Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

جس طرح پاکستان کشمیریوں سے اظہاریکجہتی کیلئے کشمیرڈے مناتاہے اسی طرح انڈیا کے وزیراعظم ،حکمراں جماعت اورکانگر یس کوبھی ’’بلوچستا ن ڈے‘‘ مناناچاہیے۔الطا ف حسین


جس طرح پاکستان کشمیریوں سے اظہاریکجہتی کیلئے کشمیرڈے مناتاہے اسی طرح انڈیا کے وزیراعظم ،حکمراں جماعت اورکانگر یس کوبھی ’’بلوچستا ن ڈے‘‘ مناناچاہیے۔الطا ف حسین
 Posted on: 12/23/2018

جس طرح پاکستان کشمیریوں سے اظہاریکجہتی کیلئے کشمیرڈے مناتاہے اسی طرح انڈیا کے وزیراعظم ،حکمراں جماعت اورکانگر یس کوبھی ’’بلوچستا ن ڈے‘‘ مناناچاہیے۔الطا ف حسین
کشمیر ایک متنازعہ مسئلہ ہے لیکن بلوچستان ہمیشہ سے آزاد علاقہ رہاہے، فوج نے بلوچستان پر بندوق کی نوک پر قبضہ کررکھاہے
بھارتی فوج نے کسی کشمیری رہنماکے گھر یا دفتر کو تالا نہیں لگایالیکن پاکستان میں فوج نے کراچی میں میرے گھر پر تالا لگادیا۔الطا ف حسین
سرگودھا یونیورسٹی کے پروفیسر میاں جاویداحمدکی سرکاری حراست میں ہلاکت پر نیب کے چیئرمین، چیف جسٹس اورآرمی چیف
کے خلاف قتل کامقدمہ قائم کیاجائے۔الطا ف حسین
نیب کے ذریعے صرف سیاستدانوں کے خلاف مقدمات چلائے جارہے ہیں، ملک کولوٹنے والے فوجی جرنیلوں کااحتساب نہیں کیاجارہا
گریٹر پنجاب کے منصوبے کے تحت 1992ء سے کراچی میں مہاجروں کے خلاف ریاستی آپریشن کیاجارہاہے۔الطا ف حسین
ایم کیوایم امریکہ کے زیراہتمام شکاگومیں منعقد کئے جانے والے یوم شہدا کے اجتماع سے اہم خطاب

لندن ۔۔۔ 23 دسمبر2918ء
متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائدجناب الطاف حسین نے بھارت کے وزیراعظم ،حکمراں جماعت اورکانگریس کی قیادت سے کہاہے کہ جس طرح پاکستان کشمیریوں سے اظہاریکجہتی اوران کی آزادی کی جدوجہد کی حمایت میں کشمیرڈے مناتاہے اسی طرح انڈیاکوبھی ’’بلوچستا ن ڈے‘‘ مناناچاہیے اوربلوچستان کی آزادی کے لئے بلوچوں کے مطالبہ کی کھل کرحمایت کرنی چاہیے ۔ انہوں نے یہ بات ایم کیوایم امریکہ کے زیراہتمام شکاگومیں منعقد کئے جانے والے یوم شہدا کے اجتماع سے لندن سے اپنے اہم اورتفصیلی خطاب میں کہی۔ اجتماع میں بڑی تعدادمیں ایم کیوایم کے کارکنوں ، مہاجردانشوروں،قلمکاروں اورانسانی حقوق کے کارکنوں کے ساتھ ساتھ بلوچ رہنماؤں نے بھی شرکت کی ۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ کشمیرتوشروع سے ایک متنازعہ مسئلہ رہاہے لیکن بلوچستان ہمیشہ سے آزاد علاقہ رہاہے، وہ انگریزوں کے زمانے میں بھی ایک علیحدہ اورخودمختارریاست تھا، اگر انڈیانے طاقت کے ذریعے کشمیرپر قبضہ کیا ہوا ہے توپاکستان کی فوج نے بھی بلوچستان پر بندوق کی نوک پر قبضہ کررکھاہے ، پھرانڈیااورپاکستان کی فوج میں کیافرق ہے ۔ انہوں نے بلوچستان کی آزادی کے لئے جدوجہدکرنے والے حریت پسندوں کوسلام تحسین پیش کیااوران سے کہاکہ مہاجربھی آپ کے بھائی ہیں اورحقوق کے حصول ، آزادی اور خودمختاری کی جدوجہد میں آپ کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے فوجی جرنیلوں نے پاکستان کواپنی چراگاہ بنارکھاہے جواپنے حقوق کے لئے آوازاٹھانے والے بلوچوں، مہاجروں،پشتونوں اوردیگرقومیتوں کاقتل کررہے ہیں ، فوج بزدل ہے ، اگربنگلہ دیش کی فوج نے بھی پاکستان پر حملہ کردیاتوپاکستان کی فوج اس کامقابلہ نہیں کرپائے گی۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ اگر پاکستان کی فوج اتنی ہی بہادرہے تووہ ایک ہفتہ میں کشمیرکوآزادکرکے دکھادے تو میں فوج کو جھک کرسیلوٹ کروں گا۔انہوں نے کشمیریوں سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کہ اگرآپ کوآزادی مل بھی جائے توپاکستان کاحصہ نہیں بننا ورنہ پہلے سے زیادہ بری غلامی میں مبتلاہوجاؤگے۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ انڈین کشمیرمیں بھارتی فوج نے کسی بھی کشمیری رہنماکے گھریااس کی سیاسی جماعت کے دفتر یا گھر کو تالا نہیں لگایالیکن پاکستان میں فوج نے کراچی میں میرے گھر پر تالا لگادیا۔ انہوں نے کہاکہ اگرفوج نے میرے گھرکاتالا نہیں کھولاتوپاکستان پر تالاپڑجائے گا، تالالگنابھی شروع ہوگیاہے جس کی چابی میرے پاس ہے ۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ میں نے اپنے کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل اورفوج کے مظالم سے تنگ آکرپاکستان مردہ باد کہا تھا ، میں نے پاکستان کو توڑا تونہیں تھا، لیکن جن فوجی جرنیلوں نے 1971ء میں پاکستان کوتوڑدیاتھاان میں سے کتنے جرنیلوں کوسزادی گئی؟ فوج نے کئی بارمارشل لاء لگایااور آئین توڑا اس پر کتنے جرنیلوں کوسزادی گئی ؟ سپریم کورٹ نے آئین توڑنے والے جرنیلوں کو ہمیشہ تحفظ فراہم کیا۔انڈیامیں کوئی فوجی جرنیل اگرسیاسی بیان دیدے تواس کے خلاف کارروائی ہوجاتی ہے لیکن پاکستان میں فوج سیاست میں کھل کر مداخلت کرتی اورعدالتیں اس کے تابع ہیں۔جناب الطا ف حسین نے کہاکہ پاکستان میں قومی احتساب بیورو (نیب ) کے ذریعے صرف سیاستدانوں کے خلاف مقدمات چلائے جارہے ہیں لیکن ملک کولوٹنے والے اورکرپشن کے ذریعے اربوں کھربوں کی جائیدادیں بنانے والے فوجی جرنیلوں کااحتساب نہیں کیا جارہاہے۔انہوں نے سوال کیاکہ کیا فوج کے جرنیلوں پر ملک کے قانون کااطلاق نہیں ہوتا؟ انہوں نے نیب کی جانب سے گرفتارکئے جانے والے سرگودھایونیورسٹی کے پروفیسر میاں جاویداحمدکی سرکاری حراست میں ہلاکت کے واقعہ کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ اس واقعہ کے ذمہ دار نیب کے چیئرمین، گرفتاریوں کا حکم دینے والے چیف جسٹس سپریم کورٹ اورآرمی چیف ذمہ دارہیں لہٰذاان کے خلاف قتل کامقدمہ قائم کیاجائے اورقانون کے تحت سزادی جائے ۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ مہاجروں نے پاکستان بنانے کیلئے لاکھوں جانوں کی قربانی دی اور اپنا سب کچھ چھوڑکر1947ء میں ہندوستان کے مسلم اقلیتی علاقوں سے ہجرت کرکے پاکستان آگئے لیکن انہیں آج تک پاکستانی تسلیم نہیں کیاگیا، ان کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں جیساسلوک کیاجارہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ برصغیرکے عظیم رہنمامولاناابوالکلام آزادنے تقسیم ہندکے وقت ہمارے بزرگوں کو پاکستان ہجرت کرنے سے روکاتھالیکن انہوں نے مولاناآزاد کی بات پرتوجہ نہیں دی۔ جناب الطا ف حسین نے اپنی اس بات کودہرایاکہ برصغیرکی تقسیم انسانی تاریخ کی سب سے بڑی غلطی تھی، یہ تقسیم صرف جغرافیہ کی نہیں بلکہ مسلمانوں کی عددی طاقت کی تقسیم تھی، اگربرصغیرکی تقسیم نہ ہوتی توآج ہندوستان کی کوئی بھی حکومت مسلمانوں کی حمایت کے بغیرنہیں بن سکتی تھی۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ جب افغانستان میں سوویت یونین آیاتوپاکستان کی فوج نے امریکہ سے ڈالر لینے کے لئے جہاد کانعرہ لگایا، کہاگیاکہ سوویت یونین کے کمیونزم سے اسلام کوخطرہ ہے، فوج نے جہاد کیلئے مختلف جہادی تنظیمیں بنائیں، پاکستان کے ہزاروں نوجوانوں کو اس جنگ میں جھونک دیالیکن آج امریکہ نے امداد بندکردی ہے تو کہا جارہاہے کہ امریکہ ہمارادشمن ہے، ہم روس سے دوستی کریں گے، آج کمیونسٹ چائنا کو اپنادوست کہاجارہاہے، قوم کو بتایاجارہاہے کہ ہم چائنا کے ساتھ ملکر سی پیک بنارہے ہیں جس سے پاکستان میں ترقی آئے گی۔ انہوں نے کہاکہ سی پیک کا مطلب پاکستان کی ترقی نہیں بلکہ یہ ’’ کنٹری پیک ‘‘ کرنے کا منصوبہ ہے۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ فوجی اسٹیبلشمنٹ گریٹر پنجاب کے منصوبے پر عمل پیراہے جس میں کراچی کوپنجاب کی سیٹلائٹ اسٹیٹ بناناہے ، اسی منصوبہ کی تکمیل کیلئے 1992ء سے کراچی میں مہاجروں کے خلاف ریاستی آپریشن کیاجارہاہے جوآج بھی جاری ہے ، اسٹیبلشمنٹ کی سہ جہتی حکمت عملی (Three Pronged Strategy) کے تحت مہاجروں کو کچلا جارہاہے ۔ انہوں نے کہاکہ عمران خان نے اقتدارمیں آنے سے قبل عوام کو50لاکھ گھربناکردینے کاوعدہ کیاتھالیکن اسٹیبلشمنٹ کی پالیسی پرعمل کرتے ہوئے عمران خان کی حکومت میں کراچی میں ناجائزتجاوزات کے خاتمے کے نام پر مہاجروں کی دکانوں اورگھروں کومسمار کیا جارہا ہے ۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ اپنے حقوق کے حصول اورغلامی سے نجات کے لئے بلوچوں کے ساتھ ساتھ پشتونوں، سندھیوں اور مہاجروں کو متحد ہوکر جدوجہد کرنی ہوگی
*****

7/20/2019 9:23:27 PM