Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ہم کسی سے کچھ نہیں چاہتے، ہم صرف انصاف چاہتے ہیں۔الطاف حسین


ہم کسی سے کچھ نہیں چاہتے، ہم صرف انصاف چاہتے ہیں۔الطاف حسین
 Posted on: 11/17/2018
ہم کسی سے کچھ نہیں چاہتے، ہم صرف انصاف چاہتے ہیں۔الطاف حسین
ہم پاکستان میں مہاجروں کے لئے مساوی حقوق اوریکساں سلوک چاہتے ہیں۔الطاف حسین
ہمیں غلامی اوردوسرے ،تیسرے درجے کے شہری کی زندگی کسی بھی قیمت پر قبول نہیں ہے۔الطاف حسین
مہاجروں کو دیوارسے لگایاجارہاہے اورہمیں دہشت گرد کہہ کرریاستی طاقت سے کچلاجارہاہے۔الطاف حسین
تحریک لبیک کے رہنماؤں نے چیف جسٹس اور ججوں کوواجب القتل کہا، لوگوں کوانکے قتل پر اکسایا، آرمی چیف اوردیگرجرنیلوں 
کے خلاف فوج کوبغاوت کے لئے کہالیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی 
پاکستان مکمل طورپرایسے مذہبی انتہاپسندعناصر کے کنٹرول میں جاچکاہے جوعیسائیوں،ہندوؤں، احمدیوں، شیعوں اورسنی مہاجروں
کاملک سے صفایاچاہتے ہیں۔الطاف حسین
وفا کی تجدید کرنابہت آسان ہوتاہے لیکن وفاکوپوراکرنااورعہدکونبھانابہت مشکل اور کٹھن ہوتاہے۔الطاف حسین
میں نے قوم کو متحد کرکے انہیں ایک طاقت بنادیاتھالیکن تحریک کے غداروں نے دشمنوں کے ساتھ ملکرتحریک اورقوم کی طاقت کوتباہ کردیا
آزادی کوئی طشتری میں رکھ کرنہیں دیتا، آزادی کے لئے حریت پسند بنناپڑتاہے اورقربانیاں دینی پڑتی ہیں۔الطاف حسین
اگر مہاجر آج اپنی بقاء اورعزت کی زندگی کے حصول کی خاطر جہادکیلئے تیارنہ ہوئے تو مکمل طورپرغلامی میں چلے جائیں گے
میں اپنانظریہ نہیں چھوڑسکتا اورآخری سانس تک اپنی مہاجروں کے حقوق کے لئے جہدوجہدجاری رکھوں گا۔الطاف حسین
جوہانسبرگ میں ایم کیوایم ساؤتھ افریقہ کے زیراہتمام منعقدہ تجدیدعہدوفاکے اجتماع سے خطاب

متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ ہم کسی سے کچھ نہیں چاہتے، ہم صرف انصاف چاہتے ہیں،ہم پاکستان میں مہاجروں کے لئے مساوی حقوق اوریکساں سلوک چاہتے ہیں، ہمیں غلامی اوردوسرے ،تیسرے درجے کے شہری کی زندگی کسی بھی قیمت پر قبول نہیں ہے۔ انہوں نے ان خیالات کااظہار جمعہ کوجوہانسبرگ میں ایم کیوایم ساؤتھ افریقہ کے زیراہتمام ان کی سالگرہ کے سلسلے میں منعقدہ تجدیدعہدوفاکے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اجتماع میں جوہانسبرگ کے ساتھ ساتھ دیگرشہروں سے تعلق رکھنے والے ایم کیوایم کے کارکنوں،ہمدردوں، نوجوانوں، خواتین ، بزرگوں اوربچوں کے ساتھ ساتھ ساؤتھ افریقہ کمیونسٹ فیڈریشن کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی ۔ جناب الطا ف حسین نے پاکستان کی موجودہ صورتحال ، مہاجروں کے ساتھ زندگی کے مختلف شعبوں میں کی جانے والی ناانصافیوں اورمظالم کے بارے میں اردو اورانگریزی میں تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ تک اجتماع سے خطاب کیا۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ ہمارے بزرگوں نے برصغیرکی آزادی کے لئے انگریزوں کے خلاف جدوجہد کی اورقیام پاکستان کے لئے لاکھوں جانوں کی قربانی دی لیکن آزادی کے بعد پاکستان پر ان عناصر نے قبضہ کرلیاجنہوں نے انگریزوں کاساتھ دیاتھا، آج بھی انگریزوں کے وفاداروں کی نسلیں پاکستان پرحکمرانی کررہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی اصل قوت فوج ہے اورقیام پاکستان کے بعد سے دراصل فوج ہی حکمرانی کررہی ہے، اسی نے قائداعظم کوزہردیا اوران کے دست راست اورملک کے پہلے وزیراعظم خان لیاقت علی خان اورقائداعظم کی بہن محترمہ فاطمہ جناح کوقتل کیا۔ فوج کی حکومت نے ہی مہاجروں کے ساتھ ناانصافیاں شروع کیں، مہاجروں کے قائم کردہ بینک، مالیاتی ادارے کراچی سے اسلام آباد منتقل کردیے، مہاجروں کوملازمتوں سے محروم کردیاگیا، کوٹہ سسٹم جیسے اقدامات کے ذریعے مہاجروں پر سرکاری ملازمتوں کے دروازے بندکردیے گئے ۔ آج فوج،رینجرز،پولیس اور بیوروکریسی میں مہاجر نہ ہونے کے برابرہیں۔ مہاجراکثریتی شہر کراچی قومی خزانے میں ملک کی مجموعی آمدنی کا70فیصددیتاہے لیکن اسے جواب میں کچھ نہیں ملتا۔مہاجروں نے پاکستان کے لئے اپنے آباؤاجداد کی جاگیریں، جائیدادیں، بزرگوں کی یادگاریں، مزارات سب کچھ قربان کردیا لیکن انہیں پاکستان میں فوج، ارباب اختیار اوریہاں کے مقامی لوگوں نے مہاجروں کوتسلیم نہیں کیااورانہیں آج تک تضحیک آمیزناموں سے پکاراجاتاہے اوران سے کہاجاتاہے کہ انڈیا واپس جاؤ۔جناب الطا ف حسین نے کہاکہ ہمارے بزرگوں نے پاکستان کے لئے 20لاکھ جانوں کانذرانہ پیش کیالیکن ان کی اولادوں کوکچھ نہیں ملا، 40سالہ جدوجہدکے بعدمیں اس نتیجے پرپہنچاہوں کہ برصغیرکی تقسیم انسانی تاریخ کی سب سے بڑی غلطی تھی، انڈیامیں پاکستان سے زیادہ مسلمان رہتے ہیں لیکن ان کے ساتھ وہ سلوک نہیں ہوتاجوپاکستان میں مہاجروں کے ساتھ کیاجارہاہے،میں نے مہاجروں کے حقوق کے حصول کیلئے ایم کیوایم قائم کی تومجھے خریدنے کی کوشش کی گئی، میں نے انکارکیاتوایم کیوایم کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی کوشش کی گئی،مجھے تین مرتبہ گرفتارکیاگیا، سرکاری حراست میں مجھ پر بے پناہ تشدد کیاگیا، مجھے قتل کرنے کی کوششیں کی گئیں،جب مجھ پر دستی بموں سے حملے کئے گئے توساتھیوں کے اصرارپر میں لندن آگیا لیکن یہاں رہ کربھی میں آرام سے نہیں بیٹھا اورمسلسل رات دن جدوجہدمیں مصروف ہوں۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ مہاجروں نے آج تک کسی کی بستی پر حملہ نہیں کیا، ہمیشہ ان کی آبادیوں پر حملے کئے گئے ، ان کاقتل عام کیاگیا،1972ء سے کوٹہ سسٹم آج تک نافذہے،کراچی میں آج بھی پولیس رینجرزپنجاب سے لائی جاتی ہے، ہمیں آج بھی پاکستانی تسلیم نہیں کیاجاتا،ہمارے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں جیساسلوک کیاجاتاہے، ایم کیوایم کو ریاستی طاقت کے ذریعے کچلا جارہا ہے ،مہاجروں کاجسمانی،سیاسی ،معاشی، اقتصادی اورتعلیمی لحاظ سے قتل کرکے انہیں صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوشش کی جارہی ہے اورمہاجروں کو دیوارسے لگایاجارہاہے اورہمیں دہشت گرد کہہ کرریاستی طاقت سے کچلاجارہاہے۔انہوں نے کہاکہ ہم کسی سے کچھ نہیں چاہتے، ہم صرف انصاف چاہتے ہیں،ہم پاکستان میں مہاجروں کے لئے مساوی حقوق اوریکساں سلوک چاہتے ہیں، ہمیں غلامی اوردوسرے ،تیسرے درجے کے شہری کی زندگی کسی بھی قیمت پر قبول نہیں ہے۔جناب الطا ف حسین نے کہاکہ نسل پرستی کی بنیادپر کئے جانے والے امتیازی سلوک کے خاتمے اور مساوی حقوق کی جدوجہد میں ساؤ تھ افریقہ کے عوام نے بڑی قربانیاں دی ہیں جس پر میں انہیں سلام پیش کرتاہوں۔انہوں نے اجتماع میں موجودساؤتھ افریقہ کمیونسٹ فیڈریشن کے رہنماؤں کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آج پاکستان میں مہاجروں کوویسے ہی حالات کاسامناہے جیساپہلے ساؤتھ افریقہ کے سیاہ فام عوام کوسامناتھا،ان کے ساتھ بھی نسل پرستانہ سلوک کیاجارہاہے۔انہوں نے آپ ان مظالم اورناانصافیوں سے نجات کیلئے بے یارومددگار مہاجروں کی مددکیجئے۔ 
جناب الطا ف حسین نے کہاکہ جب میں قوم کوطالبان اور داعش کے خطرے سے آگاہ کرتاتھاتومخالفین کے ساتھ ساتھ مہاجردانشوربھی کہتے تھے کہ الطاف حسین لوگوں کوڈرارہاہے،آج پاکستان مکمل طورپرایسے مذہبی انتہاپسندعناصر کے کنٹرول میں جاچکاہے جوعیسائیوں،ہندوؤں، احمدیوں، شیعوں اورسنی مہاجروں کاملک سے صفایاچاہتے ہیں۔ طالبان ، القاعدہ اورداعش کے خلاف کارروائی کے نام پر قبائلی علاقوں کے عوام کوآئی ڈی پیزبنادیاگیاجبکہ طالبان رہنمااحسان اللہ احسان آج بھی ان کے سیف ہاؤس میں مہمان بناہواہے۔مذہبی تنظیم تحریک لبیک نے دھرنے دیے ، اس کے رہنماؤں نے چیف جسٹس اور ججوں کوواجب القتل کہا، لوگوں کوانکے قتل پر اکسایا، آرمی چیف اوردیگرجرنیلوں کے خلاف فوج کوبغاوت کے لئے کہالیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔ اس پر ایم کیوایم کے خلاف زہراگلنے والے اینکرزاورتجزیہ نگار وں میں سے کوئی نہیں بولا اسلئے کہ وہ سب اسٹیبلشمنٹ کے پے رول پر ہیں۔ انہوں نے کہاکہ عاصمہ جہانگیر آوازاٹھاتی تھیں انہیں سازش کے ذریعے قتل کرادیاگیا۔اسٹیبلشمنٹ کے خلاف اٹھنے والی ہرآواز کوخاموش کیاجارہاہے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ قبائلی علاقوں میں پشتونوں پر ظلم ہورہاہے لیکن اس پر آواز اٹھانے کے بجائے اے این پی فوج کوخوش کرنے میں مصروف ہے ، اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں پر تنقیدکرنے پر افراسیاب خٹک اوربشریٰ گوہرکی اے این پی کی رکنیت معطل کردی گئی ہے جس پر آج باچہ خان کی روح بھی تڑپ رہی ہوگی۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ ملک میں انصاف وقانون نام کی کوئی چیزنہیں ہے، آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے نقیب اللہ محسود کے والد کے ہاتھ پرہاتھ رکھ کریہ وعدہ کیاتھاکہ نقیب محسود کے قاتلوں کوسزادلائی جائے گی لیکن اس کے قاتل آزادہیں۔ اسی طرح سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ایم کیوایم کے کارکن آفتاب احمدشہید کے رینجرزکی حراست میں ماورائے عدالت قتل کی تحقیقات کااعلان کیاتھالیکن ان کے اہل خانہ کوبھی آج تک انصاف نہیں مل سکا۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ صرف پاکستان مردہ باد کہنے پر میراگھرسیل کردیاگیا، دفاترمسمارکردیے گئے ، ہم پر فوج کشی کردی گئی لیکن جن جرنیلوں نے پاکستان توڑدیاان کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی ۔جناب الطا ف حسین نے کہاکہ میں قسم کھاکرکہتاہوں کہ پاکستان میں ڈیموکریسی نہیں بلکہ اسٹریٹوکریسی ہے کیونکہ ڈیموکریسی کامطلب یہ ہوتاہے کہ حکمرانی عوام کی ،عوام میں سے اورعوام کے لئے، لیکن پاکستان میں ڈیموکریسی کی شکل یہ ہے کہ حکمرانی فوج کی ، فوج میں سے اورفوج کے لئے ۔ انہوں نے کہاکہ دنیا کے ہرملک کی فوج ہوتی ہے لیکن پاکستان دنیاکاواحد ملک ہے جہاں فوج کاملک ہے جس کے کرپٹ جرنیل ملک کولوٹ رہے ہیں۔ انہوں نے ایک بارپھر کہاکہ فوج کے ایماندارافسروں کوچاہیے کہ وہ ملک کوان کرپٹ جرنیلوں سے نجات دلائیں۔ 
جناب الطا ف حسین نے کارکنوں کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ وفا کی تجدید کرنابہت آسان ہوتاہے لیکن وفاکوپوراکرنااورعہدکونبھانابہت مشکل اور کٹھن ہوتاہے، بسااوقات عہد وفا کو نبھاتے ہوئے جان سے بھی ہاتھ دھوناپڑتاہے،جیسے شہیدوفاڈاکٹرحسن ظفر عارف نے وفاکے عہدپر قائم رہتے ہوئے اپنی جان دیدی ۔ انہوں نے کہاکہ 1978ء سے 2018ء تک تحریک کی جدوجہد میں 22 ہزار مہاجرنوجوانوں نے اپنی جانوں کانذرانہ پیش کیا۔ ان گمنام کارکنوں کی قربانیوں سے جو لوگ سامنے آئے انہیں آگے بڑھانے اور قومی وصوبائی اسمبلیوں، سینیٹ کے ایوانوں اوروزارتوں کے منصب پر پہنچانے میں گمنام ساتھیوں کابہت بڑاکردارہے لیکن منصبوں پر پہنچنے والے اپنے شہیدوں کوبھول گئے جبکہ گمنام کارکن تمام ترریاستی جبرکے باوجود آج بھی وفانبھارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ میں نے قوم کو متحد کرکے انہیں ایک طاقت بنادیاتھالیکن تحریک کے غداروں نے دشمنوں کے ساتھ ملکرتحریک اورقوم کی طاقت کوتباہ کردیا۔ جناب الطا ف حسین نے کارکنوں سے کہاکہ آزادی کوئی طشتری میں رکھ کرنہیں دیتا، آزادی کے لئے حریت پسند بنناپڑتاہے اورقربانیاں دینی پڑتی ہیں، اگر مہاجر آج اپنی بقاء اورعزت کی زندگی کے حصول کی خاطر جہادکے لئے تیارنہ ہوئے تووہ مکمل طورپرغلامی میں چلے جائیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ جہاں تک میراتعلق ہے ،میں اپنانظریہ نہیں چھوڑسکتا اورآخری سانس تک اپنی مہاجروں کے حقوق کے لئے جہدوجہدجاری رکھوں گا۔انہوں نے تجدید وفا کے شاندار اجتماع کے انعقادپر ایم کیوایم ساؤتھ افریقہ کے تمام ذمہ داروں اور کارکنوں کوخراج تحسین پیش کیا۔

*****

12/12/2018 1:21:22 AM