Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پاکستان میں ڈیموکریسی نہیں بلکہ اسٹریٹوکریسی ہے، اصل حکمرانی فوج کی ہے۔ڈاکٹرندیم احسان


پاکستان میں ڈیموکریسی نہیں بلکہ اسٹریٹوکریسی ہے، اصل حکمرانی فوج کی ہے۔ڈاکٹرندیم احسان
 Posted on: 9/28/2018
پاکستان میں ڈیموکریسی نہیں بلکہ اسٹریٹوکریسی ہے، اصل حکمرانی فوج کی ہے۔ڈاکٹرندیم احسان
پاکستان میں رائج نظام کے بارے میں جوحقائق قائدتحریک الطاف حسین 40سال سے بیان کررہے ہیں وہ آج
اقوام متحدہ ماہرین بیان کررہے ہیں۔ڈاکٹرندیم احسان
انشاء اللہ وہ دن دور نہیں جب پوری دنیاقائدتحریک الطاف حسین کی حقانیت کوتسلیم کرے گی۔ڈاکٹرندیم احسان 
پاکستان میں جمہوریت ،سول حکومتیں، مقننہ ،عدالتیں،انتظامیہ ،میڈیا کوئی بھی آزاد وخودمختار نہیں ۔ڈاکٹرندیم احسان
انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میں ایک اہم وڈیوبریفنگ سے خطاب

لندن ۔۔۔ 28 ستمبر 2018ء
ایم کیوایم کے کنوینرڈاکٹرندیم احسان نے کہاہے کہ پاکستان میں رائج نظام کے بارے میں جوحقائق قائدتحریک الطاف حسین گزشتہ 40سال سے بیان کررہے ہیں وہ آج اقوام متحدہ میں بیٹھے ہوئے بڑے بڑے ماہرین بیان کررہے ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت ،سول حکومتیں، مقننہ ،عدالتیں،انتظامیہ ،میڈیا کوئی بھی آزاد وخودمختار نہیں ہے ، پاکستان میں ڈیموکریسی نہیں بلکہ اسٹریٹوکریسی ہے۔یعنی پاکستان میں اصل حکمرانی فوج کی ہے ۔انہوں نے ان خیالات کااظہار جمعہ کی شام انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میں ایک اہم وڈیوبریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کنوینرقاسم علی رضا اوررکن رابطہ کمیٹی سفیان یوسف بھی موجود تھے۔ ڈاکٹرندیم احسان نے کہا کہ گزشتہ 40 برسوں سے بابائے مہاجرقوم جناب الطاف حسین مستقل اپنے خطابات، لیکچرز اور فکری نشستوں میں کارکنان کو بتاتے رہے ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں ہے، پاکستان میں آزادی اظہار نہیں ہے ،پاکستان میں نہ تو تحریروتقریرکی آزادی ہے اور نہ ہی پاکستان میں اپنی پسند کا مذہب یا عقیدہ اختیارکرنے کی آزادی ہے، افسوس صدافسوس کہ قائد تحریک جناب الطاف حسین کی 40 سالہ تبلیغ کا مقصد نہ تو ان کے ماننے والے پوری طرح سمجھ سکے اور نہ ہی غیروں نے جناب الطاف حسین کے بیان کردہ حقائق کو سمجھا۔ آج 40 سال بعد جنیوا میں ہونے والے اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کونسل کے اجلاس کے موقع پر ہونے والی اہم کانفرنس میں یورپی پارلیمنٹ اوراقوام متحدہ کے مختلف اداروں میں انتہائی اعلیٰ پوزیشن پر فائز ماہرین اورتھنک ٹینکس سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنے خطاب میں پاکستان میں رائج فرسودہ نظام کے حوالے سے وہی کچھ کہاہے جو قائد تحریک جناب الطاف حسین گزشتہ 40برسوں سے بتاتے رہے ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت ،سول حکومتیں، مقننہ ، عدالتیں،انتظامیہ ،میڈیا کوئی بھی آزاد وخودمختار نہیں ہے بلکہ پاکستان میں اصل حکمرانی فوج کی ہے یعنی پاکستان میں ڈیموکریسی نہیں بلکہ اسٹریٹوکریسی (Stratocracy) ہے۔ڈاکٹرندیم احسان نے کہاکہ ڈیموکریسی یعنی جمہوریت کے معنی ہیں کہ "Government by the people, of the people, for the people" یعنی ’’ حکومت عوام کی۔۔۔ عوام میں سے ۔۔۔ عوام کے لئے ‘‘لیکن پاکستان میں حقیقت اس کے برعکس ہے ۔۔۔قائد تحریک جناب الطاف حسین اپنی بے شمار تقاریر اور خطابات میں کہہ چکے ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت ایک دھوکہ ہے، پاکستان میں ڈیموکریسی کے نام پر اسٹریٹوکریسی Stratocracy ہے یعنی فوج کی حکمرانی ہے ۔ Stratocracy کامطلب یہ ہے کہ "Government by the military, of the military for the militray" ۔ انہوں نے کہاکہ دنیاکے ہرملک کی فوج ہوتی ہے لیکن پاکستان دنیاکاواحدملک ہے کہ جس کی فوج کے پاس ملک ہے۔۔۔فوج ہی ملک کی اصل مالک ومختار اوراصل حکمراں ہے۔
ڈاکٹرندیم احسان نے کہاکہ جنیوا میں ہونے والے اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر مختلف ممالک کے ماہرین نے پاکستان کے بارے میںآج 40 سال بعد جو گفتگوکی ہے وہ آپ اور ہم سب کے روحانی باپ اوربانی وقائد جناب الطاف حسین کی تقاریر کی عکاسی کر رہی ہے پاکستان میں رائج نظام کے بارے میں جوحقائق قائدتحریک الطاف حسین گزشتہ 40سال سے بیان کررہے ہیں وہ آج اقوام متحدہ میں بیٹھے ہوئے بڑے بڑے ماہرین بیان کررہے ہیںیہ قائدتحریک الطاف حسین کی بصیرت ، دوراندیشی اوروسیع النظری کامنہ بولتاثبوت ہے ۔ہمیں ہی نہیں بلکہ تمام وفاپرستوں کوقائدتحریک الطاف حسین پر فخر ہے۔ہمیں یقین ہے کہ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں جب پوری دنیاقائدتحریک الطاف حسین کی حقانیت کوتسلیم کرے گی۔ڈاکٹرندیم احسان نے کہاکہ 40سال پہلے قائدتحریک الطاف حسین سیاست میں ایجنسیوں کے کردار کے بارے میں لوگوں کوبتاتے تھے توکسی کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کیونکہ اس سے پہلے لوگ صرف سیمنٹ کی ایجنسی ،گھی کی ایجنسی یاپلاٹوں کی خریدوفروخت کرنے والی اسٹیٹ ایجنسی سے واقف تھے لیکن قائدتحریک الطاف حسین نے پاکستان کے سیاسی نظام کو چلانے والی سرکاری ایجنسیوں کے چہروں اورناموں سے پردہ اٹھاکرانہیں عوام کے سامنے بے نقاب کیااورآج بچہ بچہ سرکاری ایجنسیوں کے ناموں اورکردارسے اچھی طرح واقف ہے۔ واضح رہے کہ’’ پاکستان میں کنٹرولڈ ڈیموکریسی ‘‘ کے عنوان سے ہونے والی یہ اہم کانفرنس 24ستمبر2018ء کوجنیوا میں اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کونسل کے 39ویں سیشن کے دوران منعقد ہوئی۔ کانفرنس نے اس بات پر خصوصی غورکیاکہ کس طرح فوج کی جانب سے حکومت پاکستان کوچلایااورکنٹرول کیاجاتاہے ۔اس کے اثرات پاکستان کے ان عوام پر بھی دیکھے گئے جواس سے متاثرہیں۔ کانفرنس کی صدارت ساؤتھ ایشیا ڈیموکریٹک فورم کے ایگزیکٹوڈائریکٹر مسٹرپالوکساکا ( Mr. Paulo Casaca )نے کی جبکہ کانفرنس سے یورپین اکنامک اینڈسوشل کمیٹی کے سابق صدرمسٹرہینری ملوسے( Mr. Henri Malosse )، یورپین پارلیمنٹ کے رکن مسٹر رچرڈ چائناسکی ( Mr. Ryszard Czarnecki ) ، ایشیا یورپ کوآپریشن کے برطانوی ماہر مسٹر برائن ٹول( Mr. Brian Toll ) اور بلوچ ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ مسزکریمہ بلوچ نے خطاب کیا۔ ڈاکٹرندیم احسان نے کارکنوں اورہمدردوں سے درخواست ہے کہ وہ اس کوتوجہ سے دیکھیں اورسنیں اوراس کے بعد اس کو دنیابھرمیں زیادہ سے زیادہ شیئر بھی کریں تاکہ مہاجروں کے ساتھ ساتھ پاکستان اوردنیابھرمیں بسنے والے بلوچ، پنجابی، سندھی، پشتون، سرائیکی ،ہزاروال دیگرمظلوم قومیتیں اور پاکستان میں بسنے والی مذہبی اقلیتیں بھی دیکھیں کہ عالمی سطح پر پاکستان کے حوالہ سے کیا کہاجارہا ہے۔اس موقع پررابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینرقاسم علی رضا اوررکن رابطہ کمیٹی سفیان یوسف نے بھی جنیوامیں ہونے والی اس کانفرنس میں کی جانے والی تقاریراوران کی اہمیت پرروشنی ڈالی۔ 

*****


12/11/2018 10:57:59 PM