Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

کراچی میں ناجائز تجاوزات کے خاتمے کی آڑ میں شہریوں کا معاشی قتل عام کیاجارہا ہے۔ الطاف حسین


کراچی میں ناجائز تجاوزات کے خاتمے کی آڑ میں شہریوں کا معاشی قتل عام کیاجارہا ہے۔ الطاف حسین
 Posted on: 12/2/2018
کراچی میں ناجائز تجاوزات کے خاتمے کی آڑ میں شہریوں کا معاشی قتل عام کیاجارہا ہے۔ الطاف حسین
تجاوزات کہہ کرآبادیوں کوختم کیاجارہاہے تاکہ کراچی کوفوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیاجائے ۔ الطاف حسین
سارے اقدامات کراچی کوسیٹلائٹ اسٹیٹ بنانے کی گریٹر پنجاب کی سازش کاحصہ ہیں ۔ الطاف حسین
جن دکانداروں کی دکانیں مسمار کی گئی ہیں انہیں کاروبار کیلئے فی الفور متبادل جگہیں فراہم کی جائیں الطاف حسین
اگر حکومت متاثرہ دکانداروں کو متبادل روزگارفراہم نہ کرے تو تمام متاثرہ افرادبلاامتیازوتفریق مل کر بھرپوراحتجاج کریں۔الطاف حسین
پشاورمیں ریلوے کی زمینوں پرقائم ناجائزآبادیوں کومالکانہ حقوق دیدیے گئے لیکن کراچی میں لوگوں کوگھروں سے بیدخل کیاجارہاہے 
لوئرکورٹ سے سپریم کورٹ تک پوری عدلیہ فوج کے انگوٹھے کے نیچے ہے ۔الطاف حسین 
عمران خان نے بنی گالہ میں ناجائز جائیداد بنائی لیکن چیف جسٹس نے کہاکہ عمران خان اپنی اراضی ریگولرائز کرالیں۔الطاف حسین
جسٹس ثاقب نثار گریٹرپنجاب کی سازش کے ایک کردارہیں، یہ ڈیم بھی پاکستان کیلئے نہیں پنجاب کیلئے بنارہے ہیں۔الطاف حسین
عمران خان نے 50لاکھ گھر بناکردینے کااعلان کیاتھالیکن وہ عوام کے گھرتوڑکر ان کے سرسے چھت چھین رہے ہیں۔الطاف حسین
مہاجروں کے معاشی قتل میں اپنے ضمیراورشہیدوں کے لہوکاسوداکرنے والابہادرآبادٹولہ پوری طرح شریک ہے۔الطاف حسین
معاشی قتل عام پر مہاجرعوا م کی خاموشی بھی افسوسناک ہے ، ایسالگتاہے کہ پوری قوم غلام بننے کے لئے تیارہوگئی ہے۔الطاف حسین 
اگرمہاجر عوام اب بھی نہ جاگے اوراس ظلم کے خلاف میدان عمل میں نہ آئے تووہ مکمل طورپرغلامی میں چلے جائیں گے۔الطاف حسین
مظلوم قوموں کوکوئی بھی طشتری میں رکھ کر حقوق نہیں دیتا بلکہ اس کیلئے عملی جدوجہد کرنی پڑتی ہے اورقربانی دینی پڑتی ہے۔الطاف حسین
جمعہ کوسوشل میڈیا کے ذریعے کارکنان وعوام سے براہ راست خطاب

متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ کراچی میں ناجائز تجاوزات کے خاتمے کی آڑ میں شہریوں کا معاشی قتل عام کیاجارہا ہے، تجاوزات کہہ کرآبادیوں کوختم کیاجارہاہے تاکہ کراچی کوفوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیاجائے ، یہ سارے اقدامات کراچی کوسیٹلائٹ اسٹیٹ بنانے کی گریٹر پنجاب کی سازش کاحصہ ہیں، ، سی پیک منصوبہ بھی اسی کی کڑی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ ناجائز تجاوزات کی آڑ میں جن دکانداروں کی دکانیں مسمار کی گئی ہیں انہیں کاروبار کیلئے فی الفور متبادل جگہیں فراہم کی جائیں ، اگر حکومت متاثرہ دکانداروں کو متبادل روزگارفراہم نہ کرے تو تمام متاثرہ افرادبلاامتیازوتفریق مل کر بھرپوراحتجاج کریں۔ جناب الطاف حسین نے ان خیالات کااظہار جمعہ کوسوشل میڈیا کے ذریعے براہ راست خطاب کرتے ہوئے کیا۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں پاکستان میں واحد سیاسی رہنما ہوں جو گزشتہ 40 برسوں سے دن رات بلاامتیاز رنگ ونسل ، زبان، قومیت، علاقہ ، مسلک ، عقیدہ اور مذہب پاکستان کے غریب ومظلوم عوام پر مظالم اورانکے ساتھ ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کرتا رہا ہے اورآج بھی کررہا ہوں، الطاف حسین پر غداری ، ملک دشمنی کے مقدمات بنائے گئے، دہشت گردی کے الزامات عائد کیے گئے حتیٰ کہ منی لانڈرنگ تک کا الزام لگایاگیااورمیری کردار کشی کی گئی لیکن میں نے اپنی جدوجہدجاری رکھی کیونکہ حقوق کی جدوجہد میں اس قسم کے حالات کا سامنا کرناپڑتا ہے ، سقراط کو زہرکا پیالہ پینا پڑتا ہے ، مارٹن لوتھر کنگ کو جا
کی قربانی دینی پڑتی ہے اور نیلسن مینڈیلا کو 27 سال قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ مجھے برطانیہ میں جلاوطنی کی زندگی گزارتے ہوئے 27 برس بیت گئے ، میں پاکستان میں بھی دن رات کام کیاکرتا تھا اور برطانیہ میں بھی دن رات کام کرتا ہوں اور تحریکی جدوجہد میں کب صبح سے شام اوررات سے دن ہوجاتا ہے مجھے پتہ ہی نہیں چلتا ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں نے اپنی تحریکی جدوجہد مہاجرقوم کے علاوہ غریب پختونوں، بلوچوں ، سندھیوں ، پنجابیوں ، ہزاروال ، سرائیکیوں، کشمیریوں، گلگتیوں ، بلتستانیوں اور دیگر قومیتوں سمجھانے اور جگانے کی پوری کوشش کی اورآج تک کررہا ہوں۔ پاکستان میں الطاف حسین کے علاوہ کوئی سیاسی رہنما نہیں ہے جس نے میری طرح پاکستان کے مظلوم عوام پرڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف آواز بلند کی ہولیکن مہاجروں پرڈھائے جانے والے مظالم اور انکے ساتھ ناانصافیوں کے خلاف کسی بھی لیڈر نے آواز نہیں اٹھائی۔ انہوں نے کہاکہ سیاسی رہنماؤں کے اس رویہ پر انہیں دوش دینے کے بجائے مہاجروں کو خود سوچنا چاہیے کہ میں نے کس طرح قرآن مجید، احادیث مبارکہ اور تاریخی حوالوں سے انہیں سمجھانے کی کوششیں کیں، مگرافسوس کہ بلوچوں ، پختونوں، سندھیوں ، پنجابیوں اوردیگر قومیتوں میں ایم کیوایم اورمیرے خلاف بہت منفی پروپیگنڈہ کیا گیا اور مختلف سیاسی رہنما ان پروپیگنڈوں کا شکارہوئے اورانہوں نے کبھی مہاجروں کے حقوق کیلئے صدائے احتجاج بلند نہیں کی لیکن دیگر جماعتوں میں شامل مہاجرجنہوں نے ان جماعتوں میں اپنی زندگیاں گزار دیں ، انہوں نے بھی مہاجروں کیلئے آواز نہیں اٹھائی اور ہمیشہ یہی کہتے رہے کہ ہم لسانیت کے خلاف ہیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ جہاں انسان ہوگا وہاں لسان بھی ہوگی ، اسی طرح ہرجانور اورپرندوں کی بھی علیحدہ علیحدہ بولی، رنگ اور جسامت ہوتی ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے واضح طورپر ارشاد فرمایا ہے کہ ’’ ہم نے تمہیں ایک مرد اورایک عورت سے پیداکیاہے ، پھر گروہوں ، قبیلوں اور قوموں میں تقسیم کیا تاکہ آپس کی شناخت ہو لیکن تم میں افضل وہ ہے جو تقویٰ میں اعلیٰ ہوگا‘‘ ۔ لہٰذا جو لسانیت کے خلاف بات کرتاہے وہ اللہ تعالیٰ ، نبی کریم ؐ ، انسانیت اورہرمذہب کی تعلیمات کے خلاف بات کرتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ لسانیت کو آڑ بناکر اسے تعصب کا منبع قراردینا سراسر متعصبانہ عمل ہے ، پاکستان کے عوام خود بتائیں کہ سندھی کو سندھی، پنجابی کو پنجابی ، پختون کو پختون نہ کہاجائے تو پھر کیاکہاجائے گا؟ آپ کسی سندھی کو پنجابی سندھی یا کسی پنجابی کو سندھی پنجابی پکارکردیکھیں کہ کیا جواب ملتا ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ الطاف حسین کی بات چھوڑیں ، میری تو تحریر ، تقریر اور تصویر پرپابندی عائد کردی گئی ہے ، چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار نے میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کے بارے میں کہاکہ انہوں نے دنیا بھرمیں بے نامی جائیدادیں بنائیں لہٰذا یہ صادق اور امین نہیں رہے لیکن عمران خان نے بنی گالہ میں ناجائز جائیداد بنائی اور چیف جسٹس ، عمران خان کو کہتے ہیں کہ وہ بنی گالہ کی اراضی ریگولرائز کرالیں اور عمران خان جوبغیرنکاح سے پیدا ہونے والی ایک بچی کا باپ ہے اسے جسٹس ثاقب نثار صادق اور امین قراردیتے ہیں کیونکہ یہ بادشاہ کا حکم ہے اور ملک میں بادشاہ پاکستانی فوج اورملٹری اسٹیبلشمنٹ ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں 40 برسوں سے درس وتبلیغ کرتا چلاآرہا ہوں ، مہاجروں کو سمجھاتا چلاآرہا ہوں ،جن ساتھیوں نے میری باتوں کو سمجھا انہوں نے ظرف وضمیرکا سودا کرنے کے بجائے راہ حق میں اپنی جانیں قربان کردیں، ہزاروں ساتھیوں نے کربناک اسیری برداشت کی، ہزاروں ساتھی ٹارچر سیلوں میں وحشیانہ تشدد کے باعث زندگی بھر کیلئے معذور ہوگئے حتیٰ کہ آج تک وفاپرست ساتھی رینجرز، ایف سی اور پولیس کے ٹارچرسیلوں میں وحشیانہ تشدد برداشت کررہے ہیں۔ مہاجروں کی فریاد سننے والا کوئی نہیں ہے ، ملک میں سویلین یافوجی تفتیشی ہوں ہرادارے میں فوجی ہیں ، لوئرکورٹ سے سپریم کورٹ تک پوری عدلیہ فوج کے انگوٹھے کے نیچے ہے ، عدلیہ فوج کی اجازت کے بغیر نہ تو کوئی فیصلہ دینے کا اختیاررکھتی ہے اورنہ ہی کسی کو انصاف فراہم کرنے کا حق رکھتی ہے ۔موجودہ چیف جسٹس ثاقب نثار، ان سے قبل سابق چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری یا ان سے پہلے جو بھی چیف جسٹس تھے ان سب نے انتہائی غلط فیصلے دیے ، سب بھول گئے کہ پاکستان عوام کیلئے بناتھا فوج کیلئے نہیں ۔ 1956 ء، 1958ء یا 1973ء کا آئین ہو ، اس آئین میں ترامیم ہوتی رہیں، فوج نے پاکستان میں باربار مارشل لاء لگایااورپاکستان کی سپریم کورٹ نے ہر مارشل لاء کو جائز قراردیاہے ، جبکہ 21 ویں صدی میں کسی بھی مہذب ملک میں فوج کو مارشل لاء لگانے کا آئینی وقانونی حق نہیں دیاجاتا۔ 
ایم کیوایم کے کارکن آفتاب احمد کو رینجرز کی حراست میں بدترین تشددکا نشانہ بنایاگیااورانہیں ماورائے عدالت قتل کردیاگیا لیکن رینجرز کی جانب سے کہاگیا کہ آفتاب احمد دل کادورہ پڑنے کے باعث جاں بحق ہوگئے ،جب انکی تشدد زدہ لاش کی تصاویر میڈیاپر نشروشائع کی گئیں تو جسم پر تشددکے نشانات دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ ان کی موت دل کا دورہ پڑنے سے واقع ہوئی ہے ۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور رینجرز نے تسلیم کیا کہ رینجرز کی حراست میں آفتاب احمد کی شہادت کی تحقیقات کرائی جائے گی اورآئی ایس پی آر کی جانب سے بیان بھی جاری کیاگیالیکن آفتاب احمد کے ماورائے عدالت قتل کی کوئی تحقیقات نہیں کی گئی۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ موجودہ آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے نقیب اللہ محسود شہید کے والد کے ہاتھ پراپنا ہاتھ رکھ کر وعدہ کیا تھا کہ وہ انصاف دلائیں گے لیکن نقیب اللہ محسود کے قاتل راؤ انوارکو پہلے سیف ہاؤسم میں رکھا گیا اور پھر ضمانت پررہا کردیا گیا۔ نقیب اللہ کے ماورائے عدالت قتل کے خلاف پشتون تحفظ موومنٹ قائم ہوئی تو پی ٹی ایم کو بھی ایم کیوایم کی طرح ٹکڑے ٹکڑے کردیاگیالیکن ایم کیوایم ایک ہی ہے اوروہی ہے جس کابانی وقائدایک ہی ہے اورایک ہی رہے گا۔
جناب الطاف حسین نے تجاوزات ختم کرنے کے نام پر گھروں اوردکانوں کومسمار کرنے کی کارروائی کی شدیدمذمت کرتے ہوئے کہاکہ کراچی اورسندھ کے شہری علاقوں میں تجاوزات قراردیکرشہریوں کی دکانیں مسمارکی جارہی ہیں اوران کاروزگارختم کیاجارہاہے، ناجائز کہہ کرجائز دکانوں حتیٰ کہ کے ایم سی کے کرائے پر قائم دکانیں بھی مسمارکردی گئی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگران دکانوں کوختم کیاجاناضروری بھی تھاتوپہلے ان کامتبادل انتظام کیاجاتا جیسے ہم نے اپنے دور میں پرانی سبزی منڈی ختم کرنے سے قبل انہیں سپرہائی وے پر جگہ فراہم کی تھی لیکن اس مرتبہ ایسانہیں کیاگیاحتیٰ کہ غریب پتھاریداروں اورسبزی فروشوں تک کوبیدردی سے کچلاگیاہے ۔ انہوں نے کہاکہ اب حکومت کی جانب سے یہ فرمان آیاہے کہ رہائشی علاقوں میں قائم دکانوں اوراسکولوں کوبھی ختم کیا جائے ، آخریہ کیاظلم کیاجارہاہے؟ انہوں نے بورڈپرنقشہ بناکردکھاتے ہوئے کہاکہ کراچی میں تجاوزات کے نام پر کارروائی صرف مہاجراکثریتی علاقوں میں کی جارہی ہے،جبکہ سہراب گوٹھ، الآصف اسکوائر، نیشنل ہائی وے، سپرہائی وے، شیرشاہ، منگھوپیر اورشہرکے تمام داخلی راستوں پرقائم ناجائزآبادیوں میں کوئی کارروائی نہیں کی گئی ، پشاورمیں ریلوے کی زمینوں پرقائم ناجائزآبادیوں کوحکومت نے مالکانہ حقوق دیدیے لیکن کراچی میں مارٹن کوارٹرز، کلیٹن کوارٹرز، پاکستان کوارٹرز، ایف سی ایریااورریلوے کالونیوں کومالکانہ حقوق دینے کے بجائے وہاں سے لوگوں کوبیدخل کیاجارہاہے تاکہ ان علاقوں کوخالی کرکے وہاں رینجرزکوبسایاجائے اوروہاں چھاؤنیاں بنائی جائیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ یہ سارے اقدامات کراچی کوسیٹلائٹ اسٹیٹ بنانے کی گریٹر پنجاب کی سازش کاحصہ ہیں، سی پیک منصوبہ بھی اسی کی کڑی ہے۔چیف جسٹس ثاقب نثار کے اپنے بچے انگلینڈ میں پڑھ رہے ہیں، انہیں دوسروں کے بچوں کاکوئی احساس نہیں ہے اسی لئے انہوں نے غریبوں کے 60، 60سال کی دکانوں کوتجاوزات کہہ کرتوڑنے کے احکامات دیے اورہزاروں غریبوں سے ان کا روزگار چھین کران کے بچوں کوفاقہ کشی میں مبتلاکردیاہے۔اسی طرح اب حیدرآباد، میرپورخاص اورنوابشاہ میں بھی مہاجروں کی دکانوں اوراملاک کو تجاوزات کہہ کرتوڑاجارہاہے ۔ انہوں نے کہاکہ چیف جسٹس ثاقب نثار گریٹرپنجاب کی سازش کاایک کردارہے، یہ ڈیم بھی پاکستان کے لئے نہیں بلکہ پنجاب کے لئے بنارہے ہیں جبکہ سب جانتے ہیں کہ کالاباغ ڈیم کے معاملے پر سندھ اورپختونخوا کے شدیدتحفظات ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ عمران خان نے اقتدارمیں آکرعوام کو50لاکھ گھر بناکردینے کااعلان کیاتھالیکن یہ توعوام کے گھرتوڑکرلاکھوں شہریوں سے ان کے سرسے چھت چھین رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کراچی میں صرف مہاجروں ہی کی نہیں بلکہ پختونوں،پنجابیوں اوردیگرلوگوں کی بھی دکانیں مسمار کی گئی ہیں لہٰذا مہاجر، پختون، پنجابی اورتمام متاثرین اس ظلم کے خلاف گھروں سے نکلیں ، احتجاج کریں اورانہیں بے گھرکرنے والوں اوران سے روزگارچھیننے والوں کاسوشل بائیکاٹ کریں، ان کے گریبان پکڑکرجواب طلب کریں۔ جناب الطاف حسین نے مطالبہ کیاکہ تمام متاثرین کومعاوضہ اداکیاجائے اورایک منڈی قائم کی جائے جہاں یہ متاثرین کاروبارکرکے اپنی گزربسرکرسکیں۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ اب تک مہاجروں کاجسمانی قتل عام ہوتارہااوراب تجاوزات کے خاتمے کی آڑ میں سپریم کورٹ ، ہائیکورٹ، پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت، پیپلزپارٹی کی حکومت سندھ، بلدیہ عظمی ٰ ، فوج، رینجرزسب ملکر جس طرح مہاجروں کامعاشی قتل عام کررہی ہیں اس پر میرادل خون کے آنسو رو رہاہے ۔انہوں نے کہاکہ میرے دورمیں کسی کی ہمت نہیں تھی کہ کوئی مہاجروں کی املاک کونقصان پہنچادے لیکن اب سب ملکر مہاجروں کوان کے گھروں سے بے دخل کررہے ہیں، مہاجروں کامعاشی قتل عام کررہے ہیں اوراس میں اپنے ضمیراورشہیدوں کے لہوکاسوداکرنے والابہادرآبادٹولہ پوری طرح شریک ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اس ظلم پر مہاجرعوا م کی خاموشی بھی افسوسناک ہے ، ایسالگتاہے کہ پوری قوم غلام بننے کے لئے تیارہوگئی ہے ، انہوں نے کہاکہ اگرمہاجر عوام اب بھی نہ جاگے اوراس ظلم کے خلاف میدان عمل میں نہ آئے تووہ مکمل طورپرغلامی میں چلے جائیں گے، پھروقت نکل جانے اورسانپ گزرجانے کے بعد لکیر پیٹنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ جہاں ظلم وجبراورعصبیت ہواور حکمرانوں کی جانب سے مظلوموں کو ظلم وستم کانشانہ بنایاجارہاہو، انہیں دیوار سے لگایاجارہاہو، پورے ملک پر صرف ایک قوم کاقبضہ اورتسلط کرایاجارہاہو وہاں اس ظلم وستم کانشانہ بننے والی مظلوم قوموں پر ظلم کے خلاف جہاد فرض ہوجاتاہے ، یہ جہادجائز اور قرآن کے حکم کے بھی عین مطابق ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہمیں یاد رکھناچاہیے کہ مظلوم قوموں کوکوئی بھی طشتری میں رکھ کران کے حقوق نہیں دیتا بلکہ اس کے لئے عملی جدوجہد کرنی پڑتی ہے اورقربانی دینی پڑتی ہے ۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ ہم کراچی کوصوبہ بنانے
کامطالبہ کررہے ہیں،ہم کراچی اورشہری علاقوں میںآبادپنجابیوں، پختونوں اوردیگرزبانیں بولنے والوں کویقین دلاتے ہیں کہ وہ بھی ہمارے بھائی ہیں اوران کابھی یہاں برابرکاحق ہوگا۔ 

*****

12/18/2018 9:08:23 PM