Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پاکستان کو فوج نے نہیں عوام نے بنایا ہے ،الطاف حسین


پاکستان کو فوج نے نہیں عوام نے بنایا ہے ،الطاف حسین
 Posted on: 9/6/2018 1

پاکستان کو فوج نے نہیں عوام نے بنایا ہے ،الطاف حسین
ملک میں جمہوریت ہوگی اور تمام شہریوں کو بلاامتیاز مساوی حقوق ملیں گے، تو ایسے پاکستان سے
الطاف حسین سمیت تمام مہاجراوربلوچ عوام بھی پیارکریں گے ۔الطاف حسین
صرف نعرے لگانے اورگانے سے عوام ، پاکستان سے پیارنہیں کریں گے ۔الطاف حسین
اگر مظلوم قومیتوں کے حقوق کی جدوجہد میں میری جان بھی چلی جائے تو یہ میرے لئے فخر کی بات ہوگی۔ الطاف حسین
میں نہ تو غلام شہری کی طرح مرنا چاہتا ہوں اور نہ ہی اپنے وطن میں بے وطنی کی زندگی گزارنا چاہتاہوں۔الطاف حسین
’’ مسئلہ بلوچستان اوراس کاتاریخی پس منظر ‘‘ کے موضوع پر دوسرے لیکچر میں اظہارخیال

لندن ۔۔۔ 6 ستمبر 2018ء
ایم کیوایم کے قائدجناب الطا ف حسین نے کہاہے کہ پاکستان کو فوج نے نہیں عوام نے بنایا ہے ، ملک میں جمہوریت ہوگی اور ملک کے تمام شہریوں کو بلاامتیاز رنگ ونسل ، زبان، مسلک ، عقیدہ اورمذہب مساوی حقوق ملیں گے،مہاجروں اوربلوچستان کے عوام کو بھی ان کاجائز حق ملے گا تو ایسے پاکستان سے الطاف حسین سمیت تمام مہاجراوربلوچ عوام بھی پیارکریں گے لیکن صرف نعرے لگانے سے عوام ، پاکستان سے پیارنہیں کریں گے ۔ انہوں نے یہ بات ’’ مسئلہ بلوچستان اوراس کاتاریخی پس منظر ‘‘ کے موضوع پراپنے دوسرے لیکچر میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہی جس میں انہوں نے مسئلہ بلوچستان کا تاریخی پس منظربیان کرنے کے ساتھ پاکستان کے موجودہ حالات کے حوالے سے بھی تفصیلی اظہار خیال کیا ۔ اس لیکچر کی مزیدتفصیلات کے مطابق جناب الطاف حسین نے کہاکہ فوج اور آئی ایس آئی نے بلوچوں ، مہاجروں اوردیگرمظلوموں کو کبھی متحد نہیں ہونے دیا ، سازشوں کے ذریعہ مظلوم قومیتوں کو ایک دوسرے سے الجھائے رکھا ،یہ سازشیں انہوں نے اپنے آباؤاجداد سے سیکھیں ہیں جوکہ انگریزوں کے نوکر تھے ، انہی چالبازیوں سے کرپٹ جرنیلوں نے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح،قائدملت خان لیاقت علی خان اورمادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کو قتل کردیا، کرپٹ فوجی جرنیل صوبہ پنجاب کے علاوہ تمام صوبوں کے مظلوم عوام کے قتل عام میں شریک تھے اورآج بھی شریک ہیں۔قائد اعظم کی طرح پاکستان کی معروف قانون داں، انسانی حقوق کی علمبردار اور بہادر خاتون محترمہ عاصمہ جہانگیر کو بھی قتل کردیاگیا ، میں نے مطالبہ کیاکہ عاصمہ جہانگیر کی موت کی تحقیقات کرائی جائے اور فرانزک ٹیسٹ کے ذریعہ ان کی موت کے حقائق معلوم کیے جائیں لیکن میرے مطالبے کو نظرانداز کردیا گیا۔عاصمہ جہانگیر نے آمریت کے خلاف عملی جدوجہد کی ، مارکھائی، قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں لیکن افسوس کہ میڈیا سے عاصمہ جہانگیر صاحبہ کا تذکرہ اس طرح غائب کردیا گیا ہے کہ جیسے اس نام کی کسی خاتون کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ کہاجائے گا کہ عاصمہ جہانگیر کے گھروالوں نے فرانزک ٹیسٹ نہیں کرنے دیاتو جب گھروالوں کو فوجی جرنیلوں کی دھمکیاں ملیں گی تو وہ کیا کریں گے ۔ آئی ایس آئی ، رینجرز اور راؤ انوار نے جس دن نقیب اللہ محسود کو ماورائے عدالت قتل کیااسی دن 73 سالہ عظیم استاد اورفلاسفر پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفرعارف کو بہیمانہ تشددکا نشانہ بناکر قتل کردیا، پروفیسر حسن ظفرعارف نے ہزاروں طلباء کو زیورعلم سے آراستہ کیا لیکن بے غیرت جرنیلوں نے ایک عظیم استاد کو قتل کردیا۔ میں جب تک زندہ ہوں ان کے سفاک قاتلوں کو ہرگز نہیں بخشوں گا۔ اگرمیں اس دنیا میں نہیں رہا تو میرے ماننے والوں کو میری یہ وصیت ہے کہ وہ نتیجے کی پرواہ کیے بغیرڈاکٹرحسن ظفرعارف سمیت ایک ایک شہید کے خون کا حساب لیں، حق دفاع کیلئے نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفی ؐ کی تلوار ’’عضب‘‘ کا سہار الیں۔ انہوں نے کہاکہ میں ایسے ظالمانہ اورجابرانہ نظام پر لعنت بھیجتا ہوں، مجھے مقدمات سے خوف زدہ نہیں کیاجاسکتا ، اگر مجھ پر مزید مقدمات بنائے گئے اوریہاں بھی میری تقریر پر پابندی عائد کی گئی تو میں کوئی اور طریقہ نکال لوں گااور مظلوم قومیتوں کے حقوق کی آواز بلند کرتارہوں گا۔جناب الطا ف حسین نے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے مہاجرقوم میں واحدالطاف حسین کو پیدا کیا جسے فوج اورآئی ایس آئی آج تک خرید نہیں سکی اورنہ ہی مظلوم عوام کے حقوق کی جدوجہد سے باز رکھ سکی ، جب تک میری زندگی ہے میں یہ جدوجہد کرتا رہوں گا، اگر مظلوم قومیتوں کے حقوق کی جدوجہد میں میری جان بھی چلی جائے تو یہ میرے لئے فخر کی بات ہوگی ، الطاف حسین نہ تو غلام شہری کی طرح مرنا چاہتا ہے اور نہ ہی اپنے وطن میں بے وطنی کی زندگی گزارنا چاہتاہے۔انہوں نے کہاکہ ظلم کرنے والوں کو حضرت علی کرم اللہ وجہ کا قول یادرکھناچاہیے کہ کفر کی حکومت قائم رہ سکتی ہے لیکن ظلم وناانصافی کی حکومت کبھی قائم نہیں رہ سکتی ۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ بلوچوں اورمہاجروں کا کبھی کوئی جھگڑا نہیں رہا لیکن آئی ایس آئی نے کراچی کے قدیم علاقے لیاری کے چند منشیات فروشوں کو خرید کر قتل وغارتگری کرائی ، اسی طرح پنجابیوں، پختونوں اورسندھیوں کو مہاجروں سے لڑوایا تاکہ تمام قومیتیں مہاجروں سے متنفر ہوجائیں ۔ انہوں نے کہاکہ مہاجرکسی سے نفرت نہیں کرتے، اگر مہاجروں کی کسی قومیت سے دشمنی ہوتی تو وہ قیام پاکستان کی جدوجہد سے انکارکردیتے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم کسی قوم کے خلاف نہیں بلکہ ناانصافیوں کے خلاف ہیں۔انہوں نے کہاکہ امریکہ ، برطانیہ ، جرمنی اور دیگر ممالک کے قونصلیٹ جنرل ، سفارتخانوں، ہائی کمیشن اور ڈپٹی ہائی کمیشن کے دفاتر میں بلوچ، مہاجر، سندھی، پختون، سرائیکی اور گلگتی کوئی نظرنہیں آئے گااور ان دفاترمیں صرف صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والوں کی اجارہ داری ہے ۔ 
ہمیں پاکستان سے پیار ہے:
جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ چھوٹے صوبوں کے عوام کے ساتھ تعصب کا مظاہرہ کررہی ہے اور پھر نعرہ لگایا جاتا ہے کہ ’’ہمیں پیار ہے پاکستان سے ‘‘ یعنی چھوٹے صوبوں کے عوام کو ان کے جائز حقوق نہ دیئے جائیں، انہیں برابرکا پاکستانی نہ سمجھا جائے اورنعرے لگائے جائیں کہ ’’ہمیں پیار ہے پاکستان سے‘‘ ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ جب تک پاکستان پرفوج کا قبضہ ہے ، کسی بھی شہری کو پاکستان سے سچاپیار نہیں ہوسکتا ۔ پاکستان کو فوج نے نہیں بلکہ عوام نے بنایا ہے ، ملک میں جمہوریت ہوگی اور ملک کے تمام شہریوں کو بلاامتیاز رنگ ونسل ، زبان، مسلک ، عقیدہ اورمذہب مساوی حقوق ملیں گے اوربلوچستان کے عوام کو بھی ان کاجائز حق ملے گا تو ایسے پاکستان سے الطاف حسین سمیت تمام مہاجراوربلوچ عوام بھی پیارکریں گے ۔ صرف نعرے لگانے سے عوام ، پاکستان سے پیارنہیں کریں گے ۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ پاکستان کی فوجی جنتا اپنے شہری مہاجروں، بلوچوں اورپختونوں کا قتل عام کرے ، انہیں لاپتہ کرے ، مظلوموں کی اجتماعی قبریں بنائے ، ماؤں کے لعل چھین کر ان کی مسخ شدہ لاشیں سڑکوں پر پھینکے ، حقوق کی آوازبلندکرنے والوں کو گرفتارکرکے غداری کے مقدمات قائم کرے ، انہیں جیلوں میں قید کرے ، جوصحافی سچائی بیان کرے اسے قتل کردیا جائے اورگانے گائیں کہ ہمیں پیار ہے پاکستان سے ۔ انہوں نے مزیدکہاکہ فوج کے افسران مختلف جماعتوں کے ارکان کو دھمکیاں دیکر زبردستی پی ٹی آئی کے حق میں ووٹ ڈلوائیں ، انہیں دھمکی دیں کہ اپنی جماعت چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شامل ہوجاؤ کہ یہ ہے نیاپاکستان، نئے پاکستان میں پیرنی کی دعا سے عمران خان وزیراعظم بن گیا اوراب فوج اورپیرنی میں جھگڑا چل رہا ہے کہ عمران خان کو وزیراعظم کس نے بنایا۔
میڈیا پر فوج کا کنٹرول:
انہوں نے کہاکہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا فوج اورآئی ایس آئی کے کنٹرول میں ہیں ، میڈیا کے ایڈیٹوریل بورڈ میں فوجی افسر کسی بھی خبرکو نشرکرنے یا روکنے کا فیصلہ کررہا ہے ، مہاجروں اوربلوچوں کے خلاف خبریں شائع ونشر کی جارہی ہیں ، صحافی ولی خان بابر اور حضرت امجدصابریؒ کو لیاقت آبادمیں قتل کیاگیا تو اس کا الزام ایم کیوایم پر عائد کردیا گیا ۔ انہوں نے کہاکہ میں نے ہمیشہ کہاکہ ہر واقعہ کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائے اور اگر کسی واقعہ میں الطاف حسین کا سگابھائی بھی ملوث ہوتو ثبوت وشواہد کی روشنی میں اسے سزا دی جائے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ امجد صابری ؒ کو آئی ایس آئی نے جن جہادیوں کے ذریعہ قتل کرایا ہے میں اسکی تفصیل سے واقف ہوں اوربہت جلد اس سازش کا پردہ چاک کروں گا۔ 
کفایت شعاری اور صدارتی انتخاب:
جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان کے وزیراعظم اوران کی جماعت کی جانب سے کفایت شعاری کے بلندوبانگ دعوے کیے جاتے ہیں لیکن آج صدرپاکستان کا انتخاب ہوا ، پاکستان کے بچہ بچہ کو معلوم تھا کہ کون صدربنے گا ،پھر اس انتخاب کے سلسلے میں ارکان سینیٹ، قومی اورصوبائی اسمبلیوں کے ارکان کے آنے جانے اور دیگراخراجات کی مد میں کم ازکم 50 کروڑروپے خرچ کرنے کی کیاضرورت تھی، سیدھے سیدھے اعلان کردیا جاتا کہ تحریک انصاف کے عارف علوی صدر ہوں گے، یہ بے لگام اخراجات کرنے کی کیاضرورت تھی؟اس بھاری رقم سے ایک تعلیمی ادارہ بن سکتا تھا۔ 
انہوں نے کہاکہ قوم کو بتایاجائے کہ آئین میں صدرمملکت کے کیااختیارات ہیں؟ اگر صدر کا کوئی اختیار نہیں ہے تو صدر اور ایوان صدرکی کیاضرورت ہے ؟ پھرایوان صدرکی جگہ خواتین کے کالج یا انڈسٹریل ہوم کیوں نہ بنادیئے جائیں ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں الطاف حسین جیسا ایک بھی ایماندار لیڈر نہیں ملے گا جس نے فوج کے پیسے ٹھکرائے ہوں ، بریگیڈئیر امتیازاحمد آج بھی زندہ ہیں جو اس کی گواہی دے چکے ہیں اور دے سکتے ہیں۔ عمران خان کئی ماہ تک مسلسل کہتے رہے کہ ایمپائر کی انگلی اٹھ گئی لیکن اس وقت تمام ایمپائرز کی انگلیوں میں چوٹ لگ گئی تھی جس کی وجہ سے انگلی نہیں اٹھ سکی ، آرمی چیف جنرل باجوہ نے سڑک پر ہڈی جوڑنے کے کسی ماہر سے اپنی انگلی کی مالش کروائی اور جب آئی ایس آئی کا اشارہ ہوا تو ان کی انگلی سیدھی ہوگئی اور عمران خان کو وزیراعظم بنادیاگیا۔
پیپلزپارٹی کا کردار:
جناب الطاف حسین نے کہاکہ آصف علی زرداری ، بلاول بھٹوزرداری اور پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے آئی ایس آئی کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اور اپنی چوری چکاری بچانے ، نیب کی پیشیوں ، سزا ؤں اور ای سی ایل میں نام سے بچنے کیلئے اپوزیشن کے ساتھ نہیں ملے اورانہیں ملنا بھی نہیں تھا ، لیکن میں آصف علی زرداری سے کہتا ہوں کہ وہ میری بات لکھ کررکھ لیں کہ تم ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے آگے جتنا چاہے جھک جاؤ، سب کچھ کرنے کے بعد بھی تم بچ نہیں پاؤ گے ، تم نے غریب سندھیوں، بلوچوں ، پختونوں اورمہاجروں کا قتل عام کرایا ہے ، ان مظلوموں کی آہیں رنگ لائیں گی اورتم بھی ایک نہ ایک دن قانون کی گرفت میں آؤگے ۔
ارکان اسمبلی کو دھمکیاں:
جناب الطاف حسین نے کہاکہ عمران خان کو وزیراعظم بنانے کیلئے فوج کے بریگیڈئیر اور کرنل کی سطح کے افسران نے خود مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی کوجان سے مارنے کی دھمکیاں دیں کہ اگر عمران خان کوووٹ نہیں دیا تو سڑک پر روزانہ حادثات ہوتے رہتے ہیں ۔ یہ حقائق کوئی اینکرپرسن بیان نہیں کرتاکیونکہ اینکرپرسنز کے منہ کو حرام لگ چکا ہے اور 99 فیصد اینکرپرسنز اپنے ظرف وضمیرکا سودا کرچکے ہیں ، ان کے منہ سے آج تک نہیں سنا کہ فوج کوسیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ انہیں خوف ہے کہ اگر یہ بات کہی تو سلیم شہزا دکی طرح قتل کردیے جائیں گے یا حامد میر کی طرح گولیوں کا نشانہ بناکر زخمی کردیا جائے گا۔سینکڑوں صحافیوں کو قتل کیاجاچکا ہے لیکن صحافی سوسائٹی خاموش ہے ، اگرا ن کی جگہ میں صحافی ہوتا تو صحافت چھوڑ کر کوئی اور پیشہ اختیارکرلیتا مگرحرام نہیں کھاتا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ جس طرح پاکستان کی ہرجماعت کے لوگوں کو زورزبردستی سے تحریک انصاف میں شامل کرایاگیا ہے اسی طرح ماضی میں اسٹیبلشمنٹ نے ریاست قلات کا پاکستان سے زبردستی الحاق کرایا ۔ انہوں نے کہاکہ جب میں نے اپنی صفوں سے چوروں ، ڈاکوؤں، چائناکٹنگ کرنے اوربھتہ لینے والوں نکالا تو وہ ملک سے بھاگ گئے ، آئی ایس آئی ان جرائم پیشہ افراد کو دبئی سے کراچی لے آئی اوران کی جماعت بناکراسے ڈرائی کلین بنا۔ جرائم پیشہ افرادسے کہاگیا کہ وہ اس ٹولے میں شامل ہوجائیں تو ان کے تمام گناہ دھل جائیں گے ۔ بعض حق پرست صحافیوں نے اپنے تبصروں میں کہاہے کہ جس قاتل ، ڈاکو، چوراچکے اور لینڈمافیا سے تعلق رکھنے والے کو پاک صاف ہونا ہے وہ پی ایس پی میں شامل ہوجائیں ان کے ہرگناہ معاف ہوجائیں گے ۔ میں ایسے سچے اور حق گو صحافیوں کا کل بھی احترام کرتا تھا اورآج بھی انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ مہاجرقوم کے ضمیرفروشوں نے اپنے ظرف وضمیرکا سودا کیا،شہیدوں کے لہو سے غداری کی اورمہاجرقوم کودھوکہ دیا انہی ضمیرفروشوں نے منتخب ایوانوں میں الطاف حسین کے خلاف غداری کا مقدمہ بنانے اور پھانسی کی سزا کی قرارداد پیش کی ، ایسے مفادپرست اور ضمیرفروشوں کو کبھی معاف نہیں کیاجائے گا اور جوکوئی ان کی سفارش کرے گا اسے بھی تحریک سے خارج کردیاجائے گاکیونکہ مہاجرقوم کے غداروں کو معاف کرنا گناہ کبیرہ ہے ۔
بلوچوں کی جدوجہد:
جناب الطاف حسین نے کہاکہ بلوچ غیرت مند قوم ہیں ، وہ 1948ء سے اپنے حقوق کی جدوجہد کررہے ہیں اورآزادبلوچستان کیلئے اپنی جانوں کی قربانیاں پیش کرتے چلے آرہے ہیں ، انشاء اللہ ان کی قربانیاں رنگ لائیں گی اور وہ ایک دن اپنے مقصد میں ضرورکامیاب ہوں گے ۔ بلوچستان کا فیصلہ الطاف حسین یاکوئی اورنہیں بلکہ بلوچ عوام کریں گے ۔ انہوں نے کہاکہ بعض بلوچوں کی جانب سے کہاجاتا ہے کہ یہ مارا ماری ختم ہونی چاہیے لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ملک میں جومارا ماری ہے ، جو قتل وغارتگری ہے ، جو غنڈہ گردی ہے اس کے پیچھے فوج اورآئی ایس آئی کی وردی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ظلم وستم کے مسلسل عمل کے باعث غیرت مند بلوچوں نے’’ عضب‘‘ اٹھالی ہے، یہ سوچنا ارباب اختیارکاکام ہے کہ مظلوم بلوچوں نے یہ عمل کیوں کیا؟ اگر آرمی چیف جنرل قمرجاوید باوجوہ ، آئی ایس آئی کے چیف نوید مختار، سابق ڈی جی رینجرز بلال اکبراور موجودہ ڈی جی رینجرز محمد سعید کو بھی سوچنا چاہے کہ اگربلوچوں کی طرح انکے بیٹوں اور بھائیوں کو گرفتارکرکے قتل کردیاجائے اور ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینک دی جائیں توان کے دل پر کیاگزرے گی؟جناب الطاف حسین نے کہاکہ حقوق کیلئے جمہوری جدوجہد کا راستہ اختیار کرنے والے بلوچ رہنماؤں کو دیوار سے لگادیا گیا جس طرح الطاف حسین کو دیوار سے لگادیا گیا ہے ۔ اگر پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ مجھے سپورٹ کرتی تومیں پاکستان کوکرپشن فری معاشرہ اور ترقی یافتہ بنادیتا ، نہ خود چوری کرتا نہ کسی فوجی جرنیل کو چوری کرنے دیتا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ فوج کے جوافسران ظلم وستم نہیں کرتے اور ملک کی سلامتی کیلئے جان کی بازی لگانے سے گریز نہیں کرتے میں ان سے اپیل کرتا ہوں کہ خدارا ، ملک کو ناپاک کرپٹ فوجی افسروں سے نجات دلاکر پاکستان کو بچالو۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں ایک مرتبہ پھر واضح کرتا ہوں کہ میں سیاست میں حصہ لینے کوفوجی حلف سے غداری تصور کرنے والے ایماندار فوجی افسران کی نہ صرف آج بھی عزت کرتا ہوں بلکہ انہیں سیلوٹ پیش کرتا ہوں۔ میں کرپٹ فوجی جرنیلوں کے خلاف تھا ،ہوں اوررہوں گا،میںآج بھی اپنے حلف سے غداری کرنے اور سیاست میں مداخلت کرنے والے فوجی افسران پر لعنت بھیجتا ہوں کیونکہ جنہوں نے سیاست میں دخل اندازی کی اوربے گناہوں کا قتل عام کیا وہ اپنے حلف سے غداری کے مرتکب ہوکر کافر ہوگئے ۔ایسے جرنیلوں کو اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ کرعہد کرنا چاہیے کہ وہ اپنے عہدسے ہرگز غداری نہیں کریں گے ۔

*****


9/24/2018 7:58:15 PM