Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

بلوچوں نے بلوچستان کے پاکستان کے ساتھ جبری الحاق کو شروع دن سے قبول نہیں کیا ۔الطاف حسین


بلوچوں نے بلوچستان کے پاکستان کے ساتھ جبری الحاق کو شروع دن سے قبول نہیں کیا ۔الطاف حسین
 Posted on: 9/5/2018 1

بلوچوں نے بلوچستان کے پاکستان کے ساتھ جبری الحاق کو شروع دن سے قبول نہیں کیا ۔الطاف حسین
بلوچ عوام بلوچستان کی آزادی کے لئے 1948ء سے ہی جدوجہدکررہے ہیں
قائدتحریک الطاف حسین نے لیکچرمیں آغا عبدالکریم بلوچ ، محمد رحیم بلوچ ،نواب نو روزخان ،سردارشیرمحمدمری،نواب خیربخش مری ، سردارعطاء اللہ مینگل،میرغوث بخش بزنجو، اکبربگٹی اوردیگر بلوچ رہنماؤں کی قربانیوں اور جدوجہدپرروشنی ڈالی
مسلسل ریاستی مظالم نے بلوچ عوام کیلئے پرامن جدوجہد کے تمام راستوں اورامیدوں کوختم کردیا 
وہ بلوچ جوحقوق کیلئے جمہوری راستہ اختیار کرناچاہتے تھے ،اکبربگٹی کی شہادت نے انہیں بھی مسلح جدوجہد کرنے پر مجبورکردیا 
ایم کیوایم کے قائدالطاف حسین کا’’ مسئلہ بلوچستان اوراس کاتاریخی پس منظر ‘‘ کے موضوع پردوسرے لیکچرمیں اظہارخیال



لندن ۔۔ 5 ستمبر 2018ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ بلوچوں نے بلوچستان کے پاکستان کے ساتھ جبری الحاق کو شروع دن سے قبول نہیں کیا ہے اوروہ اسے بلوچستان پر بزورطاقت قبضہ تصورکرتے ہیں۔اسی لئے بلوچ عوام بلوچستان کی آزادی کے لئے 1948ء سے ہی جدوجہدکررہے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے یہ بات گزشتہ روز ’’ مسئلہ بلوچستان اوراس کاتاریخی پس منظر ‘‘ کے موضوع پر اپنے دوسرے لیکچرمیں اظہارخیال کرتے ہوئے کہی۔
جناب الطاف حسین لیکچرکے اس سلسلے میں مسئلہ بلوچستان کی تاریخ ،اس کے پس منظراور اس کے تاریخی پہلوؤں کوبیان کررہے ہیں ۔انہوں نے اپنے پہلے لیکچرمیں بلوچستان کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی تفصیلات تاریخی واقعات اور ثبوت وشواہد کی روشنی میں بیان کیں۔ اپنے دوسرے لیکچر میں انہوں نے گزشتہ لیکچر کاخلاصہ پیش کیااوربلوچستان کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے خلاف بلوچ عوام کی جانب سے مختلف ادوار میں کی جانے والی مسلح جدوجہد، بلوچ قوم پر ہونے والے مظالم اوران کے ساتھ کی جانے والی ناانصافیوں اورزیادتیوں کی تاریخ پر تفصیل سے روشنی ڈالی ۔ اس لیکچر میں تاریخی واقعات کی وڈیوز، تصاویر ،نقشے اورملکی و بین الاقوامی اخبارات کے تراشے بھی پیش کئے گئے ۔
بلوچ عوام کی جانب سے کی جانے والی مسلح جدوجہد پروشنی ڈالتے ہوئے جناب الطاف حسین نے کہاکہ جولائی1948ء میں خان آف قلات سرداراحمد یار خان کے بھائیوں پرنس آغا عبدالکریم بلوچ اور محمد رحیم نے بلوچستان کے پاکستان سے الحاق کے خلاف بغاوت کردی اوربلوچستان کی آزادحیثیت بحال کرنے کیلئے مسلح جدوجہد شروع کردی۔ ان کی جانب سے یہ مسلح جدوجہد 1950 ء تک جاری رہی۔ بلوچستان میں فوج کشی کے خلاف 1950ء کے بعد بھی بلوچ قوم پرستوں کی جانب سے مسلح جدوجہد کا سلسلہ مختلف ادوار میں جاری رہا۔یہ مسلح جدوجہد1958-1959 ،پھر1962-1963 ، پھر 1973 سے 1977ء کے درمیان ہوئیں۔ حالیہ مسلح جدوجہد 2004ء سے شروع ہوئی جو تاحال جاری ہے ۔ 


جناب الطاف حسین نے لیکچرمیں کئی بلوچ رہنماؤں کی قربانیوں اوران کی قیادت میں کی جانے والی جدوجہدپرروشنی ڈالی اورانہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ بلوچستان کے غصب شدہ حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والوں میں کئی رہنماسامنے آئے جنہوں نے بلوچ قوم کے حقوق اوراس کی خودمختاری کے لئے جراتمندانہ جدوجہد کی ۔بزرگ بلوچ رہنمانواب نو روزخان شہید کی قربانی کوبیان کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ 8 اکتوبر1958ء کوپاکستان میں جنر ل ایوب خان نے پاکستان میں پہلامارشل لاء نافذ کیا۔ مارشل لاء نافذ ہوتے ہی 11 اکتوبر1958ء کوقلات پر ایک بارپھرفوجی ایکشن شروع کردیاگیا۔ فوج نے خان آف قلات نواب احمدیارخان کے گھرپر حملہ کیاجس میں ان کے تین محافظ شہیداورکئی زخمی ہوئے۔ فوج نے خان آف قلات کوگرفتارکرکے لاہورمیں قیدکردیا جبکہ ان کے گھرکی خواتین اوردیگراہل خانہ کوقلات بدرکرکے پنجاب بھیج دیاگیا۔فوج نے خان آف قلات کے گھرپر قبضہ کرکے لوٹ مار بھی کی ۔ اس فوجی ایکشن کے خلاف بلوچ عوام میں شدیدغم وغصہ کی لہردوڑگئی۔ بزرگ بلوچ رہنما نواب نوروز خان نے فوجی جارحیت کے خلاف مسلح مزاحمت شروع کردی اوراپنے ساتھیوں کے ہمراہ پہاڑوں پرچلے گئے۔اس مسلح مزاحمت کوکچلنے کے لئے فوجی ایکشن کی سربراہی لیفٹننٹ کرنل ٹکاخان کررہا تھا۔ نواب نوروزخان کی قیادت میں یہ مسلح مزاحمت ایک سال تک جاری رہی ۔جب فوج جنگ کے ذریعے اس مزاحمت کوختم نہ کرسکی تو15، مئی 1959ء کوفوجی حکومت کے نمائندوں نے قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر قسم کھاکریہ یقین دلایا کہ اگرنواب نوروزخان اوران کے قریبی ساتھی اپنی کارروائیاں ترک کردیں توان کااستقبال کیا جائے گا،انہیں عام معافی دی جائے گی اوربلوچوں کے مطالبات پرسنجیدگی سے غورکیاجائے گا ۔جب سردار نوروز خان اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پہاڑوں سے اترے تو انہیں گرفتارکرلیاگیا۔ تمام افراد پرحیدرآباد جیل میں غداری کا مقدمہ چلایا گیا۔ 15، جولائی 1960ء کو نواب نوروز خان کے بیٹے اوربھتیجوں کو غداری کے مقدمہ میں پھانسی دیدی گئی ۔ جن میں میرولی محمدزرک زئی ،میرغلام رسول ،میرسبزل خان زہری ،میرمستی خان ،میربہاول خان، میرجمال خان اورنواب نوروز خان کے صاحبزادے میربٹے خان شامل ہیں۔ 90سالہ نواب نوروزخان کیلئے بھی پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی لیکن ان کی سزائے موت کوعمرقیدمیں تبدیل کردیا گیا۔ نواب نوروزخان کے قریبی ساتھیوں میرجلال خان زرک زئی ،میربھاہندخان ،میرمحمدعمر ، اور میردل مرادکو عمرقید کی سزادی گئی ۔ 25دسمبر1965ء کونواب نوروز خان جیل میں اپنی اسیری کے دوران انتقال کرگئے۔اس موقع پر سردار نوروزخان کی جدوجہد کے حوالہ سے دستاویزی فلم بھی پیش گئی۔ 
جناب الطا ف حسین نے مسلح جدوجہد کرنے والے ایک اور بلوچ رہنماسردارشیرمحمدمری کی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایاکہ میر شیرمحمد مری بلوچستان کے علاقے کوہلومیں پیدا ہوئے ۔ انہیں بابو شیرو۔۔۔شیرومری۔۔۔ جنرل شیرف۔۔۔ اور بلوچ ٹائیگر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ۔وہ مری قبیلے کے سردار اور فراری تحریک کے ابتدائی رہنماؤں میں شمار کیے جاتے تھے جوکہ بعد میں بلوچ لبریشن آرمی کے قیام کی بنیاد بنی۔ مارکسسٹ نظریات رکھنے کے باعث میرشیرمحمد مری کے کابل اور ماسکو حکومت سے قریبی مراسم تھے ۔شیرمحمد مری پہلے بلوچ لیڈر تھے جنہوں نے مسلح مزاحمت میں گوریلا جنگ کے جدید طریقے استعمال کیے۔ ان کی جانب سے کی جانے والی مسلح مزاحمت 1967ء میں عام معافی کے اعلان تک جاری رہی۔ 1973ء میں شیرمحمد مری کو ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خلاف جدوجہد کرنے پر گرفتارکرلیا گیا۔ انہیں چند سال کے بعد رہا کیاگیا۔رہائی کے بعدانہوں نے افغانستان میں جلاوطنی اختیار کی۔ افغانستان کی کمیونسٹ حکومت کے خاتمے کے بعد شیرمحمد مری تھوڑے عرصے کیلئے پاکستان آئے اور انہوں نے بلوچ قومی تحریک (BNM ) کی بنیادرکھی۔ 11، مئی 1993ء کو وہ علالت کے باعث انتقال کرگئے ۔


ایک روزبلوچ رہنمانواب خیربخش مری کی زندگی پرروشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے بتایاکہ نواب خیربخش مری 28فروری 1928ء کوپیداہوئے ۔ وہ مری قبیلے کے سردارتھے ۔ انہوں نے بھی بلوچستان کے حقوق کے لئے طویل جدوجہد کی ۔ 1973ء میں ذوالفقارعلی بھٹو نے بلوچستان اور صوبہ سرحد جواس وقتNWFP کہلاتاتھا،کی صوبائی حکومتیں برطرف کردیں اوران علاقوں میں مارشل لاء نافذ کرکے ایک بارپھرفوجی ایکشن شروع کردیا۔بھٹونے بلوچستان میں آپریشن کے لئے جنرل ٹکاخان کوتعینات کیا۔ یہ جنرل ٹکاخان وہی ہے جس نے 1958ء میں بھی بلوچستان میں آپریشن کی سربراہی کی تھی اور1971ء میں سابقہ مشرقی پاکستان میں بنگالیوں کاقتل عام کیاتھااوریہ کہاتھا ’’ مجھے بنگالی عوام نہیں بلکہ یہ زمین چاہیے ‘‘ ۔ بھٹوحکومت کے اس آپریشن کے خلاف نواب خیربخش مری نے بلوچستان پیپلز لبریشن فرنٹ قائم کی ۔ مری اورمینگل قبائل کی جانب سے بڑے پیمانے پر گوریلا جنگ شروع ہوگئی ۔فوجی آپریشن کے دوران نواب خیربخش مری کوگرفتارکرکے قید کیاگیا۔ رہائی کے بعدنواب خیربخش مری کو بھی کئی سال جلاوطنی میں زندگی گزارنی پڑی۔ ان کاانتقال 10جون 2014ء کو86برس کی عمرمیں کراچی میں ہوا۔ 


سردارعطاء اللہ مینگل کی جدوجہدپر روشنی ڈالتے ہوئے جناب الطاف حسین نے بتایاکہ بلوچستان میں فوجی آپریشن کے خلاف آوازاٹھانے اور جدوجہد کرنے پر سردارعطاء اللہ مینگل کوبھی گرفتارکرکے ان پر بھی غداری کا مقدمہ چلایا گیا۔ اس جدوجہد کی پاداش میں سردارعطاء اللہ مینگل کے ایک بیٹے کو گرفتار کرکے ماورائے عدالت قتل کردیاگیا ، ان کی لاش بھی ان کے ورثاء کے حوالے نہیں کی گئی ۔ اسی طرح بلوچستان میں فوج کشی کے خلاف آوازاٹھانے پر میرغوث بخش بزنجوپر بھی مقدمہ چلایاگیا اورانہیں بھی قید کیاگیا۔ 


جناب الطاف حسین نے بلوچستان کے ایک اورسینئرسیاستداں اوربزرگ بلوچ رہنما نواب اکبر خان بگٹی شہیدکی زندگی پربھی تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ نواب اکبر خان بگٹی بلوچستان کے ایک بڑے اوراصول پسند رہنماتھے۔ان کاانداز مصالحانہ تھا، انہوں نے اپنے مصالحانہ رویے کے ذریعے بہت کوشش کی کہ بلوچستان کے زخموں پر مرہم رکھاجائے ۔انہوں نے اس مقصد کیلئے جمہوری راستے بھی اختیارکئے ، ان کی جمہوری وطن پارٹی نے انتخابات میں حصہ بھی لیا اوربلوچستان کے لئے ایک طویل جمہوری جدوجہد کی۔ وہ بلوچستان کے گورنراوروزیراعلیٰ بھی رہے ۔انہوں نے بلوچستان کواس کے معدنی وسائل میں اس کی رائلٹی اورحقوق دلانے کے لئے پرامن کوششیں کیں۔3، جنوری2005ء کو ایک بلوچ بیٹی ڈاکٹرشازیہ خالدکو ایک فوجی افسرکیپٹن حمادکی جانب سے زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کے واقعہ پر نواب اکبربگٹی شہید نے شدیداحتجاج کیااوراس بچی کوانصاف دلانے کیلئے سخت اوراصولی مؤقف اختیار کیا ۔نواب اکبربگٹی فوج کی زیادتیوں پرکھل کرآوازبلندکررہے تھے اسی لئے فوج کی جانب سے انہیں اوران کے حامی بلوچ عوام کوریاستی مظالم کانشانہ بنایا جانے لگا۔ڈیرہ بگٹی اوراردگردکے علاقوں میں فوج کی جانب سے مظالم کے واقعات بڑھنے لگے۔نواب اکبربگٹی نے بلوچستان آنے والے وفاقی حکومت کے وفودسے ملاقاتیں کرکے مظالم بندکرنے اور معاملات کوپرامن اندازمیں حل کرنے کی بہت کوشش کی لیکن اسٹیبلشمنٹ نے اپناطرزعمل نہ بدلا ۔ 11جنوری 2006ء کوڈیرہ بگٹی کے علاقے لوپ میں فوج نے 12معصوم بلوچوں کو بیدردی سے گولیاں مارکرشہیدکردیا،ان کی لاشیں بھی اپنے ساتھ لے گئے ،اوران کے گھروں کوآگ لگادی۔ڈیرہ بگٹی کے علاقے میں مسلسل بمباری بھی کی گئی۔ظلم وبربریت کے اس واقعہ نے نواب اکبربگٹی جیسے صلح جو اور مفاہمانہ سوچ رکھنے والے بزرگ رہنماکوبھی ان مظالم کے خلاف میدان میں آنے پر مجبورکردیا۔فوج کے مظالم مزید بڑھے تونواب اکبربگٹی نے بھی ان مظالم کے خلاف علم بغاوت بلندکردیااوراپنے بزرگوں کی روایت کوبرقراررکھتے ہوئے پہاڑوں پر چلے گئے اور بلوچ قوم کی آزادی کے لئے حریت پسندی کا راستہ اختیار کرلیا۔ وہ نواب اکبربگٹی جنہوں نے وفاق کاہرممکن ساتھ دیا، فوج کوان جیسے صلح جواورمفاہمانہ سوچ رکھنے والے بزرگ رہنما پر بھی کوئی رحم نہ آیا ۔ ان کی بات سننے کے بجائے 26، اگست2006ء کو فوج نے بھنبھور کے علاقے چلگری کی پہاڑیوں پر بڑے پیمانے پر بمباری کی اور آپریشن کے دوران 73سالہ نواب اکبر بگٹی اوران کے کئی قریبی ساتھیوں کوشہید کردیاگیا۔ نواب اکبر بگٹی جیسے بزرگ رہنما کی شہادت کے اس سانحہ نے بزرگ بلوچ رہنما نواب نوروزخان اوران کے بیٹوں اورساتھیوں کی شہادت کے عظیم سانحہ کودہرادیا۔ اس واقعہ نے بلوچستان کے عوام میں اپنے حقوق کے حصول اور آزادی کیلئے پرامن جدوجہد کے تمام راستوں اورامیدوں کوختم کردیا۔ وہ بلوچ جوحقوق کے لئے جمہوری راستہ اختیار کرنا چاہتے تھے ،اکبربگٹی کی شہادت کے واقعہ نے ان بلوچوں کو بھی دیوارسے لگادیااورانہیں بھی مسلح جدوجہد کرنے اورہتھیاراٹھانے پر مجبورکردیاگیا۔آج بلوچ عوام اپنی آزادی اورخودمختاری کیلئے جانی ومالی قربانیاں دے رہے ہیں۔ 26اگست 2018ء کونواب اکبرخان بگٹی شہید کی بارہویں برسی منائی گئی ۔ اکبربگٹی شہیدکوخراج عقیدت پیش کرنے کے ایم کیوایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ میں بھی فاتحہ خوانی کی گئی ۔ہم اکبربگٹی شہید کو ان کی قربانیوں پر خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ ’’ مسئلہ بلوچستا ن اوراس کے تاریخی پس منظر ‘‘ کے موضوع پر جناب الطاف حسین کے یہ فکرانگیز لیکچر جاری ہیں ۔ اس سلسلے کاتیسرا لیکچر ہفتہ 7 ستمبر 2018ء کو ہوگا۔ 
*****


9/24/2018 8:23:37 PM