Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

چیف جسٹس سپریم کورٹ عزیزآباد میں نائن زیرو خورشیدبیگم میموریل کمپلیکس کے ایڈمن آفس کوآگ لگائے جانے کے واقعہ کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائیں۔رابطہ کمیٹی


چیف جسٹس سپریم کورٹ عزیزآباد میں نائن زیرو خورشیدبیگم میموریل کمپلیکس کے ایڈمن آفس کوآگ لگائے جانے کے واقعہ کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائیں۔رابطہ کمیٹی
 Posted on: 1/2/2019 1
چیف جسٹس سپریم کورٹ عزیزآباد میں نائن زیرو خورشیدبیگم میموریل کمپلیکس کے ایڈمن آفس کوآگ لگائے
جانے کے واقعہ کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائیں۔رابطہ کمیٹی 
خورشیدبیگم میموریل کا ایڈمن آفس گزشتہ دوسال سے بند ہے، لائٹ کٹی ہوئی ہے، پھر آتشزدگی کا واقعہ کیسے ہوا؟
جب رینجرز کے پہرے میں علاقے کے رہنے والے لوگ شناختی کارڈدکھائے بغیر اپنے گھروں کو نہیں جاسکتے تو
پھریہ آگ کس نے لگائی ؟ رابطہ کمیٹی
رینجرززمینوں، قبرستانوں اورپارکوں سے اسلحہ کھودکرنکال کر بتاتی ہے کہ یہ اسلحہ ’’ ایم کیوایم کے ساؤتھ افریقہ نیٹ ورک ‘‘ نے چھپایاتھا
عوام کوبتایاجائے کہ خورشیدبیگم کمپلیکس کے ایڈمن آفس میں آگ کس نیٹ ورک نے لگائی ہے ؟رابطہ کمیٹی 
جوعلاقہ مکمل طورپر رینجرز کے قبضہ میں ہو، وہاں آگ گلنے کے اتنے بڑے واقعہ کو نظراندازنہیں کیاجاسکتا۔ رابطہ کمیٹی 

لندن ۔۔۔ 2 جنوری 2019ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے چیف جسٹس سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ منگل کوعزیزآباد میں ایم کیوایم کے مرکزنائن زیروپرخورشیدبیگم میموریل کمپلیکس کے ایڈمن آفس کوآگ لگائے جانے کے واقعہ کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائے۔اپنے بیان میں رابطہ کمیٹی نے کہاکہ 22 اگست 2016ء ، سے عزیزآباد میں ایم کیوایم کامرکز نائن زیرو، ایم پی اے ہاسٹل، خورشیدبیگم میموریل کمپلیکس اورنائن زیروسے متصل تمام تنظیمی دفاتر انتظامیہ نے سیل کررکھے ہیں نائن زیرو کایہ پوراعلاقہ رینجرز کے کنٹرول میں ہے، خورشیدبیگم میموریل کمپلیکس سمیت نائن زیروپرکے تمام دفاترپر رینجرز کے اہلکارچوبیس گھنٹے تعینات ہوتے ہیں اوریہ پہرہ اس قدرسخت ہے کہ نائن زیرو کے علاقے میں رہنے والے لوگوں کی ان کے گھروں پر آتے جاتے وقت سخت تلاشی لی جاتی ہے ، ایسی صورتحال میں اوررینجرز کے اس مستقل سخت پہرے کے باوجود خورشیدبیگم میموریل کمپلیکس کے ایڈمن آفس جوگزشتہ دوسال سے بند ہے،جہاں کی لائٹ دوسال سے کٹی ہوئی ہے، وہاں آتشزدگی کا واقعہ کیسے ہوا؟ جب رینجرز کے پہرے میں علاقے کے رہنے والے لوگ شناختی کارڈ دکھائے بغیر اپنے گھروں کو نہیں جاسکتے توپھریہ آگ کس نے لگائی ؟ اورکیسے لگائی ؟ رابطہ کمیٹی نے کہاکہ رینجرز زمینوں، قبرستانوں اورپارکوں سے اسلحہ کھودکرنکال لیتی ہے اورعوام کو بتایا جاتا ہے کہ یہ اسلحہ ’’ ایم کیوایم کے ساؤتھ افریقہ نیٹ ورک ‘‘ نے چھپایاتھا، اب عوام کوبتایاجائے کہ خورشیدبیگم کمپلیکس کے ایڈمن آفس میں یہ آگ کس نیٹ ورک نے لگائی ہے ؟رابطہ کمیٹی نے کہاکہ جوعلاقہ مکمل طورپر رینجرز کے قبضہ میں ہو، وہاں آگ گلنے کا اتنابڑا واقعہ معمولی نہیں ہوسکتا اوراسے نظراندازنہیں کیا جاسکتا۔ رابطہ کمیٹی نے کہاکہ آگ کوئی حادثاتی طور پر نہیں لگی بلکہ جان بوجھ کرلگائی گئی ہے اور چاروں جانب رینجرز کے اہلکاروں کی موجودگی میں یہ واقعہ ہونا اس بات کوثابت کرتاہے کہ آتشزدگی کایہ واقعہ ان کی سرپرستی میں ہوا ہے اوروہ خودکو اس واقعہ سے بری الذمہ قرارنہیں دے سکتے ۔ رابطہ کمیٹی نے چیف جسٹس سپریم کورٹ سے اپیل کی کہ خورشیدبیگم میموریل کمپلیکس کے ایڈمن آفس کوآگ لگائے جانے کے واقعہ کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائے اور رینجرز حکام سے اس بارے میں وضاحت طلب کی جائے ۔
*****











7/15/2019 1:03:31 PM