Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پاکستان میں لسانی اکائیوں اورمذہبی اقلیتوں کو کشمیرکی طرح انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کاسامناہے۔ الطاف حسین


پاکستان میں لسانی اکائیوں اورمذہبی اقلیتوں کو کشمیرکی طرح انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کاسامناہے۔ الطاف حسین
 Posted on: 10/23/2018

پاکستان میں لسانی اکائیوں اورمذہبی اقلیتوں کو کشمیرکی طرح انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کاسامناہے۔ الطاف حسین 
یورپین پارلیمنٹ اورانسانی حقوق کے عالمی اداروں کواس صورتحال کانوٹس لیناچاہیے۔ الطاف حسین 
پاکستان میں جوبھی ریاست کی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھارہاہے اس کودباؤ اورجبر کے ذریعے خاموش کیاجارہاہے۔ الطاف حسین
وقت آگیاہے کہ ہم جمہوریت،آزادی اظہار،عقائد،سوچ وفکر اورسیاسی آزادی اورمحروم عوام کے حقوق کیلئے متحد ہوجائیں۔ الطاف حسین
کشمیرکے عوام پاکستان یا انڈیاکے ساتھ رہناچاہتے ہیں یاایک آزاد اورخودمختارریاست کے طور پر رہنا چاہتے ہیں اس کافیصلہ کرنے کااختیار صرف کشمیری عوام کاہے ۔ الطاف حسین
کشمیری عوام کی آزادی کی تحریک میں مذہبی انتہاپسندی کوداخل کرکے اسے غلط رنگ دیا جارہاہے۔ الطاف حسین 
برسلزمیں جموں کشمیر انٹرنیشنل پیپلزالائنس کے زیراہتمام منعقدہ کانفرنس سے خطاب

لندن ۔۔۔ 24 اکتوبر 2018ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ پاکستان میں مہاجروں،بلوچوں، پشتونوں اوردیگرلسانی اکائیوں اورمذہبی اقلیتوں کو مقبوضہ کشمیرکی طرح انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کاسامناہے، یورپین پارلیمنٹ اورانسانی حقوق کے عالمی اداروں کواس صورتحال کانوٹس لیناچاہیے۔ انہوں نے یہ بات گزشتہ روز بیلجئم کے دارالحکومت برسلزمیں جموں کشمیر انٹرنیشنل پیپلزالائنس کے زیراہتمام منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس کانفرنس میں مختلف سیاسی شخصیات، رائٹرز، سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی ۔ کانفرنس سے اپنے خطاب میں پاکستان کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان تمام نسلی ولسانی ،ثقافتی اورمذہبی اکائیوں کاہے لیکن پاکستان میں اپنے حقوق مانگناجرم بنادیاگیاہے، میں نے مہاجروں کے حقوق کے لئے تحریک شروع کی توہمیں ریاستی مظالم کانشانہ بنایاگیا، ہماراقتل عام کیاگیا، 19جون 1992ء کوہمارے خلاف ریاستی آپریشن شروع کردیاگیا جوآج تک جاری ہے ،اس آپریشن کے نتیجے میں ہمارے کارکنوں سمیت 22ہزارمہاجروں کو شہید کردیاگیا،سینکڑوں کارکن لاپتہ اورہزاروں مختلف جیلوں میں قیدہیں، ان ریاستی مظالم کے خلاف آوازبلندکرنے اورمظالم ڈھانے والی قوتوں کوبے نقاب کرنے پر میری تقریروں پرپابندی عائدکردی گئی اورمیری جماعت کوٹکڑوں میں تقسیم کردیاگیا ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان میں اس وقت صورتحال یہ ہے کہ جوبھی ریاستی مظالم ، دہشت گردی اورمذہبی انتہاپسندی کے بارے میں ریاست کی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھارہاہے اس کودباؤ اورجبر کے ذریعے خاموش کیاجارہاہے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ مہاجروں کی طرح بلوچ اورپشتون بھی اسی قسم کے ریاستی مظالم کاشکارہیں اوراپنے حقوق سے محروم ہیں، پاکستان میںآباد عیسائی، ہندو، احمدی ، اہل تشیع اوردیگرمذہبی اقلیتیں بھی اسی طرح ریاستی جبراوردہشت گردی کاسامنا کررہے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ یورپی یونین نے پاکستان کوبہت سی مراعات دے رکھی ہیں جس میں پاکستان سے جہاں بہت سے اقدامات کرنے کوکہاگیا تھاکہ وہ اپنے شہریوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں نہ کرے ا ورپاکستان نے جی ایس پی پلس اسٹیٹس برقراررکھنے کے لئے یورپی یونین کویقین دلایا تھا 
لیکن پاکستان میں لسانی ومذہبی اکائیوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ یورپی یونین کوچاہیے کہ وہ پاکستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کانوٹس لے اوراس پر پاکستان سے جواب طلب کرے۔ جناب الطاف حسین نے یورپین پارلیمنٹ کے ممبران اور کانفرنس کے شرکاء سے کہاکہ وقت آگیاہے کہ ہم سچی جمہوریت،آزادی اظہار،عقائد،سوچ وفکر اورجلسے جلوس کی آزادی اورمحروم عوام کے حقوق کے لئے متحد ہوجائیں۔ جناب الطاف حسین نے مقبوضہ کشمیرکی صورتحال کازکر کرتے ہوئے کہاکہ کشمیرکے عوام قیام پاکستان کے بعدسے ہی ناانصافیوں کاشکارہیں، اقوام متحدہ نے مسئلہ کشمیرپر کئی بارقراردادیں منظورکیں لیکن ان پر عمل نہ ہوسکا اورکشمیرکے عوام آج بھی اسی صورتحال کاشکارہیں۔ انہوں نے کہاکہ کشمیرکے عوام آزادی مانگ رہے ہیں اوروہ انڈیاکے ساتھ رہناچاہتے ہیں، پاکستان کے ساتھ رہناچاہتے ہیں یاایک مکمل طورپرآزاد اورخودمختارریاست کے طور پر رہنا چاہتے ہیں اس بات کافیصلہ کرنے کااختیار صرف کشمیری عوام کاہے ۔ انہوں نے کہاکہ یہ امرافسوسناک ہے کہ کشمیری عوام کی آزادی کی تحریک میں مذہبی انتہاپسندی کوداخل کرکے اسے غلط رنگ دیا جارہاہے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں مہاجروں سمیت تمام مظلوم قومیتوں اورمذہبی اقلیتوں کے حقوق کیلئے آواز بلند کرتا رہوں گا اورخاموش نہیں رہوں گا۔ انہوں نے کشمیری رہنما سردارشوکت علی کشمیری کوانسانی حقوق کے لئے ان کی خدمات پر خراج تحسین
پیش کیا۔ 
*****


11/20/2018 11:25:20 AM