Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

شہیدوفاڈاکٹرحسن ظفرعارف کی زندگی آمریت اورجبرکے خلاف مزاحمت اور جدوجہدکی علامت ہے۔ڈاکٹرندیم احسان


شہیدوفاڈاکٹرحسن ظفرعارف کی زندگی آمریت اورجبرکے خلاف مزاحمت اور جدوجہدکی علامت ہے۔ڈاکٹرندیم احسان
 Posted on: 1/13/2019

شہیدوفاڈاکٹرحسن ظفرعارف کی زندگی آمریت اورجبرکے خلاف مزاحمت اور جدوجہدکی علامت ہے۔ڈاکٹرندیم احسان 
ڈاکٹرحسن ظفرعارف شہید ایک استاداورمحقق ہی نہیں بلکہ عملی جدوجہدکرنے والے انقلابی تھے۔ڈاکٹرندیم احسان 
فوج نے ڈاکٹرحسن ظفرعارف جیسی ہستی کو قتل کرکے ایم کیوایم کے ساتھ نہیں پاکستان کے ساتھ ظلم کیا ۔ڈاکٹرندیم احسان 
اسٹیبلشمنٹ نے کبھی تاریخ سے سبق نہیں سیکھاہمیشہ جغرافیہ سے سیکھا۔ڈاکٹرندیم احسان 
ڈاکٹرحسن ظفرعارف جیسی شخصیت کاقتل پاکستان کے ماتھے پر ایک کلنک کاٹیکہ ہے۔طاہراسلم گورا
فوج نے پہلے بنگالیوں کومارا ،آج وہ مہاجروں، بلوچوں، پشتونوں ،سندھیوں کوماررہی ہے ۔طاہراسلم گورا
شہید وفاکی قربانی ظلم وجبر کے خلاف جدوجہدکرنے والے ہرحریت پسندکے لئے مشعل راہ ہے ۔ قاسم علی رضا
ڈاکٹرحسن ظفرعارف شہید نے ظالموں کے آگے سرنہیں جھکایا،انہوں نے جان دیدی لیکن اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔مصطفےٰ عزیزآبادی
ڈاکٹرحسن ظفر عارف شہید نے قائدتحریک الطاف حسین سے وفانبھاتے ہوئے اپنی جان دیدی۔ہاشم اعظم
ڈاکٹرحسن ظفر شہید کی قربانی جرات وہمت اوراپنی وفاپرثابت قدمی کے ساتھ قائم رہنے کادرس دیتی ہے ۔سہیل خانزادہ
شہید وفا‘‘ پروفیسرڈاکٹرحسن ظفر عارف شہید کی پہلی برسی کے موقع پر ایم کیوایم کے زیراہتمام لندن میں تعزیتی اجتماع سے خطاب

لندن ۔۔۔ 13 جنوری 2019 ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے کنوینرڈاکٹرندیم احسان نے کہاہے کہ شہیدوفاڈاکٹرحسن ظفرعارف کی زندگی آمریت اورظلم وجبرکے خلاف مزاحمت اور جدوجہدکی علامت ہے۔ انہوں نے یہ بات عظیم فلاسفر، محقق، مصنف، دانشور، بزرگ استاد ،انقلابی رہنما اورایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر’’ شہید وفا‘‘ پروفیسرڈاکٹرحسن ظفر عارف شہید کی پہلی برسی کے موقع پر ایم کیوایم کے زیراہتمام لندن کے علاقے ایجویئر کے ’’واٹلنگ کمیونٹی سینٹر ‘‘ میں تعزیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اجتماع میں لوگوں کی کثیرتعداد نے شرکت کی ۔اجتماع سے ممتازصحافی، تجزیہ نگاراوردانشورطاہراسلم گورا، ایم کیوایم کے ڈپٹی کنوینرقاسم علی رضا، رابطہ کمیٹی کے رکن مصطفےٰ عزیزآبادی، ایم کیوایم یوکے کے آرگنائزرہاشم اعظم اورآرگنائزنگ کمیٹی کے رکن سہیل خانزادہ نے بھی خطاب کیا۔ ڈاکٹرندیم احسان نے ڈاکٹرحسن ظفرعارف شہیدکوزبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ ڈاکٹرحسن ظفرعارف شہید پاکستان کی تاریخ میں فلاسفی کاسب سے بڑانام ہیں، وہ ایک استاداورمحقق ہی نہیں بلکہ عملی جدوجہدکرنے والے انقلابی تھے ، انہوں نے جنرل ضیاء کے بدترین مارشل لاء دورمیں بھی آمریت کے خلاف جراتمندانہ جدوجہدکی، اس کی پاداش میں انہیں جیل میں ڈالاگیا ، انہوں نے اپنی ملازمت کوخیرباد کہہ دیالیکن فوجی جرنیلوں کے آگے سرنہیں جھکایا۔ جنرل ضیا کے دورمیں قیدکے دوران اس وقت کے گورنرسندھ اورمارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل جہاندادخان کے نام ان کا تاریخی خط ان کی جرات کی بہترین مثال ہے ۔ ڈاکٹرندیم احسان نے کہاکہ ڈاکٹرحسن ظفرعارف شہیدنے حق پرستانہ نظریات کی وجہ سے ہی قائدتحریک الطاف حسین کی قیادت میں ایم کیوایم میں شمولیت اختیارکی اور آپریشن کے بدترین دورمیں بھی وہ قائدتحریک الطاف حسین کی قیادت میں کام کرتے رہے۔ گرفتاریوں اورجبروتشددکے باوجود بھی انہو ں نے قائدتحریک الطاف حسین کاساتھ نہیں چھوڑا۔ 13جنوری 2018ء کو ڈاکٹرحسن ظفرعارف شہیدکو فوج، رینجرز اورآئی ایس آئی نے گرفتارکرکے بدترین تشددکانشانہ بنانے کے بعد شہید کرکے ان کی لاش کوابراہیم حیدری کے ویران علاقے میں پھینک دیا۔ جب انکی لاش دوسرے دن وہاں ملی تواس کھلے قتل کو طبعی موت قراردے دیدیاگیا۔سینکڑوں افراد کے ماورائے عدالت قتل میں ملوث پولیس افسر راؤ انوار نے کہاکہ ڈاکٹرحسن ظفرعارف پر کوئی تشدد نہیں ہوا، اسپتال والوں سے بھی یہی بیان دلایاگیاکہ ان کے جسم پر تشددکے نشانات نہیں ہیں اوراس جھوٹ کو آگے بڑھاتے ہوئے ان کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی یہ کہہ دیاگیاکہ یہ طبعی موت ہے ۔ ڈاکٹرندیم احسان نے کہاکہ پولیس ، رینجرزاورآئی ایس آئی نے ڈاکٹر حسن ظفرعارف کی شہادت کے بعد ان کے اہل خانہ پر بھی دباؤ ڈالاکہ وہ اسے طبعی موت تسلیم کریں۔ جب جامعہ کراچی میں ہونے والے ایک تعزیتی ریفرنس میں ایک نوجوان صحافی نے کہاکہ انہیں ریاستی اداروں نے قتل کیاہے تواس صحافی کوبھی رینجرز نے حراست میں لیکرتشددکانشانہ بنایا۔ ڈاکٹرندیم احسان نے کہاکہ پاکستان کی فوج اوراسٹیبلشمنٹ نے ڈاکٹرحسن ظفرعارف جیسی ہستی کوبیدردی سے قتل کرکے ایم کیوایم کے ساتھ نہیں پاکستان کے ساتھ ظلم کیا ہے۔ فوج نے ایساہی ظلم کرکے 1971ء میں پاکستان کودولخت کردیا اوراس سے کوئی سبق نہیں سیکھا، اسٹیبلشمنٹ نے کبھی تاریخ سے سبق نہیں سیکھاہمیشہ جغرافیہ سے سیکھا۔ انہوں نے کہاکہ شہیدوفا ڈاکٹرحسن ظفرکی طرح چند روز پہلے سیدعلی رضاعابدی کوبھی شہید کردیاگیا۔انہوں نے کہاکہ ڈاکٹرحسن ظفر عارف شہید،علی رضاعابدی شہید اورتمام شہیدوں کالہورائیگاں نہیں جائے گا۔ ممتازصحافی، تجزیہ نگاراوردانشورطاہراسلم گورانے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرحسن ظفرعارف جیسی شخصیت کاقتل پاکستان کے ماتھے پر ایک کلنک کاٹیکہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ فوج نے پہلے بنگالیوں کومارا ،آج وہ مہاجروں، بلوچوں، پشتونوں ،سندھیوں کوماررہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخراسٹیبلشمنٹ پاکستان کوکہاں لے جارہی ہے ؟انہوں نے کہاکہ اگرفوج نے اپناطرز عمل نہیں بدلا اورمظلوم قوموں پر ظلم بند نہیں کیاتویہ تمام مظلوم قومیں ملکر اس ظلم کے خلاف مشترکہ طورپرمیدان میں آئیں گی جن کوروکناکسی کے بس کی بات نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ انشاء اللہ یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اورمظلوم قومیں ایک دن اپناحق لے کررہیں گی۔ رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینرقاسم علی رضانے شہید وفاڈاکٹرحسن ظفرعارف کوزبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ شہید وفاکی قربانی نہ صرف ایم کیوایم کے کارکنوں بلکہ ظلم وجبر کے خلاف جدوجہدکرنے والے ہرحریت پسندکے لئے مشعل راہ ہے ۔ شہید وفاڈاکٹرحسن ظفر عارف نے اپنی قربانی سے تمام لوگوں کوبتایاہے کہ وفاکیاچیز ہوتی ہے اورکیسے نبھائی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ڈاکٹرحسن ظفرعارف شہید کی قربانی ضروررنگ لائے گی اورحق پرستی کی تحریک اپنی منزل مقصودپر پہنچے گی۔ رابطہ کمیٹی کے رکن مصطفےٰ عزیزآبادی نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ڈاکٹرحسن ظفرعارف شہید صرف ایک پروفیسراوراستادہی نہیں تھے بلکہ وہ ملک کے فرسودہ نظام کے خاتمہ اورملک بھر کے محروم ومظلوم عوام کے حقوق کے لئے جدوجہدکرنے والے ایک ایسے انقلابی تھے جنہوں نے کسی بھی دور میں ظالم حکمرانوں کی طاقت اورظلم کے آگے سرنہیں جھکایا۔انہوں نے جان دیدی لیکن اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ وہ ایک انسان نہیں بلکہ اپنی ذات میں ایک تحریک تھے، وہ تمام انسانوں کوتمام ترامتیازات سے بالاترہوکران کے حقوق دلاناچاہتے تھے ، وہ احترام انسانیت اورعظمت انسانیت کے قائل تھے ۔ ان کی زندگی اورجدوجہد انسانیت پر یقین رکھنے والے تمام انسانوں کے لئے ایک مثال ہے ۔ایم کیوایم یوکے کے آرگنائزرہاشم اعظم نے خطاب میں کہاکہ ڈاکٹر حسن ظفر عارف نے سخت اورکٹھن حالات میں تمام ترخطرات کے باوجود ایم کیوایم کودوبارہ سے منظم کرنے کابیڑہ اٹھایا۔وہ ساری زندگی شان سے جئے اورآزمائش کے دنوں میں بھی قائدتحریک الطاف حسین کے قدم سے قدم ملاکرچلے ۔ ڈاکٹرحسن ظفر عارف شہید نے گرفتاریوں اورتشددکے باوجود اپنی وفا کاسودانہیں کیااوربالآخر قائدتحریک الطاف حسین سے وفانبھاتے ہوئے اپنی جان دیدی۔یوکے کی آرگنائزنگ کمیٹی کے رکن سہیل خانزادہ نے کہاکہ ڈاکٹرحسن ظفر شہید کی قربانی ہم تمام کارکنوں کے لئے ایسی مثال ہے جوسب کوجرات وہمت اوراپنی وفاپرثابت قدمی کے ساتھ قائم رہنے کادرس دیتی ہے ۔ ڈاکٹرحسن ظفر عارف کی قربانی کبھی بھی فراموش نہیں کی جائے گی۔ 
*****





















11/19/2019 12:01:18 PM