Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

جب ملک کاقانون اورعدالتیں شہریوں کوتحفظ فراہم نہ کرسکیں توشہریوں کا حق ہے کہ وہ غلا می اورقبضہ سے نجات کیلئے حق خودارادیت کامطالبہ کریں۔الطاف حسین


جب ملک کاقانون اورعدالتیں شہریوں کوتحفظ فراہم نہ کرسکیں توشہریوں کا حق ہے کہ وہ غلا می اورقبضہ سے نجات کیلئے حق خودارادیت کامطالبہ کریں۔الطاف حسین
 Posted on: 2/9/2019 1
جب ملک کاقانون اورعدالتیں شہریوں کوتحفظ فراہم نہ کرسکیں توشہریوں کا حق ہے کہ وہ غلا می اورقبضہ سے
نجات کیلئے حق خودارادیت کامطالبہ کریں۔الطاف حسین
اقوام متحدہ کاچارٹربھی قوموں کوخودارادیت کا حق دیتاہے جسے پاکستان سمیت دنیا کے تمام ممالک نے تسلیم کیاہے۔الطاف حسین
پاکستان میں غیراعلانیہ مارشل لاء نافذ ہے ، پورا ملک ، ملک کے تمام ادارے اورعمران خان کی حکومت بھی فوج کے کنٹرول میں ہے 
کراچی اورسندھ کے شہری علاقوں، سندھ، بلوچستان، پختونخوا، قبائلی علاقے، گلگت بلتستان اس وقت مقبوضہ علاقے بنے ہوئے ہیں 
فوج نے ہمیشہ پشتونوں کواپنے مقاصدکے لئے استعمال کیا، افغان جنگ کے نام پر پشتون سرزمین کوپشتونوں کے خون میں نہلایا سندھیوں کوچاہیے کہ وہ پنجاب کے قبضہ سے نجات کے لئے آگے آئیں اورمہاجروں کے ساتھ شانہ بشانہ ملکرچلیں ۔الطاف حسین
اگرسندھی اسی بحث میں الجھے رہیں گے کہ ’’مہاجر سندھی بن جائیں‘‘ اوروہ مہاجروں سے لڑتے رہیں گے تو وہ سندھ پر قبضہ کرنیو الی طاقتوں کوہی فائدہ پہنچاتے رہیں گے۔الطاف حسین
کشمیریوں کوانڈیاسے آزادی حاصل ہوجائے تو وہ پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کے بجائے آزاداورخودمختارریاست بنکر رہیں
اوورسیز میں رہنے والے ایم کیوایم کے کارکنان اورعام مہاجر اپنی قوم پر ہونے والے مظالم سے دنیاکوآگاہ کریں
قائدتحریک الطاف حسین کا وڈیوکانفرنسنگ کے ذریعے دنیاکے مختلف ممالک میں موجود کارکنوں کے اجتماعات سے بیک وقت خطاب

متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ جب ملک کاقانون اورعدالتیں شہریوں کوتحفظ فراہم نہ کرسکیں تو شہریوں کایہ حق ہے کہ وہ ا پنی بقاء اورتحفظ کے لئے بین الاقوامی عدالت کادروازہ کھٹکھٹائیں اور غلا می اورقبضہ سے نجات کیلئے حق خودارادیت کامطالبہ کریں۔اقوام متحدہ کاچارٹربھی قوموں کویہ حق دیتاہے جسے پاکستان سمیت دنیا کے تمام ممالک نے تسلیم کیاہے ۔ انہوں نے ان خیالات کااظہاروڈیوکانفرنسنگ کے ذریعے دنیاکے مختلف ممالک میں موجود کارکنوں اورہمدردوں کے اجتماعات سے بیک وقت خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جناب الطاف حسین کے خطاب کے سلسلے میں وڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے امریکہ ، کینیڈا، جرمنی، برطانیہ، ساؤتھ افریقہ اوردیگرممالک کے 20سے زائد مقامات پر اجتماعات منعقد ہوئے تھے جبکہ جناب الطاف حسین کایہ خطاب ان ممالک کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیاکے ذریعے پاکستان ، خلیج ریاستوں دنیابھرمیں براہ راست نشرکیاگیاجہاں کارکنوں اور ہمدردوں نے گھروں میں گروپ کی شکل میں جناب الطاف حسین کایہ خطاب سنا۔

حق خودارادیت
اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان میں غیراعلانیہ مارشل لاء نافذ ہے ، پورا ملک ، ملک کے تمام ادارے اورعمران خان کی حکومت بھی فوج کے کنٹرول میں ہے، وزیراعظم عمران خان اوران کے وزراء فوج کی کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں، کراچی اورسندھ کے شہری علاقوں، سندھ، بلوچستان، 

پختونخوا، قبائلی علاقے، گلگت بلتستان اس وقت مقبوضہ علاقے بنے ہوئے ہیں، سوائے پنجاب کے تمام مقبوضہ علاقے اورسرائیکی اورکشمیری بھی فوج کے ظلم کاشکار ہیں اوران سے نجات حاصل کرناچاہتے میں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں نے ملک توڑنے کی نہیں حق خودارادیت کی بات کی ہے کہ عوام سے پوچھاجائے کہ وہ فوج کی غلامی اورجبرسے نجات حاصل کرنے کیلئے کیاچاہتے ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر’’ حق خودارادیت ‘‘ کی بین الاقوامی تعریف بھی بیان کی اوراس سلسلے میں اقوام متحدہ کے متعلقہ چارٹراور ڈیکلریشن کی متعلقہ شقیں بھی پڑھ کرسنائیں اورکہاکہ اقوام متحدہ کے اس ڈیکلریشن پر پاکستان نے بھی دستخط کئے ہیں اوراقوام متحدہ کے اس چارٹرکے تحت مہاجر، پشتون، بلوچ، سندھی ، گلگتی ، بلتستانی ،سرائیکی اوردیگرمظلوم قومیں حق خودارادیت کا مطالبہ کرسکتی ہیں۔جناب الطاف حسین نے جوپشتون، بلوچ، مہاجر،سندھی یہ سمجھتے ہیں کہ وہ آئین وقانون کے تحت اپنے حقوق اورظلم سے نجات حاصل کرلیں گے تووہ بتائیں کہ اس وقت کونسان آئین و قانون ان کاتحفظ کررہاہے؟ کس قانون کے تحت مہاجروں،بلوچوں، پشتونوں، سندھیوں کو پکڑ کر غائب کیا جارہا ہے ؟ ان کاماورائے عدالت قتل کیاجارہاہے؟بلوچوں کی اجتماعی قبریں مل رہی ہیں، ایساظلم کرنے والوں کے خلاف کس آئین و قانون کے تحت کارروائی نہیں کی جاتی؟فوج، رینجرزپولیس کس آئین و قانون کے تحت چھاپوں اور گرفتاریوں کے دوران مہاجر، پشتون، بلوچ ماؤں بہنوں کی بے حرمتی کررہی ہے؟ انہوں نے مزیدکہاکہ ظلم وجبراورغلامی سے آزادی کوئی طشتری میں رکھ کر نہیں دے گا، آزادی چھیننی پڑے گی اوراس کے لئے ہر طرح کی کوشش اور قربانی دیناپڑے گی۔انہوں نے کہاکہ اگرآپ پر کوئی ظلم یاحملہ کرے تواپنے دفاع کاحق اقوام متحدہ کاچارٹربھی دیتاہے اوراسلام بھی دیتاہے ، اگرایسا نہ ہوتا تو حضور اکرم ؐ تلوار نہ اٹھاتے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ قرآن مجیدمیں اللہ تعالیٰ نے خودفریاہے کہ خدااس قوم کی حالت نہیں بدلتاجب تک وہ اپنی حالت بدلنے کے لئے خودتیارنہ ہو۔ انہوں نے کہاکہ میں سوئے ہوئے لوگوں سے بھیک مانگتاہوں کہ خداراجاگ جاؤ اور اپنی اپنی قوم کو بچالو۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں نے حق خودارادیت کامعاملہ اقوام متحدہ میں پیش کرنے کے لئے پشتون اوربلوچ لیڈروں سے نام مانگے تھے،اس سلسلے میں مجھے پشتون اوربلوچ لیڈروں کے جواب کاانتظارہے تاکہ ہم پشتون، بلوچ اورمہاجر ملکر اقوام متحدہ کادروازہ کھٹکھٹائیں اورانہیں بتائیں کہ فوج نے ہمارے علاقوں اوروسائل پر قبضہ کررکھاہے، ہمیں جینے کاحق چاہیے ۔ 

پشتونوں کے لئے 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ فوج نے پشتونوں خصوصاًقبائلی عوام کواپنے مقاصدکے لئے استعمال کیا، انہیں کشمیرمیں بھیجا، افغان جنگ کے نام پر پشتون سرزمین کوپشتونوں کے خون میں نہلایا، فوج نے طالبان کے خلاف کاروائی کے نام پر قبائلی علاقوں کے پشتون عوام کوان کے گھروں سے بیدخل کرکے آئی ڈی پیز بنایا،قبائلی عوام آج تک آئی ڈی پیز بنے ہوئے ہیں اورفوج نے ان کے گھروں اوردکانوں کوبمباری کرکے تباہ کردیااوروہاں پرقبضہ کرلیا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں ہیروئن اورکلاشنکوف کلچر نہ پشتون لائے نہ مہاجرلائے بلکہ یہ فوج لے کرآئی ۔ فوج نے ہی مہاجروں پشتونوں، سندھیوں اوربلوچوں کوآپس میں لڑایا لیکن اب تمام قومیں ان سازشوں کو سمجھ گئی ہیں اوراب انشاء اللہ انہیں�آپس میں لڑایانہیں جاسکتا۔ 

سندھیوں کے نام
جناب الطا ف حسین نے سندھیوں کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ جب سندھ پر قبضہ ہے توسندھیوں کوبھی چاہیے کہ وہ اس قبضہ سے نجات کے لئے آگے آئیں اورمہاجروں کے ساتھ شانہ بشانہ ملکرچلیں،اگروہ ساتھ آتے ہیں توہم ان کادل سے خیرمقدم کریں گے اوراگروہ ساتھ نہیں آتے تب بھی مہاجروں 

نے فیصلہ کرلیاہے کہ وہ پنجابی فوج کے قبضہ سے نجات حاصل کریں گے۔انہوں نے کہاکہ اگرسندھی اسی بحث میں الجھے رہیں گے کہ ’’مہاجر کچھ نہیں ہوتا، مہاجر سندھی بن جائیں‘‘اوراسی بحث میں پڑکروہ مہاجروں سے لڑتے رہیں گے تواس طرح وہ سندھ کونہیں بلکہ سندھ پر قبضہ کرنیو الی طاقتوں کوہی فائدہ پہنچاتے رہیں گے ۔انہوں نے کہاکہ جو آج خودکو سندھی کہلاتے ہیں وہ بھی کبھی عرب تھے اورصدیوں پہلے باہرسے آئے تھے، مہاجروں کوسندھی بننے کا مشورہ دینے والوں کوسمجھناچاہیے کہ قومیں راتوں رات نہیں بدلتیں،اس میں صدیاں لگتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سچے سندھی قوم پرستوں کواچھی طرح معلوم ہے کہ سائیں جی ایم سید نے خود کہاتھاکہ سندھ کو پنجاب کی غلامی سے اگر کوئی نجات دلا سکتاہے تووہ صرف الطا ف حسین ہے ۔ اب یہ سندھیوں کوفیصلہ کرناہے کہ انہیں پنجاب کی غلامی سے نجات حاصل کرنی ہے یاپنجاب کاغلام بنے رہناہے۔

کشمیریوں کے لئے پیغام
جناب الطاف حسین نے مسئلہ کشمیر کازکرکرتے ہوئے کہاکہ کشمیرصرف کشمیریوں کاہے اورمیں مقبوضہ کشمیرکے عوام سے کہتاہوں کہ اگر آپ کوانڈیاسے آزادی حاصل ہوجائے توپاکستان کے ساتھ شامل ہونے کے بجائے مکمل طورپرآزاداورخودمختارریاست بنکر رہنا، اگرآپ پاکستان کے ساتھ شامل ہوئے توانڈیا کے قبضہ سے نکل کرپاکستان کے قبضہ میں آجاؤگے اورتمہاری قوم نسل درنسل پھرغلامی میں چلی جائے گی۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کی فوج ہرسال کشمیرکے نام پردفاعی بجٹ لیتی ہے ، اگرانہیں کشمیریوں سے ہمدردی ہوتی تووہ فوجی طاقت کے ذریعے کشمیرکوآزادکرالیتے،انہیں کشمیریوں سے نہیں بلکہ کشمیرکواپنے ساتھ ملاکراس کے وسائل پرقبضہ کرنے سے دلچسپی ہے۔ 

اوورسیز کے کارکنوں اورمہاجروں کے لئے پیغام
جناب الطاف حسین نے اوورسیز میں رہنے والے ایم کیوایم کے کارکنوں اورمہاجروں پر ذوردیتے ہوئے کہاکہ آپ کے شہرمقبوضہ علاقے بنے ہوئے ہیں ، آپ کی قوم پر مظالم ڈھائے جارہے ہیں، وقت کاتقاضہ ہے کہ اپنی قوم کی بقاء کی خاطرآپس کے اختلافات اوررنجشوں کوختم کریں اورباہر رہتے ہوئے اپنی قوم پر ہونے والے مظالم سے دنیاکوآگاہ کریں، اپنے اپنے شہروں کے ارکان پارلیمنٹ اورانسانی حقوق کے اداروں سے ملاقاتیں کریں، انہیں صورتحال سے آگاہ کریں۔جناب الطا ف حسین نے ان سے مزیدکہاکہ اوورسیزمیں رہنے والے کارکنان اورعام مہاجراپنی قوم کے پریشان حال لوگوں کی مددکے لئے اخلاقی مددکے ساتھ ساتھ ان کی مالی مدد بھی کرسکتے ہیں۔ انہوں نے اووسیزیونٹوں کے کارکنوں سے کہاکہ پاکستان میں میڈیاپر فوج کاقبضہ ہے جو مظلوم قوموں پر ہونیو الے مظالم اورآن کی آوازکونہیں دکھاتا لہٰذاہمیں سوشل میڈیاپر اپنامقدمہ لڑناہے ۔ اس سلسلے میں اوورسیزیونٹس اپنے اپنے کارکنوں کے نام دیں تاکہ ایک ٹیم کے طورپر ہم سوشل میڈیاپراپنامقدمہ بھرپوراندازمیں پیش کرسکیں۔جناب الطاف حسین نے اوورسیزیونٹوں میں ہونے والے اجتماعات کو وڈیوکانفرنسنگ کے ذریعے دنیابھرمیں دکھانے کے لئے بہترین انتظامات کرنے پر ایم کیوایم کے شعبہ اطلاعات کی آئی ٹی ٹیم اوروڈیواورفوٹوسیکشن کوخصوصی خراج تحسین پیش کیا۔ 
*****

6/24/2019 10:23:04 AM