔ حتیٰ کہ صوبہ پنجاب میں بھی عوام نے فوج اورآرمی چیف جنرل قمرباجوہ کے خلاف نعرے لگانے شروع کردیے ،اس صورتحال سے فوج سخت پریشان ہوگئی چنانچہ کورکمانڈروں نے اجلاس کرکے یہ فیصلہ کیاکہ اس صورتحال سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے انڈیامیں دہشت گردی کابڑاواقعہ کرایاجائے تاکہ انڈیامیں صورتحال بھڑکے ، عوام جنگ کی باتیں کریں اوراس کوبنیادبناکرپاکستان میں بھی تمام قومیتوں کے عوام کویہ کہاجائے کہ انڈیاحملہ کررہاہے، ملک اوراسلام خطرے میں ہے لہٰذا بلوچ، پشتون، مہاجر،سندھی اوردیگرمظلوم عوام اپنے اپنے حقوق اور مسائل بھول جائیں اورملک کوبچانے کے لئے فوج کے پیچھے کھڑے ہوجائیں۔ جب پلوامہ واقعہ ہواتوانڈیامیں بھی عوام نے وزیراعظم نریندرامودی اورحکومت پر دباؤڈالناشروع کردیاکہ حکومت زبانی باتیں چھوڑے اورپاکستان کے خلاف کوئی عملی قدم اٹھائے تواس کوجوازبناکرپاکستان میں فوج نے بھی اپنے منصوبے کے تحت عوام میں جنگی جنون پیداکرناشروع کردیاہے ، اس مقصدکے لئے جماعت الدعوۃ، لشکرجھنگوی، لشکرطیبہ، سپاہ صحابہ،جیش محمد اور تمام مذہبی جہادی تنظیموں کودوبارہ سے سرگرم کردیاگیاہے، ان کوسڑکوں پرلایاجارہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ نہ ملک خطرے میں ہے اورنہ ہی اسلام خطرے میں ہے، خطرے میں فوج کاتسلط اورناجائزحکمرانی ہے، 1971ء میں بھی قوم کویہی دھوکہ دیاگیاتھا کہ اسلام خطرے میں ہے جبکہ بنگلہ دیش بن جانے سے اسلام ختم نہیں ہوابلکہ ڈھاکہ آج بھی مسجدوں کاشہر ہے ، وہاں سے آج بھی سب سے زیادہ لوگ حج کرنے جاتے ہیں اورآج بھی حج کے بعد سب سے بڑامسلمانوں کامذہبی اجتماع بنگلہ دیش میں ہوتاہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ کل دنیاکوبیوقوف بنانے کیلئے جماعت الدعوۃ پر پابندی لگانے کااعلان کیاگیالیکن آج اسی جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کاوڈیوبیان پاکستان کے ٹی وی چینلزپر نشر کیاگیا۔ انہوں نے کہاکہ آج دنیاکودکھانے کے لئے پنجاب کے شہربہاولپور میں جیش محمدکے ہیڈکوارٹرکوفوج نے اپنے کنٹرول میں لے لیاہے ،اگر جیش محمدکاہیڈکوارٹر پاکستان میں نہیں تھاتوپھرآج کس ہیڈکوارٹرکوحکومت اورفوج نے اپنے کنٹرول میں لیاہے؟ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ انڈیا کے خلاف جنگی جنون پیداکرنے کے لئے مذہبی جہادی تنظیموں کے ساتھ ساتھ اب فوج مہاجرقوم کے غداروں، پی ایس پی اوربہادرآباد ٹولے کوبھی سامنے لے کرآرہی ہے اورمذہبی جہادی تنظیموں کی طرح ان سے بھی انڈیاکے خلاف احتجاجی مظاہرے کروائے جارہے ہیں، کل بروزہفتہ کراچی پریس کلب پر بہادرآباد ٹولے سے احتجاجی مظاہرہ کروایاجارہاہے۔ جناب الطا ف حسین نے پی ایس پی اوربہادرآباد ٹولے سے سوال کرتے ہوئے کہاکہ انڈیانے تمہارے خلاف کیاکیاہے کہ تم اس کے خلاف مظاہرہ کرنے جارہے ہو؟ کیامہاجروں کے خلاف کوٹہ سسٹم انڈیانے نافذ کیاتھا؟ کیا سندھ میں شہری اوردیہی کی تفریق انڈیانے قائم کی تھی؟ کیامہاجروں کے حقوق کی جدوجہد کوکچلنے کے لئے ریاستی آپریشن انڈیاکی فوج نے کیاتھا؟ کیا ہزاروں مہاجرنوجوانوں کوانڈیا کی فوج نے شہید کیاتھا؟ کیامہاجرنوجوانوں کی لاشوں سے شہداقبرستان انڈیانے بھراتھا؟ مہاجرنوجوانوں کوبھیڑبکریوں کی طرح گرفتارانڈیا کی فوج نے کیاتھا؟ کیا آفتاب احمداوردیگرکارکنوں کوسرکاری حراست میں انڈیاکی فوج نے تشددکرکے شہید کیاتھا؟ کیاڈاکٹرحسن ظفر عارف اورسیدعلی رضاعابدی کوانڈیا نے شہید کیاتھا؟ کیاگھرگھرچھاپے مارکرمہاجرماؤں بہنوں کی بے حرمتی انڈیا کے فوجیوں نے کی تھی؟ کیامہاجرماؤں بہنوں پرانڈیاکے فوجیوں نے گنیں تانی تھیں؟پھربہادرآبادٹولہ کس بات کے لئے انڈیا کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کررہاہے؟ یہ توخودکوسیکولرکہتے تھے پھرآج فوج کی پروکسیز بن کر ان طالبان کے ساتھ کیسے مل گئے جنہوں نے دھماکے اوردہشت گردی کرواکرہمارے مہاجرنوجوانوں اورارکان اسمبلی کوشہید کیا؟ کیا یہ عمل تحریک کے شہیدوں کے لہوکی توہین نہیں ہے ؟ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں تحریک کے سچے کارکنوں اورتمام مہاجروں سے کہتاہوں کہ وہ بہادرآباد ٹولے کے احتجاجی مظاہرے کامکمل بائیکاٹ کریں اوراس میں بالکل شریک نہ ہوں خواہ اس کے لئے ان کوکیسی ہی قربانی کیوں نہ دینی پڑے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں فوج کوپیشکش کرتاہوں کہ وہ مہاجروں کومکمل آزادی اورخودمختاری دیدیں، میںآج پاکستان آنے کے لئے تیارہوں، اگر میری جان لیکر میری قوم کوحقوق دیدوتومیں اسکے لئے بھی تیارہوں ، وگرنہ جب تک میری جان ہے میں جدوجہد کرتارہوں گا اورفوج کے مظالم کوبے نقاب کرتارہوں گا۔ انہوں نے کہاکہ مہاجروں کوبھی اب فیصلہ کرناہوگاکہ انہیں غلام بنناہے یاباعزت زندگی گزارنی ہے ۔ 

*****


5/22/2019 3:50:12 AM