Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

کشمیرمیں دہشت گردحملوں سے پاکستان اورانڈیاکے درمیان کشیدگی مزیدسنگین ہوگی اورخطے میں جنگ کے بادل چھائیں گے۔الطاف حسین


کشمیرمیں دہشت گردحملوں سے پاکستان اورانڈیاکے درمیان کشیدگی مزیدسنگین ہوگی اورخطے میں  جنگ کے بادل چھائیں گے۔الطاف حسین
 Posted on: 2/15/2019
کشمیرمیں دہشت گردحملوں سے پاکستان اورانڈیاکے درمیان کشیدگی مزیدسنگین ہوگی اورخطے میں 
جنگ کے بادل چھائیں گے۔الطاف حسین
فوجی قیادت کو یہ سوچناہوگاکہ پلوامہ دہشت گرد حملے کے جواب میں انڈیا کی جانب سے پھولوں کی بارش نہیں ہوگی
پلوامہ کے واقعہ کے بعد دنیاکی انگلیاں پاکستان کی طرف اٹھ رہی ہیں اوراس کے ذمہ دار پاکستانی فوج کے جرنیل ہیں پاکستان کی فوج کے جرنیلوں نے ہمیشہ اس پالیسی پر عمل کیاکہ افغانستان پر قبضہ کرلیں
سی پیک معاہدے کی آڑ میں پاکستان کوچائناکے حوالے کیاجارہاہے۔الطاف حسین
اب حقائق سامنے آرہے ہیں کہ ملک کے راز غیرملکی طاقتوں کوبیچ کرملک سے غداری کون کررہاہے۔الطاف حسین
Truth and Reconciliation کمیشن قائم کیاجائے ، فوج اپنی غلطیوں کوتسلیم کرے ۔الطاف حسین
حکومت نے سوشل میڈیاکے خلاف کریک ڈاؤن کیاتو یہ پاکستان کے استحکام پر کریک ڈالیں گے ۔الطاف حسین
ایم کیوایم کے کارکنان ،مہاجر پشتون، بلوچ،سندھی اورتمام مظلو م سوشل میڈیا پر پابندیوں کاتوڑکرنے پر غورکریں

متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ انڈین کشمیرمیں گزشتہ روز سیکوریٹی فورسز پر ہونے والا ہولناک دہشت گرد حملہ خطہ کی نازک صورتحال پر نہایت منفی اثرات ڈالے گا ،پاکستان کی فوجی قیادت کو یہ سوچناہوگاکہ ایسے دہشت گرد حملوں کے جواب میں انڈیا کی جانب سے پھولوں کی بارش نہیں ہوگی بلکہ اس سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کی فضاء مزیدسنگین ہوگی اورخطے میں جنگ کے بادل چھائیں گے ۔ 
انہوں نے ان خیالات کااظہار اپنے اہم خطاب میں کیا۔ ان کایہ خطاب پاکستان اورتمام اوورسیز میں سوشل میڈیاکے ذریعے براہ راست نشر کیاگیا۔ جناب الطا ف حسین نے پلوامہ میں سینٹرل ریزورپولیس فورس( CRPF ) کے قافلے پردہشت گرد حملے کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ میں اور ایم کیوایم کاایک ایک کارکن اس دہشت گرد حملے کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتاہے اورحملے میں مارے جانے والے سیکوریٹی فورسز کے جوانوں کے لواحقین سے دلی تعزیت کااظہارکرتاہے۔ انہوں نے کہاکہ بے گناہ قتل کسی کا بھی ہوایم کیوایم اس کی مذمت کرتی ہے ، قرآن مجیدمیں بھی اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایاہے کہ ایک بے گناہ انسان کاقتل پوری انسانیت کاقتل ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ اس دہشت گرد حملے کی ذمہ داری جیش محمدنامی تنظیم نے قبول کی ہے اور جیش محمدکیاہے، کہاں اورکب بنی ، یہ کس کس دہشت گرد حملے میں ملوث رہی ہے اوراس کاہیڈکوارٹرکہاں ہے اس کے بارے میں سب اچھی طرح جانتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ کل کے دہشت گرد حملے میں ملوث جیش محمدکے حملہ آورنے خودکش حملے سے قبل باقاعدہ وڈیوبھی ریکارڈ کرائی جوجاری کی گئی ۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے طالبان اس طرح کے دہشت گرد حملے کے بعدحملہ آورکی وڈیوجاری کرتے ہیں جس سے صاف ظاہرہوتاہے کہ جیش محمدکے لوگوں کی تربیت کون کررہاہے ۔ انہوں نے کہاکہ فوج کے سابق جرنیل ریٹائرڈجنرل محمدشعیب نے گزشتہ دنوں ایک ٹی وی ٹاک شومیں گفتگوکرتے ہوئے خودکہا تھا کہ انڈیامیں اب خودکش حملے ہوں گے اورکل وہاں خودکش حملہ ہوگیا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستا نی فوج کے جرنیلوں کوسوچناہوگاکہ وہ ایساکرکے دنیاکوکیاپیغام 

دے رہے ہیں، کیاپاکستانی فوج کے جرنیل یہ سمجھ رہے ہیں کہ اس طرح کے دہشت گردحملوں کے جواب میں انڈیاسے پھولوں کی بارش ہوگی؟ کیااس طرح کی پالیسیاں پاکستان کے مفادمیں ہیں؟ انہوں نے کہاکہ پلوامہ کے واقعہ کے بعد دنیاکی انگلیاں پاکستان کی طرف اٹھ رہی ہیں اوراس کے ذمہ دار پاکستانی فوج کے جرنیل ہیں جواس قسم کی پالیسیاں اختیارکررہے ہیں جس کابھگتان پاکستان کوبھگتناپڑرہاہے ۔جناب الطا ف حسین نے کہاکہ افغانستان نے پاکستان پر کبھی حملہ نہیں کیالیکن پاکستان کی فوج کے جرنیلوں نے ہمیشہ اس پالیسی پر عمل کیاکہ افغانستان پر قبضہ کرلیں اوروہاں عمران خان جیسی اپنی کٹھ پتلی حکومت قائم کرلیں، اس مقصدکے لئے کبھی مجاہدین ،کبھی القاعدہ اورکبھی طالبان تشکیل دے کرافغانستان بھیجے جاتے رہے اور اسلام کے نام پر افغانستان کے عوام کو آپس میں لڑایاجاتارہا ، انہی پالیسیوں کے نتیجے میںآج تک افغانستان میں خونریزی جاری ہے اورآج افغانستان کابچہ بچہ یہ کہتاہے کہ افغانستان میں حکومت ، سیکوریٹی فورسز اور عوام کے خلاف ہونے والے دہشت گرد حملے پاکستانی فوج ، آئی ایس آئی اوردیگر ایجنسیاں کروارہی ہیں۔
جناب الطا ف حسین نے کہاکہ انہوں نے ہمیشہ اس بات کی تبلیغ کی اورآج بھی اس بات پریقین رکھتے ہیں کہ انڈیا، افغانستان، ایران ، چائنا سمیت تمام پڑوسی ممالک سے اچھے تعلقات قائم کئے جائیں لیکن کسی بھی ملک سے دوستانہ تعلقات قائم کرنے مطلب یہ ہرگزنہیں ہے کہ اپنے ملک کواس کے حوالے کردیاجائے یااس کے ہاتھوں اپنے ملک کوفروخت کردیاجائے ۔انہوں نے کہاکہ چائنااور پاکستان کے درمیان جو اکنامک کوریڈورکاجومعاہدہ کیا گیاجسے ’’سی پیک ‘‘ کانام دیاگیاہے لیکن دراصل یہ ’’ کنٹری پیک ‘‘ ہے کیونکہ یہ معاہدہ صرف ایک اکنامک کوریڈور تک محدود نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس معاہدے کی آڑ میں پاکستان کوچائناکے حوالے کیاجارہاہے ، تمام بندرگاہیں اور اہم وسائل چائناکے ہاتھوں فروخت کردی گئی ہیں، پورے پاکستان بھرمیں چائنا کے بورڈلگ چکے ہیں، بلوچستان میں گوادر کے ساتھ ساتھ تمام سرسبزوشاداب ساحلی علاقے مقامی باشندوں کے لئے ریڈزون بنادیے گئے ہیں اوروہاں صدیوں سے آباد بلوچوں کوجانے کی اجازت نہیں ہے، جوماہی گیرصدیوں سے وہاں مچھلیوں کاشکارکرکے اپناگزربسرکرتے تھے ان پر وہاں جانے پر پابندی ہے ، بلوچوں کو ان کے گھروں سے نکال کران کی آبادیوں پر قبضہ کیاجارہاہے ،غریب بلوچوں کوآبادیوں سے بیدخل کرنے کے لئے ان کے گھروں کوآگ لگائی جارہی ہے اورجوبلوچ اس کے خلاف مزاحمت کررہے ہیں ان کاقتل عام کیاجارہاہے ۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ اسی طرح کراچی میں بھی سی پیک کے منصوبے کے تحت مہاجروں کی کئی دہائیوں سے قائم آبادیوں کوناجائزقراردے کرمسمار کیاجارہاہے ، گھروں،دکانوں کومٹایا جارہاہے۔ انہوں نے سوال کیاکہ آخر یہ چائنا سے کس طرح کامعاہدہ ہے کہ پاکستانیوں سے اپنے ہی وطن میں ان کاسب کچھ چھیناجارہاہے اورسب کچھ چائنا کے حوالے کیاجارہاہے؟
جناب الطا ف حسین نے کہاکہ پاکستان میں غیراعلانیہ مارشل لانافذ ہے، دنیاکودکھانے کے لئے عمران خان کی شکل میں ایک کٹھ پتلی وزیراعظم ملک میں لایا گیاہے لیکن اصل حکمرانی فوج کی ہے جس نے ملک کے تمام اداروں پراپناکنٹرول کرلیاہے، عمران خان فوج کالانس نائیک ہے اورفوج نے عمران خان کو صرف دنیاسے بھیک مانگنے کے لئے رکھاہے۔انہوں نے کہاکہ پہلے فوج ملک کے مختلف حصوں میں عوام پر مظالم ڈھاتی تھی لیکن ٹی وی چینلز اوراخبارات پر فوج کاکنٹرول ہونے کی وجہ سے یہ مظالم عوام کے سامنے نہیں آسکتے تھے لیکن جب سے سوشل میڈیاکاذریعہ مظلوم عوام کو میسرآیاہے توبلوچستان ، کراچی ، اندرون سندھ ، قبائلی علاقوں ، گلگت بلتستان اورپاکستان کے کسی بھی حصہ میں فوج اورریاستی اداروں کی جانب سے مہاجروں، بلوچوں، پشتونوں، سندھیوں اور دیگرمظلوم عوام پر ہونے والے مظالم سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آرہے ہیں،سانحہ ساہیوال ہو، نقیب اللہ محسود کاقتل ہویا ڈاکٹرحسن ظفرعارف اور سید علی رضاعابدی کاقتل ہو، طاہرداوڑ ،پروفیسر ارمان لونی کاقتل، اوربلوچستان میں بلوچوں کاقتل، سوشل میڈیاکے ذریعے ہی اصل حقائق سامنے آئے اوراب دنیاکو پتہ چل رہاہے کہ پاکستان میں فوج کس طرح عوام پر ظلم کررہی ہے ۔ الطاف حسین ، پی ٹی ایم ، بلوچ،پشتون، سندھی سوشل میڈیا کا سہارا لے رہے ہیں توفوج کی ایماء پر عمران خان حکومت نے سوشل میڈیاکے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کااعلان کیاہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ سوشل میڈیاکے خلاف کریک 

ڈاؤن نہیں ہوگا بلکہ اس طرح یہ پاکستان کے استحکام پر کریک ڈالیں گے اورملک کوہی نقصان پہنچائیں گے۔ انہوں نے پاکستان اوردنیابھرمیں پھیلے ہوئے ایم کیوایم کے کارکنوں ، پشتونوں، بلوچوں،سندھیوں اورتمام مظلوموں سے کہاکہ وہ سوشل میڈیا پر پابندیوں کاتوڑکرنے پر بھی غورکریں اورمتبادل راستے تلاش کریں۔ 
جناب الطاف حسین نے کہا کہ پاکستان میں مارشل لاء اوراسٹریٹوحکومت ہے ،لہٰذا اقوام متحدہ ، یورپی یونین اورانسانی حقو ق کے تمام بین الاقوامی ادارے حکومت اورفوج کی جانب سے اظہاررائے کی آزادی کوسلب کرنے، مہاجروں،بلوچوں، پشتونوں، سندھیوں کے ماورائے عدالت قتل اورانسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کانوٹس لیں اورانہیں بندکرانے کے لئے اپنااثررسوخ استعمال کریں۔ انہوں نے خاص طوپراقوام متحدہ، آئی ایم ایف ،ورلڈبینک اور دیگر تمام مالیاتی اداروں سے بھی کہاکہ وہ پاکستان کوامداددینابندکریں کیونکہ پاکستان کی فوج اورریاستی ایجنسیاں امداد کی رقم ملک اورعوام کی بہتری پر خرچ کرنے کے بجائے مزید جہادی گروپ بنانے اوران سے دنیابھرمیں 9/11 اور7/7 جیسی دہشت گردی کی کارروائیاں کروائیں گے،ہردہشت گردی کے واقعہ کاسرا اورمرکزپاکستان میں ملتاہے لہٰذاانسانیت کو بچانے کے لئے ان کی امداد بندکرنا ہوگی۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ فوج اپنے حقوق کیلئے جدوجہد کرنے پرمہاجروں، بلوچوں، پشتونوں،سندھیوں کو غدارکہتی ہے لیکن اگرجائزہ لیاجائے تو غدار سویلینز میں نہیں بلکہ فوج کی صفوں میں ہیں، اب حقائق سامنے آرہے ہیں کہ ملک کے راز غیرملکی طاقتوں کوبیچ کرملک سے غداری کون کررہاہے ، انہوں نے اس سلسلے میں فوج کے لیفٹننٹ جنرل جاویداقبال اعوان اور بریگیڈیئرراجہ رضوان اورایک کرنل کازکر کیا جن کے خلاف فوج میں تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے فوج کے سابق سرابراہان جنرل کیانی، جنرل راحیل شریف، جنرل پاشا کازکرکرتے ہوئے کہاکہ فوج کے جرنیل ریٹائرہوکر دوسرے ممالک کی خدمت کرتے ہیں ، آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل اسددرانی انڈیاکی ایجنسی را کے سابق سرابراہ کے ساتھ ملکرکتاب لکھتے ہیں لیکن غدار ہمیں کہا جاتا ہے ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج پاکستان فوج کے ہاتھوں پوراملک مقبوضہ بناہواہے، وقت کاتقاضہ ہے کہ مہاجروں، بلوچوں،پشتونوں، سندھیوں، گلگت بلتستان کے مظلوموں پر ظلم بند کیاجائے ، Truth and Reconciliation کمیشن قائم کیاجائے ، فوج اپنی غلطیوں کوتسلیم کرے اورفیصلہ کرلے کہ وہ مظلوم قوموں کواپنے ساتھ رکھناچاہتی ہے یانہیں ۔ ہمیں دیوار سے نہ لگایاجائے۔ انہوں نے کہاکہ مسلسل ریاستی مظالم کی وجہ سے آج تمام مظلوم قوموں میں یہ سوچ تیزی سے پروان چڑھ رہی ہے کہ ریاست کے ادارے ان کے محافظ نہیں بلکہ ان کے قاتل ، چوراورڈاکو ہیں اور ملک کے آئین وقانون کے دائرے میں انہیں ان کاحق نہیں ملے گا۔ انہوں نے پنجاب کے عوام سے کہاکہ اگروہ پاکستان کوبچاناچاہتے ہیں تووہ مظلوم قوموں پر ہونے ولے ظلم کے خلاف باہر نکلیں اورپاکستان کوبچائیں۔ 

*****

7/21/2019 3:41:48 AM