Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

جناب الطاف حسین کی تصنیف ’’ سچی باتیں ‘‘ رپورٹ : ارشد حسین


جناب الطاف حسین کی تصنیف ’’ سچی باتیں ‘‘ رپورٹ : ارشد حسین
 Posted on: 2/18/2019

جناب الطاف حسین کی تصنیف ’’ سچی باتیں ‘‘
رپورٹ : ارشد حسین 

متحدہ قومی موومنٹ کے بانی و قائد تحریک جناب الطاف حسین کی تصنیف’’ سچی باتیں‘‘کی تقریب رونمائی 6فروری 2019ء بروز بدھ انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میں منعقد کی گئی ۔ تقریب میں ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان، شعبہ خواتین کی اراکین ، برطانیہ کی آرگنائزنگ کمیٹی کے اراکین، ایم کیوایم یوکے کے کارکنان وہمدر دوں ،خواتین ،بچوں اور اہل قلم حضرات نے شرکت کی ،تقریب بظاہر مختصرتھی مگر شعبہ ادب کے لحاظ سے ایک تاریخ ساز تھی بلکہ یہ کہا جائے کہ دنیائے ادب کی منفر د تقریب تھی تو غلط نہیں ہوگا کیونکہ دنیائے سیاست کی بلند اور قد آور سربراہ کی کتاب کی تقریب رونمائی سوشل میڈیا کے زریعے دنیا بھر میں براہ راست نشرکی گئی جسے لاکھو ں افرد دیکھ اور سن رہے تھے اس اعتبار سے جناب الطاف حسین نے جہاں سیاسی میدان میں متعدد ریکار ڈ قائم کئے وہاں ادب کے میدان میں بھی تاریخی ریکارڈ قائم کیا ہے ۔ تقریب کا آغاز باقاعدہ تلاو ت کلا م پاک سے کیا گیا جس کی سعادت ایم کیوایم برطانیہ کے آرگنائزر ہاشم اعظم نے حاصل کی جبکہ نظامت کے فرائض رابطہ کمیٹی کے ر کن سید مصطفی عزیز آبادی نے انتہائی خوش اسلوبی سے انجا م دیئے انہوں نے اپنی انقلابی شاعری سے تقریب کو جلا بخشی ، تقریب سے بابائے مہاجر قوم و قائد تحریک اور کتاب’’ سچی باتیں ‘‘ کے مصنف عزت مآب الطاف حسین نے سوشل میڈیا کے ذریعے براہ راست تاریخی خطاب کیاجبکہ ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے کنوینر ڈاکٹر ندیم احسان اورڈپٹی کنوینر سید قاسم علی رضا نے کتاب ’’ سچی باتیں‘‘ پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ جب ایم کیوایم کے سینئر کارکن محمدعثمان خان نے مشہور کلام ’’وہ اکیلا ہی چلاتھا جانب منزل مگر ‘‘’’لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا ‘‘ سنایا تو تقریب میں خوبصورت سماع بن گیاجس کی حاضرین محفل نے دل کھو ل کر داد دی اورانٹرنیشنل سیکریٹر یٹ لندن نعرہ الطاف ۔۔۔جئے لطاف ، حق کی کھلی کتاب ۔۔۔ الطاف الطاف اوردیگر نعروں سمیت حاضر ین کی تالیوں سے گونج اٹھا۔ 



کتاب’’ سچی باتیں‘‘ کا تعارف اگر تفصیل سے بیان کیاجائے تو مہینوں لگ جائیں گے مگر راقم یہاں انتہائی انکساری سے کا م لیتے ہوئے مختصر اً تعارف قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہے کہ اگست 2016ء میں رینجرز اور پولیس کی جانب سے ایم کیوایم کے کارکنان کے ماورائے عدلت قتل ، غیر قانونی چھاپوں ، گرفتاریوں ، کارکنان کے لاپتہ اور دیگر مظالم کے خلاف ایم کیوایم کی جانب سے کراچی پریس کلب پر بھوک ہڑتالی کیمپ لگا گیا تھا جہاں رابطہ کمیٹی کے ارکاکن، ارکان پار لیمنٹرین،خواتین ،ذمہ دارا ن وکارکنان بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے تھے ۔
22 اگست 2016ء کو جناب الطاف حسین نے کراچی پریس کلب پر بھو ک ہڑتالیوں سے خطاب کیا تو ان کے خطاب کو پاکستان مخالف قرار دیتے ہوئے رینجرز نے ایم کیوایم کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا اور اس جماعت کے مرکز عزیز آباد میں واقع نائن زیرو سمیت خورشید بیگم میموریل ہال، ایم پی اے ہاسٹل اور شعبہ اطلاعات کو سیل کر دیا جبکہ کراچی حیدر آباد سمیت سندھ کے کئی شہروں میں ایم کیوایم کے دفاتر کو مسمار کر دیا گیا اور ایم کیوایم کے سینکڑوں ذمہ داران ،کارکنان وہمدردں وکو گرفتار کر لیا جبکہ متعدد کو لاپتہ کر دیا گیا اور متعدد کو ماورائے عدالت قتل کرد یا جس کا سلسلہ بدستو ر آج بھی جاری ہے ۔اس کے علاوہ متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے اراکین ، ارکان پارلیمنٹرین اور خواتین سمیت انگنت ذمہ داران وکارکنان کی بھی جبراً وفاداری تبدیل کرائی گئی ،ایم کیوایم کے مختلف دھڑے تشکیل دے دئیے گئے۔جب سے جناب الطاف حسین نے مہاجرو ں سمیت ملک کے مظلوم ومحکوم عوام کے حقوق کے حصول کیلئے عملی جدوجہد کا آغا ز کیا تو اول روز سے ہی ملک کی اسٹیبلشمنٹ نے مختلف ھتکنڈ وں اور سازشوں کے ذریعے انہیں نہ صرف عوام سے دور رکھنے کی کوششیں شروع کر دی بلکہ انہیں محصور ین پاکستان کی وطن واپس لانے کی غرض سے مزارقائد اعظم پر احتجاج کے دوران گرفتا ر بھی کیا اور9مہینے بامشقت اور کوڑوں کی سزا تک دی گئی ، انہیں متعدد بار جیلوں میں پابند سلاسل کیا گیا حتیٰ کہ ان پر پاکستان او ربیر ونی ممالک میں متعد د بار قاتلانہ حملے بھی کرائے گئے ،جناب الطاف حسین کو راء کا ایجنٹ ،غدار وطن بھی کہا گیا ان پر بوری بند لاشوں ،دہشت گردی،قتل، منی لانڈرنگ سمیت ان گنت الزامات لگائے گئے۔ مظالم کی ایک طویل نہ ختم ہونے والی داستان ہے ان تما م مظالم، ظلم اور زیادتیوں کے باوجود جناب الطاف حسین انتہائی صبر و استقامت کا مظاہر ہ کرتے ہوئے اپنے کارکنان وعوام کو سوشل میڈیا پر آڈیو لیکچر کے ذریعے ان کی فکر ی وذہنی تربیت کر تے رہے، انہیں صبرو برداشت اور پر امن رہنے کی تلقین کر تے رہے اپنی سچی باتوں اور تاریخ کی روشنی میں حقائق پر مبنی اور دلیل کے ساتھ پاکستان کے ماضی و حال اور مستقبل کے بارے میں آگہی فراہم کر تے رہے۔ یو ں تو جناب الطاف حسین نے مختلف پہلوؤں پر ہزاروں لیکچر دیئے ہیں مگر ہم خصوصاً ان سات لیکچر کا ذکر کریں گے جو انہوں نے فروری 2017ء میں دیئے جن پر مشتمل کتاب’’ سچی باتیں‘‘ منظر عام پر آئی ۔ بالترتیب پہلالیکچر 9فروری 2017ء کو دوسرا لیکچر11 فروری 2017ء تیسرا لیکچر 13 فروری 2017ء چوتھا لیکچر 18فروری 2017ء پانچواں لیکچر 27فروری 2017ء چھٹا لیکچر 3مارچ 2017ء اور ساتواں لیکچر 11مارچ 2019ء کو دیا ۔ 22اگست 2016ء کے بعد بھی جناب الطاف حسین سوشل میڈیا اور دیگر ذرئع کے ذریعے اپنے کارکنان وعوام سے مسلسل رابطہ میں رہے وہ چاہتے تو اپنے کارکنان و عوام کو پر تشدد کاروائیوں کا درس دیتے مگر ایسا نہیں کیا کیونکہ وہ عدم تشدد کی پالیسی پر عمل پیر ا ہیں۔ملک کی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ان پر اور ان کی جماعت پر بے شمار بہتان تراشیاں عائد کر کے انہیں پر تشدد کارروائیوں پر اکسانے کی بھر پور کو ششیں کی جاتی رہی ہیں مگر انہوں نے اپنے کارکنان کو پرتشددکارروائی کی ہدایت دینے کے بجائے ان کے ہاتھوں میں قلم دیا، انہیں کتابیں ،مضامین ،شاعری وغیرہ کرنے کی ہدایت دی۔ یہ بھی دنیا ئے تاریخ کا ایک ریکارڈ ہے کہ جتنی بھی سیاسی ومذہبی جماعتیں ہیں ان میں سے کسی نے بھی اپنے کارکنان یا کارندوں کو شاعر، ادیب مفکر ،مصنف ،قلمکار یا تجزیہ نگار نہیں بنایا مگر جناب الطاف حسین نہ صرف خود شاعر ،مدبر،ادیب، مفکر ،قلمکار،مصنف ،تجزیہ کار ہیں بلکہ ایک اچھے قاری بھی ہیں جو اپنے خطاب کے آغاز پر خوبصورت انداز اور آواز میں جس طرح قراء ت کر تے ہیں شاید ہی کوئی سیاسی ومذہبی راہنما یا قاری کرسکے ،وہ اپنے کارکنان وعوام کو ہمیشہ تعلیم حاصل کرنے کی ہدایت دیتے رہے ہیں، اس کی ایک چھوٹی سی مثال دیتا چلوں کہ صرف اگست 2009ء میں ایم کیوایم کے زیر اہتمام 9کتابوں کی تقریب رونمائی منعقد کی گئی جس میں معروف شاعر عاقل بریلو ی مرحوم ، دیگر مصنف سمیت راقم کی تصانیف بھی شامل ہیں ۔جس سے واضح ہوتا ہے کہ’’ سچی باتیں‘‘ کے مصنف ادب سے کس قدر لگاؤ رکھتے ہیں ان ہی حقیقت پسندی اورعملیت پسندی کی بنیاد پر’’ سچی باتیں‘‘ منظر عام پر آئی۔ جس کی کمپوزنگ کے بعد ترتیب و تدوین رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر سید قاسم علی رضاء نے دی جبکہ سرورق اور کتاب کی چھپوائی کا کام رابطہ کمیٹی کے رکن سفیا ن یوسف نے کیا ۔ 
جناب الطاف حسین کی بے شمار کتابیں،لیکچرز اورفکری نشستوں پر مشتمل کتابچے منظر عام پر آچکے ہیں جو نظریاتی ،سائنسی ،طب، تاریخی،فکری اور دیگر موضوع پر مکمل گرفت رکھتی ہیں جس میں’’ پاکستان کے پچاس سال کیا کھویا کیا پایا ‘‘’’ اسٹیبلشمنٹ کی سہ جہتی حکمت عملی ‘‘’’ فلسفہ محبت ‘‘’’سچی باتیں ‘‘ ’’سفر زندگی‘‘ ’’ الطاف حسین کے لیکچرز ‘‘فلسفہ ء حقیقت پسندی اور عملیت پسندی ‘‘’’ پاکستان بچانا ہے یا جمہوریت ‘‘’’حدو د آرڈی ننس‘‘’’ پاکستان کی سیاسی صورتحال کا سائنسی تجزیہ‘‘’’ کڑوی حقیتیں سچ کیا ہے جھوٹ کیا ہے ‘‘اصلا ح کی گنجائش اورترقی کا عمل ‘‘سمیت ہزاروں کتابیں اورکتابچے شامل ہیں ۔شعبہ ادب سے تعلق رکھنے والے افراد ہماری اس بات سے بھی اتفا ق کر یں گے کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے سربراہان ، ملک کے وزرااعظم و صدور یا کوئی بھی اعلیٰ شخصیات ہوں جس جس نے بھی کتاب لکھی ہے تو اس کی کمپوزنگ سے لیکرترتیب و تدوین سمیت تمام مراحل میں باہر کے لو گ یا اسٹاف کے افراد کا م کر تے ہیں کبھی کسی نے نہیں سنا ہوگا کہ ان اعلیٰ شخصیات کی تصانیف میں کسی کارکن نے حصہ لیا ہو حتیٰ کہ ان کی کتاب منظر عام پر آنے کے بعد بھی کارکنان کی پہنچ سے دور رہتی ہے کیونکہ اس کی قیمت ہی اتنی زیادہ ہوتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جناب الطاف حسین کی تصنیف ہو ، فکری ، نظریاتی ،سیاسی ،سائنسی لیکچر ز پر مشتمل کتابچہ ہو ان سب میں کارکن کا حصہ ہوتا ہے کسی کارکن نے کمپوزنگ میں حصہ لیا ہوتا ہے،کسی کا ترتیب وتدوین میں تو کسی کا سر و ق میں اور کسی کارکن کاچھپوائی میں جو یقیناًہر اس کارکن کے لئے بہت بڑے اعزاز کی بات ہے کہ جس نے اپنے محسن قائد کی تصنیف یا کتابچہ میں کام کیا ہو ۔یوں تو سیاست سمیت مختلف شعبو ں کے اعتبار سے جناب الطاف حسین کی بے شمار مثالیں عوام و کارکنان کے سامنے ہیں ۔ ’’سچی باتیں ‘‘ کی تقریب رونمائی سے خطاب کر تے ہوئے جناب الطاف حسین نے کہا کہ وقت کا تقاضہ ہے کہ مظلوم پشتون ،بلوچ اور مہاجر اپنے حقوق کے حصول کے لئے جلد از آپس میں اتحاد کر لیں اور مشترکہ جدوجہد شرو ع کر دیں ، پاکستان میں بد قسمتی سے تاریخی حقا ئق کو مسخ کر کے اور توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا رہا ہے ،آج ملک میں ہر کام قیام پاکستان کے مقاصد کے بر عکس ہورہا ہے ،بدقسمتی سے جو قیام پاکستان کے مخالف تھے وہ پاکستان کے دعویدار بن گئے ،جو قاتل تھے وہ مظلوم بن گئے اور جو مظلوم تھے انہیں قاتل اور ظالم بنادیا گیا ،مظلو م قومیں خواوہ مہاجرہوں ،بلوچ ہوں ،پشتون ہوں یا کوئی بھی قوم ہو اس کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے ، اسی لئے میں نے نوجوانوں خصوصاً طلبہ وطالبات کو تاریخی حقائق بیان کئے ہیں جو شائد کہیں کتابوں میں بھی نہ ملیں ، اسٹیبلشمنٹ والے میرا حقائق بیان کرنے سے ڈرتے ہیں کیونکہ وہ اپنا سار ا کاروبار جھوٹ پر چلارہے ہیں جبکہ میرے پاس دیانت او رسچائی کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمدعلی جناح نے 11اگست 1947ء کو دستور ساز اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں واضح الفاظ میں کہا تھا کہ ’’ اب پاکستان بن گیا ہے ،اب مسلمان آزاد ہے کہ وہ مسجد میں جائے ،ہندو آزاد ہے کہ مندر میں جائے ،عیسائی آزاد ہے کہ وہ گرجا میں جائے ،سب اپنی اپنی عبادات گاہوں میں جاکر عبادت کریں ،ریاست کے امور کامذہب سے کوئی سروکار نہیں ہوگا ، پاکستان یہاں رہنے والے سب شہریوں کا ملک ہے ، ریاست سب کو ایک نظر سے دیکھے گی ‘‘، انگریزوں کی خدمت کرنے والے اور حریت پسندوں کو انگریز وں کے ساتھ ملکر مارنے والے فوجیوں کی اولادوں نے پاکستان پر قبضہ کرلیا اور قائد اعظم کی تقریر کو پاکستان کی کتابوں اور لائبریریوں سے نکال پھینکا ،انہی عناصر نے قائد اعظم کو سلو پوائزن دے کر قتل کر دیا ۔ پنجاب کے جن لوگوں نے انگریزوں کی فوج میں رہ کر ان کی غلامی کی اور پہلی جنگ عظیم کے دوران خانہ کعبہ پر گولیاں چلائیں ،آج انہی کی اولادیں فوج میں ہیں جو آج خود کو مقدس ادارہ کہلاتے ہیں ، ان کو مقدس کہنے والے بھی منافق ہیں ۔ علا مہ اقبال ایک لبرل ،سیکولراو رتمام مذاہب کا احترام کرنے والے بہت بڑے روشن خیال شاعر تھے جنہوں نے اسلام کے بارے میں ہی نظمیں نہیں لکھیں بلکہ ہندؤوں کے رام ،سکھ مذہب کے بانی بابا گرونانک کی شان میں بھی نظمیں لکھیں لیکن ہمارے ہاں کے ملاؤں نے علامہ اقبال کو بھی مولومی بنادیا ،میں نے قوم کو سچائی بتانا شروع کی تو فوج نے میری تقریر پر پابندی عائد کر دی ،میرے گھر نائن زیرو پر تالا لگا دیا ،میرے لوگوں کا قتل شروع کر دیا ،آج تک میرے لوگوں پر ظلم کیا جارہا ہے ،آج پورے ملک پر فوج کا قبضہ ہے ،صورتحال یہ ہوگئی ہے کہ کسی ملک کا کوئی وزیر ،سفیر ،فلمی اداکار یا کھلاڑی آئے تو اسے وزیر اعظم عمران خان سے نہیں بلکہ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس پی آر سے ملوایا جاتا ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ملک پر عمران خان کی حکومت ہے یا فوج کی اور عمران خان اور اس کے وزرا فوج کی کٹھ پتلیاں ہیں ؟۔ جناب الطاف حسین نے اپنے خطاب میں تمام پشتونوں ،بلوچوں ،مہاجروں او ر سندھیوں سے کہا کہ دشمن بہت طاقتور ہے اور ہم اکیلے اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے ،بہتر ہے کہ ہم ایک ہوجائیں اور اجتماعی طوپر اپنے مشترکہ دشمن کا مقابلہ کریں اور اپنے اپنے علاقوں کو اس کے جبر سے نجات دلائیں ۔جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم آئین وقانون کے دائر ے میں رہ کر کام کر یں گے وہ غلط ہیں اسلئے کہ جس ملک میں فوج آئین و قانون کو روندتے ہوئے عوام پر ظلم کر رہی ہو اور خود کو آئین و قانون بالاتر سمجھتی ہو وہاں اس کے ظلم کا نشانہ بننے والی قوموں پر یہ فرض ہوجاتا ہے کہ وہ بی اس ظلم سے نجات کے لئے آئین و قانون کی پرواہ کئے بغیر جدوجہد کریں اور وہی عمل کریں جوان کے خلاف کیا جارہا ہو،وقت کا تقاضہ ہے کہ مظلوم پشتون ،مظلوم بلوچ او رمظلوم مہاجر عوام آپس میں اتحاد کرلیں اور اپنی بقاء اور حقوق کے حصول کے مشترکہ جدوجہد کریں ۔جناب الطاف حسین لیکچر ز کی کمپوزنگ ،ایڈ یٹنگ ،کتاب کی ترتیب اور پر نٹنگ میں حصہ لینے پر رابطہ کے ڈپٹی کنوینر قاسم علی رضا ء ، رابطہ کمیٹی کے رکن سفیان یوسف اور رابطہ کمیٹی کے رکن ارشد حسین کو خصوصی خراج تحسین پیش کیا۔







11/18/2019 2:48:37 AM