Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

اقوام متحدہ کے چارٹرکے تحت حق خودارادیت کا مطالبہ قطعی سراسرجائز ہے۔ ڈاکٹرندیم احسان


اقوام متحدہ کے چارٹرکے تحت حق خودارادیت کا مطالبہ قطعی سراسرجائز ہے۔ ڈاکٹرندیم احسان
 Posted on: 2/6/2019 1

اقوام متحدہ کے چارٹرکے تحت حق خودارادیت کا مطالبہ قطعی سراسرجائز ہے۔ ڈاکٹرندیم احسان
اس مطالبہ پرایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی اورتمام کارکنان اورمہاجر عوام قائدتحریک الطاف حسین کے ساتھ ہیں۔ندیم احسان
فوج نے مہاجروں، بلوچوں، پشتونوں اوردیگرمظلوم قوموں کے لئے حق خودارادیت کے سواکوئی راستہ نہیں چھوڑا۔ندیم احسان
حق خودارادیت کے مطالبہ پر اگرکسی کواس پرمناظرے کا شوق ہے تو ہم ا س کے لئے تیارہیں۔ندیم احسان
71 سال سے کشمیر کانام استعمال کیاجارہاہے، کشمیریوں کوتو آزادی نہیں ملی لیکن جرنیلوں کی جائیدادوں میں اضافہ ہوتا رہا۔قاسم علی رضا
جب ملک میں انصاف نہ ملے UNچارٹر قوموں کو حق دیتاہے کہ وہ اپنی بقاء کیلئے اقوام متحدہ کادروازہ کھٹکھٹائیں۔مصطفےٰ عزیزآبادی
پاکستان کے آئین کوباربارقائدتحریک الطاف حسین نے نہیں فوجی جرنیلوں نے توڑا لیکن کسی جرنیل کو سزانہیں دی گئی۔منظوراحمد
قائدتحریک الطاف حسین نے پاکستان میں انصاف کے تمام راستے بند کیے جانے پرحق خودارادیت کامطالبہ کیا۔سفیان یوسف
متحدہ قومی موومنٹ رابطہ کمیٹی کی انٹرنیشنل سیکریٹریٹ میں وڈیو بریفنگ

لندن ۔۔۔ 5، فروری 2019ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے کنوینر ڈاکٹرندیم احسان نے کہاہے کہ قائدتحریک الطاف حسین کی جانب سے پشتونوں، بلوچوں، مہاجروں اوردیگر مظلوم قوموں کے لئے اقوام متحدہ کے چارٹرکے مطابق حق خودارادیت کامطالبہ قطعی جائز اوردرست ہے ، ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی اورتمام کارکنان اورمہاجر عوام قائدتحریک الطاف حسین کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے یہ بات ایم کیوایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میں ایک اہم وڈیوبریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینرقاسم علی رضا، رابطہ کمیٹی کے ارکان مصطفےٰ عزیزآبادی، منظوراحمداورسفیان یوسف بھی نے بھی اظہارخیال کیا۔ ڈاکٹرندیم احسان نے کہا کہ آج کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی بات ہورہی ہے ، مقبوضہ کشمیر کی بات ہورہی ہے مگر پاکستان میں مقبوضہ کراچی، سندھ کے مقبوضہ شہری علاقے بھی موجود ہیں، مقبوضہ بلوچستان ، مقبوضہ خیبرپختونخوا اور مقبوضہ فاٹا بھی موجود ہے جہاں رہنے والے مہاجروں، پشتونوں، بلوچوں، سندھیوں اوردیگرمظلوموں پر ریاستی مظالم ڈھائے جارہے ہیں ۔2013ء سے لیکر آ ج تک مہاجروں کے خلاف ایک نیا فوجی آپریشن جاری ہے ، الطاف حسین سے ان کی جماعت ایم کیوایم چھیننے کی کوشش کی گئی ، بلوچوں کے خلاف آپریشن جاری ہے اور اب صورتحال یہ ہے کہ پختونوں کے خلاف بھی آپریشن کیاجارہا ہے اورآج مہاجر، بلوچ، پختون اور تمام مظلوم قومیں جو فوج کے ہاتھوں ستائی ہوئی ہیں وہ آج ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوگئی ہیں۔ڈاکٹرندیم احسان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرمیں کشمیری رہنماؤں کوصرف نظربند کیاجاتاہے لیکن مہاجررہنماؤں کوگرفتارکرکے ماورائے عدالت قتل کیاجاتاہے، ان کیلئے جبری گمشدگیاں ہیں،اسیری ہے ، گھر سے دربدری ہے ۔انہوں نے کہاکہ اسٹیبلشمنٹ کہتی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ظلم ہورہا ہے لہٰذا انہیں اقوام متحدہ کا چارٹرکے مطابق حق خودارادیت دیاجائے ۔ پاکستان کے دستور کے آرٹیکل3, 4, 8, 10, 10A, 13, 14, 15, 16, 17, 19 and 25 بھی ہیں جو انسانی حقوق ، شخصی آزادی ، آزادی اظہار ، جلسہ جلوس اور تحریر تقریر کی آزادی کے حوالے سے واضح طورپر بتاتے ہیں۔ڈاکٹرندیم احسان نے کہا کہ پاکستان کی فوج ،اسٹیبلشمنٹ اورآئی ایس آئی یہ سب سمجھتے ہیں کہ وہ ماورائے آئین و قانون ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ہر شہری آئین پاکستان کے تابع ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ پاکستان کی فوج آئین کے تابع کیوں نہیں ہے ؟ انہوں نے کہاکہ بین الاقومی برادری میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اقوم متحدہ کے ممبر کی حیثیت سے ریاست پاکستان اپنے کیے ہوئے معاہدوں کے تابع ہے اور ان معاہدوں کی پاسداری بھی اس پر لازم ہے ۔انہوں نے کہاکہ 2، فروری 2019ء کو قائد تحریک جناب الطاف حسین نے حق خودارادیت کے حوالہ سے جو بات کہی ہے اگرکسی کواس پرمناظرے کا شوق ہے تو ہم ان کے ساتھ مذاکرہ اورمناظرہ بھی کرلیں گے ۔انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ کاچارٹر حق خودارادیت کی بات کرتا ہے اوراس کاآرٹیکل 1 ، شق 2 ہے کہ
To develop friendly relations among nations based on respect for the principle of equal rights and self-determination of peoples, and to take other appropriate measures to strengthen universal peace
اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کے ڈکلیریشن کے آرٹیکل18،19،20 اور21 واضح کرتے ہیں ۔
ڈاکٹرندیم احسان نے پشتون تحفظ موومنٹ کے احتجاجی مظاہروں کے موقع پر گلالئی اسمٰعیل صاحبہ، عبداللہ ننگیال اوردیگر لیڈرز اورورکرز کی گرفتار یوں کی مذمت کی اورمطالبہ کیاکہ تمام گرفتارشدگان کو رہا کیاجائے۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ ماہ27، جنوری کو ایم کیوایم کے کارکنوں اور شہیدوں اور اسیرولاپتہ ساتھیوں کے اہل خانہ نے سہراب گوٹھ پر پشتون تحفظ موومنٹ کے دھرنے میں شرکت کی تھی۔اس کے بعد فوج اور اس کے اداروں نے دھرنے میں شرکت کرنے والے کارکنوں کو گھروں سے اٹھاکر لاپتہ کردیا۔انہوں نے کہاکہ حالیہ دنوں میں پی ٹی ایم کے کارکن ارمان لونی کوماورائے عدالت قتل کردیاگیا ۔ فوج کے ساتھ مسئلہ یہی ہے کہ انہوں نے کبھی تاریخ سے سبق حاصل نہیں کیا۔ انہوں نے جب سبق حاصل کیا ہے تو جغرافیہ سے سبق حاصل کیا ہے ۔ ڈاکٹرندیم احسان نے کہاکہ قائد تحریک الطاف حسین نے معاملات کی بہتری کیلئے ہرآئینی اور قانونی دروازہ کھٹکھٹایا۔ سربراہان مملکت، حکمرانوں، فوجی اشرافیہ، صحافیوں ، علماء کو خطوط لکھے ، فوج کوسیلوٹ کئے ،سب کچھ کرلیا،معافی تک مانگ لی مگر اسٹیبلشمنٹ ، آئی ایس آئی اورفوج نے اپناطرزعمل اورپالیسی نہیں بدلی۔ انہوں نے کہاکہ فوج، اسٹیبلشمنٹ اور آئی ایس آئی کا المیہ یہ ہے کہ جوان کے سروں کی جوفٹ بال بناتا ہے اس کو یہ اپنے گھرکا داماد بناتے ہیں،یہ فوج اس کو سیلوٹ کرتی ہے ،یہ کبھی طاقتور کے آگے کھڑی نہیں ہوتی۔ڈاکٹرندیم احسان نے بلوچ عوام پر ڈھائے جانے والی ریاستی مظالم کا زکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ صرف ایک مہینے میں بلوچستان میں 78فوجی آپریشن کیے گئے ، 108 افراد لاپتہ کردیئے گئے ، 230 گھروں میں لوٹ مار کی گئی اور 31 لاشیں ملی ہیں اس میں دس مسخ شدہ لاشیں شامل ہیں جنہیں ریاست پاکستان نے دفنابھی دیا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں ہرقسم کی دہشت گردی کے خلاف سب سے مضبوط اورتوانا آواز الطاف بھائی کی ہے لیکن ان کی تحریر، تقریر اور تصویر پر پابندی ہے ،ان کے گھرنائن زیرو پر غیرآئینی اور غیرقانونی طورپر تالا لگایا ہوا ہے،ایم کیوایم پر غیرقانونی وغیرآئینی پابندی ہے،مہاجروں ، بلوچوں ، پختونوں اوردیگرمظلوم قوموں پر ظلم فوج کا وطیرہ رہا ہے ۔ ہم نے بتادیا کہ یہ تمام آئینی اورقانونی تقاضوں کے تحت بالکل درست اورجائز ہے کیونکہ آپ نے کوئی گنجائش ہی نہیں رکھی ۔ آپ اتنے بہادر ہیں کہ آپ مظلوموں اور کمزوروں پر ہتھیار اٹھاتے ہواور طاقتور آجائے تو اس کے قدموں پر ہتھیار نچھاور کردیتے ہیں۔ڈاکٹرندیم احسان نے کہاکہ پاکستان کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کہتے ہیں لیکن مہاجروں کو اپنے شہداء کی یادگارپرجانے کی اجازت نہیں ہے ،اس اسلامی ملک میں شہداء کے لواحقین ، اسیرولاپتہ کارکنان کے اہل خانہ کوقران مجید پڑھنے اورفاتحہ خوانی کی اجازت نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جس ملک میں کلرک سے لیکر چیف سیکریٹری تک غیر مہاجرہو ، سپاہی سے لیکرآئی جی تک غیرمہاجر ہو ، فوج میں سپاہی سے لیکر کورکمانڈر تک غیر مہاجر ہو،جس صوبے میں مہاجروں کی آبادی آدھی دکھائی جائے ، جس صوبے میں ہمارا تعلیمی استحصال کیا جائے ، معاشی وجسمانی قتل عام کیاجائے اورآبادیوں کو اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر مسمار کیاجائے وہاں حق خودرادیت کی بات نہ کی جائے تو کیا کیا جائے ۔
ڈاکٹرندیم احسان نے کہاکہ قائدتحریک الطاف حسین نے حق خودارادیت کا جومطالبہ کیا ہے پوری رابطہ کمیٹی اور پوری مہاجرقوم ، الطاف بھائی کے ساتھ کھڑی ہے اوراللہ تعالیٰ نے الطاف بھائی کو جو عزت اور جو مقام دیا ہے وہ آپ اور ہم سب اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے کہ الطاف بھائی نے جس منزل کا تعین کیا ہے ، اللہ رب العزت اس منزل کو الطاف بھائی کے ہاتھوں ہی حاصل کرائیں گے۔ رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینرقاسم علی رضا نے اس موقع پر گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ قائد تحریک جناب الطاف حسین نے 40 سال شب وروز محنت کرکے ایک گمنام مہاجرقوم کو شناخت دی ، انہیں حقوق کا ادراک دیااور دنیا بھرمیں مہاجروں کی پہچان کروائی اورانہیں مہاجرقوم تسلیم کرایا، آج ہم تمام وفاپرست کارکنان چاہے دنیاکے کسی بھی حصے میں رہتے ہوں ، قائد تحریک جناب الطاف حسین بھائی کے انتہائی مشکور ہیں کہ انہوں نے مہاجروں، پشتونوں ، بلوچوں او ر دیگر مظلوم قوموں کو مشترکہ طورپر حق خودارادیت کا مقدمہ اقوام متحدہ میں دائر کرنے کی تجویزپیش کردی ہے ۔ تاریخ میں قائد تحریک محترم الطاف حسین کومظلوموں کے ترجمان کے طورپر یادرکھاجائے گا کہ جب پاکستان میں ریاست ، ظلم وستم ، جبرواستبداد کے ہرہتھکنڈے استعمال کرکے اپنے کلمہ گو ، اپنے ہم وطن بلوچوں ، پشتونوں ، سندھیوں ، مہاجروں اور دیگر مظلوم قومیتوں کے آئینی ، قانونی، اسلامی اور انسانی حقوق پامال کررہی تھی اس وقت قائد تحریک جناب الطاف حسین بھائی نے مظلوم قوموں کو متحد ہوکر مشترکہ جدوجہد کی راہ دکھائی ۔ بلاشبہ قائد تحریک الطاف حسین بھائی مظلوموں کے ساتھی ہیں۔
قاسم علی رضانے کہاکہ فوج اور آئی ایس آئی گزشتہ 70، 71 سال سے کشمیر کانام استعمال کرتی آرہی ہے ۔ کشمیریوں کو تو آج تک آزادی نہیں ملی ، کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم تو کم نہیں ہوئے لیکن فوجی جرنیلوں کی املاک اور جائیدادوں میں اضافہ ضرور ہوتا رہا ہے ،یہ70 سال ہوگئے کشمیر کا چورن بیچتے رہے لیکن کشمیر کی ایک انچ زمین بھارت سے آزاد نہیں کراسکے ۔فوج نے کشمیری عوام کو فٹ بال سمجھ رکھا ہے لیکن اب کشمیری بھی ان حرکتوں کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں،کشمیری بھی بیدار ہوگئے ، بلوچ ، پشتون ، مہاجر ،سندھی ، گلگتی اوربلتستانی اورتمام مظلوم بیدار ہوگئے ہیں ،اب انشاء اللہ یہ سب نہیں چلے گا ۔انہوں نے کہاکہ فوج کے پاس اسلحہ ، گولہ بارود ، ٹینک اورایٹم بم ہے اور انہیں کشمیریوں سے اتنی زیادہ ہمدردی بھی ہے توپھر بھارت پر حملہ کرکے کشمیر کو آزاد کیوں نہیں کرالیتے۔ اگریہ کشمیریوں کو کشمیرکو آزادی نہیں دلاسکتے تو اتنی بڑی فوج ایٹم بم اور یہ طاقتیں کس کام کی ہیں؟قاسم علی رضانے کہاکہ کشمیر ڈے کے نام پرکشمیری عوام سے منافقت ہورہی ہے ، ہم مظلوم کشمیری عوام کا درد سمجھ سکتے ہیں، ہم ظالم کے خلاف ہیں، ظالم چاہے پاکستان میں ہو یا پاکستان کے باہر ہو ،ہمارا شکوہ یہ ہے کہ جن مظالم پر تم کشمیریوں سے اظہاریکجہتی کررہے ہوبدقسمتی سے وہی ظالمانہ سلوک ، وہی مظالم تم اپنے کلمہ گوبلوچوں،پشتونوں، مہاجروں،سندھیوں، بلتستانیوں گلگتی بھائیوں کے خلاف استعمال کرتے ہو۔تم سمجھتے ہوکہ طاقت ہرمسئلہ کا حل ہے ،حقیقت یہ ہے کہ طاقت کاناجائز استعمال کسی مسئلہ کو حل نہیں کرسکتابلکہ اس سے محض سانحات جنم لیتے ہیں لہٰذاہوشمندی کامظاہرہ کیاجائے اپنے کلمہ گو ہم وطنوں پر ریاستی طاقت کا ناجائز استعمال فی الفور بند کیاجائے۔ انہوں نے پاکستان کے مختلف شہروں میں پشتون تحفظ موومنٹ کے احتجاجی مظاہروں کے دوران پشتون بھائیوں کی گرفتاریوں کی شدیدالفاظ میں مذمت کی اورمطالبہ کیا کہ تمام گرفتارشدگان کو فی الفور رہا کیاجائے، پاکستان میں تمام مظلوموں کو شخصی آزادی دی جائے، اظہاررائے کی آزادی دی جائے ،زندہ رہنے اورزندگی گزارنے کی آزادی دی جائے۔ 
رابطہ کمیٹی کے رکن مصطفےٰ عزیزآبادی نے اس موقع پر اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ آج وزیراعظم عمران خان کاایک بیان آیاکہ ’’ بھارتی فوج کشمیرمیں ماورائے عدالت قتل کررہی ہے ‘‘ لیکن کراچی میں ہم نے ایک ایک دن میں پانچ پانچ ، چھ چھ مہاجرنوجوانوں کے لاشے اٹھائے ہیں،ہمارے پندرہ ہزارسے زائد جیتے جاگتے مہاجرنوجوان گرفتارکرکے ماورائے عدالت قتل کردیے گئے لیکن ہزاروں جیتے جاگتے انسانوں کوماوارئے عدالت قتل کرنے والے پولیس، رینجرزاوردیگرریاستی ایجنسیوں کے اہلکاروں کوقانون کے مطابق سزانہیں دی گئی ۔انہوں نے کہاکہ ہم سنتے آئے ہیں کہ ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے لیکن یہ کیسی ماں ہے کہ جس کی نظرمیں صرف اورصرف اہل پنجاب ہی بیٹے ہیں باقی خواہ مہاجرہوں،بلوچ ہوں،پشتون ہوں،سندھی ہوں،گلگتی بلتستانی ہوں یا ہزارے وال ہوں، سب کے ساتھ سوتیلی ماں جیساظالمانہ سلوک کیاجارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کراچی میں72سالہ پروفیسر ڈاکٹرحسن ظفرعارف کو شہید کردیاگیااورابھی لورالائی میں پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما پروفیسر ارمان لونی کو تشددکرکے شہید کردیاگیا ، ان کے قتل کے خلاف پرامن احتجاج کرنے والوں کی گرفتاریاں کی جارہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ المیہ یہ ہے کہ کراچی سے لیکرقبائلی علاقوں تک جس طرح سے ہرشہرمیں اس ظلم کے خلاف ہزاروں کی تعدادمیں لوگ نکل رہے ہیں اورجونعرے لگائے جارہے ہیں اس کااسٹیبلشمنٹ کوکوئی احساس نہیں ہے اوروہ میڈیاپر پابندی لگاکر اور مظاہروں کو میڈیا پر آنے سے روک کراپنے آپ کودھوکہ دے رہے ہیں ۔ مصطفےٰ عزیزآبادی نے کہاکہ جب آپ ملک میںآوازوں کودبائیں گے ،جب عدالتوں سے انصاف نہیں ملے گا توپھراسلام ،پاکستان کا آئین ،قانون اوراقوام متحدہ کاچارٹربھی قوموں کویہ حق دیتاہے کہ وہ اپنی بقاء کے لئے اقوام متحدہ کادروازہ کھٹکھٹائیں اگرآج قائدتحریک الطاف حسین نے اس ظلم کودیکھتے ہوئے مہاجروں، بلوچوں، پشتوں اوردیگرمظلوم قوموں کواقوام متحدہ کے چارٹرکے تحت حق خودارادیت کامطالبہ کیاہے تویہ راستہ اختیارکرنے پراسٹیبلشمنٹ نے ہی مجبورکیاہے کیونکہ اگرکسی کو اپنے گھرہی میں انصاف مل رہاہوتو کسی کوکیاپڑی ہے کہ کوئی اقوام متحدہ کے دروازے پر جائے۔ رابطہ کمیٹی کے رکن منظوراحمد نے اس موقع پر گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ اقوام متحدہ کے چارٹرکوپاکستان سمیت پوری دنیانے تسلیم کیاہے اوریہ چارٹرتمام قوموں کو یہ حق دیتاہے کہ وہ حق خودرادیت کامطالبہ کریں۔ پاکستان بھی اسی چارٹرکے تحت کشمیری عوام کے حق خودارادیت کامطالبہ کرتاہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے آئین کومقدس کہاجاتاہے ، اگریہ مقدس ہے تواس میں 25ترامیم کیوں کی گئیں؟ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے اس مقدس آئین کے آرٹیکل 6 میں ہے کہ جوبھی آئین کوتوڑے گاوہ سنگین غداری کامرتکب ہوگاجس کی سزاموت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے آئین کوباربارقائدتحریک الطاف حسین نے نہیں بلکہ فوج کے جرنیلوں نے توڑا لیکن کسی جرنیل کواس کی سزانہیں دی گئی ۔ انہوں نے کہاکہ یاتوآئین کواٹھاکرپھینک دیاجائے یاپھراس آئین کوتوڑنے والوں کوسزادی جائے ۔ رابطہ کمیٹی کے رکن سفیان یوسف نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ قائدتحریک الطاف حسین کی پوری زندگی مہاجروں اورتمام مظلوموں کے حقوق کی جدوجہد اوراپنے مقصدکے لئے قربانیوں سے بھری پڑی ہے ۔ قائدتحریک الطاف حسین نے پاکستان میں انصاف کے تمام ترراستے بند کردیے جانے پر مہاجروں، بلوچوں اورپشتونوں سمیت تمام مظلوموں کوریاستی ظلم وجبرسے نجات کے لئے اقوام متحدہ کے چارٹرکے تحت حق خودارادیت کامطالبہ کیاہے ۔ اس حق کے حصول کے لئے جدوجہدکرناہماراحق ہے اوراس حق سے ہمیں کوئی بھی محروم نہیں کرسکتا۔ 

*****

10/21/2019 10:48:56 AM