Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پاکستان میں بدترین کنٹرولڈ جمہوریت ہے، جنیوا میں تقاریر کا اردو ترجمہ


پاکستان میں بدترین کنٹرولڈ جمہوریت ہے، جنیوا میں  تقاریر کا اردو ترجمہ
 Posted on: 9/28/2018
پاکستان میں بدترین کنٹرولڈ جمہوریت ہے، جنیوا میں تقاریر
،فوج حکومت کوچلارہی ہے اورپورانظام ملٹری کے ماتحت ہے
عدالتیں بھی فوج کے ماتحت کام کررہی ہیں اورانسانی حقوق کی صورتحال بھی بہت سنگین ہے
پاکستان میں فوج اورمذہب کی مداخلت اتنی زیادہ ہے کہ وہاں آزادی اظہار کی کوئی جگہ نہیں ہے
پاکستان کی حکومت نے صحافیوں، ہیومن رائٹس ایکٹویسٹس کے خلاف ہونے والی کارروائیوں پر خاموشی اختیار کررکھی ہے 
پاکستان کے قانونی ادارے غیرت کے نام پر قتل اور جبری شادیوں کے معاملے پر خواتین اوربچیوں پر ہونے والے ظلم کو نہیں رکواسکے
جوکچھ ISIS نے کردوں کے ساتھ کیا بالکل اسی طرح پاکستان کی فوج پچھلے 70 برسوں سے بلوچستان میں کررہی ہے
’’ پاکستان میں کنٹرولڈ ڈیموکریسی ‘‘ کے عنوان سے جنیوا میں ہونے والی کانفرنس میں اقوام متحدہ کے ماہرین ، 
یورپی پارلیمنٹ کے ارکان اورانسانی حقوق کے اداروں کے ارکان کی تقاریر کا اردو ترجمہ

پاکستان میں ڈیموکریسی فوج کے کنٹرول میں ہے،فوج حکومت کوچلارہی ہے اورپورانظام ملٹری کے ماتحت ہے، عدالتیں بھی فوج کے ماتحت کام کررہی ہیں اورانسانی حقوق کی صورتحال بھی بہت سنگین ہے، ان خیالات کااظہاراقوام متحدہ کے ماہرین ، یورپی پارلیمنٹ کے ارکان اورانسانی حقوق کے اداروں کے ارکان نے جنیوا میں ہونے والی ایک اہم کانفرنس میں کیا۔ ’’ پاکستان میں کنٹرولڈ ڈیموکریسی ‘‘ کے عنوان سے ہونے والی یہ اہم کانفرنس 24ستمبر2018ء کوجنیوا میں اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کونسل کے 39ویں سیشن کے دوران منعقد ہوئی۔ کانفرنس نے اس بات پر خصوصی غورکیا گیاکہ کس طرح فوج کی جانب سے حکومت پاکستان کوچلایااورکنٹرول کیاجاتاہے ۔اس کے اثرات پاکستان کے ان عوام پر بھی دیکھے گئے جواس سے متاثرہیں۔ کانفرنس کی صدارت ساؤتھ ایشیا ڈیموکریٹک فورم کے ایگزیکٹوڈائریکٹر مسٹر پالو کساکا (Mr Paulo Casaca)نے کی جبکہ کانفرنس سے یورپین اکنامک اینڈسوشل کمیٹی کے سابق صدرمسٹرہینری ملوسے( Mr. Henri Malosse)، یورپین پارلیمنٹ کے رکن مسٹر رچرڈ چائناسکی (Mr. Ryszard Czarnecki) ، ایشیا یورپ کوآپریشن کے برطانوی ماہر مسٹر برائن ٹول(Mr. Brian Toll) اور بلوچ ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ مسزکریمہ بلوچ نے خطاب کیا۔
جنیوا میں خطاب کرتے ہوئے ساؤتھ ایشیا ڈیموکریٹک فورم کے ایگزیکٹو ڈائریکر Mr. Paulo Casaca نے کہاکہ یہ وہ موضوع ہے جس پر میں پچھلے کافی عرصے سے سوچ رہا تھا ۔ مجھے جب اس موضوع پر کانفرنس کاپتہ چلا تو مجھے ان پاکستانیوں میں جن سے میری ملاقات ہوئی ، ان میں سب سے بڑی اورعظیم محترمہ عاصمہ جہانگیر تھیں۔ جو میری استاد بھی تھیں حالانکہ میں اس وقت پچھلے دس سالوں سے یورپی پارلیمنٹ کا ممبر نہیں ہوں ، اس وقت میں ساؤتھ ایشیا ڈیموکریٹک فورم کا ڈائریکٹر ہوں ۔ وہ صوبہ پنجاب میں وکلاء کی تنظیم کی صدر کی حیثیت سے بات کررہی تھیں ۔ کمرے میں کچھ پاکستانی ڈپلومیٹس بھی موجود تھے ۔ یہ افراد پاکستان کی صورتحال کے متعلق (محترمہ عاصمہ جہانگیر ) کے خیالات کی مخالفت کررہے تھے ۔ ایک موقع پر انہوں نے ایک ڈپلومیٹ کی طرف دیکھتے ہوئے کہاکہ آپ ایسا تاثر کیوں دے رہے ہیں کہ آپ پاکستان کے خارجہ امور کی نگرانی کررہے ہیں کیونکہ ہرفرد جانتا ہے کہ پاکستان کے امورخارجہ ، پاکستانی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی براہ راست ہدایت پر چلتی ہے اور سفارتکار ان ہدایت کے جواب میں ایک لفظ تک نہیں کہہ سکتے کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کے مسائل کا یہ ایک واضح اشارہ ہے ۔ یہ ایک کنٹرولڈ ڈیموکریسی ہے ۔ یہ ایک deep state ہے ۔ یہ لفظ جو آج کل عام استعمال میں ہے لیکن یہ لفظ دراصل پاکستان سے شروع ہوا کہ ملک میں اصل حکومت کس کی ہے ۔ فوج درحقیقت ایک سب سے اہم مسئلہ ہے لیکن یہ واحدمسئلہ نہیں ہے ۔ اس موضوع پر ہم آج اس کانفرنس میں بات کریں گے۔
یورپین اکنامک اینڈ سوشل کمیٹی کے سابق صدر Mr. Henri Malosse نے اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ آج میں یہ سوچ رہا ہوں کہ ہم اس پر بات کررہے ہیں کہ پاکستان جیسے ملکوں میں مسئلہ کہاں ہے ۔ یہ واضح ہے کہ پاکستان جیسے ملکوں میں مسئلہ یہ ہے کہ اداروں کے درمیان اختیارات کی تقسیم واضح نہیں ہے ۔ اگرآپ کا تعلق تاریخ، پولیٹیکل سائنس سے ہے تو آپ کو یاد ہوگا کہ فرانس میں 18 ویں صدی یعنی روشن خیالی کی صدی میں Montesquieu نے اختیارات کی تقسیم کے حوالہ سے لکھا ۔ جب فرینچ سیاسی فلاسفرMontesquieu نے اس حوالہ سے لکھا تو لوگوں نے سمجھا کہ یہ صرف ایگزیکٹیو اور انصاف کے اختیارات کا معاملہ ہے ۔بلکہ انہوں نے گرجا گھروں کے کرداراور آرمی کے کردار کے متعلق لکھا۔ معاشرے میں گرجا گھر اور آرمی ان اداروں کا اہم کردار ہے لیکن یہ کردار واضح طورپر الگ ہونا چاہیے ۔ جمہوریت کی ابتداء میں سب سے پہلے گرجا گھر اور ریاست الگ ہونا چاہیے ۔ پھرریاست اور آرمی کا کردار الگ الگ ہوناچاہیے ۔ بلاشبہ میں مسیحی اقدار کی عزت کرتا ہوں اورمجھے یورپ کے تمام ممالک کے کرسچن اور کیتھولک پر فخر ہے اوریہ حقیقت ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم ریاست اور مذہب کی آمیزش اور مداخلت ایک دوسرے میں قبول نہیں کرسکتے ۔ہم جانتے ہیں کہ فوج ملک دفاع کی بہترین ضامن ہے لیکن اس کے ساتھ جب آپ فوج کو سیاسی کردار دیتے ہیں تو یہ آمریت کہلاتا ہے۔اوریہی وجہ ہے کہ ، فوج، ریاست اور سیاست کی علیحدگی اتنی اہم ہے ۔ یورپ میں آپ فوج میں ہیں تو آپ متحرک سیاست اور الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے ۔ ایک شہری کی حیثیت سے آپ ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ یہ علیحدہ ہے اور یہ Montesquieu کے طاقت علیحدہ ہونے کی روح ہے ۔ اگر ہم پاکستان کی صورتحال دیکھتے ہیں تو ۔ اگرہم پاکستان کی نئی حکومت کو دیکھتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ مثال کے طورپر وزیراعظم نے دوہفتہ قبل ایک اقلیتی احمدی کو سیکریٹری اسٹیٹ نامزد کیا، جو حقیقی مسلمان نہیں جانے جاتے ۔ پاکستان میں سنیوں کی اکثریت ہے بالخصوص اہلحدیث، انہوں نے وزیراعظم پر دباؤ ڈالا کہ آپ ایک ایسے شخص کو سیکریٹری آف اسٹیٹ نہیں بناسکتے جو اقلیت سے تعلق رکھتا ہو اور دوسرے درجے کا شہری ہو اور مسلمان تسلیم نہ کیاجاتا ہو اور وزیراعظم نے دباؤ میں آکر یہ مطالبہ مان لیا۔ اور طاقت کی تقسیم کی وجہ سے اس شخص کو نامزد نہیں کیاگیا۔ پاکستان میں بدترین کنٹرولڈ جمہوریت ہے ۔ اور میں اسے جمہوری نظام بھی نہیں کہوں گا اور یہ سیکولر بھی نہیں ہے ۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جہاں فوج اورمذہب کی مداخلت اتنی زیادہ ہے کہ اس ملک میں آزادی اظہار کی کوئی جگہ نہیں ہے ۔ بدقسمتی سے اس ملک میں ہم محسوس کرتے ہیں کہ نئی حکومت اس وقت تک کچھ تبدیل نہیں کرسکتی جب تک ملک کے ضروری ڈھانچے فوج اورمذہب کے درمیان تعلق کو تبدیل نہ کرے ۔
یورپین پارلیمنٹ کے رکن Mr. Ruszard Czarnecki نے اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کبھی بھی ان لوگوں کیلئے آسان ملک نہیں ہے جو لوگ نڈر اور بے باک اور مضبوط فوجی اسٹیبلشمنٹ کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں ۔ پاکستان میں صحافت کی آزاد ی کا معیار ہے تقریباً ایک جیسا ہے جبکہ میڈیا کا جوکردار ہے وہ اس کی بالکل عکاسی نہیں کرتا جو پاکستان کے بانی قائداعظم محمد علی جناح نے رکھا تھا۔ انٹرنیشنل میڈیا کی جانب سے فوج پر تنقید کی جارہی ہے کیونکہ وہ مقامی میڈیاکو صحافت کی آزادی نہیں دے رہی ہے ۔ پاکستان کے عام انتخابات 2018ء میں الیکشن مہم کے دوران تشدد کے جو واقعات ہوئے ملکی اور بین الاقوامی ناظرین کی توقع کے مطابق اس کی واضح تصویر پیش نہیں کی گئی اور اس میں پاکستان کے اعلیٰ حکام ملوث تھے ۔ ریاستی سنسر شپ اور خودساختہ سنسرشپ کی وجہ سے میڈیاکے افراد ، سوشل میڈیاایکٹویسٹ کے حوالہ سے آزادی صحافت انڈیکس 2018ء کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کی 180 ممالک میں 179 ویں پوزیشن ہے ۔پاکستان میں انتخابی عمل کے دوران تشدد کے واقعات میں اضافہ ہواہے ۔ لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھا ہے ۔ ان سب واقعات کی وجہ سے جس طرح عوام کی آواز کو خاموش کیاگیا ہے ، اس پردنیابھرکے سیاسی تجزیہ نگاروں نے اپنی تشویش کا اظہارکیا 
ہے اوران واقعات کی وجہ سے اچھاتاثرنہیں گیا ہے ۔
ایشیا اوریورپ تعاون کے برطانوی ماہرMr. Brain Toll نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کاغذات میں الیکشن بہت زبردست ہیں پہلی دفعہ سول حکومت دوسری سول حکومت کو اقتدار منتقل کررہی تھی ۔ مگر سوال یہ ہے کہ سول حکومت کے پاس کیا کیا اختیارات ہیں ۔ تقریباً تمام ہی جماعتوں نے الیکشن میں حصہ لیا بشمول انتہاء پسند جماعتوں جنہیں فوج کی حمایت حاصل تھی۔ اس الیکشن میں مسلم لیگ نواز اور پیپلزپارٹی بھٹو زرداری کی جوکہ ماضی میں حکومت بناتی رہی ہیں ، ان میں نئی جماعت عمران خان کی پارٹی جس کو وزیراعظم بنایاگیا ہے جوکہ ہمیں پتہ ہے ۔ پیپرز میں تقریباً 12000 امیدواروں نے حصہ لیا ۔ تقریبا95 پارٹیوں نے حصہ لیا جوکہ کاغذات میں ہے ، جوکہ سننے میں بہت اچھا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس الیکشن میں زیادہ اثر ان اداروں اور لوگوں کا ہے جو سیاسی اسٹریکچر سے باہر ہیں ۔ اس میں ایک الیکشن کمیشن ہے جس نے بہت سارے لوگوں کو الیکشن لڑنے کیلئے نااہل قراردیاجبکہ دوسری طرف ان لوگوں کو اہل قراردیا جوکہ اقوام متحدہ کی پابندی کی فہرست میں شامل ہیں۔ ان کا آئیڈیا تھا کہ اگر وہ جیت جاتے ہیں تو ان کو نااہل کردیاجائے گاجبکہ کوشش یہ کی گئی سنی مسلک کے انتہاء پسندوں کی حمایت کی گئی تاکہ جو دوسرے چھوٹے گروپس ہیں ان پر پریشر ڈالاجاسکے ۔ الیکشن کے آخری دوماہ میں کچھ پرتشدد واقعات بھی ہوئے جس میں 140 افراد بلوچستان میں ہلاک ہوئے جن میں اکثریت شیعہ مسلک کے لوگوں کی تھی اور ISIS نے حملہ کی ذمہ داری قبول کی اور تقریباً200 سے زائد زخمی ہوئے ۔ ایک اور حملہ الیکشن والے دن بلوچستان میں پولنگ اسٹیشن کے پاس ہوا اور تقریباً30 افراد ہلاک ہوئے ۔ ان سب سے ان لوگوں کو فائدہ ہوا جن لوگوں کو پاکستان آرمی ، حکومت میں لانا چاہتی تھی ۔ اور ان لوگوں کو مزید پریشر میں لایاجاسکے جو آرمی کے خلاف ہوں جیسا کہ نواز شریف جس کو جیل میں قید کی سزا دی گئی اور الیکشن کے بعدانہیں رہا کردیا گیا۔ان کی اپیل کا سوال ابھی زیرغور ہے لیکن یہ واضح ہے کہ فوج اپنے امیدواروں کی یقینی کامیابی کیلئے عدالتوں کواستعمال کررہی ہے ۔جوکہ ناپسندیدہ عمل ہے۔ پاکستان میں مڈل کلاس کے ابھرنے کی تبدیلی کتنی تیزی سے آرہی ہے یہ بہت بڑا سوال ہے ۔ شہری آبادی بڑھ رہی ہے لیکن بہت سے عوامل ہیں جو اسٹیٹس کو، کو برقراررکھنا چاہتے ہیں۔پاکستان میں سیاسی طاقت بڑے خاندانوں کے ہاتھ میں ہے جوکہ ماضی میں پاکستان اور فوج میں حکمرانی کرتے رہے ہیں اورپاکستانی عدالتیں بڑی حد تک فوج کے ماتحت کام کررہی ہیں اوربڑے پیمانے پران کے احکامات پر فیصلے کررہی ہیں۔ مثال کے طورپراپوزیشن کے لوگوں کا جیل میں ہونا ہے اورمختلف مقدمات میں تقریباً 7000 افراد سے پوچھ گچھ ہورہی ہے جو نوا زشریف کی جماعت سے ہیں۔ 
جو لوگ معاشرے میں انکے حوالے سے ہمارے پاس ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ ہے جو کہتی ہے کہ پاکستان کی حکومت نے صحافیوں، ہیومن رائٹس ایکٹویسٹس کے خلاف ہونے والی کارروائیوں پر خاموشی اختیار کررکھی ہے ، یہ کارروائیاں جوکہ نیشنل سیکوریٹی کے نام پر کی جارہی ہیں جنمیں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل ، تشدد جیسے واقعات کیلئے سیکوریٹی فورسز ، سول اداروں پر اپنا اثرورسوخ استعمال کرتی ہیں ۔ توہین رسالت کے قانون کی آڑ میں مذہبی اقلیتوں کو مظالم کا نشانہ بنایاجارہا ہے ۔پاکستان کے قانونی ادارے غیرت کے نام پر قتل اور جبری شادیوں کے معاملے پر خواتین اوربچیوں پر ہونے والے ظلم کو نہیں رکواسکے ۔2014ء سے غیراعلانیہ طورپر پھانسی کی سزا کا قانون کا دوبارہ اطلاق کرکے اب تک 490 افراد کو پھانسی کی سزا دی گئی ہے۔ 
اگر کچھ بھی نہیں ہوا جو لوگ غیرتعلیم یافتہ غریب جو بکھرے ہوئے ہیں وہ اقلیتیں، مسیحی انتہاء پسند جماعتوں کی جانب راغب ہوجائیں گی کیونکہ انکے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہوگا۔ اس میں عمران خان ، ان کی جماعت ، فوج اورپاکستان کے عوام کیلئے یہ چوائس ہے کہ عالمی برادری کی جانب سے ان کی مدد کی جائے یا ان کوروکاجائے ۔میرے خیال میں ایسا مناسب نہیں ہے اور وقت بتائے گا۔ بلوچ ہیومن رائٹس ایکٹویسٹ مسز کریمہ بلوچ نے کہاکہ اس ایونٹ میں شرکت کا موقع دینے کا بہت بہت شکریہ۔معاشرے میں یہ آئیڈیا بہت اچھا ہے کہ جمہوریت ہونی چاہیے جوکہ عوامی نمائندوں پر مشتمل ہو اور قانون سازی عوام کی خواہشات کے مطابق اسمبلی سے منظور شدہ ہو۔ان سب کا مقصد عام آدمی اور عورت کو حقوق دینا اور نظام کو مضبوط کرنا اور ان کی اپنی مرضی کی حکومت قائم کرنا ہے ۔ بلوچستان ایک ایسی اکائی ہے جہاں اس کے عوام کو کوئی حقوق حاصل نہیں ہیں ۔ جب خان آف قلات نے پرانے فارمولے کے تحت تاریخی صوبوں کی بات کی تو ان کو اور ان کی فیملی کو گرفتارکرلیا اور مارشل لاء لگادیا۔ نواب نوروز خان نے آواز حق بلند کی اور ان کی رہائی کی بات کی ۔ پاکستان آرمی نے وعدہ کیا کہ تمام مطالبات مذاکرات کے ذریعہ مان لیں گے۔ جب نواب نوروز خان ، پاکستان کی فوج سے بات چیت کرنے کیلئے راضی ہوگئے تو ان اوران کے ساتھیوں کو گرفتارکرلیاگیا۔ ان کی فیملی کے سات افراد بشمول ان کے بیٹے کو من گھڑت الزامات لگاکر پھانسی دے دی گئی ۔ اس کے بعد فوج نے اپنا فوجی آپریشن بلوچستان کے ریموٹ ایریاز کی طرف موڑ دیا۔ بلوچ سماچاروں کو گرفتارکیاجانے لگا،فوج ان کے بچوں اورمویشیوں کو چھین کر لے گئے اوردوسروں کو بیچ دیا۔جوکچھ ISIS نے کردوں کے ساتھ کیا بالکل اسی طرح پاکستان کی فوج پچھلے 70 برسوں سے بلوچستان میں کررہی ہے جب سے انہوں نے بلوچستان پر قبضہ کیا ہے ۔
*****









10/15/2018 9:44:45 AM