Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

قائداعظم کاپاکستان 1971ء میں دولخت ہوچکا ،موجووہ پاکستان دراصل پنجابستان ہے۔ الطا ف حسین


قائداعظم کاپاکستان 1971ء میں دولخت ہوچکا ،موجووہ پاکستان دراصل پنجابستان ہے۔ الطا ف حسین
 Posted on: 12/18/2018
قائداعظم کاپاکستان 1971ء میں دولخت ہوچکا ،موجووہ پاکستان دراصل پنجابستان ہے۔ الطا ف حسین
پاکستان پر چندکرپٹ جرنیلوں کاقبضہ ہے۔، چھوٹی قومیتوں کوغلام سمجھاجارہاہے اوران کی آواز کوطاقت سے دبایا جارہاہے
کراچی پرقبضہ ہے، سندھ غلام ہے ، اسی طرح بلوچستان اورپشتونخوا پر بھی قبضہ ہے۔الطاف حسین
دنیابھرمیں پاکستان کے تمام سفارتخانوں اورہائی کمیشنزمیں صرف اورصرف پنجابی نظرآتے ہیں۔الطاف حسین
بنگالیوں کواقتدارحوالے کرنے کے بجائے مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کیا گیاجسکے نتیجے میں بنگلہ دیش بن گیا۔الطاف حسین
مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کے دوران لاکھوں بنگالیوں کاقتل کیاگیا، بنگالی عورتوں کی عصمت دری کی گئی ۔الطاف حسین
14دسمبر1986ء کو علی گڑھ اورقصبہ کالونی میں سینکڑوں مہاجروں کاقتل عام کیاگیا، گھروں کولوٹ کرآگ لگائی گئی،۔الطاف حسین
مہاجروں کے قتل عام کے ان واقعات کاکہیں کوئی ذکرنہیں کرتا لیکن 12مئی کے واقعہ کاسب ذکرکرتے ہیں
سانحہ علی گڑھ قصبہ کالونی14دسمبر1986ء اورسانحہ مشرقی پاکستان 16دسمبر1971ء کے شہداء کی برسی کے موقع پر خطاب 
لندن ۔۔۔ 18 دسمبر2018ء
متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ قائداعظم کابنایاہواپاکستان 1971ء میں دولخت ہوچکاہے ،موجووہ پاکستان دراصل پنجابستان ہے جس پر اسٹیبلشمنٹ اورفوج کے چندکرپٹ جرنیلوں کاقبضہ ہے، جس میں چھوٹی قومیتوں کوغلام سمجھاجارہاہے اوران کی آواز کوطاقت سے دبایا جارہاہے۔ انہوں نے یہ بات سانحہ علی گڑھ قصبہ کالونی14دسمبر1986ء اورسانحہ مشرقی پاکستان 16دسمبر1971ء کے شہداء کی برسی کے سلسلے میں انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میں منعقدہ قرآن خوانی وفاتحہ خوانی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے ہوئے کہی۔ جناب الطاف حسین کایہ خطاب سوشل میڈیا کے ذریعے دنیابھرمیں نشرکیاگیا۔ جناب الطاف حسین نے علی گڑھ قصبہ کالونی میں ہونے والے قتل عام کے المناک سانحہ اور16 دسمبر71ء کوپاکستان کے دولخت ہونے کے سانحہ سقوط ڈھاکہ پرتفصیلی روشنی ڈالی اوراس حوالے سے اہم انکشافات بھی کئے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ نئی نسل کوصرف موجودہ پاکستان کے بارے میں بتایاجاتاہے،انہیں یہ نہیں بتایاجاتاکہ 14اگست 1947ء کوقائداعظم نے جو پاکستان بنایاتھاوہ 1971ء میں ٹوٹ چکا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ تاریخ یہی ہے کہ سابقہ مشرقی پاکستان جوپہلے مشرقی بنگال کہلاتاتھا، وہاں کے عوام نے تحریک پاکستان میں اہم کرداراداکیا،اسی طرح متحدہ ہندوستان میں مسلم اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں نے پاکستان کے حق میں سب سے زیادہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور قربانیاں دیں جبکہ 1945ء کے انتخابات میں پنجاب میں قیام پاکستان تک قائداعظم کی مسلم لیگ کوشکست ہوئی اوروہاں پاکستان مخالف یونینسٹ پارٹی کی حکومت قائم ہوئی جبکہ بلوچستان اس وقت بھی ایک آزاد ریاست تھا۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب کے لوگ تاریخی طورپرانگریزوں کے وفادار تھے، انہوں نے انگریز فوج میں بھرتی ہوکربرصغیرکی آزادی کی جنگ لڑنے والے حریت پسندوں کوکچلنے کیلئے انگریزوں کابھرپورساتھ دیا، انگریزوں نے اسی وفاداری کے صلے میں پنجاب کوتحفے کے طورپرپاکستان د یا ، انگریزوں کی وفاداری نبھانے والی پنجاب کی فوج نے کرائے کی فوج کے طورپردنیابھرمیں اپنی خدمات پیش کیں اور قیام امن کے نام پرمظلوم عوام کونشانہ بنایا ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ سابقہ مشرقی پاکستان کی آبادی 56فیصدتھی، بنگالی عوام نے قیام پاکستان کی جدوجہد میں بنیادی کردار اداکیاتھالیکن قیام پاکستان کے بعد سے انہیں ان کے بنیادی حقو ق سے محروم رکھاگیا،ان کے ساتھ دوسرے درجے کے شہری جیسا سلوک کیاگیا، مشرقی پاکستان کے عوام نے 1970 ء کے انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی لیکن انہیں اقتدارنہیں دیا گیا ، بھٹونے اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر’’ ادھرہم ،ادھرتم ‘‘ کانعرہ لگایا، بنگالیوں کواقتدارحوالے کرنے کے بجائے مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کیا گیا ، لاکھوں بنگالیوں کاقتل کیاگیا، بنگالی عورتوں کی عصمت دری کی گئی ، 
اس فوجی آپریشن کے نتیجے میں بالآخر مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ انہوں نے کہاکہ جب پاکستان کی 56فیصدآبادی نے پاکستان سے علیحدگی اختیار کرلی اور اکثریت الگ ہوگئی توباقی رہ جانے والی ریاست کوپاکستان کیسے کہاجاسکتاہے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ بنگالیوں کی طرح ہندوستان کے مسلم اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں نے پاکستان قیام کیلئے سب سے زیادہ قربانیاں دیں، پاکستان کی خاطر اپناگھربار، جاگیریں، جائیدادیں، بزرگوں کی یادگاریں ، مزارات سب کچھ چھوڑدیااورہجرت کی لیکن انہیں پاکستان میں تسلیم نہیں کیاگیا، ان کے ساتھ غیروں جیساسلوک کیاگیا، قیام پاکستان کے بعد ملک پر ان عناصر نے ملک پر قبضہ کرلیاجنہوں نے پاکستان کے قیام میں کوئی کردار ادا نہیں کیا تھا،ان عناصر نے قائداعظم کوسلوپوائزن دے کرماردیا، ملک کے پہلے وزیراعظم خان لیاقت علی خان کوپنڈی میں جلسہ عام میں گولی مارکرشہیدکردیا، محترمہ فاطمہ جناح جنرل ایوب خان کی آمریت کے خلاف کھڑی ہوئیں توانہیں بھارت کاایجنٹ کہاگیااورگھرمیں سازش کے تحت قتل کردیااورتمام شعبوں سے مہاجروں کوسازش کے تحت نکال دیاگیا۔ انہوں نے کہاکہ مہاجروں میں بڑے بڑے اکابرین ہیں جنہوں نے پاکستان کوبنانے اورپھر اپنی مال ودولت، قابلیت اورصلاحیت کے ذریعے اسے اسکے پیروں پر کھڑاکرنے میں کلیدی کرداراداکیا لیکن آج ان کاکہیں نام نہیں لیاجاتا، پنجاب سے صرف علامہ اقبال کا نام لیاجاتاہے اورانہیں پاکستان کاہیروبناکرپیش کیاجاتاہے جبکہ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں کہیں بھی پاکستان کانام تک استعمال نہیں کیا، وہ توپاکستان کے تصورکے مخالف تھے اورہندوستان کے جغرافیہ میں مسلمانوں کے حقوق چاہتے تھے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ مہاجروں کاہردورمیں قتل عام کیاگیا، 14دسمبر1986ء کوکراچی میں علی گڑھ اورقصبہ کالونی میں سینکڑوں مہاجروں کاقتل عام کیاگیا، گھروں کولوٹ کرآگ لگائی گئی، مہاجرخواتین کی عصمت دری کی گئی ، یہ قتل عام آئی ایس آئی نے کرایاتھا،ایم کیوایم کے سوا کوئی بھی آج تک اس قتل عام کاذکرنہیں کرتا، 31اکتوبر1986ء کوسہراب گوٹھ اورحیدرآباد کے مارکیٹ چوک پر ایم کیوایم کے جلوس پر فائرنگ کرکے کئی کارکنوں کو شہیدکردیاگیا،30ستمبر1988ء کوحیدرآبادمیں کئی گاڑیوں میں سوارمسلح دہشت گردو ں نے شہرمیں داخل ہوکراندھادھندفائرنگ کی، سینکڑوں مہاجروں کو شہیدکردیاگیا، کوئی قاتل نہیں پکڑاگیا،اس قتل عام کے پیچھے بھی سرکاری ایجنسیاں تھیں، 26، 27مئی 1990ء کوپکاقلعہ حیدرآبادمیں آپریشن کے نام پر درجنوں مہاجرنوجوانوں، بزرگوں اورخواتین کوگولیاں مارکرشہیدکردیاگیا، مہاجروں کے قتل عام کے ان واقعات کاکہیں کوئی ذکرنہیں کرتا لیکن 12مئی کے واقعہ کاسب ذکرکرتے ہیں اوراس کی آڑمیں ایم کیوایم کوبدنام کیاجاتاہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ 12مئی کا واقعہ بھی اسٹیبلشمنٹ کی سازش تھی اوراس میں اے این پی، جماعت اسلامی، پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ، عمران خان کی تحریک انصاف ملوث تھیں، اس واقعہ میں ایم کیوایم کے 14کارکن شہید ہوئے تھے لیکن اس کازکرنہیں ہوتا۔ انہوں نے کہاکہ 12مئی کاواقعہ جنرل پرویزمشرف کے خلاف آئی ایس آئی کی سازش تھی ، چیف جسٹس افتخارمحمدچوہدری آئی ایس آئی کیلئے کام کررہاتھااوروکلاء تحریک کیلئے وکلاء رہنماؤں کوپیسہ بھی آئی ایس آئی کی جانب سے دیاتھاگیا۔ انہوں نے کہاکہ میں نے جنرل پرویزمشرف کواس سازش سے پہلے ہی آگاہ کردیاتھالیکن انہوں نے یقین نہیں کیا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج پوراپاکستان صرف اورصرف پنجابستان بناہواہے ، کراچی پرقبضہ ہے، سندھ غلام ہے ، اسی طرح بلوچستان اورپشتونخوا پر بھی قبضہ ہے، دنیابھرمیں پاکستان کے تمام سفارتخانوں اورہائی کمیشنزمیں صرف اور صرف پنجابی نظرآتے ہیں، مہاجر، سندھی، بلوچ اورپختون کہیں دکھائی نہیں دیتے ۔ انہوں نے کہاکہ ان تمام ترمظالم اورناانصافیوں کے خلاف جوبلوچ، پختون ،مہاجراورسندھی ڈٹے ہوئے ہیں میں انہیں سلام پیش کرتاہوں۔ انہوں نے کہا کہ جومہاجرمائیں،بہنیں،نوجوان، بزرگ اور بچے تمام ترریاستی مظالم کے باوجود 9دسمبرکویوم شہداکے موقع پر عزیزآبادپہنچنے کیلئے نکلے میں ان کی جرات وہمت کوسلام پیش کرتاہوں۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ جولوگ تجاوزات کے خاتمہ کے نام پر مہاجروں کے برسوں پرانے گھر،دکانیں توڑرہے ہیں، ان کامعاشی قتل کررہے ہیں ان پر اللہ تعالیٰ کاعذاب ناز ل ہوگا۔ جناب الطا ف حسین نے اپنے خطاب کے اختتام پر سانحہ علی گڑھ قصبہ کالونی 14دسمبر 86ء اور سانحہ مشرقی پاکستان 16دسمبر 71ء کے شہداء کوخراج عقیدت پیش کیا اور ان کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی ۔ 
*****











5/22/2019 3:45:16 AM