Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

سانحہ حیدرآباد پاکستان کی تاریخ کاایک بہت بڑاالمناک واقعہ ہے۔ ڈاکٹرندیم احسان


سانحہ حیدرآباد پاکستان کی تاریخ کاایک بہت بڑاالمناک واقعہ ہے۔ ڈاکٹرندیم احسان
 Posted on: 10/1/2018
سانحہ حیدرآباد پاکستان کی تاریخ کاایک بہت بڑاالمناک واقعہ ہے۔ ڈاکٹرندیم احسان 
حیدرآبادمیں قتل عام کی منصوبہ بندی سرکاری ایجنسیوں نے کی تھی، قتل عام کے وقت پولیس غائب تھی۔ڈاکٹرندیم احسان
شفیق الرحمن پراچہ نامی جوافسرسانحہ علی گڑھ کے وقت ڈپٹی کمشنر تھاوہی شخص سانحہ 30ستمبرکے وقت حیدرآبادمیں ڈپٹی کمشنرتھا 
سانحہ حیدرآبادمیں ملوث کسی ایک قاتل کو بھی سزانہیں دی گئی جوریاست پاکستان پر بہت بڑاسوالیہ نشان ہے
حیدرآبادمیں قتل عام میں ملوث دہشت گردوں کو عدالت نے کیسے بری کردیا؟ کیامہاجروں کی زندگیوں کی کوئی اہمیت نہیں؟ 
سانحہ 30ستمبر88ء کے شہداکی 30ویں برسی کے موقع پر انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میں منعقدہ اجتماع سے خطاب

ایم کیوایم کے کنوینر ڈاکٹرندیم احسان نے کہاہے کہ سانحہ حیدرآباد پاکستان کی تاریخ کاایک بہت بڑاالمناک واقعہ ہے لیکن اس میں ملوث کسی ایک قاتل کو بھی سزانہیں دی گئی جوریاست پاکستان پر ایک بہت بڑاسوالیہ نشان ہے ۔ انہوں نے یہ بات اتوارکوسانحہ 30ستمبر88ء کے شہداکی 30ویں برسی کے موقع پر انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میں منعقدہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ڈاکٹرندیم احسان نے کہاکہ حیدرآبادسندھ کادوسرابڑاشہر اور مہاجر اکثریتی شہرہے، 30ستمبر1988ء کو حیدرآبادپر قیامت گزری جب مختلف گاڑیوں میں سوار مسلح دہشت گردوں نے حیدرآبادکے مختلف علاقوں پر حملہ کیا اور مہاجروں پر اندھادھندفائرنگ کی جس کے نتیجے میں 200سے زائد معصوم وبے گناہ مہاجرشہیداورسینکڑوں زخمی ہوگئے ۔اس قتل عام کی منصوبہ بندی سرکاری ایجنسیوں نے کی تھی جس کاسب سے بڑاثبوت یہ ہے کہ 14دسمبر 1986ء کوکراچی میں قصبہ علی گڑھ کالونی میں مہاجروں کے قتل عام کے وقت شفیق الرحمن پراچہ نامی جوافسرڈپٹی کمشنر ویسٹ تھاوہی شخص سانحہ 30ستمبر88ء کے وقت حیدرآبادمیں ڈپٹی کمشنرتھا یہی وجہ ہے کہ جب حیدرآبادمیں قتل عام ہواتوجس طرح کراچی میں قصبہ کالونی اورعلی گڑھ کالونی میں قتل عام کے وقت پولیس غائب تھی اسی طرح حیدرآبادمیں قتل عام کے وقت بھی پولیس غائب تھی اوراس وقت کے حیدرآباد کے میئراورڈپٹی میئر کے باربارکے رابطوں کے باوجودپولیس وانتظامیہ کاکوئی فردرابطے میں نہیں آیا ۔ڈاکٹرندیم احسان نے کہاکہ سانحہ حیدرآبادکے مرکزی کردار قادرمگسی، جانوآرائیں اورگل محمد جاکھرانی تھے لیکن انہیں پیپلزپارٹی کے دورمیں عدالت نے عدم ثبوت کی بناء پر بری کردیا۔انہوں کہاکہ جوٹی وی اینکرز اپنے ٹاک شوزمیں ایم کیوایم پر طرح طرح جھوٹے الزامات لگاتے ہیں اورہرچیزکاذمہ دار ایم کیوایم کوقراردیتے ہیں ، ہم ان سے سوال کرتے ہیں کہ حیدرآبادمیں اتنے بڑے قتل میں ملوث دہشت گردوں کو عدالت نے کیسے بری کردیا؟ کیامہاجروں کی زندگیوں کی کوئی اہمیت نہیں؟ کیا ہم فرزندزمین نہیں ہیں؟آخرمہاجروں کوانصاف کیوں نہیں ملتا؟ڈاکٹرندیم احسان نے کہاکہ حیدرآباداورکراچی میں قصبہ کالونی اورعلی گڑھ کی طرح ناظم آباد جلال آباد، خواجہ اجمیرنگری، گرین ٹاؤن، ماڈل کالونی اورکئی مہاجربستیوں پر حملے ہوئے اورمہاجروں کاقتل عام ہوالیکن مہاجروں نے کبھی کسی کی آبادی پرحملہ نہیں کیالیکن دہشت گردی کے الزامات مہاجروں پر لگائے جاتے ہیں، ان کے خلاف ہی ریاستی آپریشن کیاجاتاہے، مسلسل کئی برسوں سے مہاجروں اور انکی نمائندہ جماعت کوصفحہ ہستی سے مٹانے کیلئے ریاستی آپریشن جاری ہے ، ہزاروں مہاجرنوجوانوں کوماورائے عدالت قتل کردیاگیا ، سینکڑوں آج بھی لاپتہ ہیں اورہزاروں جیلوں میں قید ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جہاں قتل عام بھی ہواور انصاف بھی نہ ملے وہاں زندہ باد کے نعرے نہیں لگتے ۔جو ہمیں مردہ باد کے نعرے کا طعنہ دیتے ہیں وہ پہلے سانحہ حیدرآباد، سانحہ علی گڑھ اوردیگرسانحات اورہزاروں ماورائے عدالت قتل کرنے والوں کوپھانسی دیں پھرہم سے بات کریں ۔ انہوں نے سانحہ 30ستمبر کے شہداکوخراج عقیدت پیش کیااوران کیلئے دعاکی ۔ اس موقع پر سانحہ حیدرآبادکے بارے میں ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی ۔ 
*****

10/15/2018 10:22:38 AM