Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

لیاقت علی خان کاقتل ایک گہری سازش کاحصہ تھا،سازش میں فوج اور ایجنسیوں کے عناصر ملوث تھے۔ الطاف حسین


لیاقت علی خان کاقتل ایک گہری سازش کاحصہ تھا،سازش میں فوج اور ایجنسیوں کے عناصر ملوث تھے۔ الطاف حسین
 Posted on: 10/16/2018
لیاقت علی خان کاقتل ایک گہری سازش کاحصہ تھا،سازش میں فوج اور ایجنسیوں کے عناصر ملوث تھے۔ الطاف حسین
لیاقت علی خان کوگولیاں مارنے والے شخص کوزندہ پکڑنے کے بجائے موقع پرہی ماردیاگیاتاکہ سازش میں ملوث عناصر کا پتہ نہ چل سکے
قابل پولیس افسرا نوابزادہ اعتزازالدین نے تحقیقات کرکے سازش میں ملوث کرداروں کے بارے میں پتہ لگالیاتھا ،
سازشی عناصرنے ان کے طیارے پر فائرنگ کی ،طیارہ جہلم میں گرکرتباہ ہوگیا،نوابزادہ اعتزازالدین شہید ہوگئے اور تمام ثبوت وشواہد اوردستاویزات بھی جل گئیں
خان لیاقت علی خان نے پاکستان کیلئے بڑی قربانیاں دیں،قائداعظم کے ساتھ ہرجگہ خان لیاقت علی خان کی تصویرلگائی جائے
میری فوج سے کوئی لڑائی نہیں، میں فوج کی زیادتیوں کے خلاف ہوں، میں پوری فوج کے نہیں بلکہ کرپٹ جرنیلوں کے خلاف ہوں، 
میں فوج کی عزت کرتاہوں، میں تو وطن کی حفاظت کے لئے خودفوج میں بھرتی ہوناچاہتاتھالیکن مجھے فوج میں نہیں لیاگیا کیونکہ میں مہاجرتھا
پنجابی بھائی خدارا الطاف حسین کوسمجھنے کی کوشش کریں، الطاف حسین آپ کادشمن نہیں ، میں کسی بھی قوم سے نفرت نہیں کرتا،
اگرمجھے پانچ سال کیلئے بااختیارحکومت دیدی جائے تو میں پانچ سال میں پاکستان کے سارے قرضے اتاردوں گا،
فوج کے جرنیل خدارا سیاست میں مداخلت بندکردیں، مہاجروں، بلوچوں،پشتونوں اورتمام مظلوموں پر ظلم بند کردیں اورانہیں حقوق دیں
مہاجروں کو خودمختارصوبہ دیدیں، بلوچستان کواس کاحق دیں،اگر آپ ہمارے ساتھ انصاف کریں گے توہم پاکستان کو بچاسکتے ہیں
تحریک پاکستان کے عظیم رہنمااورپاکستان کے پہلے وزیراعظم شہیدملت خان لیاقت علی خان کی 67 ویں برسی کے موقع پر خطاب

ایم کیوایم کے بانی وقائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم نوابزادہ خان لیاقت علی خان کاقتل ایک گہری سازش کاحصہ تھاجس میں اس وقت کی فوج اوراس کی ایجنسیوں کے عناصر ملوث تھے، خان لیاقت علی خان نے پاکستان کے لئے بڑی قربانیاں دیں، اگرارباب اختیارکوپاکستان سے واقعی ہمدردی ہے توآج سے بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کے ساتھ ہرجگہ قائداعظم کے دست راست خان لیاقت علی خان کی تصویرلگائی جائے ۔ انہوں نے ان خیالات کااظہارآج تحریک پاکستان کے عظیم رہنمااورپاکستان کے پہلے وزیراعظم شہیدملت خان لیاقت علی خان کی 67 ویں برسی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کایہ خطاب سوشل میڈیاکے ذریعے براہ راست نشر کیاگیا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ بدقسمتی سے قیام پاکستان کے بعد ان لوگوں نے پاکستان کے بعد ملک پر قبضہ کرلیاجن کا قیام پاکستان میں کوئی کردارنہیں تھاجبکہ وہ لوگ جنہوں نے پاکستان کیلئے لازاوال قربانیاں دیں انہیں نظرانداز کردیاگیا۔ انہوں نے کہاکہ میں فوج کے کرپٹ عناصر کے خلاف بات کرتاہوں توبعض لوگ اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ پنجابیوں کو برا کہہ رہے ہیں، انہوں نے قسم کھاتے ہوئے کہاکہ میں پنجابیوں کے خلاف نہیں ،جومظلوم پنجابی کسان، مزدور اورمزارعے ظالم جاگیرداروں کے غلام بنے ہوئے ہیں ، میں ایسے تمام مظلوم پنجابیوں سے اتنی ہی ہمدردی رکھتاہوں جتنی مہاجروں سے رکھتاہوں۔انہوں نے مزیدکہاکہ ٹی وی چینلز اوراخبارات کے منفی پروپیگنڈوں سے اہل پنجاب کے ذہن ایسے بنادیے گئے کہ اگرکبھی علامہ اقبال کے بارے میں کوئی بات کہی جائے تواہل پنجاب سمجھتے ہیں کہ یہ پنجابیوں کے خلاف بات کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ تاریخی حقائق سے یہ بات ثابت ہے کہ علامہ اقبال پاکستان کے بجائے ہندوستان کے جغرافیہ میں رہتے ہوئے مسلمانوں کی ریاست کے حامی تھے ، وہ پاکستان کی اسکیم کے مخالف تھے اوران کاقیام پاکستان کی تحریک میں کوئی کردارنہیں تھا لیکن تاریخ کومسخ کردیاگیا ہے ، علامہ اقبال کومفکرپاکستان بناکرپیش کیاجاتاہے اورہر جگہ قائداعظم کی تصویر کے ساتھ علامہ اقبال کی تصویرلگائی جاتی ہے جبکہ نوابزادہ خان لیاقت علی خان جوتحریک پاکستان کے صف اول کے رہنما تھے، جن کی بڑی جدوجہد اورقربانیاں ہیں ،ان کاکہیں نام نہیں لیاجاتا، ان کی برسی پرٹی وی چینلز پر کوئی خصوصی پروگرام پیش نہیں کیاجاتا، آج شہید ملت کی 67ویں برسی ہے لیکن ان کی برسی پر کسی ٹی وی پر کوئی تذکرہ نہیں ہے اسلئے کہ وہ مہاجر تھے ۔ انہوں نے کہاکہ اگرارباب اختیار کو پاکستان سے واقعی ہمدردی ہے توآج سے بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کے ساتھ ہرجگہ قائداعظم کے دست راست خان لیاقت علی خان کی تصویرلگائی جائے ۔
جناب الطا ف حسین نے شہیدملت خان لیاقت علی خان کی زندگی اورجدوجہدپر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ خان لیاقت علی خان یکم اکتوبر1895ء کوریاست ہریانہ کے ضلع کرنال میں ایک نواب گھرانے میں پیداہوئے ، انہوں نے ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس میں گریجویشن کی ،پھروہ اعلیٰ تعلیم کیلئے برطانیہ چلے گئے اور آکسفورڈیونیورسٹی سے وکالت پاس کی ۔ انہوں نے 1921ء میں آل انڈیامسلم لیگ میں شمولیت اختیارکی اورتحریک پاکستان کی جدوجہدمیں شامل ہوگئے ۔ خان لیاقت علی خان تقسیم برصغیرسے قبل 1945ء میں ہونے والے الیکشن میں ہندوستان کی پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے ،ان کی علمی قابلیت، اہلیت ،ذہانت اورفہم وفراست کے پیش نظرانہیں 29 اکتوبر1946ء کو متحدہ ہندوستان کاوزیرخزانہ مقرر کیا گیا اور انہوں نے ہندوستان کاتاریخی بجٹ پیش کیا۔ 14اگست 1947ء کو پاکستان وجودمیں آیاتووہ اپنی نوابی اورخاندانی جاگیریں چھوڑکرپاکستان آگئے ۔ قیام پاکستان کے بعد قائداعظم محمدعلی جناح ملک کے پہلے گورنرجنرل کے منصب پر فائز ہوئے توانہوں نے اپنے دست راست خان لیاقت علی خان کوپاکستان کا پہلا وزیراعظم مقررکیا، انہوں نے پاکستان کی پہلی دستورساز اسمبلی میں پاکستان کاقومی پرچم متعارف کرایا۔ صرف یہی نہیں بلکہ قائداعظم نے خان لیاقت علی خان کوپاکستان مسلم لیگ کاصدربھی مقررکیا۔ خان لیاقت علی خان نے 8 اپریل 1950ء کو وزیراعظم کی حیثیت سے ہندوستان کے وزیراعظم جواہرلعل نہروسے ایک معاہدہ کیاجسے تاریخ میں ’’لیاقت نہروپیکٹ ‘‘کہاجاتاہے، اس معاہدے کے ذریعے یہ طے کیاگیاتھاکہ جوہندوستان سے جولوگ اپنی جائیدادیں چھوڑکر ہجرت کرکے پاکستان جارہے ہیں اس کے بدلے میں انہیں پاکستان میں ان ہندوؤں کی جاگیریں دی جائیں گی جواپنے گھر اورجاگیریں چھوڑکر پاکستان سے ہجرت کرکے ہندوستان جارہے ہیں۔ اس مقصدکے لئے لیاقت علی خان نے پاکستان میں متروکہ وقف املاک کا ادارہ بھی قائم کیا اورہجرت کرکے آنے والے مہاجروں نے اپنے کلیم وصول کئے ۔ جب بعض رفقاء نے خان لیاقت علی خان سے کہاکہ آپ بھی اپنی جاگیریں ہندوستان میں چھوڑکرآئے ہیں، آپ بھی اپناکلیم داخل کریں ،توخان لیاقت علی خان نے جواب دیاکہ جب ہجرت کرکے آنے والے تمام لوگوں کوان کاکلیم مل جائے گاتومیں اس کے بعد اپناکلیم داخل کروں گا۔ خان لیاقت علی خان پاکستان کے ڈھانچے کی تشکیل اورملک کواس کے پیروں پر کھڑا کرنے کے لئے رات دن کوشاں تھے لیکن وہ لوگ جو قیام پاکستان کے مخالف تھے، جوانگریزوں کے ایجنٹ تھے، انہوں نے قائداعظم کے بعدان کے دست راست خان لیاقت علی خان کوبھی راستے سے ہٹانے کی سازش تیار کی۔ 16اکتوبر1951ء کوراولپنڈی کے کمپنی باغ ( لیاقت باغ ) میں جلسہ منعقد کیا گیا۔اس میں سیداکبرببرک نامی شخص جوقیام پاکستان سے قبل برطانوی حکومت کیلئے مخبری کاکام کرتاتھا،پاکستان بننے کے بعد وہ پاکستان کی فوج اور سرکاری ایجنسیوں کا مخبربن گیا۔ اس شخص کواسلحہ دیکر جلسہ گاہ میں اسٹیج کے قریب سی آئی ڈی کے اہلکاروں کے لئے مخصوص حصہ میں بٹھایاگیا، جیسے ہی خان لیاقت علی خان تقریر کے لئے آئے توا س شخص نے ان پر قریب آکرگولیاں ماریں، جیسے ہی لیاقت علی خان کوگولیاں لگیں پہلے سے موجود پولیس اہلکاروں نے طے شدہ سازش کے تحت اس قاتل کوزندہ پکڑنے کے بجائے فائرنگ کرکے وہیں ماردیاتاکہ اس کی موت کے ساتھ ہی ا س بات کابھی پتہ نہ چل سکے کہ اس سازش کے پیچھے کون ہے۔ خان لیاقت علی خان کی شہادت کے وقت ان کے آخری الفاظ یہ تھے کہ ’’ خدا پاکستان کی حفاظت کرے ‘‘ ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ خان لیاقت علی خان ایسے نواب گھرانے میں پیداہوئے تھے کہ وہ ایک بار جوکرتاپہن لیتے تھے ،اسے دوبارہ نہیں پہنتے تھے لیکن انہوں نے پاکستان کے لئے اپناسب کچھ قربان کردیا، جب شہادت کے بعد تجہیزوتکفین کے آخری مرحلے میں غسل کاوقت آیااوران کاکرتااتاراگیا تواس پر پیوندلگے ہوئے تھے اوربنیان پھٹی ہوئی تھی۔ خان لیاقت علی خان کی شہادت پر مہاجروں کوسب سے زیادہ صدمہ پہنچا۔خان لیاقت علی خان کو’’ شہید ملت ‘‘ کاخطاب دیاگیا۔ ان کی شہادت کے بعد خواجہ ناظم الدین وزیراعظم مقررہوئے توانہوں نے خان لیاقت خان کی شہادت کی تحقیقات کاحکم دیا۔ اس وقت پولیس کے ایک بہت ہی ایماندار، اصول پسند اورنہایت قابل اعلیٰ افسرنوابزادہ اعترازالدین جوممتازقومی شاعر جمیل الدین عالی کے بڑے بھائی تھے ،انہیں خان لیاقت علی خان کی شہادت کی تحقیقات سونپی گئی۔ انہوں نے رات دن ایماندارانہ تحقیقات کرکے اس سازش کے پس پردہ حقائق اورسازش میں ملوث کرداروں کے بارے میں پتہ لگالیاتھا ، وہ تمام ترثبوت وشواہد کے ساتھ طیارے میں سوارہوکروزیراعظم سے ملنے جارہے تھے کہ سازشی عناصرنے پنجاب میں ان کے طیارے پر فائرنگ کی ،طیارہ پنجاب کے شہرجہلم میں گرکرتباہ ہوگیااورنوابزادہ اعتزازالدین اوران کے ساتھ طیارے میں سوار تمام افراد شہید ہوگئے اورطیارہ تباہ ہونے کے نتیجے میں تمام ثبوت وشواہد اوردستاویزات بھی جل گئیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ نوابزادہ خان لیاقت علی خان کاقتل ایک گہری سازش کاحصہ تھاجس میں اس وقت کی فوج اوراس کی ایجنسیوں کے عناصر ملوث تھے جنہوں نے خان لیاقت علی خان کے قتل کے بعد تحریک پاکستان کے تمام رہنماؤں کوایک ایک کرکے نکال باہرکیااور پاکستان پر قبضہ کرلیا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں نے پہلے بھی کہاتھااورآج پھرکہتاہوں کہ برصغیرکی تقسیم انسانی تاریخ کی سب سے بڑی غلطی تھی ، یہ صرف زمین کی تقسیم نہیں تھی بلکہ برصغیرکے مسلمانوں کی تقسیم تھی جس سے لاکھوں خاندان تین حصوں میں تقسیم ہوگئے ، اس تقسیم کی وجہ سے آج آدھے خاندان انڈیامیں نوکریوں کیلئے لائنیں لگارہے ہیں اورپاکستان کاطعنہ سن رہے ہیں اورآدھے خاندان پاکستان میں نفرت وتعصب کانشانہ بن رہے ہیں، فوج ،رینجرز اورپولیس کی گولیاں اورگالیاں کھارہے ہیں جبکہ پاکستان پر وہ قابض ہیں جنہوں نے پاکستان کے لئے کوئی قربانی نہیں دی۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میری فوج سے کوئی لڑائی نہیں، میں فوج کی زیادتیوں کے خلاف ہوں، میں پوری فوج کے نہیں بلکہ کرپٹ جرنیلوں کے خلاف ہوں، میں فوج کی عزت کرتاہوں، میں تو وطن کی حفاظت کیلئے خودفوج میں بھرتی ہوناچاہتاتھالیکن مجھے فوج میں نہیں لیاگیا کیونکہ میں مہاجرتھا۔ میں پنجابی بھائیوں سے آج پھرکہتاہوں کہ خدارا الطاف حسین کوسمجھنے کی کوشش کرو، الطاف حسین آپ کادشمن نہیں ، میں کسی بھی قوم سے نفرت نہیں کرتا، میں آج یہی کہتاہوں کہ اگرمجھے پانچ سال کیلئے بااختیارحکومت دیدی جائے تواللہ تعالیٰ نے مجھے اتنی صلاحیت دی ہے کہ میں پانچ سال میں پاکستان کے سارے قرضے اتاردوں گا، پاکستان کوترقی کی راہ پر گامزن کرکے اسے گل وگلزاربنادوں گا۔ یہ کام وہی کرسکتاہے جومحنتی ہو، سیلف میڈ ہو ، جس نے مصیبتیں، پریشانیاں اور مشکلات دیکھی ہوں، جس نے بسوں میں سفرکیاہوکیونکہ عوام کے مسائل وہی حل کرسکتاہے جس نے خود مسائل کا سامنا کیا ہو، جومنہ میں سونے کاچمچہ لیکرپیداہوا ہووہ ملک کاسونالوٹ توسکتا ہے ملک کی حالت بہترنہیں بناسکتا۔ جناب الطاف حسین نے فوج کے جرنیلوں سے کہاکہ خدارا آپ سیاست میں مداخلت بندکردیں، مہاجروں، بلوچوں،پشتونوں اورتمام مظلوموں پر ظلم بند کردیں اورانہیں ان کے حقوق دیں،آپ کے پاس فوج اورایٹم بم کی طاقت ہے مگر اس طاقت پر غروراورگھمنڈنہ کریں، یہ یادرکھیں کہ روس کے پاس ہزاروں ایٹم بم تھے لیکن اس کے ایٹم بم اسے ٹکڑے ٹکڑے ہونے سے نہیں بچاسکے۔آپ مہاجروں کوایک خودمختارصوبہ دیدیں، بلوچستان کواس کاحق دیں، بلوچستان کبھی پاکستان کاحصہ نہیں تھابلکہ برطانیہ کی ایک پرنسلے اسٹیٹ کے طورپر آزادتھا، آپ بلوچوں اورمہاجروں کے ساتھ انصاف کریں گے توہم پاکستان کو بچاسکتے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے شہیدملت خان لیاقت علی خان ، نوابزادہ اعترازالدین شہیداوران کے ساتھ شہیدہونے والوں کوخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ اللہ تعالیٰ ان شہیدوں کی قربانیوں کوقبول فرمائے،ان کے درجات بلندفرمائے اوران کی قربانیوں کی بدولت مہاجروں اورتمام مظلوموں کوان کاحق دلائے ۔ اللہ تعالیٰ مہاجر ، بلوچ،پشتون شہیدوں کی مغفرت فرمائے ، ان کے لہو صدقے ہماری جدوجہدکوکامیاب کرے، لاپتہ افرادکوبازیاب کرے اورتمام مظلوموں کی مددفرمائے ۔ 
*****

11/20/2018 11:57:21 AM