Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ماہر معاشیات عاطف میاں کو احمدی ہونے کی بناء پر اکنامک ایڈوائزری کونسل سے نکالناقابل مذمت ہے۔الطاف حسین


ماہر معاشیات عاطف میاں کو احمدی ہونے کی بناء پر اکنامک ایڈوائزری کونسل سے نکالناقابل مذمت ہے۔الطاف حسین
 Posted on: 9/9/2018 1

ماہر معاشیات عاطف میاں کو احمدی ہونے کی بناء پر اکنامک ایڈوائزری کونسل سے نکالناقابل مذمت ہے۔الطاف حسین
احمدی بھی پاکستان کے شہری ہیں اور ان کابھی پاکستان پرپوراحق ہے۔الطاف حسین 
محض مذہبی عقیدے کی بنیادپر احمدیوں کو ملک کی خدمت سے روکناسراسرزیادتی اور میرٹ کا قتل ہے ۔ الطاف حسین
قائداعظم کی تشکیل کردہ کابینہ میں ایک احمدی چوہدری سرمحمد ظفراللہ خان بھی شامل تھے، وہ پہلے وزیرخارجہ تھے
قیام پاکستان کی جدوجہدمیں احمدی بھی شامل تھے، احمدیوں نے فوج اورمختلف شعبوں میں خدمات انجام دیں
عاطف میاں کو ان کے عہدے سے ہٹاکر حکومت نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کیلئے کوئی گنجائش نہیں 
جب احمدیوں کوآئین میں غیرمسلم قراردیدیاگیاتوکیااب انہیں مذہبی اقلیتوں میں بھی شمار نہیں کیاجائے گا؟
کیاہم پاکستان کے آئین اورپرچم سے مذہبی اقلیتوں کی نمائندگی کو نکال کرپھینک سکتے ہیں؟ 
احمدیوں اورتمام مذہبی اقلیتوں کے ساتھ یہ ظلم اورنارواسلوک بندکیاجائے ،سب کوبرابرکاشہری سمجھاجائے

لندن ۔۔۔ 9 ستمبر 2018ء
ایم کیوایم کے قائدجناب الطاف حسین نے تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کی جانب سے ماہر معاشیات عاطف میاں کومذہبی عقیدے کے لحاظ سے احمدی ہونے کی بناء پر اکنامک ایڈوائزری کونسل سے ہٹانے کی شدیدمذمت کی ہے اور کہاہے کہ جس طرح دیگرمذاہب کے ماننے والے پاکستانیوں کاملک پر حق ہے اسی طرح احمدی بھی پاکستان کے شہری ہیں اورپاکستان کے شہری کی حیثیت سے ان کابھی پاکستان پرپوراحق ہے، محض مذہبی عقیدے کی بنیادپر انہیں ملک کی خدمت سے روکنااوران پرکسی قسم کی قدغن لگاناسراسرزیادتی ہے اور میرٹ کا قتل ہے ۔جناب الطاف حسین نے ان خیالات کااظہار ہفتہ کواپنے خطاب میں کیا جو سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان سمیت دنیابھرمیں براہ راست نشرکیاگیا۔ انہوں نے کہاکہ احمدی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے ماہر معاشیات عاطف میاں کواکنامک ایڈوائزری کونسل میں شامل کرنے کے بعد ان کے عہدے سے ہٹاکر حکومت نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کیلئے کوئی گنجائش نہیں ہے ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کے آئین میں اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت دی گئی ہے ،پاکستانی پرچم میں موجود سفید رنگ اقلیتوں کی نمائندگی کرتا ہے۔اگرکوئی غیرمسلم ہے ، یاکسی بھی مذہبی عقیدے سے تعلق رکھتاہے تواس بنیادپر اسے ملک میں کسی بھی منصب پر فائزہونے یا کسی بھی شعبہ میں خدمات کی انجام دہی سے روکناکسی بھی صورت میں درست عمل نہیں ہے ۔انہوں نے سوال کیاکہ کیاہم پاکستان کے آئین اورپرچم سے مذہبی اقلیتوں کی نمائندگی کو نکال کرپھینک سکتے ہیں؟انہوں نے کہاکہ جب احمدیوں کوآئین میں غیرمسلم قراردیدیاگیاتوکیااب انہیں مذہبی اقلیتوں میں بھی شمار نہیں کیاجائے گا؟ کیااب احمدیوں کو پاکستانیت سے بھی خارج کیاجائے گا؟ کیا احمدی انسان بھی نہیں ہیں؟ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ پاکستان کا آئین مذہبی اقلیتوں کوعبادت گاہیں قائم کرنے اوراپنی عبادات کرنے کاحق دیتاہے لہٰذادیگرمذہبی اقلیتوں کی طرح احمدیوں کوبھی اپنی عبادت گاہیں قائم کرنے اوراپنی عبادات کرنے کا پورا حق ہے،اگرکوئی یہ کہتاہے کہ احمدی ختم نبوت پر یقین نہیں رکھتے توکیا ہندو، سکھ ،عیسائی اوردیگرمذاہب کے ماننے والے ختم نبوت پر یقین رکھتے ہیں۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ دیگرمذاہب کے ماننے والوں کی طرح احمدی بھی اللہ کے بندے ہیں اوراللہ تعالیٰ تمام انسانوں کاخالق اورمالک ہے ، وہ صرف مسلمانوں کوہی نہیں بلکہ ہندوؤں، سکھوں، عیسائیوں اور یہودیوں سمیت تمام مذاہب کے ماننے والوں کوبھی رزق دیتا ہے ، اللہ تعالیٰ توان انسانوں کوبھی رزق دیتاہے جواس کے وجود کونہیں مانتے ۔سورہء فاتحہ میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ اللہ تعالیٰ تمام عالمین یعنی تمام جہانوں کارب ہے، وہ رحمان بھی ہے اوررحیم بھی ہے ، اللہ تعالیٰ مالک یوم الدین ہے ، یعنی روزحشر کامالک ہے ،کون جنت میں جائے گااورکس کاٹھکانہ جہنم ہے ، اس کافیصلہ انسان نہیں اللہ تعالیٰ کرے گا۔انہوں نے کہاکہ جس طرح مسلمانوں کوزندہ رہنے کاحق ہے اسی طرح تمام غیرمسلموں کوبھی زندہ رہنے کاحق ہے، مذہبی عقائد کی بنیادپر کسی بھی غیرمسلم کوقتل کرنا ظلم ہے ، قتل قتل ہوتاہے خواہ مسلمان کاہو، عیسائی کا، ہندو کا، سکھ کا یااحمدی کاہو۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کسی بھی مذہب کے ماننے والے سے کوئی نفرت نہیں کرتے تھے، وہ تمام مذاہب کااحترام کرتے تھے ،وہ پاکستان کوایک تھیوکریٹک اسٹیٹ یعنی مذہبی بنیاد پرست ملک نہیں بلکہ ایک لبرل اورپروگریسو ملک بناناچاہتے تھے ۔قائداعظم نے 11 ، اگست 1947 ء کوپاکستان کی پہلی دستورساز اسمبلی سے اپنے صدارتی خطاب میں واضح الفاظ میں کہاتھا ’’ اب پاکستان بن گیاہے، اب آپ آزادہیں کہ اپنی مساجد میں جائیں، آپ آزادہیں کہ آپ اپنے مندروں میں جائیں، آپ آزاد ہیں کہ اپنے گرجاگھروں میں جائیںیاریاست پاکستان میں کسی بھی عبادت گاہ میں جائیں، آپ کسی بھی مذہب یاذات پات سے تعلق کیوں نہ رکھتے ہوں ، اس کاریاست کے معاملات سے کوئی تعلق نہیں ‘‘۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ قیام پاکستان کی جدوجہدمیں احمدی بھی شامل تھے، قائداعظم کی تشکیل کردہ پاکستان کی پہلی کابینہ میں ایک احمدی چوہدری سرمحمد ظفراللہ خان بھی شامل تھے، وہ پاکستان کے پہلے وزیرخارجہ اورپہلے ایشائی اور واحدپاکستانی جنہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اورعالمی عدالت انصاف کی صدارت کی اور 1961ء میں اقوام متحدہ میں پہلے پاکستانی نمائندے بنے۔جوگندر ناتھ منڈل ہندوبرادری سے تعلق رکھتے تھے، وہ قائد اعظم محمد علی جناح کی پہلی کابینہ میں پاکستان کے پہلے وزیرقانون ومحنت مقرر ہوئے۔انہوں نے کہاکہ قیام پاکستان کی جدوجہد اورملکی ترقی میں اقلیتوں کے کردار اور قربانیوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ۔ جسٹس ایلون رابرٹ کارنیلیئس عیسائی تھے، وہ پاکستان کے چوتھے چیف جسٹس مقررہوئے، اسی طرح پارسی برادری کے رستم سہراب جی سدھوا چیف جسٹس سپریم کورٹ تھے جبکہ جسٹس دراب پٹیل سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہے۔ اسی طرح ہندوبرادری کے جسٹس رانابھگوان داس قائم مقام چیف جسٹس آف سپریم کورٹ مقررہوئے ۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ فوج میں عیسائیوں اوردیگرغیرمسلموں کے ساتھ ساتھ احمدیوں نے بھی وطن کی خاطر جانیں دی ہیں ۔دیگرشعبوں میں بھی احمدی عقیدے کے ماننے والوں نے ملک کیلئے خدمات انجام دیں،50 کی دہائی میں ایم ایم مرزا اسٹیٹ بینک کے گورنررہے ، ڈاکٹرعبدالسلام ایک سائنس دان تھے،انہیں فزکس کے شعبہ میں ان کی علمیت،قابلیت اورخدمات کے پیش نظر نوبل انعام سے نوازا گیا ۔ وہ پہلے پاکستانی تھے جنہیں نوبل انعام سے نوازا گیا۔یہ صرف ڈاکٹرعبدالسلام کیلئے ہی نہیں بلکہ پاکستان کیلئے عزت اورفخر کی بات کی تھی لیکن عقیدے کے لحاظ سے احمدی ہونے کی وجہ سے ان کی خدمات کوفراموش کردیاگیا،آج ان کاکہیں تذکرہ تک نہیں کیاجاتا۔کچھ عرصہ قبل قائداعظم یونیورسٹی اسلام آبادمیں ان کے نام سے قائم شعبہ کانام تک تبدیل کردیا گیا۔جناب الطا ف حسین نے کہاکہ عاطف میاں کواکنامک ایڈوائزری کونسل میں شامل کرنے کے بعد صرف مذہبی عقیدے کی بناء پرنکال دیاگیا اور وفاقی وزیراطلاعات اس کیلئے یہ تاویل پیش کررہا ہے کہ حکومت مذہبی مکاتب فکر کوساتھ لیکرچلناچاہتی ہے ۔انہوں نے سوال کیاکہ کیاحکومت احمدیوں، عیسائیوں، ہندؤوں،سکھوں اورتمام غیرمسلموں کو پاکستان سے بیدخل کرناچاہتی ہے ؟ اگریہی کچھ مغربی ممالک نے مسلمانوں کے ساتھ کرناشروع کردیا تو کیاہوگا؟ انہوں نے کہاکہ عاطف میاں کو ایڈوائزری کونسل سے نکالنے پر کونسل کے مزید دوارکان عاصم خواجہ اورعمران رسول نے بھی احتجاجاً کونسل کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیاہے ، اب عمران خان کو چاہیے کہ وہ اب اپنی اکنامک ایڈوائزری کونسل میں مولاناخادم رضوی، حافظ سعید، مولانامسعوداظہر، یوسف لدھیانوی، احسان اللہ احسان، مولوی عبدالعزیز اورزید حامد کوشامل کرلیں اور اعلان کردیں کہ نئے پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کیلئے کوئی گنجائش نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ احمدیوں اورتمام مذہبی اقلیتوں کے ساتھ یہ ظلم اورنارواسلوک بند کیا جائے اورسب کوبرابرکاشہری سمجھاجائے ورنہ پاکستان میں نفرت اورانتہاپسندی توفروغ پاسکتی ہے ،ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ 
*****
 

11/19/2018 4:12:37 PM