Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

گریٹر پنجاب کی سازش.... ملک وقوم کا درد رکھنے والے اہل وطن کے نام ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین کا کھلا خط


گریٹر پنجاب کی سازش.... ملک وقوم کا درد رکھنے والے اہل وطن کے نام ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین کا کھلا خط
 Posted on: 11/27/2018


پیش لفظ 

بانی وقائدجناب الطاف حسین نے اپنی سیاسی بصیرت کے ذریعے قوم کوہمیشہ آنے والے خطرات اور ملک وقوم کے خلاف کی جانے والی سازشوں سے قبل ازوقت آگاہ کیااوران کاسامنا کرنے کے لئے قوم کوتیارکیا۔ قائدتحریک جناب الطاف حسین نے اب سے 23سال قبل 26فروری 1995ء کوملک وقوم کادردرکھنے والے اہل وطن کے نام ایک کھلاخط لکھااور قوم کو ملک کے خلاف کی جانے والی ’’گریٹرپنجاب ‘‘ کی سازش سے آگاہ کیا۔انہوں نے یکم مارچ 1995ء کوایم کیوایم کے مرکزنائن زیروپر تنظیمی عہدیداروں کے اجلاس سے اپنے خطاب میں گریٹرپنجاب کی سازش کی مزیدتفصیلات بیان کیں اورتفصیل سے بتایاکہ کس طرح بااثرقوتوں کی جانب سے پنجاب اور سندھ میں ملک کوکمزورکرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں اور کراچی کو’’ گریٹرپنجاب ‘‘ کی سیٹلائٹ اسٹیٹ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔قائدتحریک جناب الطاف حسین نے 1995ء میں اپنے اس اہم کھلے خط اورخطاب میں گریٹرپنجاب کی اس سازش کوبے نقاب کردیاتھا اوراس سازش کے مختلف پہلوؤں کوکھول کررکھ دیاتھا، اس وقت بہت سے لوگ اس سازش کو نہیں سمجھ سکے تھے لیکن آج جوصورتحال ہے، خصوصاً کراچی کو جس طرح وفاق کی کالونی بنالیاگیاہے ،کراچی کے عوامی مینڈیٹ کوریاستی طاقت سے کچل کر کراچی کواسلام آبادسے بیٹھ کرجس طرح چلایاجارہاہے، اس نے 23سال قبل جناب الطاف حسین کے پیش کردہ انکشافات اورخدشات کو درست ثابت کردیاہے۔
ایم کیوایم شعبہ اطلاعات گریٹرپنجاب کی سازش کے حوالے سے قائدتحریک جناب الطاف حسین کے1995ء میں لکھے جانے والے اس اہم کھلے خط اور خطاب کوعوام کے مطالعہ کے لئے دوبارہ پیش کررہاہے تاکہ نئی نسل بھی اسے پڑھ کر آج کے حالات کے تناظر میں اچھی طرح سمجھ سکے کہ ملک وقوم کے خلاف برسوں سے کیاسازش کی جارہی ہے ، کون سے عناصر یہ سازش کررہے ہیں اوراس سازش کے مقاصد کیاہیں۔
ہمیں قوی امیدہے کہ قائدتحریک جناب الطاف حسین کایہ کھلاخط عوام خصوصاً نئی نسل کے علم میں اضافہ کرے گااورانہیں دعوت فکردے گا۔ 

شعبہ اطلاعات
متحدہ قومی موومنٹ
انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن 
27، نومبر2018ء




گریٹر پنجاب کی سازش
ملک وقوم کا درد رکھنے والے اہل وطن کے نام ایم کیوایم کے قائد
الطاف حسین کا کھلا خط

لندن
26، فروری 1995ء
میری محترم ماؤں ، بہنوں، بزرگوں اور نوجوانو!
السلام علیکم
آپ خوب جانتے ہیں کہ میں وقتاً فوقتاً اپنے بیانات اور کھلے خطوط کے ذریعے آپ محب وطن پاکستانیوں کو تمام تر حالات وواقعات اور سیاسی صورتحال سے آگاہ کرتا رہاں ہوں۔ آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ میں ،ملک میں امن وامان کی صورتحال بہتر بنانے کیلئے صدرمملکت، وزیراعظم اورفوجی جرنیلوں کے نام کھلے خطوط تحریر کرکے انہیں تمام تر حقائق سے آگاہ کرتا رہا ہوں لیکن افسوس ۔۔۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک کے اعلیٰ عہدوں پرفائز اہم شخصیات کی اکثریت سب کچھ جانتے ہوئے بھی ملک کو بچانے کی کوئی کوشش نہیں کررہی ہے بلکہ یہ لوگ ملک کے معصوم ومحب وطن عوام کو اصل حقائق سے آگاہ کرنے کے بجائے ملک توڑنے کی بین الاقوامی سازش کو پایہء تکمیل تک پہنچانے میں برابر کے شریک معلوم ہوتے ہیں۔ اس سنگین صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے میں نے ملک کے ان تمام محب وطن عوام سے مخاطب ہونے اور انہیں تمام حقائق سے آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا جوحقیقتاً ملک کو قائم ودائم دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ وہ ان حقائق پر غور کرسکیں اور موجودہ افسوسناک حالات کے اصل پس منظر کو سمجھ سکیں ۔ میں نعوذباللہ کوئی پیغمبر یا ولی نہیں ہوں کہ قدرت کے پوشیدہ رازوں کو ظاہر کرسکوں لیکن ایک انسان کی حیثیت سے جسے موت کا مزا چکھنا ہے اپنے گردوپیش میں رونما ہونے والے حالات وواقعات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے خیالات اور سوچ سے ملک کے محب وطن عوام کو آگاہ کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں ۔ موجودہ حالات میں حکومت اور انتہائی اہم حساس اداروں کا طرز عمل سامنے رکھتے ہوئے میں بعض ایسے حقائق آپ کے سامنے لانا چاہتا ہوں جو انتہائی اہم ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی تکلیف دہ بھی ہیں ۔
میری ماؤں، بہنوں، بزرگوں اور نوجوانو!
آپ جانتے ہیں کہ پاکستان برصغیر کے مسلمانوں نے بڑی نیک امیدوں کے ساتھ مسلمانوں کے بہتر مستقبل کیلئے بنایا تھا ۔ اس وطن کے قیام کیلئے 20 لاکھ جانوں کا نذرانہ پیش کیاگیا جبکہ جو لوگ اس زمانے میں برطانوی حکمرانوں کے نمک خوار تھے اور تحریک آزادی کے حریت پسندوں کے خلاف سازشیں کرنے اور ان کی مخبریاں کرنے کے عوض بڑی بڑی جائیدادیں وصول کررہے تھے ۔ بدقسمتی سے ان لوگوں کایہ گروہ پاکستان کے قیام کے بعد اپنی سازشوں کے ذریعے ملک کے اقتدار وانتظام پر قابض ہوگیا ۔ اس گروہ نے ملک اور ملک کے عوام کی بہتری کیلئے کبھی کچھ نہیں کیا بلکہ یہ گروہ اپنے اور اپنے خاندانوں کے مفاد کی خاطر ان گنت قربانیوں سے حاصل ہونے والے ملک کو نقصان پہنچانے کی سازشیں کرتا رہا اورآج ملک میں اور خصوصاً سندھ اور کراچی میں جس طرح انسانی خون سے ہولی کھیلی جارہی ہے یہ اسی مفاد پرست گروہ کی سازشوں کا نتیجہ ہے ۔ یہ گروہ جن عناصر پر مشتمل ہے وہ اتنے بااثر اور طاقتور ہیں کہ بہت سے لوگ ان عناصر کی مجرمانہ ، ملک دشمن اور انسانیت دشمن سرگرمیوں اور عمل کو دیکھنے اور جاننے کے باوجود ان کے خلاف کچھ کہنے اور عوام کو حقائق 
سے آگاہ کرنے کی جرات نہیں رکھتے ۔ انہی عناصر کی سازشوں نے 1971ء میں ملک کو دولخت کیامگر یہ خود صاف بچ گئے اور ملک توڑنے کا الزام دوسروں کے کاندھوں پر ڈال دیا گیا۔ آج یہی بااثر عناصر ایک مرتبہ پھر ملک کوتوڑنے کے گھناؤنے منصوبوں پر عمل پیرا ہیں اور خود کو محب وطن اور محب وطن عناصر کو غدا ر 
قراردیکر معصوم محب وطن پاکستانیوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا مذموم اور شرمناک عمل کررہے ہیں۔
میری محب وطن ماؤں، بہنوں، بزرگوں اورنوجوانو!
آپ خوب جانتے ہیں کہ پاکستان میں سندھو دیش، عظیم تربلوچستان اور آزادپختونستان کے نعرے بلند ہوتے رہے ہیں آپ یہ بھی خوب جانتے ہیں کہ 1971ء میں ملک کا اقتدار جمہوری اصولوں کے تحت کامیاب ہونے والی اکثریتی جماعت کے حوالے کرنے کے بجائے ان ملک د شمن اور مفاد پرست عناصر نے ملک توڑنا قبول کرلیا اور بالآخر ملک توڑدیا لیکن آج تک نہ تو ملک توڑنے والوں سے کوئی باز پرس کی گئی ہے اور نہ ہی اس راز سے کبھی محب وطن پاکستانیوں کو آگاہ کیاگیا کہ ملک کیسے ٹوٹا اور تاریخ میں اتنی بڑی مسلمان فوج(93 ہزار)نے دشمنوں کے سامنے کیوں اور کس طرح ہتھیار ڈالے ، سانحہ مشرقی پاکستان کے اسباب پر مبنی حمود الرحمان کمیشن رپورٹ بھی آج تک عوام کے سامنے نہیں لائی گئی ۔۔۔آخرکیوں؟ آپ سب خوب جانتے ہیں کہ برصغیر کے مسلم اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں نے قیام پاکستان وتحریک پاکستان کی جدوجہد میں بیش بہا اور ان گنت قربانیاں دیں مگر برطانوی حکمرانوں کی اطاعت و فرمانبرداری کرنے والے غداروں نے اپنا سب کچھ لٹا کر پاکستان آنے والے مہاجروں کے خلاف خوف زہر اگلا اور تعصب کی آگ کو اس طرح بھڑکایا کہ عام معصوم شہری ان کی لگائی ہوئی اس آگ کا شکار ہونے پر مجبور ہوگئے لیکن آپ مہاجروں کی حب الوطنی دیکھئے کہ وہ متعصب حکمرانوں کی تمام ترعصبیتوں کی پرواہ کیے بغیر ہمیشہ ملک کی سلامتی کیلئے کوشاں رہے ہیں ۔ جب 1971ء میں ان متعصب حکمرانوں کی وجہ سے ملک نازک دور میں داخل ہوا تو مشرقی پاکستان میں آباد مہاجروں نے پاکستان کی سلامتی وبقاء کیلئے پاکستانی فوج کا ساتھ دیا اور اقلیت میں ہونے کے باوجود بنگالی اکثریت کا ساتھ دینے اور سابقہ مشرقی پاکستان کو علیحدہ ملک بنانے کی سازش کا حصہ بننے کے بجائے پاکستان کی سلامتی وبقاء کیلئے فوج کابڑھ چڑھ کر ساتھ دیا اور وہ اپنے گھربار اور مستقبل کی پرواہ کیے بغیر پاکستان کی بقاء وسلامتی کی جنگ میں شریک ہوگئے لیکن افسوس کہ ۔۔۔بعض فوجی جرنیلوں کے مفاد پرستانہ اور خودغرضانہ عمل اور پالیسیوں کے سبب 93 ہزار فوج کو ہتھیارڈالنے پڑے اور ملک دولخت ہوگیا۔ فوج کا ساتھ دینے والے شہری(Civilians) ریڈ کراس کے کیمپوں میں محصور ہوئے جبکہ پاکستانی فوج انڈیا کے کیمپوں میں قید ہوئی۔ فوج تو کچھ عرصے بعد وطن آگئی لیکن یہ محصور پاکستانی آج 24سال گزرنے کے باوجود بنگلہ دیش میں ریڈ کراس کے 66 کیمپوں میں انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں ، ان محصور مہاجروں کی حب الوطنی کی انتہاء دیکھئے کہ ان کے بوسیدہ کیمپوں میں آج بھی پاکستان کے پرچم لہرا رہے ہیں جبکہ 1857ء کی جنگ آزادی کے مجاہدوں کی مخبری کرنے والے غداروں کی اولادیں جو آج محب وطن بن کروزارتوں کے مزے لوٹ رہی ہیں وہ ان محصور پاکستانیوں کی وطن واپسی کے مطالبہ پر یہ بیان دے رہی ہیں کہ محصور پاکستانیوں کو وطن بلانا پاکستان کی ذمہ داری نہیں ہے ۔ یہی وہ غدار عناصر ہیں جو موجودہ پاکستان میں رہنے والے مہاجروں کو اپنے آقاؤں کے اشارے پر ٹھکانے لگاکر باقی ماندہ پاکستان کے بھی ٹکڑے کرنے کے درپے ہیں ، اگر ان سازشی عناصر اور غیرملکی آقاؤں کے نمک خواروں کی حرکتوں کے خلاف کوئی محب وطن آواز حق بلند کرے تو یہ اسے موت کی نیند سلادیتے ہیں جیسے پنجاب کے وزیراعلیٰ غلام حیدروائیں شہید نے جب کہاکہ ’’ مہاجروں کے خلاف آپریشن میں جو مظالم ڈھائے جارہے ہیں وہ سانحہ مشرقی پاکستان کو دھرانے کا سبب بن سکتے ہیں ۔ لہٰذا مہاجروں کے خلاف ظلم وستم کا سلسلہ بند ہونا چاہیے ‘‘ تو ان غداران وطن نے غلام حیدروائیں کو موت کی نیند سلادیا۔ جب ایک وفاقی وزیرچوہدری نثارعلی خان نے مہاجروں کے خلاف کئے جانے والے فوجی آپریشن کے خلاف آواز بلند کی تو سرکاری ایجنسیوں کے ذریعہ ان کاتعاقب شروع کرادیاگیا اور ایسی ایسی دھمکیاں دی گئیں کہ آج وہ نامعلوم بیماری میں مبتلا ہوکر خاموش ہونے پر مجبور ہیں۔
میری ماؤں، بہنوں، بزرگوں اور نوجوانو!
آپ جانتے ہیں کہ 19، جون1992ء کو مہاجروں اور ان کی نمائندہ جماعت ایم کیوایم کو صفحہ ء ہستی سے مٹانے کیلئے بدترین فوجی آپریشن شروع کیاگیا ۔ اقتدارمافیا نے اپنے آقاؤں کے اشاروں پر مہاجروں کوصفحہء ہستی سے مٹانے کا فیصلہ اس لئے کیا کہ وہ جانتے ہیں کہ پاکستان توڑنے کے عمل میں یہی مہاجر سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوں گے ۔ اقتدار مافیا کے عناصر یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ جو مہاجر مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی کے آگے سینہ سپر ہوئے اور فوج کا ساتھ دیا اگرایسی ہی صورت پاکستان میں پیدا (Develop) ہوئی تو یہ مہاجر موجودہ پاکستان میں بھی ملک توڑنے والوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوں گے لہٰذا مہاجروں کو صفحہء ہستی سے مٹانے کا عمل ان غداران قوم وملک کیلئے نہایت ضروری ہے ۔
میری ماؤں، بہنوں، بزرگوں اور نوجوانو!
آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایم کیوایم اورالطاف حسین متعدد بار واضح الفاظ میں یہ اعلان کرچکے ہیں کہ ’’جب تک ایک بھی مہاجر زندہ ہے ، سندھو دیش نہیں بنے گا‘‘۔اورآپ خوب جانتے ہیں کہ مہاجر صرف اعلان ہی نہیں کرتے بلکہ اپنا گھربار ، مال ومتاع سب کچھ قربان کرکے اپنے عہد کو پورا بھی کرتے ہیں لہٰذا ملک کو مزید ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی گھناؤنی سازشیں کرنے والے عناصر نے فیصلہ کیاکہ محب وطن مہاجروں اور ان کی نمائندہ جماعت ایم کیوایم کو صفحہء ہستی سے مٹایاجائے تاکہ یہ عناصر باآسانی اپنے آقاؤں کی ملک توڑنے کی خواہش کو پورا کرسکیں ۔ اپنی اس خواہش اور آرزو کے تحت انہوں نے ایم کیوایم اورمہاجرعوام کے خلاف فوجی آپریشن شروع کردیااورفوج کو مہاجروں اورایم کیوایم کو ختم کرنے کیلئے استعمال کیا اور کررہے ہیں جبکہ اگر مہاجروں کے خلاف فوج کشی کرنے کے بجائے کشمیر میں بھارتی فوجوں کے آگے سینہ سپر ہوجاتے اور محب وطن مہاجروں کے خلاف آپریشن کرنے کے بجائے انکاساتھ دیتے اور انہیں مضبوط کرتے لیکن ان عناصر کامقصد نہ تو پاکستان کی سالمیت ہے اور نہ ہی یہ پاکستان کو مضبوط ومستحکم دیکھنا چاہتے ہیں ۔ ان عناصر نے حال ہی میں محصور پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کے حوالے سے جو زہرافشانی کی ہے وہ سب کے سامنے ہے یہ عناصر نہتے لوگوں پر تو رعب جماتے ہیں لیکن انکی بزدلی کی انتہاء یہ ہے کہ انڈیا کاسامنا کرنے سے گھبراتے ہیں ۔ ان عناصر نے اپنے آقاؤں کے اشارے پر پوری قوم کو یہ تاثر دینے کیلئے ایڑی چوٹی کازور لگادیا کہ ایم کیوایم ، ایک ملک دشمن جماعت ہے جس کے خلاف فوجی آپریشن ضروری ہے ۔ ان عناصر نے ایم کیوایم کے خلاف بے پناہ پروپیگنڈہ کیا تاکہ عام معصوم محب وطن پاکستانیوں کو اپناہم نوا بناکر مہاجروں اور ایم کیوایم کو صفحہ ء ہستی سے مٹانے کے غیرآئینی ، غیرجمہوری ، غیرقانونی اور غیرانسانی عمل کو جائز قراردے سکیں لیکن حق ، حق ہوتا ہے اورباطل ، باطل ہوتا ہے ۔ آج آپ تمام محب وطن عوام خوب سمجھ رہے ہیں کہ ایم کیوایم اورمہاجروں کے خلاف جاری فوجی آپریشن کا خاتمہ ملک کی سلامتی کیلئے نہایت ضروری ہے ۔ یہ نئی فکروسوچ دیکھ کر غداران وطن بوکھلا اٹھے اورانہوں نے اپنے آقاؤں کے اشارے پر نئی حکمت عملی کے تحت مہاجرعوام کے قتل عام کا منصوبہ بنایا اور اس پر عمل شروع کیاتاکہ ملک کو جلدازجلد فارغ کردیا جائے ۔ ان غداران قوم وملک نے سرکاری وسائل کا استعمال کرکے مہاجروں اورایم کیوایم کے خلاف آپریشن شروع کیا لیکن جب تین سالہ آپریشن کے باوجود انہیں کامیابی حاصل نہ ہوئی تو انہوں نے اپنے آقاؤں کے اشارے پرفرقہ وارانہ فسادات کا گھناؤنا کھیل دوبارہ شروع کیاجو ایم کیوایم کی عوامی مقبولیت کے بعد قطعی غیرمؤثر ہوچکا تھا۔ حقیقی دہشت گرد وں پر مشتمل ٹولہ کو مہاجروں کی نمائندہ جماعت بنانے میں ناکامی کے بعد ان عناصر نے مہاجروں کو فرقہ وارانہ بنیاد پر تقسیم کرنے کا منصوبہ بنایا تاکہ مہاجر کمزور ہوجائیں اور ملک کو باآسانی مزید حصوں میں تقسیم کیاجاسکے ۔
میری محب وطن ماؤں، بہنوں، بزرگوں اور نوجوانو!
اب میں آپ کو اس سازش سے آگاہ کررہا ہوں جو پاکستان کوٹکڑے ٹکڑے کرنے کیلئے کی جارہی ہے اور جس کے تحت محب وطن مہاجروں کاقتل عام کرایاجارہا ہے ۔ اس سازش میں جو لوگ شریک ہیں وہ اس بات سے آگاہ ہیں کہ جب تک ملک میں امن وامان کی صورتحال حد درجہ خراب نہیں کی جاتی اس وقت تک ان کے مکروہ اورملک دشمن مقاصد پورے نہیں ہوسکتے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مہاجروں کو ختم یا کمزور کیے بغیر ملک کے مزید ٹکڑے کرنا آسان بات نہیں ۔ چناچہ اس سازش کو پایہ ء تکمیل تک پہنچانے کیلئے ملک کے انتہائی اہم اور حساس اداروں میں پنجاب سے تعلق رکھنے والی بعض اعلیٰ اوراہم شخصیات اور سند ھ سے تعلق رکھنے والے بااثر وڈیروں اورجاگیرداروں پر مشتمل مافیا نے آپس میں سمجھوتا کرلیا ہے ۔ جس کے تحت سندھ سے تعلق رکھنے والی مافیا نے کراچی کے بغیر’’ سندھو دیش ‘‘ بنانا منظور کرلیا ہے جبکہ کراچی کو گریٹر پنجاب کاحصہ بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے ۔ حساس اداروں میں شامل اہم شخصیات نے آزاد سندھو دیش کے قیام کی منظوری دے دی ہے لیکن اس کے عوض انہوں نے یہ شرط منظور کرائی ہے کہ کراچی کی بندرگاہ گریٹرپنجاب کو دیدی جائے ۔ میں آپ کو جس سازش سے آگاہ کررہا ہوں اس پر عملدرآمد کاآغاز ہوگیا ہے اور اسے پایہ ء تکمیل تک پہنچانے کیلئے کئی منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے ۔آزاد سندھو دیش کی ضروریات کے پیش نظر ’’کیٹی بندر‘‘ کی بندرگاہ کوخصوصی ترقی دی جارہی ہے ۔ وفاقی حکومت 28کروڑ روپے کی خطیر رقم سے نواب شاہ جیسے چھوٹے سے شہر میں عظیم الشان ریسٹ ہاؤس تعمیرکررہی ہے ۔ نواب شاہ کے ائیرپورٹ کو زبردست ترقی دی جارہی ہے ۔ آپ میں سے جو لوگ کبھی نواب شاہ گئے ہیں وہ یہ بات جانتے ہیں کہ نواب شاہ ایک چھوٹا سا شہر ہے لیکن حکومت نے سندھ کے دیگر چھوٹے بڑے شہروں کو چھوڑ کر اس کا انتخاب صرف اس وجہ سے کیا ہے کہ نواب شاہ ، سندھ کے وسط میں ، مین ریلوے لائن( Main Railway Line) اور سپرہائی وے پر واقع ہے ۔
میری ماؤں، بہنوں، بزرگوں اور نوجوانو!
آپ نے اخبارات میں پڑھا ہوگا کہ حال ہی میں مہران فورس کو مہران رینجرز کا درجہ دیدیا گیا ہے اس کے علاوہ سندھ میں حال ہی میں ایک ایلیٹ فورس (Elite Force)قائم کی گئی ہے جس کے قیام کا بظاہر مقصد امن وامان قائم رکھنے میں مدد دینا ہے لیکن اندرون سندھ سے تعلق رکھنے والے تین ہزار نوجوانوں پر مشتمل اس فورس کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جس طرح ہنگامی بنیادوں پر زبردست ٹریننگ دی ہے اور جس طرح کی وردی ان کیلئے تیار کی گئی ہے اسے دیکھ کر ہرذی شعور شخص کے ذہن میںیہ سوچ پیدا ہونا فطری بات ہے کہ یہ سب اقدامات مخصوص منصوبہ بندی کے تحت کرائے جارہے ہیں آپ نے حال ہی میں یہ خبریں اخبارات میں پڑھی ہوں گی کہ پیپلزپارٹی کے بعض رہنماؤں نے امریکہ کا دورہ کیا اور وہاں پیپلزپارٹی کی تنظیم نو کی ۔ یہ تنظیم نو بھی ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت کی گئی ہے اورتنظیم نو کے تحت اب امریکہ میں پیپلزپارٹی کے تمام عہدوں پر ان لوگوں کو لایا گیا ہے جو ہمیشہ سے سندھو دیش کیلئے کام کرتے رہے ہیں خصوصاً پی پی پی امریکہ کا سیکریٹری جنرل جس شخص کو مقررکیاگیا اس کے بارے میں امریکہ میں آباد تمام محب وطن پاکستانی اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ شخص سندھو دیش کا کٹر حامی ہے اور سندھو دیش کے قیام کی جدوجہد میں پیش پیش رہا ہے ۔ آپ لوگ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ کراچی کے حالات کوجان بوجھ کر ایک ساز ش کے تحت خراب کرایاجارہا ہے اور خصوصاً کراچی میں صنعت وتجارت کے عمل کو تباہ کرنے کیلئے سرکاری ایجنسیاں اور ان کے زرخرید دہشت گرد ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں ۔ دنیا بھر میں جہاں کہیں ایسے حالات ہوتے ہیں وہاں زمینوں کی قیمتیں گر جاتی ہیں لیکن گزشتہ ڈیڑھ سال سے کراچی میں زمینوں اورمکانات کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ بعض عناصر باقاعدہ پلاننگ کے تحت یہ زمینیں خرید رہے ہیں ۔ صرف یہی نہیں بلکہ ملک اور بیرون ملک ایسے کئی ایک منصوبوں پر کام کیاجارہا ہے جنہیں دیکھ کر یہ انداز ہ لگانا دشوار نہیں کہ یہ سب عمل آزاد سندھو دیش بنانے اور کراچی کو ملاکر گریٹرپنجاب بنانے کی منظم سازش کے تحت کیاجارہا ہے لیکن گریٹر پنجاب بنانے والوں نے یہ نہ سوچا کہ ان کی سازش کے نتیجے میں وجود میں آنے والے گریٹرپنجاب میں مشرقی پنجاب بھی شامل ہوگا اور اس صورت میں سکھ ، مسلمانوں پر دوبارہ مسلط ہوکر حکمراں بن جائیں گے اور پنجاب کے مسلمان غلام بن جائیں گے ۔ اسی طرح سندھو دیش بن جانے کے بعد سندھی مسلمان دوبارہ ہندو بنیوں کے غلام بن جائیں گے اور پاکستان جس مقصد کے تحت قائم کیاگیا تھا وہ مقصد فوت ہوجائے گا ۔ 
میری ماؤں، بہنوں، بزرگوں اور نوجوانو!
سندھ کے شہری علاقوں میں مہاجروں پر جو ظلم ڈھائے جارہے ہیں وہ اقتدار مافیا کے کرتا دھرتاؤں اور سندھو دیش کے حامیوں کے درمیان اسی ملک دشمن سمجھوتے کے نتیجے میں ڈھائے جارہے ہیں ۔ آپ خود غور کریں کہ جو مہاجر کل تک پنجاب اورپنجابیوں کے ایجنٹ قراردیے جاتے تھے ، انہی مہاجروں کو آج پنجابیوں کے دشمن کے طور پر پیش کیاجارہا ہے تاکہ ملک دشمن قوتیں ، پنجاب کے معصوم عوام کو مہاجروں کے خلاف بھڑکاکر اپنے مذموم مقاصد کیلئے باآسانی استعمال کرسکیں لیکن مجھے اب بھی امید ہے کہ پاکستان کو بچایاجاسکتا ہے مگر اس کیلئے تمام محب وطن عوام کو پی پی پی کی موجودہ حکومت کے طرزعمل کا بغورجائزہ لیکر انکی حکمت عمل کو سمجھنا ہوگا ۔
میری ماؤں، بہنوں، بزرگوں اور نوجوانو!
آپ خود غورکریں کہ ملک کے بقیہ تین صوبوں میں صوبائی دارالحکومتوں کے علاوہ کسی اور شہر میں انٹرنیشنل ائیرپورٹ نہیں ہے تو پھر صوبہ سندھ کے شہر نواب شاہ میں بین الاقوامی ائیرپورٹ بنانے کی کیا ضرورت ہے ؟کیٹی بندر کی پورٹ کو کن مقاصد کے تحت ترقی دی جارہی ہے ؟ امریکہ میں سندھو دیش کے حامیوں کو پی پی پی کا عہدیدار کس لئے مقررکیاجارہا ہے ؟ اندرون سندھ سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل مسلح فورس بنانے کی کیاضرورت ہے ؟ سندھ اسمبلی اور سندھ سیکریٹریٹ ، اندرون سندھ منتقل کرنے کی کیاضرورت ہے ؟ وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو فوجی افسران سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیوایم کا ووٹ بنک تقسیم کرنے کی بات کرنے کی کیاضرورت تھی؟
تمام سوالات کا سیدھا اور صاف جواب ہے کہ موجود ہ حکومت اندرون سندھ سے تعلق رکھنے والے بااثر جاگیرداروں اوروڈیروں پر مشتمل مافیا اور حساس اداروں میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے بعض اعلیٰ اور اہم عہدوں پر فائز شخصیات کے مابین سمجھوتا ہوچکا ہے کہ پاکستان کی تقسیم کیلئے سندھ میں موجود محب وطن مہاجروں کا خاتمہ ضروری ہے اور اپنے اسی ملک دشمن مقصد کے حصول کیلئے غداران قوم نے 19، جون 1992ء کو مہاجروں اوران کی نمائندہ جماعت ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن شروع کرایا ، ان کے خلاف بدترین منفی پروپیگنڈہ کیا ، قتل وغارتگری کی اور ریاستی طاقت کا بے پناہ استعمال کیا۔ جب ان تمام تر مظالم کے باوجود ایم کیوایم کو کچلا نہیں جاسکا اور مہاجروں کی حب الوطنی ختم نہ کی جاسکی تو ان غداران وطن نے فیصلہ کیاکہ مہاجروں کی اکثریتی آبادی والے علاقوں میں فرقہ وارانہ فسادات شروع کیے جائیں اس مقصد کے تحت ان عناصرنے حقیقی دہشت گردوں ، انتہاء پسند فرقہ پرست جماعتوں کو سرکاری سرپرستی میں منظم کیااور شہر کراچی میں فرقہ وارانہ فسادات کرانے کیلئے مساجد اور امام بارگاہوں پر مسلح حملے کرائے ، مساجد اورامام بارگاہوں میں عبادت کرنے والوں اور نمازیں پڑھنے والوں پر فائرنگ کرائی تاکہ دنیا بھرمیں یہ تاثر دیاجاسکے کہ شہرکراچی میں امن وامان کامسئلہ اتنی پیچیدگی اختیارکرگیا ہے کہ وہاں علاقوں پر بمباری کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ باقی نہیں رہ گیاہے۔ 
میری ماؤں، بہنوں، بزرگوں اور نوجوانو!
بفرزون میں دہشت گردوں کے ہاتھوں چارسگے بھائیوں کاسفاکانہ قتل ہو یا لیاقت آباد کی مسجد میں اعتکاف میں بیٹھے ہوئے افراد کا قتل ہو، پی آئی بی میں امام بارگا ہ میں نماز پڑھنے والوں پرفائرنگ ہو یا سوسائٹی میں تدفین کی تیاریوں میں مصروف افراد کا وحشیانہ قتل عام ہو اس کھلے قتل عام میں ملوث افراد اگر شناخت کرلیے جائیں لیکن قانون کے محافظ انہیں گرفتارکرنے اوران کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی راہ میں رکاوٹ بن جائیں تو کیاکبھی امن وامان قائم ہوسکتا ہے؟ اور کیا اس طرح قتل وغارتگری کا سلسلہ کبھی رک سکتا ہے ؟ آپ نے گزشتہ دنوں اخبارات میں آئی جی پنجاب کی پریس کانفرنس پڑھی ہوگی جس میں انہوں نے بتایا کہ پنجاب پولیس نے ایک انتہا ء پسند فرقہ پرست تنظیم سے تعلق رکھنے والے چار دہشت گرد گروہوں کو گرفتارکیا ہے جنہوں نے گرفتاری کے بعد صاف صاف الفاظ میں بتایا کہ انہوں نے کراچی میں 200 سے زائد قتل ، ڈکیتیوں اور لوٹ مار کی وارداتیں کی ہیں ، اسی طرح بفرزون میں چار سگے بھائیوں کے قتل کی وحشیانہ واردات میں بھی وہ حقیقی دہشت گرد ملوث ہیں جنہیں 19،جون1992ء کو سرکاری سرپرستی میں شہر میں لایاگیا تھا۔ عینی شاہدین نے ان حقیقی دہشت گرد قاتلوں کی شناخت کی اوران کے خلاف باقاعدہ ایف آئی آر درج کرائی گئی لیکن سرکاری ایجنسیوں کی ایماء پر حقیقی دہشت گرد ان چار شہید بھائیوں کے اہل خانہ پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ حقیقی دہشت گرد قاتلوں کے خلاف ایف آئی آر واپس لی جائے ۔ 
میری ماؤں، بہنوں، بزرگوں اور نوجوانو!
کراچی میں بے پناہ انسانوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے عناصر وہی ہیں جو پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے منصوبے بناچکے ہیں ، یہ ملک دشمن عناصر کرائے کے قاتلوں اور اپنے ایجنٹوں کے ذریعہ مساجد اور امام بارگاہوں پر حملے کرارہے ہیں ، سنیوں اور شیعوں کو قتل کررہے ہیں تاکہ اس طرح ایک طرف مہاجر کمزور ہوں ، ان کی تعداد کم سے کم ہونے لگے دوسری طرف مذموم سازشوں کے ذریعہ مہاجروں کے درمیان فرقہ وارانہ فسادات کی آگ بھڑکاکر انہیں باہم دست وگریباں کردیاجائے تاکہ محب وطن مہاجروں کے کمزور ہونے کی وجہ سے ملک توڑنے کی سازش کرنے والے عناصر اپنی ملک توڑنے کی سازشوں میں باآسانی کامیاب ہوسکیں۔لہٰذا میں تمام شیعہ اور سنی بھائیوں، بزرگوں اور ماؤں بہنوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ان ملک دشمن اور انسانیت دشمن عناصر کی سازشوں کو کسی قیمت پر کامیاب نہ ہونے دیں اور اپنی صفوں میں اتحاد رکھیں ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقراررکھیں ، اپنے محلوں میں امن کمیٹیاں تشکیل دیں ، ایک دوسرے کا تحفظ کریں اور ایک دوسرے کی عبادت گاہوں کا احترام کریں ، ہرلمحہ شرپسندوں پر کڑی نظر رکھیں ، کسی ناخوشگوار واقعہ پر مشتعل نہ ہوں اور فرقہ وارانہ فسادات کی سازشیں کرنے والے عناصر کی حیوانی سازشوں سے عوام کو آگاہ کریں ۔
میری محترم ماؤں، بہنوں، بزرگوں اور نوجوانو!
میں نے آپ کے سامنے تمام حقائق کھول کربیان کردیئے ہیں اوراب آپ خودسمجھ سکتے ہیں کہ کونسی قوتیں امن وامان خراب کررہی ہیں اور کونسی قوتیں ،ملک کوٹکڑے ٹکڑے کرنے کی سازش پر عمل پیرا ہیں ۔ موجودہ حکومت کے ملک دشمن اقدامات اور پالیسیاں بھی میں نے صاف صاف الفاظ میں بتادی ہیں ۔
میری محترم ماؤں، بہنوں، بزرگوں اور نوجوانو!
اس خط کے توسط سے میں آپ سے اور ملک کے تمام محب وطن دانشوروں ،مفکروں ، صحافیوں ،علمائے کرام اور سیاسی ومذہبی رہنماؤں سے دردمندانہ اپیل کرتا ہوں کہ پاکستان خطرے میں ہے ، اقتدار مافیا نے موجودہ حکومت، انتہائی مؤثر اور حساس اداروں میں پنجاب سے تعلق رکھنے والی بعض انتہائی بااثر شخصیات اور سندھ سے تعلق رکھنے والے بااثر وڈیروں ،جاگیرداروں کے ساتھ مل کر باقی ماندہ پاکستان کو بھی ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ ملک کو ایک مرتبہ پھر 1971ء جیسے حالات کاسامنا ہے ۔ آپ جانتے ہیں کہ 1971ء میں بعض کرپٹ فوجی جرنیلوں نے پی پی پی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ مل کر پاکستان کو توڑنے کا عمل کیا تھا اور آج وہی عمل ایک مرتبہ پھر دہرایا جارہا ہے ۔ یہ وطن جسے 20 لاکھ جانوں کی قربانی دیکر حاصل کیاگیا اسے چند مفاد پرست عناصر اپنے آقاؤں کے اشارے پر اپنے ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھانے پر تلے ہوئے ہیں۔ چند لوگوں نے پاکستان کی قسمت سے کھیلنے کافیصلہ کرلیا ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ پاکستان کے محب وطن عوام چاہیں تو پاکستان کو بچا سکتے ہیں۔ آپ الطاف حسین سے لاکھ اختلافات رکھیں ، آپ ایم کیوایم کو لاکھ غلط تنظیم کہیں مگر خدارا ،پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی اس گھناؤنی سازش کو ناکام بنانے کیلئے اپنا فرض ادا کریں۔ یاد رکھیں آپ کی یہ تمام خوشیاں ، آرام پاکستان کی بدولت ہے ۔ اس لئے پاکستان کو چند حساس اداروں کی پنجاب سے تعلق رکھے والی بعض اہم شخصیات ، موجودہ حکومت اور سندھ سے تعلق رکھنے والے چند جاگیرداروں وڈیروں کی ملک دشمن سازش سے محفوظ رکھنا آپ سب کی ذمہ داری ہے ۔ اس لئے خدارا آگے بڑھیں۔ سچ کوسچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہیں ۔ ظالم کو مظلوم اور مظلوم کو ظالم کہنے کا افسوسناک عمل ترک کریں ۔ حقائق کو سمجھیں اور ملک کو بچانے کیلئے اپنا فرض ادا کریں۔ یاد رکھیں اگر آپ کی غفلت سے ملک کوکوئی نقصان پہنچا تو اس کے ذمہ دار الطاف حسین اور ایم کیوایم نہیں بلکہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے تمام تر حقائق کو جاننے اور بوجھنے کے باوجود اپنا قومی فرض ادا نہیں کیا۔ 
میری کوئی بات آپ کو تلخ یا ناگوار گزری ہو تو میں معافی چاہتا ہوں لیکن یقین مانیں میں نے جوکچھ لکھا ہے اپنے ضمیر کے مطابق سچ سچ لکھا ہے ۔ اورآپ سے میری التماس ہے کہ میرا یہ خط زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں۔

براہ کرم اپنی دعاؤں میں اپنے بیٹے اور بھائی الطاف حسین کو ہمیشہ یاد رکھیں۔

والسلام 
آپ کا بیٹا ؍ بھائی

الطاف حسین




الطاف حسین اور اس کے ساتھی جان تو قربان کرسکتے ہیں لیکن کراچی کو گریٹر پنجاب 
کی سیٹلائٹ ریاست نہیں بننے دیں گے ، الطاف حسین
اقتدار مافیااپنی ملک دشمن سازشوں کے انکشاف سے بوکھلاگئی ہے
میرے انکشافات سیاسی حکمت عملی کا حصہ نہیں بلکہ حقائق پر مبنی ہیں
ضرورت پڑی توپاکستان آنے سے دریغ نہیں کروں گا
عوام وکارکنان ہرقسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے ذہنی وجسمانی طورپر تیار ہوں
نائن زیرو پر عہدیداروں کے اجلاس سے رات گئے خطاب

کراچی ۔۔۔یکم، مارچ1995ء
ایم کیوایم کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ خدمت خلق کمیٹی کے سالانہ امدادی پروگرام سے میرے ٹیلی فونک خطاب کے موقع پر نائن زیرو کی ٹیلی فون لائنیں جام کئے جانے سے ثابت ہوگیا ہے کہ اقتدار مافیا اپنی سندھو دیش اور گریٹر پنجاب بنانے کی سازشوں کے انکشاف سے بوکھلاگئی ہے اور اقتدار مافیا اسی بوکھلاہٹ میں مجھے عوام وکارکنان سے دور رکھنے کی سازشیں کررہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ میں اقتدار مافیا پر واضح کردینا چاہتا ہوں کہ الطاف حسین اور اس کا ایک ایک ساتھی اپنی جان توقربان کرسکتا ہے لیکن کراچی کو گریٹر پنجاب کی سیٹلائٹ ریاست نہیں بننے دے گا۔ جناب الطاف حسین نے ان خیالات کااظہار گزشتہ روز خدمت خلق کمیٹی کے سالانہ امدادی پروگرام کے اختتام پر رات گئے ٹیلی فون لائنیں بحال ہونے کے بعد ایم کیوایم رابطہ کمیٹی ، حق پرست ارکان اسمبلی اور خدمت خلق کمیٹی کے عہدیداروں سمیت مختلف شعبوں کے ذمہ داروں کے ایک بڑے اجلاس سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ قوم جس نازک دور سے گزر رہی ہے اس کی نشاندہی میں عرصہء دراز سے کرتا آرہا ہوں ۔ میں نے چند روز قبل اہل وطن کے نام اپنے کھلے خط میں جوانکشافات کیے وہ کسی سیاسی حکمت عملی کا حصہ نہیں بلکہ حقائق پرمبنی ہیں اور میں پورے وثوق سے یہ بات کہہ رہا ہوں کہ سندھ میں جاگیرداروں وڈیروں پر مشتمل مافیا ، موجودہ حکومت اور چند اہم وحساس اداروں میں پنجاب سے تعلق رکھنے والی بعض اعلیٰ شخصیات کے درمیان سندھو دیش کے قیام اور کراچی کو گریٹر پنجاب کی سیٹلائٹ ریاست (Satellite State) بنانے کا سمجھوتہ ہوچکا ہے ۔ سندھو دیش کے حامیوں نے سندھو دیش کے قیام کے عوض کراچی کو گریٹر پنجاب کاحصہ بنانے پر رضامندی ظاہرکردی ہے جبکہ گریٹرپنجاب بنانے کی سازشیں کرنے والوں نے کراچی کو گریٹرپنجاب کی سیٹلائٹ اسٹیٹ بنانے کے عوض آزاد سندھو دیش کے قیام کی منظوری دیدی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کراچی ، حیدرآبادیا دنیا کاکوئی بھی شہر جہاں آگ اور خون کا بھیانک کھیل جاری ہو اورانسانی لہو اتنا سستا ہوجائے کہ گلی گلی اسے بہایا جائے اور اس کی کوئی قدرومنزلت نہ ہو ، سرکاری سرپرستی میںآگ اورخون کا بازار گرم ہو اور اس شہر کی سڑکیں ، کاروبار، بازار بند رہیں جہاں روزانہ 15 یا 20 افراد ہلاک کیے جائیں ، ایسے شہر میں جہاں امن وامان کی صورتحال اس قدر خراب ہو وہاں پر کبھی بھی زمین کی قیمتیں بڑھتی نہیں بلکہ کم ہوتی ہیں لیکن آپ دیکھیں کہ کراچی شہر میں جوپراپرٹی پہلے 30 لاکھ کی تھی وہ اب پچاس لاکھ کی ہوگئی ہے ۔ایسا کیوں ہوا؟ آپ اپنے اپنے ذرائع سے معلوم کریں کہ اس پراپرٹی کو خریدنے والے عناصر کون ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سندھو دیش کے حامیوں نے یہ سوچا کہ ٹھیک ہے ہمیں حیدرآباد سے کشمور تک کا علاقہ مل رہا ہے لہٰذا کراچی پنجاب کو دے دیتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ تین سالوں سے مہاجربستیوں میں جاری ریاستی دہشت گردی ، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، سرکاری ایجنٹوں اوران کی سرپرستی میں حقیقی دہشت گردوں کی قتل وغارتگری ، مہاجربستیوں کا محاصرہ ، گھرگھر تلاشی ، لوٹ مار، ماؤں ، بہنوں کی بے حرمتی ، شہریوں کوگاڑیوں سے اتارکرتلاشی لینے اور بے عزتی کا عمل ، مہاجربستیوں کی تلاشی کے دوران مہاجر نوجوانوں، بزرگوں سے جنگی قیدیوں جیسا سلوک، یہ تمام واقعات اسی سازش کا حصہ ہیں۔ اس وقت کراچی میں ملٹری انٹیلی جنس، آئی ایس آئی ، فیلڈ سیکوریٹی ونگ، آئی بی، سی آئی اے ، ایف آئی اے اور اسپیشل برانچ سمیت متعدد سرکاری ایجنسیوں کے 7 ہزار کے لگ بھگ اہلکار تعینات ہیں جن پر سالانہ تقریباً8 سوملین روپے خرچ کیے جارہے ہیں ۔ ان ایجنسیوں کا کام دہشت گردوں، تخریب کاروں اور غیرملکی ایجنٹوں پر نظر رکھنا، ان کے بارے میں تحقیقات کرنا اور نشاندہی کرکے انہیں گرفتارکرانا ہے لیکن اس کے باوجود دہشت گرد عبادتگاہوں پر مسلح حملہ کرکے اعتکاف میں بیٹھے ہوئے افراد اورنمازیوں کو قتل کررہے ہیں ، حقیقی دہشت گرد ، ایم کیوایم کے کارکنوں کو بیدردی سے قتل کررہے ہیں مگر آج تک کوئی دہشت گرد نہیں پکڑا گیا بلکہ انتہا یہ ہے کہ عوام کی نشاندہی پر جو قاتل حقیقی دہشت گرد پکڑے گئے ہیں ان کے خلاف بھی ایف آئی آر واپس لینے کیلئے دباؤ ڈالاجارہا ہے ۔ یہ حقائق اس بات کا ثبوت ہیں کہ مہاجروں کا بڑے پیمانے پر قتل عام کراکر زمین خالی کرانے کا منصوبہ تیارکرلیا گیا ہے تاکہ مہاجروں کو صفحہ ء ہستی سے مٹاکر آزاد سندھو دیش اورگریٹر پنجاب کے منصوبوں پر باآسانی عمل درآمد کیاجاسکے ۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ وقت مہاجروں کیلئے بہت نازک ہے ۔ مہاجرقوم اپنے سقراط ،بقراط دانشوروں کی سوچ ،فکر اورقابلیت کے باعث تباہی کے دھانے پر کھڑی ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ان دانشوروں کے طرز عمل کو دیکھتے ہوئے ہمیں آج بھی ان سے کسی خیر کی توقع نظر نہیں آتی ۔ ان لوگوں نے ماضی میں بھی مہاجروں کے حقوق اور بہتر مستقبل کیلئے کچھ نہیں کیا بلکہ یہ لوگ اپنے مفادات کی خاطر ہردور میں مہاجر دشمن قوتوں اور حکمرانوں کے آلہ کار بنے رہے ۔ انہوں نے کہاکہ میں ان حالات میں بزرگوں اور ماؤں بہنوں سے اپیل کرتاہوں کہ وہ آگے آئیں اورتمام ترنامساعد حالات کے باوجود زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ان سازشوں سے آگاہ کریں ۔ انہوں نے کہاکہ خاص طورپر اہل ثروت حضرات کو موجودہ سنگین حالات سے آگاہ کیے جانے کی ضرورت ہے ۔ ہمیں اہل ثروت حضرات کو بتانا ہوگا کہ اگر وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ عام مہاجروں کے قتل عام کے بعد ان کے کاروبار ، دولت اور خاندان محفوظ رہیں گے تو یہ ان کی خام خیالی ہے ۔ اگرخدانخواستہ ہماری جدوجہد ناکام ہوگئی اور مہاجرعوام کمزور ہوگئے تو مہاجر دشمن قوتیں ان کے ہاتھوں میں کاسہ ء گدائی دیکر انکی ہرچیزپر قبضہ کرلیں گی ۔ہوسکتا ہے کہ بہت سے لوگ میری ان باتوں پر توجہ نہ دیں لیکن میرے ساتھی شاہد ہیں کہ میں نے انہیں کبھی اندھیرے میں نہیں رکھا اور قوم کے خلاف کی جانے والی ہرسازش سے پیشگی خبردار رکھا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایک منظم سازش کے تحت سندھ کے ڈاکوؤں لٹیروں کو بھی مہاجروں کے قتل عام کا کھلا لائسنس دے دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی وزراء اور حکومتی سینیٹرز شور مچا رہے ہیں کہ ایم کیوایم کے نمائندے جنیوا میں پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کررہے ہیں جبکہ ایم کیوایم جنیوا سمیت دنیا کے کسی بھی حصہ میں ملک کے خلاف کوئی سازش نہین کررہی ہے ایک طرف تو حکومت ، ایم کیوایم کے خلاف پروپیگنڈہ کررہی ہے دوسری جانب اس نے جئے سندھ کے گل محمد جاکھرانی کو جنیوا جانے کی اجازت دیدی ہے جو جنیوا میں ایک جعلی فلم کی نمائش کررہے ہیں کہ 1993ء میں ایم کیوایم نے سندھیوں کے مکانات کولوٹا ،جلایا اور انہیں قتل وزخمی کیاجبکہ عوام جانتے ہیں کہ سندھ میں فوجی آپریشن کے باعث 1993ء میں ایم کیوایم اورمہاجرعوام بدترین مظالم کا شکار تھے ، ہزاروں کارکن روپوشی کی زندگی گزار رہے تھے اور تاحال گزار رہے ہیں لہٰذا ان حالات میں ایم کیوایم پراس قسم کا الزام سوائے جھوٹ اورمنافقت کے اور کیا ہوسکتا ہے؟ انہوں نے کہاکہ گل محمد جاکھرانی کے ماضی سے ہرشخص واقف ہے لہٰذا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انہیں کن بااثر قوتوں نے پاکستان سے جنیوا جانے کی اجازت دی اور کس کی ایماء پروہ مہاجروں اور ایم کیوایم کے خلاف یہ پروپیگنڈہ کررہے ہیں۔ اسی طرح ورلڈ سندھی کانگریس کے ڈاکٹر ہالیپوتہ بھی 20 سال سے جنیوا میں کھل کر پاکستان کے خلاف اور سندھو دیش کے قیام کی بات کررہے ہیں لیکن پیپلزپارٹی کی حکومت کا کوئی وزیر یا عہدیدار ان ملک دشمن حرکات پر آواز بلند نہیں کرتا جواس بات کا ثبوت ہے کہ یہ تمام ملک دشمن حرکتیں حکومت اور اقتدار مافیا کی ایماء پر کی جارہی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ وقت کا تقاضا ہے کہ سب سرجوڑ کر بیٹھیں ، ہماری قوم جاں کنی کے عالم میں ہے اور ہمیں پوری ہوشمندی ، فہم وفراست کو استعمال کرتے ہوئے اپنی قوم کی بقاء کی جدوجہد کرنی ہے ۔ میں نے اس سازش کا انکشاف بہت غوروخوض اور سوچ سمجھ کرکیاہے آج کچھ حلقے اس بھیانک سازش کویہ کہہ کر رد کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ مہاجروں کی اتنی بڑی آبادی کو ختم کرکے کراچی کو گریٹرپنجاب کا حصہ بناکر اس کی سیٹلائٹ اسٹیٹ بنادیا جائے گا تو وہ دیکھیں کہ اقتدارمافیا اور اس بھیانک سازش کے خالقوں نے کس طرح دوکروڑ مہاجروں کی تنظیم کے منتخب سینیٹرز، ارکان اسمبلی اورقیادت کو جھوٹے مقدمات میں ملوث کرکے جیلوں میں قید کررکھا ہے اور ان کی نمائندہ تنظیم کی سیاسی سرگرمیوں پر ان دیکھی پابندی عائد کررکھی ہے اور دو کروڑمہاجرعوام کے خلاف بدترین فوجی آپریشن کے مظالم کے ساتھ ساتھ ان کے تعلیمی ، سیاسی ، معاشی اوراقتصادی حقوق کوپامال کرکے اب ان کاجینا بھی محال کردیا گیا ہے ۔ آخرکسی نے اس ظلم وبربریت کے خلاف کیاکرلیا؟ انہوں نے کہاکہ طاقت کے ذریعے لاشوں کے انبار بچھانے کے منصوبے بنائے جارہے ہیں تاکہ زمین خالی کرائی جائے اور اسے سیٹلائٹ اسٹیٹ بناکر اس کو کنٹرول کیاجائے ۔ دنیا میں بہت سے ایسے خطے موجود ہیں جہاں زمینی فاصلوں کے باوجود انہیں دور بیٹھ کر کنٹرول کیاجاتارہا ہے ۔ اس کی مثال برطانیہ کا ہانگ کانگ پر کنٹرول ہے ، سیٹلائٹ اسٹیٹ کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوگا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ قوم کے چھوٹے بڑے ہرفرد ، امیر، غریب ، دانشور، طالبعلم، محنت کش، مزدور ، دکاندار ، ماؤں ، بہنوں ، بزرگوں اورنوجوانوں سب کا یہ فرض ہے کہ سوچیں کہ اب ہمیں عزم اور حوصلے کے ساتھ اپنی قوم کی بقاء کی جدوجہد کرنی ہے ۔ آپ قطعی مایوس نہ ہوں میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ الطاف حسین اور اس کے وفادار ساتھی مرجائیں گے لیکن کراچی کو گریٹر پنجاب کاحصہ نہیں بننے دیں گے ۔ غلامی کی زندگی ہمیں کسی صورت قبول نہیں ہے ۔ اگر یہ ارباب اختیار باز نہ آئے اورطاقت کے بل پر سازشوں کے ذریعے وہ اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ دوکروڑ مہاجروں کو غلام بنالیں گے تو یہ ان کی بھول ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اگر استحصالی قوتوں نے اپنی سازشوں کو پایہ ء تکمیل تک پہنچانے کیلئے خدانخواستہ بڑے پیمانے پر مہاجروں کا قتل عام شروع کردیا تو میں اعلان کرتا ہوں کہ اس وقت الطاف حسین ہرقسم کے نتائج کی پرواہ کیے بغیر کسی نہ کسی طرح اپنے ساتھیوں اور اپنے عوام کے پاس پہنچ جائے گا اورپھرظالم اور سفاک مہاجردشمن قوتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات ہوگی ۔ اس لمحے میرے ساتھیوں کو اجازت ہوگی کہ جو میرے ساتھ کھڑا ہونا چاہے وہ کھڑا ہو اور جو جانا چاہے وہ چلاجائے ۔ میں واضح کرتا ہوں کہ میں اورمیرے سچے ساتھی جان دینے کا عزم رکھتے ہیں اورجب تک ہم زندہ ہیں اپنی قوم کو غلام نہیں بننے دیں گے ۔ میرے ساتھی مجھ سے آج کہیں تو میں آج ہی بلاجھجھک پاکستان جانے کیلئے تیارہوں۔ انہوں نے کہاکہ میں نے اپنے وفادار ساتھیوں کو بتادیا ہے کہ اگرمجھے قتل کردیا جائے تو پھرانہیں کیاکیاراستے اختیار کرنے ہیں اور کس طرح تحریک جاری رکھنی ہے ۔ انہوں نے عوام وکارکنان سے اپیل کی کہ سازشوں، پابندیوں اور مظالم سے مایوس اوردلبرداشتہ نہ ہوں اوراپنے کرداروعمل سے اپنی ثابت قدمی اور اولوالعزمی اور نظریاتی پختگی کا ثبوت دیں۔
*****

12/18/2018 9:11:57 PM