Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

بلوچ عوام اپنی آزادی اورخودمختاری مانگ رہے ہیں مگر ان کی آواز کوطاقت سے کچلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔الطاف حسین


بلوچ عوام اپنی آزادی اورخودمختاری مانگ رہے ہیں مگر ان کی آواز کوطاقت سے کچلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔الطاف حسین
 Posted on: 9/2/2018 1

بلوچستان کبھی بھی پاکستان کاحصہ نہیں تھا، اسے طاقت کے زورپر پاکستان میں شامل کیاگیا۔الطاف حسین 
قلات کااپناوزیراعظم، اپنی حکومت اوراپنی پارلیمنٹ تھی جسے دارالعوام اوردارالامراکہاجاتاتھا۔الطاف حسین
آزاداورخودمختارریاست کی حیثیت سے کراچی میں قلات کا سفارتخانہ قائم تھاجس پر آزادریاست قلات کا پرچم لہراتاتھا 
قائداعظم نے 11 اگست 1947ء کوقلات کو ’’آزاد اور خودمختار ریاست‘‘ تسلیم کرلیاتھا لیکن اسٹیبلشمنٹ دباؤ کی وجہ سے قائد اعظم بھی اکتوبر1947ء میں اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹ گئے
قلات کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں دارالعوام اوردارالامرانے پاکستان سے الحاق کی تجویزکومتفقہ طورپر مسترد کردیا تھا 
27مارچ 1948ء کوقلات پر فوج کشی کرکے خان آف قلات کوگن پوائنٹ پر پاکستان سے الحاق کرنے پر مجبورکیاگیا۔الطاف حسین
فوج اوراس کے منسلک اداروں نے بندوق کے زورپر بلوچستان کومقبوضہ علاقہ بنارکھاہے۔الطاف حسین
بلوچ عوام اپنی آزادی اورخودمختاری مانگ رہے ہیں مگر ان کی آواز کوطاقت سے کچلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔الطاف حسین
ایم کیوایم کے قائدالطاف حسین کا’’مسئلہ بلوچستان اوراس کاتاریخی پس منظر‘‘ کے موضوع پر خصوصی لیکچر

لندن ۔۔۔ 2 ستمبر 2018ء
ایم کیوایم کے بانی وقائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ تاریخی طورپربلوچستان کبھی بھی پاکستان کاحصہ نہیں تھا،اس کی حیثیت ایک آزاد اور خودمختار ریاست کی تھی، مارچ 1948ء میں فوج کشی کرکے طاقت کے زورپر بلوچستان کوپاکستان سے الحاق کرنے پر مجبورکیاگیا ۔فوج اوراس کے منسلک اداروں نے بندوق کے زورپر بلوچستان کومقبوضہ علاقہ بنارکھاہے اوراپنی آزادی اورخودمختاری کاحق مانگنے پر بلوچ قوم کوریاستی مظالم کانشانہ بنایاجارہاہے ۔ فوج کے تمام ایمانداراورمحب وطن جرنیلوں اورنان کمیشنڈ افسران کو یہ سوچنا ہوگاکہ آیاانہیں پاکستان کوبچاناہے یاکرپٹ جرنیلوں کے قبضہ میں رکھناہے ،اگرانہیں پاکستان کوبچاناہے تو ملک کو کرپٹ جرنیلوں کے کنٹرول سے آزادکراناہوگا۔جناب الطاف حسین نے ان خیالات کااظہارہفتہ کو’’مسئلہ بلوچستان اوراس کاتاریخی پس منظر‘‘ کے موضوع پر اپنے خصوصی لیکچر میں کیا۔ اس لیکچر میں ان کامخاطب خصوصی طورپربلوچ قوم کے نوجوان اورطلبہ وطالبات تھے ۔ جناب الطاف حسین نے اس سلسلے کے اپنے پہلے لیکچر میں مسئلہ بلوچستان کی تاریخ ،اس کے پس منظراور اس کے تاریخی پہلوؤں کوبیان کیا ۔انہوں نے بلوچستان کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی تفصیلات تاریخی واقعات اور ثبوت وشواہد کی روشنی میں بیان کیں۔اس موضوع پر اگلا لیکچر منگل 4 ستمر کو ہوگا۔ اپنے اگلے لیکچر میں وہ بلوچ قوم پر ہونے والے مظالم اوران کے ساتھ کی جانے والی ناانصافیوں اورزیادتیوں کی تاریخ پر تفصیل سے روشنی ڈالیں گے ۔ 

نقشہ کے ذریعے بلوچستان کے محل وقوع پر روشنی ڈالتے ہوئے جناب الطاف حسین نے کہاکہ بلوچستان کے شمال مشرق میں پنجاب اور خیبرپختونخوا جبکہ جنوبی مشرق میں صوبہ سندھ واقع ہے۔بلوچستان کے جنوب میں بحیرہ عرب، مغرب میں ایران جبکہ جنوب مغرب میں افغانستان واقع ہے۔بلوچستان کارقبہ 3لاکھ، 47 ہزار190 کلومیٹراسکوائر ہے جوکہ پاکستان کے کل رقبہ کا 44 فیصد ہے۔بلوچستان رقبہ کے لحاظ سے پاکستان کاسب سے بڑا صوبہ ہے ۔ بلوچستان کی آبادی 13 ملین کے قریب ہے۔2017ء کی مردم شماری کے مطابق بلوچستان کی آبادی ایک کروڑ ، 23 لاکھ،44ہزار408 ہے جبکہ بلوچستان اوردیگرعلاقوں میںآبادبلوچوں کی آبادی 3کروڑسے کم نہیں ۔انتظامی لحاظ سے صوبہ بلوچستان 32 ڈسٹرکٹس ،6 ڈویژن اور137 تحصیل پر مشتمل ہے۔
بلوچستان کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے جناب الطاف حسین نے کہاکہ 15ویں صدی میں میرچاکر خان رندافغان اورپاکستانی بلوچستان کے پہلے سردار بنے ۔خطہ میں برطانوی راج آیاتو1875ء میں سلطنت برطانیہ اور بلوچ قبائل کے درمیان قلات معاہدہ طے پایاگیا۔اس معاہدے کے تحت مکران ، خاران ، لسبیلہ اور قلات کو Princely states یعنی برطانوی تحفظ میں آزاد ریاستوں کا درجہ دیاگیا ۔تاہم ان ریاستوں کی حیثیت ہندوستان کی ریاستوں سے مختلف تھی۔ جب سلطنت برطانیہ کی جانب سے ہندوستان کواختیارات کی منتقلی کامعاملہ آیاتواس وقت بھی بلوچستان ہندوستان کاکوئی صوبہ نہیں تھا بلکہ بلوچستان کی ایک علیحدہ اورجداگانہ حیثیت تھی۔ اس سلسلے میں انہوں نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمزمیں شائع ہونے والی خبرکاتراشہ بھی پیش کیا۔ 

1893 ء میں سلطنت برطانیہ کی جانب سے چترال سے بلوچستان کے آخری کونے تک موجودہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان Durand Line بنائی گئی اوراس خطے میں تقسیم کی ایک لکیرکھینچی گئی۔ 
جناب الطا ف حسین نے اپنے لیکچر میں تاریخی واقعات اورثبوت وشواہد کے ساتھ اس معاملے پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی کہ بلوچستان کوکس طرح پاکستان میں شامل کیاگیا۔ جناب الطاف حسین نے بتایاکہ قیام پاکستان سے تین ماہ قبل سلطنت برطانیہ کے نمائندے، خان آف قلات میریارمحمد خان اورقائداعظم محمد علی جناح کے درمیان کئی مشترکہ اجلاس ہوئے جس میں سلطنت برطانیہ سے آزادی کے بعد برٹش بلوچستان کی حیثیت کے بارے میں تفصیلی مذاکرات ہوئے ۔ ان مذاکرات کے بعد11 اگست 1947ء کوایک باقاعدہ اعلامیہ جاری کیاگیا جس میں کہاگیا، 
(a)’’ حکومت پاکستان قلات کو ایک آزاد اورخودمختار ریاست کی حیثیت سے تسلیم کرتی ہے ، حکومت برطانیہ کے ہندوستان کی ر یاستوں کے علاوہ دیگرریاستوں سے تعلقات کے جو معاہدے ہیں قلات کی حیثیت اس سے جداگانہ ہوگی۔ 
(b) سلطنت برطانیہ اورریاست قلات کے مابین طے شدہ معاہدوں کواپنانے کے بارے میں حکومت پاکستان قانونی رائے لے گی ۔
(c) پاکستان اورقلات کے مابین حتمی معاہدہ تک ریاست قلات کی حیثیت جوں کی توں رہے گی۔
(d) دفاع، خارجہ امور اورمواصلات کے بارے میں فیصلہ پر پہنچنے کے لئے جلد ہی پاکستان اورقلات کے درمیان کراچی میں بات چیت ہوگی ۔

14 اگست 1947ء کوپاکستان معرض وجودمیں آیا ۔اگلے روز یعنی 15 اگست 1947ء کوخان آف قلات میریارمحمدخان نے بھی ایک عوامی تقریر میں بلوچستان کی آزادی کااعلان کیا جس کے بعد وہاں عام انتخابات کرائے گئے ۔نیشنل پارٹی نے ان انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل کی اور نوابزادہ ایم اسلم قلات کے وزیراعظم منتخب ہوئے ۔ قلات کی پارلیمنٹ برطانوی طرزپر دوایوانوں پر مشتمل تھی جنہیں ’’ دارالعوام ‘‘ اور ’’ دارالامراء ‘‘ کہا جاتاتھا۔ایک آزاداورخودمختارریاست کی حیثیت سے اس وقت کے وفاقی دارالحکومت کراچی میں قلات کا باقاعدہ سفارتخانہ بھی قائم کیاگیاتھاجس پر آزادریاست قلات کا پرچم بھی لہراتاتھا۔اس سلسلے میں جناب الطاف حسین نے پاکستان کے ممتاز انگریزی روزنامہ دی نیشن میں شائع ہونے والا ایک مضمون اورآزاد ریاست قلات کے جھنڈے کی تصویربھی پیش کی ۔ 
بلوچستان کے پاکستان کے الحاق کی اصل تاریخ بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ستمبر1947ء میں قلات کے وزیراعظم نوابزادہ ایم اسلم اوروزیرخارجہ ڈی وائی فیل D. Y. FELL قائداعظم اورخان آف قلات کے مابین طے ہونے والے معاہدے کے تحت دونوں ریاستوں کے آئندہ کے معاملات پر حکومت پاکستان کے حکام سے مذاکرات کے لئے دارالحکومت کراچی آئے لیکن حکومت پاکستان کی جانب سے ان پر دباؤ ڈالا گیاکہ قلات پاکستان سے الحاق کرے۔ حالانکہ قائداعظم محمدعلی جناح نے 11 اگست 1947ء کوقلات کوایک ’’آزاد اور خودمختار ریاست‘‘ تسلیم کرلیاتھا لیکن اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ اورفوج کے دباؤ کی وجہ سے قائد اعظم محمدعلی جناح بھی اکتوبر1947ء میں اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹ گئے۔اس کے بعد خان آف قلات ،قائداعظم کی دعوت پرکراچی آئے تاکہ قلات اورپاکستان کے درمیان طے شدہ معاہدے پر بات کریں لیکن اس دورے میں بھی دونوں ریاستوں کے مابین معاہدے پر بات کرنے کے بجائے خان آف قلات سے کہاگیاکہ وہ پاکستان سے الحاق کریں۔ خان آف قلات نے اس سے انکارکردیااورجواب دیا ’’بلوچستان مختلف قبائل کاوطن ہے اوروہ اس بارے میں خودکوئی فیصلہ نہیں کرسکتے، وہ پہلے قلات کی پارلیمنٹ سے بات کریں گے پھراس بارے میں کوئی جواب دیں گے ‘‘ ۔ 
خان آف قلات نے اس بارے میں رائے لینے کے لئے 12دسمبر1947ء کوریاست قلات کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں یعنی دارالعوام کااجلاس بلایا۔ دوروز کی بحث کے بعد 14دسمبر1947ء کودارالعوام نے پاکستان سے الحاق کی تجویزکومتفقہ طورپرمستردکردیااورمتفقہ طورپرایک قراردادمنظورکی جس میں کہاگیاتھا،

’’ پاکستان کے ساتھ الحاق کا نہیں بلکہ دوستانہ تعلقات کامعاہدہ ہوناچاہیے اوریہ تعلقات ویسے ہی ہونے چاہئیں جیسے دوآزاداورخودمختارریاستوں کے مابین ہوتے ہیں‘‘ ۔ 4جنوری 1948ء کوقلات کی پارلیمنٹ کے ایوان بالا دارالامراء نے بھی ایک قراردارمنظور کی اورپاکستان سے الحاق کومستردکردیا۔ اس کے بعد قلات کے وزیراعظم نوابزادہ ایم اسلم نے کراچی جاکرقائداعظم سے ملاقات کی اور انہیں قلات کی پارلیمنٹ کے فیصلے سے آگاہ کیا۔ 2 فروری 1948ء کوقائداعظم کی جانب سے قلات کے وزیراعظم نوابزادہ ایم اسلم کو خان آف قلات احمد یارخان کے نام ایک خط دیا گیااور ان سے واضح الفاظ میں کہاگیا کہ وہ فوری طورپر پاکستان سے الحاق کریں۔ اس دوران پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے دباؤ اورمختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے دیگر ریاستوں خاران ، مکران اور لسبیلہ کو پاکستان سے الحاق پرآمادہ کرلیااورساتھ ہی خان آف قلات پر پاکستان سے الحاق کیلئے دباؤ بڑھادیاگیالیکن خان آف قلات نے آزاد ریاست برقراررکھنے کا فیصلہ کیا۔21فروری 1948ء کوقلات کے ایوان زیریں دارالعوام نے پاکستان سے الحاق نہ کرنے اورپاکستان سے مستقبل کے تعلقات کے حوالے سے معاہدہ کرنے کیلئے مذاکرات کرنے کافیصلہ کیا۔ 9 مارچ 1948ء کوخان آف قلات کوقائداعظم کاایک خط موصول ہواجس میں انہوں نے اپنی معذوری ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ وہ اب ریاست قلات سے زاتی طورپرمذاکرات نہیں کرسکتے بلکہ اب یہ معاملہ حکومت پاکستان دیکھے گی۔ قائداعظم پاکستان کے نہ صرف بانی تھے بلکہ گورنرجنرل بھی تھے جوریاست کا اعلیٰ ترین منصب تھالیکن فوج اوراسٹیبلشمنٹ نے قائداعظم کوریاست قلات سے براہ راست مذاکرات سے روک دیا اور ریاست قلات کے امورکوڈیل کرنے کیلئے ایک فوجی افسر کرنل ایس بی شاہ کو مقرر کردیا گیا ۔ اسٹیبلشمنٹ کے فیصلے کے تحت26مارچ 1948ء کوپاکستان کی فوج کوبلوچستان کے ساحلی علاقوں پسنی، جیوانی اورتربت میں بھیج دیا گیا ۔ اگلے ر وز یعنی 27مارچ کوریاست قلات پر چڑھائی کرکے خان آف قلات سرداراحمد یار خان سے گن پوائنٹ پر پاکستان سے الحاق نامہ پر دستخط کرائے گئے ۔اس طرح قلات کو طاقت کے زورپر پاکستان سے الحاق کرنے پر مجبورکیاگیا اور دارالحکومت کراچی میں سرکاری طورپر یہ اعلان کردیا گیاکہ خان آف قلات اپنی ریاست کوپاکستان میں شامل کرنے پر راضی ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ قلات کی دونوں اسمبلیاں،یعنی دارالعوام اوردارالامرا پاکستان سے الحاق نہ کرنے کی متفقہ طور پر قرارداد منظورکرچکی تھیں اور سلطنت برطانیہ نے بھی بلوچستان کوانڈیا کے ماتحت نہیں کیاتھابلکہ اسے علیحدہ ریاست کے طورپرآزاد کیاتھا۔

جناب الطاف حسین نے کہاکہ تاریخی حقائق سے ثابت ہے کہ بلوچستان قیام پاکستان سے پہلے بھی آزاد اورخودمختارریاست تھی اورقیام پاکستان کے بعد بھی آزادتھا اور ایک آزاد ریاست کی حیثیت سے رہناچاہتاتھالیکن اسے طاقت کے زورپر پاکستان میں شامل کیاگیا،بلوچستان کوزورزبردستی سے شامل رکھنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے ۔ فوج اوراس کے منسلک اداروں نے بندوق کے زورپر بلوچستان کومقبوضہ علاقہ بنارکھاہے،بلوچ عوام اپنی آزادی اورخودمختاری مانگ رہے ہیں مگر بلوچ قوم کواس کاحق دینے کے بجائے ریاستی مظالم کانشانہ بنایاجارہاہے اوران کی آواز کوطاقت سے کچلنے کی کوشش کی جارہی ہے ، یہی بلوچستان کامسئلہ ہے ۔ انہوں نے کہاکہ آج فوج کے تمام ایمانداراورمحب وطن جرنیلوں اورنان کمیشنڈ افسران کو یہ سوچنا ہوگاکہ آیاانہیں پاکستان کوبچاناہے یا اسے کرپٹ جرنیلوں کے قبضہ میں رکھناہے ، اگرانہیں پاکستان کوبچاناہے توپاکستان کو کرپٹ جرنیلوں کے کنٹرول سے آزادکراناہوگا۔ 
*****


9/24/2018 9:56:58 PM