Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

غیرت مندبلوچ، پشتون، سندھی، مہاجرقومیں غلامی کا طوق ہرگز قبول نہیں کریں گی، قائد تحریک الطاف حسین


غیرت مندبلوچ، پشتون، سندھی، مہاجرقومیں غلامی کا طوق ہرگز قبول نہیں کریں گی، قائد تحریک الطاف حسین
 Posted on: 1/14/2019
غیرت مندبلوچ، پشتون، سندھی، مہاجرقومیں غلامی کا طوق ہرگز قبول نہیں کریں گی، قائد تحریک الطاف حسین
فوجی اسٹیبلشمنٹ ، مظلوم بلوچوں، پشتونوں ،پختونوں ، سندھیوں اورمہاجروں کواپنا غلام بناناچاہتی ہے، الطاف حسین
شہیدوفا پروفیسر حسن ظفرعارف نے لوگوں کوعزت سے جینے اور حقوق کی جدوجہد کرنے کا ڈھنگ سکھایا، الطاف حسین
جب ضمیرفروشوں نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے آگے سرجھکالیا تو ڈاکٹرحسن ظفرعارف چٹان کی طرح کھڑے ہوگئے ،الطاف حسین
جدوجہد کی پاداش میں انہیں بلاجواز فوجی جنتا نے گرفتارکرکے 6 ماہ تک جیل میں قید رکھا گیا، الطاف حسین
پروفیسر حسن ظفرعارف کو آئی ایس آئی اور ایم آئی کے مرکز میں بلاکر دھمکیاں دی گئیں لیکن اپنی وفاکا عہد نہیں توڑا، الطا ف حسین
فوجی اسٹیبلشمنٹ نے پروفیسر حسن ظفرعارف کو اپنے لئے بہت بڑا خطرہ سمجھا اسی لئے ان کی آواز کو خاموش کردیا گیا، الطاف حسین
میں فخرسے کہتا ہوں کہ یزیدی قوتوں کے خلاف الطاف حسین ، حسینی مشن کو لیکرچل رہا ہے ، الطاف حسین
جوقومیں،حقوق کی جدوجہد میں اپنی جان کی قربانی دینے کو تیار ہوتی ہیں انہیں دنیا کی کوئی ظالم طاقت ختم نہیں کرسکتی، الطاف حسین
پاکستان ،کینیڈا،امریکہ اورخلیجی ممالک سمیت تمام اوورسیز ممالک میں تعزیتی اجلاس کے انعقاد پر زبردست خراج تحسین
پروفیسر حسن ظفرعارف کی پہلی برسی کے موقع پر ٹورنٹو میں تعزیتی کانفرنس کے شرکاء سے براہ راست خطاب

لندن۔۔۔14، جنوری2019ء
متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ ظالم وسفاک فوجی اسٹیبلشمنٹ نے پروفیسر حسن ظفرعارف کو اپنے لئے بہت بڑا خطرہ سمجھا اسی لئے ان کی آواز کو خاموش کردیا گیا،فوجی اسٹیبلشمنٹ اگریہ سمجھ رہی ہے کہ وہ ظلم وجبر کے ذریعہ پاکستان کے مظلوم بلوچوں، پشتونوں ،پختونوں ، سندھیوں اورمہاجروں کواپنا غلام بنالے گی تو غیرت مندقومیں جب تک زندہ ہیں وہ حقوق کی جدوجہد میں اپنی جانیں دیتی رہیں گی لیکن غلامی کا طوق ہرگز قبول نہیں کریں گی۔ان خیالات کا اظہار جناب الطاف حسین نے ایم کیوایم کینیڈا کے تحت ٹورنٹو میں ایم کیوایم کے رہنما پروفیسر حسن ظفرعارف شہیدکی پہلی برسی کے سلسلے میں منعقدہ تعزیتی کانفرنس سے براہ راست خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے بیرسٹر عثمان علی ، کامریڈ جہانگیربخاری ، ایمل خٹک، پروفیسر سراج ، صحافی لطافت صدیقی ، محمد ندیم ، دویش شنکر، انیس فاروقی ، عرفان ملک ، ایم کیوایم سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان آصف قاضی ، شاہد رضا، ایم کیوایم کینیڈا کی آرگنائزنگ کمیٹی کے اراکین، مختلف یونٹوں کے ذمہ داران ، کارکنان اوران کے اہل خانہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے شہید وفاپروفیسرڈاکٹر حسن ظفرعارف کو شاندارالفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ پروفیسرحسن ظفرعارف شہید نہایت شفیق انسان تھے ،وہ ادیب،مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی انقلابی کتب کے مترجم، عظیم فلاسفر، دانشور اور بزرگ استاد تھے ۔ ان کے پاس علم کی دولت تھی جس کی تقسیم میں انہوں نے اپنی پوری زندگی بسر کردی، لاکھوں طلباوطالبات کو زیورعلم سے آراستہ کیااور ان سے علم حاصل کرنے والے طلباء آج دنیا بھر میں بڑے بڑے عہدوں پرفائز ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پروفیسر حسن ظفرعارف نے لوگوں کوعزت سے جینے ، غلامی کی دلدل سے آزادی حاصل کرنے اور حقوق کی جدوجہد کرنے کا ڈھنگ سکھایا۔ان کا جونظریہ زمانہ طالب علمی میں تھاوہ آخری سانس تک اپنے نظریہ پرقائم رہے ۔ انہوں نے کبھی کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا ۔جناب الطا ف حسین نے کہاکہ پروفیسر حسن ظفرعارف ایک انسان دوست اورجمہوریت پسند شخصیت کے مالک تھے ، انہوں نے آمریت کے خلاف جدوجہد کی ، جیلوں میں اسیری کاٹی،وہ انسانوں میں تفریق کے بجائے اتحاد کی علامت سمجھے جاتے تھے اورحقوق سے محروم لوگوں کے حقوق کی جدوجہد میں ان کی پوری زندگی صرف ہوگئی۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ ڈاکٹر صاحب یہ نہیں دیکھتے تھے کہ کون کس مذہب، قوم ، زبان ، علاقے اور مسلک سے تعلق رکھتا ہے ، وہ بلاامتیاز رنگ نسل، زبان ،جنس ،عقیدہ، مسلک اورمذہب انسانیت کی خدمت کرنے اور محروم لوگوں کو حقوق دلانے پر یقین رکھتے تھے ۔انہوں نے کہاکہ پروفیسر حسن ظفرعارف نے ایم کیوایم کی بلاامتیاز وتفریق عملی جدوجہد کو دیکھتے ہوئے ایم کیوایم میں شمولیت اختیار کی، جب وہ ایم کیوایم میں شامل ہوئے توایم کیوایم کے خلاف پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے سازشی ہتھکنڈوں میں اضافہ ہوگیالیکن پروفیسر حسن ظفرعارف ، مہاجروں کے خلاف ظلم وستم کے آگے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے ۔ جب کرپٹ ، ضمیرفروش، وعدہ فروش اورکھال فروش لوگوں نے ملک میں غریب ومتوسط طبقہ کی واحد نمائندہ جماعت ایم کیوایم کے خلاف ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے آگے سرجھکالیا، شہیدوں کے لہو اور مہاجرقوم سے غداری کی تو اس وقت بھی ڈاکٹرحسن ظفرعارف چٹان کی طرح کھڑے ہوگئے ، ان کو باربار دھمکیاں دی گئیں ، 22، اگست2016ء کو جب نائن زیروپر تالالگایا گیا، میری تحریر، تقریراور تصویرپر پابندی لگائی گئی جوکہ آج تک قائم ہے اور گھرگھر چھاپے مارے جارہے تھے ، کارکنوں کو گرفتارکرکے لاپتہ کیاجارہا تھا، انہیں ماورائے عدالت قتل کیاجارہا تھااس وقت ڈاکٹر صاحب بلاخوف وخطر تحریکی مشن کو آگے بڑھانے کی جدوجہد کرتے رہے ، اس جدوجہد کی پاداش میں انہیں بلاجواز فوجی جنتا نے گرفتارکرکے 6 ماہ تک جیل میں قید رکھا، ان کے ہاتھو ں میں ہتھکڑیاں لگائیں، ضمانت پر رہا ہونے کے بعد بھی انہوں نے اپنی جدوجہد جاری رکھی جس پر کئی مرتبہ انہیں آئی ایس آئی اور رینجرز کے افسران نے انہیں اغواء کرکے دھمکیاں دیں لیکن وہ بکے نہیں ، جھکے نہیں اوربالآخر 13، جنوری 2018ء کو انہیں آئی ایس آئی ، ایم آئی کے اہلکاروں نے گرفتارکرکے اپنے مرکز لے جاکر تشدد کرتے رہے اور دباؤ ڈالتے رہے کہ آپ الطاف حسین اور ایم کیوایم کاساتھ چھوڑ دیں لیکن انہوں نے جو حلف لیاتھا، وعدہ کیاتھا، قسم کھائی تھی اس وعدے کو وفا کرتے کرتے اپنی جان دیدی لیکن اپنی وفاکا عہد نہیں توڑا۔ڈاکٹرحسن ظفرعارف پر لاکھوں سلام عقیدت جو وفا کی علامت بن گئے اورآج پوری دنیا میں شہید وفا کے نام سے جانے پہچانے جاتے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ڈاکٹر حسن ظفرعارف کی کوشش تھی کہ صرف مہاجروں کی نہیں بلکہ غیرت مندبلوچوں، پشتونوں،سندھیوں، سرائیکیوں اور کشمیریوں کو ملاکر پاکستان پر قابض فوجی اسٹیبلشمنٹ سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے نجات حاصل کی جائے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پروفیسر حسن ظفرعارف کے نزدیک پاکستان کسی ایک صوبے ، کسی ایک زبان بولنے والے کی ملکیت نہیں ہے، پاکستان پر بلوچوں، سندھیوں، پشتونوں، سرائیکیوں، ہزاروال، کشمیریوں، گلگتی، بلتستانیوں ، مہاجروں ، تمام مذاہب اورمسالک کے ماننے والے پاکستانیوں کا برابر کا حق ہے ، پاکستان میں کوئی پہلے ، دوسرے یا تیسرے درجے کا شہری نہیں بلکہ سب برابر کے پاکستانی ہیں ، اس سوچ کے ساتھ وہ مظلوم عوام کے حقوق کیلئے جدوجہد کرتے رہے اور بالآخرفوجی اسٹیبلشمنٹ نے انہیں اپنے لئے ایک بہت بڑا خطرہ سمجھا اور 13، جنوری کو انہیں غائب کرکے تشدد کا نشانہ بناکر ڈاکٹرحسن ظفرعارف کی آواز کو خاموش کردیا۔ انہوں نے مزید کہاکہ ظلم کرنے والے طاقت کے نشے میں بھول گئے کہ وہ کسی انسان کو قتل کرسکتے ہیں لیکن اسکامشن ومقصد، جدوجہد کی علامت بن کر یاقیامت لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ واقعہ کربلا کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ اولاد رسول ؐ نے نبی کریم ؐ کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے بادشاہت اور یزیدیت کی بیعت قبول نہیں کی،نواسہ رسولؐ امام حسین ؑ نے معصوم بچوں سمیت اپناپورا خاندان قربان کردیا، یزید خوش ہوا کہ اس نے اہل بیت کو قتل کردیا ہے اور نعوذباللہ ، امام حسین ؑ کا نام مٹ جائے گا لیکن حسین ؑ کا نام آج نہ صرف زندہ ہے بلکہ انتہائی عقیدت واحترام سے لیاجاتا ہے اورباطل یزید ملعون کا کوئی نام لیوا نہیں ہے ۔انہوں نے کہاکہ ایک نعرہ لگانے پر مہاجرقوم کے خلاف فوجی آپریشن کردیا گیا لیکن تعصب کا یہ عالم ہے کہ صوبہ پنجاب میں جب فوج ، آئی ایس آئی اور جنرل باجوہ مردہ باد کے نعرے لگائے گئے تو وہاں کوئی آپریشن نہیں کیاگیا، وہاں کوئی آئی ڈی پیز نہیں بنے ، وہاں لوگوں کو لاپتہ نہیں کیاگیا ، وہاں گھرگھر چھاپے مارکرچادر وچہاردیواری کا تقدس پامال نہیں 
کیاگیا۔فوجی اسٹیبلشمنٹ یہ تفریق کرکے سمجھ رہی ہے کہ وہ ظلم وجبر کے ذریعہ پاکستان کے مظلوم بلوچوں، پشتونوں ،پختونوں،سندھیوں اورمہاجروں کواپنا غلام بنالے گی تو غیرت مندقومیں جب تک زندہ ہیں اپنے حقوق کی جدوجہد میں جانیں دیتی رہیں گی لیکن غلامی کا طوق اپنے گلے میں ہرگز قبول نہیں کریں گی۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ جو باطل کے خلاف حق کی جدوجہد کرتے ہیں وہ حسینیت کے پیروکار ہیں، آج حریت پسند بلوچ، حریت پسند پشتون اور حریت پسند مہاجر، فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں اورقربانیاں دے رہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ میں فخرسے کہتا ہوں کہ یزیدی قوتوں کے خلاف الطاف حسین ، حسینی مشن کو لیکرچل رہا ہے ، ملک میں کوئی ایسا لیڈر بتادیں جس کی جماعت ملک کی تیسری اورسندھ کی دوسری بڑی جماعت ہو اور وہ حق کی جدوجہد اورباطل قوتوں کے سامنے جمے رہنے کی پاداش میں 27سال سے اپنے ملک، اپنے خاندان اوراپنے ساتھیوں سے دور جلاوطنی کی زندگی گزارنے 
پرمجبور ہوجس طرح الطاف حسین گزار رہا ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ جوقومیں اپنے شہداء کی قربانیوں کو بھول جاتی ہیں وہ قومیں دنیا میں ذلت ورسوائی کے ساتھ تباہ ہوجاتی ہیں، جوقومیں اپنے شہداء کو یادرکھتی ہیں اورحقوق کی جدوجہد میں اپنی جان کی قربانی دینے کو تیار ہوتی ہیں انہیں دنیا کی کوئی ظالم طاقت ختم نہیں کرسکتی بلکہ ظالم قوتوں کاخاتمہ مقدر بن جایاکرتا ہے ۔جناب الطاف حسین نے پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفرعارف کے ایصال ثواب کیلئے پاکستان ،کینیڈا،امریکہ، ساؤتھ افریقہ ، برطانیہ اورخلیجی ممالک سمیت تمام اوورسیز ممالک میں تعزیتی اجلاس کے انعقاد پر ایک ایک وفاپرست ساتھی کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔
اس موقع پر تعزیتی اجلاس کے شرکاء نے پروفیسر حسن ظفرعارف شہید سمیت تمام حریت پسند بلوچ، پشتون،مہاجراور سندھی شہداء کوزبردست خراج عقیدت پیش کیا اور تمام حریت پسندوں کو سیلوٹ بھی کیا۔
*****


7/19/2019 12:20:29 PM