Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پاکستان میں جمہوریت نہیں ہے بلکہ آرمی کریسی یا فیوڈوکریسی ہے،ظلم اور ناانصافیوں کا سلسلہ اب مزید نہیں چل سکتا یوتھ، نوجوان بچے ، بچیوں اور طلباوطالبات کیلئے لیکچر کے سلسلے میں سوشل میڈیا کے ذریعہ براہ راست خطاب


اگر دھاندلی زدہ الیکشن کالعدم قرارنہیں دیے گئے تو جمہوریت ختم ہوجائے گی اورملک ٹوٹ جائے گا۔الطاف حسین
 Posted on: 8/13/2018


اگر دھاندلی زدہ الیکشن کالعدم قرارنہیں دیے گئے تو جمہوریت ختم ہوجائے گی اورملک ٹوٹ جائے گا۔الطاف حسین
یہ مذاق ہے کہ ایک کوتوچورکہہ کرجیل میں ڈال دیاگیاہے جبکہ باقی چوروں کو پاک صاف قراردے کرگلے لگالیاگیا 
تمام پاکستانی اٹھیں اورپاکستان کوکرپٹ جرنیلوں سے نجات دلائیں
مسلح افواج کے محب وطن ، غیرت مند اور ایماندار فوجی افسران ہماری رہنمائی کریں 
پاکستان میں جمہوریت نہیں ہے بلکہ آرمی کریسی یا فیوڈوکریسی ہے،ظلم اور ناانصافیوں کا سلسلہ اب مزید نہیں چل سکتا
یوتھ، نوجوان بچے ، بچیوں اور طلباوطالبات کیلئے لیکچر کے سلسلے میں سوشل میڈیا کے ذریعہ براہ راست خطاب


لندن ۔۔۔13،اگست 2018ء
ایم کیوایم کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ حالیہ الیکشن میں عوام کی رائے پر تاریخ کاسب سے بڑا ڈاکہ ڈالاگیاہے ،اگر یہ دھاندلی زدہ الیکشن کالعدم قرارنہیں دیے گئے توملک سے جمہوریت ختم ہوجائے گی ، عوام باہر آجائیں گے اورملک ٹوٹ جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ اس سے بڑامذاق کیاہوگاکہ ایک کوتوچورکہہ کرجیل میں ڈال دیاگیاہے جبکہ باقی چوروں کو پاک صاف قراردے کرگلے لگالیاگیاہے ۔ تمام پاکستانی اٹھیں اورپاکستان کوکرپٹ جرنیلوں سے نجات دلائیں اوراس وقت تک اپنااحتجاج کرتے رہیں جب تک اس الیکشن کوکالعدم قرارنہ دیدیاجائے اورعوام کی حکومت قائم نہ ہوجائے ۔ مسلح افواج کے محب وطن ، غیرت مند اور ایماندار فوجی افسران ہماری رہنمائی کریں ، ہم انکے نقش قدم پر چلنے کیلئے تیارہیں تاکہ ملک کو کرپٹ جرنیلوں سے نجات دلائیں۔
ان خیالات کااظہار جناب الطاف حسین نے یوتھ، نوجوان بچے ، بچیوں اور طلباوطالبات کیلئے معلوماتی اورتحقیقی لیکچر کے سلسلے میں سوشل میڈیا کے ذریعہ براہ راست خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جناب الطاف حسین کا خطاب فیس بک، یوٹیوب اور ٹوئیٹر کے ذریعہ پاکستان سمیت دنیا بھرمیں لاکھوں کی تعداد میں دیکھا اور سنا گیا۔ اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ 8، اگست1986ء کو نشترپارک کراچی میں ایم کیوایم کا پہلاعظیم الشان جلسہ عام منعقد ہوا تھا ، اس تاریخی جلسہ عام اور اس جلسہ میں ایم کیوایم کے مثالی نظم وضبط کی کوئی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی، جلسہ عام کے دوران دھواں دھاربارش ہورہی تھی لیکن جلسہ کے شرکاء اختتام تک بیٹھے رہے اور میں نے کہاتھا کہ یہ 8، اگست 1986ء کا جلسہ ایم کیوایم کی تاریخ کا اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ جناب الطاف حسین نے ’’سنگ میل‘‘ کی تشریح کرتے ہوئے کہاکہ سنگ کے معنی پتھر ہیں اور میل کے معنی فاصلہ ہیں اور سنگ میل کے معنی ہیں کہ ایسا پتھر جو فاصلہ ناپنے کیلئے لگایاجاتا ہے ۔ 8، اگست1986ء کا جلسہ منزل کا راستہ بتانے کا سنگ میل ہے ، حق پرستی کے کاررواں کا فاصلہ طے ہوتا جارہا ہے اور 32 سال میں ایم کیوایم کہاں سے کہاں تک پہنچ چکی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ابھی ہماری منزل نہیں آئی ہے ، ہمارا سفر جاری ہے اور ہم اس منزل کی جانب گامزن ہیں جہاں صرف مہاجرقوم کی حیثیت کا ہی تعین نہ ہو بلکہ یہ منزل مہاجرقوم کے اختیارات اور حقوق کا بھی تعین کرے۔ مہاجرقوم بھی پنجابی ، بلوچی ، سندھی ، پشتو، سرائیکی، کشمیری، ہزاروال، گلگتی، بلتستانی اور دیگرزبانیں بولنے والوں کی طرح ایک قوم ہے ، مہاجرقوم کے حقوق پارلیمانی سیاست یامخلوط حکومت میں شامل ہونے سے نہیں مل سکتے اورجب تک مہاجروں کا اپنا صوبہ نہیں ہوگاان کو حقوق نہیں ملیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم ابھی اپنی منزل کے پتھر تک نہیں پہنچے ہیں 
لیکن ہماری جدوجہد جاری ہے اور ہم انشاء اللہ اپنی منزل پرضرورپہنچیں گے ، مجھے نوجوانوں اورنئی نسل سے امیدہے کہ اگر میں زندہ نہ رہا تو مہاجرقوم کی نئی نسل بالخصوص Millennials آئین اورقانون کے دائرے میں رہتے ہوئے نہ صرف مہاجرقوم کی آزادی کی جنگ لڑیں گے بلکہ منزل پر پہنچ کر ہی دم لیں گے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہمارے بزرگوں نے انگنت جانی ومالی قربانیاں دیکر پاکستان بنایا لیکن قیام پاکستان کی جدوجہد میں جنہوں نے کوئی قربانی نہیں دی آج وہ پاکستان کے مالک ومختار بن بیٹھے ہیں ، یہ ظلم اور ناانصافیوں کا سلسلہ اب مزید نہیں چل سکتا، اگر مہاجروں کے جائز حقوق غصب کیے جاتے رہے ، انہیں زمین نہیں دی گئی اور فرزند زمین تسلیم نہیں کیاگیاتو پھر Millennials سر سے کفن باندھ کر مہاجرریاست کے قیام کی جدوجہد کریں گے 


جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم کی 40 سالہ جدوجہد میں جن لوگوں کو مہاجرقوم کا مقدمہ لڑنے کی ذمہ داری دی گئی اور انہیں منتخب ایوانوں میں بھیجاگیا تو وہ مال کمانے میں لگ گئے ، نظریہ ، مقصد اور مشن فراموش کربیٹھے ، جب جب آزمائش کے مراحل آئے تحریک کے گمنام کارکنان ڈٹے رہے ، نہیں بکے جبکہ سینیٹ ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے اراکین سب کے سب بک گئے ، انہوں نے نظریہ کے خالق کو ٹھکرادیا ، تحریک کے بانی سے لاتعلقی اختیار کرکے مہاجرنظریہ کے نام نہاد مالک بن گئے ۔ انہوں نے کہاکہ انسانی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ نظریہ دینے والے سے لاتعلقی کرکے کوئی اور اس نظریہ کا مالک بن جائے ۔ سقراط کو زہرکا پیالہ دینے والے سقراط نہیں بن سکے اسی طرح حقیقی، خیابان سحر، بہادرآباداورپی آئی بی ٹولہ سب کے سب بکاؤ اور مہاجرقوم کے غدار ہیں اورمہاجرنظریہ کے مالک نہیں بن سکتے ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ 2013ء میں میاں نوازشریف کے دورحکومت میں آپریشن ضرب عضب کا منصوبہ بنایاگیا تو میں واحد تھا جس نے شدیدمخالفت کرتے ہوئے کہاکہ ہم اس قانون پر دستخط نہیں کریں گے لیکن بہادرآبادٹولہ ، آئی ایس آئی کے افسران اور ن لیگ کے رہنماؤں نے مجھے مسلسل فون کرکے یقین دلایاکہ یہ آپریشن بلیک جیٹ دہشت گردوں کے خلاف ہوگا، مساجد، امام بارگاہوں ، بزرگان دین کے مزارات ، اسکولوں ، بازاروں اور قومی تنصیبات پر حملے کرنے والوں کو بلیک جیٹ دہشت گرد قراردیاگیا تھا۔ میں نے اسی وقت واضح کردیا تھا کہ یہ کسی مذہبی انتہاء پسند عناصر کے خلاف آپریشن نہیں ہوگا بلکہ اس آپریشن کا رخ ایم کیوایم کی جانب موڑدیاجائے گا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم کے کسی کارکن نے خود کش حملے ، بم دھماکے نہیں کیے ، قومی تنصیبات پر حملے نہیں کیے لیکن فوج کے کرپٹ جرنیلوں نے مجھے غدار قراردیدیاجبکہ مساجد ، امام بارگاہوں، مزارات ، احمدیوں کی عبادت گاہوں اور آرمی پبلک اسکول پشاور میں بم دھماکے اوردہشت گردی کرنے والوں کو آج تک غدار قرارنہیں دیا گیا ، ہزاروں بے گناہ شہریوں کے قتل کا اعتراف کرنے والے احسان اللہ احسان کو آئی ایس آئی نے مہمان بناکر رکھا ہوا ہے ۔انہوں نے کہاکہ جس فوج کے منہ کو اپنے لوگوں کا خون لگ جائے وہ فوج بہادرنہیں بلکہ بزدل بن جایاکرتی ہے ۔ اس موقع پر سابق ائیرمارشل اصغرخان مرحوم کا وڈیو کلپ دکھایاگیا ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ اصغرخان مرحوم اس دنیا سے چلے گئے لیکن مرنے سے پہلے قوم کوحقائق بتاگئے ، پاکستان میں بہت کم لوگ ہیں جو سچ بولتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مجھ پر فتوے لگائے جاتے ہیں اس لئے کہ میں 40 برسوں سے سچائی بیان کررہا ہوں، جب میں ایجنسیوں کا ذکرکرتا تھا تو لوگ کہتے تھے کہ کس ایجنسی کا ذکر کیاجارہا ہے ، کیا یہ کوئی ٹریول ایجنسی ، اسٹیٹ ایجنسی یا سیمنٹ ایجنسی ہے کیا بلا ہے ۔میں پاکستان کا واحد سیاسی رہنماہوں جس نے آئی ایس آئی کی سیاست میں مداخلت کو بے نقاب کیاہے ، آئی ایس آئی 1948ء میں برٹش ایمپائر نے تشکیل دی اوریہ آئی ایس آئی اتنی طاقتور ہے کہ پاکستان کاآرمی چیف بھی انکے بوٹوں کی نوک پرہوتا ہے ،بے نظیربھٹو نے بھی اپنے انٹرویو میں یہ کہاتھا کہ آئی ایس آئی اپنے آرمی چیف کی بھی نہیں سنتی ،آئی ایس آئی نے پورے ملک کو تباہ وبرباد کردیا ہے۔انہوں نے کہاکہ حقائق بیان کرنے پر مجھے غدار کہاگیا، میری تحریر وتقریرپرپابندی عائد کردی گئی لیکن میں سچا تھا اورمیرے انکشافات حقائق پرمبنی تھے اسی لئے آج پاکستان میں پنجابی، سندھی، بلوچ، پختون، قبائلی اور دیگرقومیتوں کے لوگ بھی نعرے لگارہے ہیں کہ ’’ یہ جو دہشت گردی ہے ، یہ جومارا ماری ہے ، یہ جو افراتفری ہے ۔۔۔اس کے پیچھے وردی ہے ‘‘ ۔ پاکستان کی سیاسی ومذہبی جماعتیں ہی نہیں بلکہ صحافی برادری بھی پاکستان کی تباہی وبربادی کے ذمہ دار کرپٹ فوجی جرنیلوں کے خلاف سچائی بیان کررہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ دنیابھرکی فوج عوام کے ٹیکسوں سے چلتی ہے اور عوام کی نوکرہوتی ہے لیکن بدقسمتی سے یہ یہ نوکر پاکستان کے حاکم بن گئے ہیں ، میں پاکستان بھرکے عوام سے دردمندانہ اپیل کرتا ہوں کہ خدارا !!! پاکستان کو بچالو۔۔۔فوج کے کرپٹ جرنیلوں پر تنقید کرنے اورسچائی بیان کرنے کی پاداش میں مجھے غدار کہاگیا لیکن آج مولانافضل الرحمان ، محمود خان اچکزئی ، پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے رہنماؤں اور کارکنوں کی جانب سے بھی فوج کے خلاف نعرے لگائے جارہے ہیں۔ 


جناب الطاف حسین نے Aristocracy کی تعریف بیان کرتے ہوئے کہاکہ ناجائز ذرائع سے دولت کمانے والے جاگیرداروں ، وڈیروں ، سرمایہ داروں اورکرپٹ فوجی جرنیلوں کی مافیاپرمشتمل سوسائٹی کی اعلیٰ کلاس کو Aristocracy کہتے ہیں۔یہی وہ طبقہ ہے جن کی نسل درنسل پاکستان میں حکمرانی کرتا ہے اور فوج کے اعلیٰ مناصب پر فائز ہوتاہے ۔جن کے اجداد نے انگریزوں کی خوشنودی کیلئے خانہ کعبہ پر گولیاں چلائیں ، ان کی اولادیں جنرل ضیاء الحق، جنرل احمد شجاع پاشا، جنرل اشفاق پرویز کیانی اورجنرل راحیل شریف کی شکل میں مسلمانوں کا قتل عام کرتی رہی ہیں، جنرل ضیاء الحق نے فلسطین میں مسلمانوں کا قتل عام کیااورآج جنرل راحیل شریف سعودی عرب سے مال لیکر یمن میں بے گناہ مسلمانوں کا قتل عام کررہا ہے ۔ فوج اور آئی ایس آئی کے ایسے کرپٹ جرنیل Cannibals ہیں ۔ Cannibals کے معنی ہیں کہ ’’ انسانی گوشت کھانے والا آدم خور‘‘ ۔ فوج کے کرپٹ جرنیل آج بھی پاکستان میں اپنے ہم وطن شہریوں کا قتل عام کرکے ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینک رہے ہیں اور ان کرپٹ جرنیلوں کی تمام تر غنڈہ گردیوں کو جاننے کے باوجود جوبھی صحافی، اینکرپرسن اور سیاسی ودفاعی تجزیہ نگار ان کا ساتھ دیتے ہیں اوران کی شان میں قصیدے پڑھتے ہیں وہ سب کے سب بے شرم اور بے غیرت ہیں، اگر غیرت مند ہوتے تو صحافت جیسے مقدس پیشہ کی لاج رکھتے اور صحافتی بددیانتی کا عمل ہرگز نہیں کرتے کیونکہ قلم ، عوام کی امانت ہے ، امانت میں خیانت کرنے والا خائن ہوتا ہے جو دائرہ اسلام اور انسانیت سے خارج ہے ۔
جناب الطاف حسین نے Democracy یعنی جمہوریت کی تعریف بیان کرتے ہوئے کہاکہ جمہور کے معنی ’’عوام‘‘ کے ہیں ، جمہوریت کامطلب ’’عوام کی حکومت، عوام سے اورعوام کیلئے ‘‘ ہے ، جمہوریت ایسا نظام حکومت ہے جو عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوتی ہے اورعوام کیلئے ہوتی ہے ۔ بدقسمتی سے پاکستان میں جمہوریت نہیں ہے بلکہ آرمی کریسی یا فیوڈوکریسی ہے یعنی فوج کی حکومت یا فوج اورآئی ایس آئی کی مدد سے جاگیرداروں اوروڈیروں کی حکومت۔ 
جناب الطاف حسین نے Kleptocracy کی تعریف بیان کرتے ہوئے کہاکہ کرپٹ لوگوں پر مشتمل ایسی حکومت جو پاگل پن کی حدتک سب کچھ چوری کرنے کی خواہش رکھتی ہو۔ پاکستان کی فوج اورآئی ایس آئی کے کرپٹ جرنیل بھی پاگل پن کی حدتک خواہش رکھتے ہیں کہ پورے ملک کو چوری کرلیں اور انہوں نے کربھی لیا ہے ۔ 


جناب الطاف حسین نے Khakistocracy کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ یہ عوامی زبان میں استعمال کیاجاتا ہے او ر اس کے معنی فوج کی حکومت کے ہیں۔ ماضی میں یزید کاساتھ اس وقت کے قاضیوں نے بھی دیا تھا اور قاضی القضاء نے امام حسین ؑ کی گردن کاٹنے کافتویٰ جاری کیاتھا اور آج مولویوں کا ٹولہ آئی ایس آئی کاچمچہ بناہوا ہے ۔ انہوں نے ایم ایم اے (MMA) کی تشریح کرتے ہوئے کہاکہ عرف عام میں یہ متحدہ مجلس عمل کا مخفف ہے لیکن دراصل اس کا صحیح مطلب’’ ملا ، ملٹری الائنس ‘‘ہے ۔ انہوں نے لفظ’’Quasi‘‘ کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ ٹیلی ویژن پر کیمرے کے سامنے جھوٹا اور گمراہ کن تجزیہ کرنے والے اینکرپرسنز اورتجزیہ نگار دراصل ’’ Quasi ‘‘ ہیں ، جوکہ بظاہر پڑھے لکھے ، دانشور اور تجزیہ نگار بنتے ہیں جبکہ حقیقت میں یہ نرے جاہل ہیں جو قوم اور نئی نسل کو گمراہ کررہے ہیں۔ لفظ Status Quo کی تعریف بیان کرتے ہوئے جناب الطاف حسین نے کہاکہ اس سے مراد جوجیسی ہے ویسی ہی رہنے دی جائے یعنی جو صورتحال یاپوزیشن جیسے پہلے تھی اسے ویسا ہی رہنے دیا جائے ۔Status سے مراد یہ ہے کہ سماجی حیثیت، مربتہ ، درجہ ، رسوخ جبکہ Quo سے مراد جمود ہے یعنی جیسے ہے اسی طرح جاری رکھا جائے اور کوئی تبدیلی نہ لائی جائے ۔ 


جناب الطاف حسین نے کہاکہ اب نیاپاکستان بنایاجارہا ہے اور 14 ، اگست کو یوم آزادی منایاجائے گا جوکہ صرف کرپٹ فوجی جرنیلوں کیلئے ہے عوام کی آزادی کا دن نہیں ہے ۔ 14، اگست 1947ء کو انگریزوں نے فوج کوآزادی دلائی اور 1948ء میں آئی ایس آئی تشکیل دیکر اس آزادی پر مہرلگادی ۔ جب آئی ایس آئی نے آرمی چیف کے خلاف پروپیگنڈہ کیاکہ وہ احمدی ہیں تو آرمی چیف اس کے قابومیں آگئے ، اس سے قبل جنرل راحیل شریف قابو میں آگئے ، فوج نے مذہبی انتہاء پسندی کی آڑ میں قبائلی علاقوں میں آپریشن کیا لیکن اس سے قبل تمام جہادیوں کو بچالیاگیا اور غریب قائلیوں کو مروادیا ، لاکھوں قبائلیوں کو انکے گھروں سے بیدخل کرکے انہیں IDPs بناکر کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبورکردیا اور اب ان کے گھروں پر فوجی افسروں کا قبضہ ہے اورغریب قبائلیوں کی بحالی کے بجائے کرپٹ فوجی جرنیلوں کے آرام پر پیسہ لگایاجارہا ہے ۔
جناب الطاف حسین نے حالیہ الیکشن کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ میرے پاس ثبوت وشواہد موجود ہیں کہ بظاہر یہ انتخابات الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کرائے ہیں جبکہ درحقیقت یہ انتخابات فوج، آئی ایس آئی اور ایم آئی نے کرائے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ جب میں نے فوج کے کرپٹ جرنیلوں کے ناجائز اقدامات پر تنقید کی تو مجھ پر پابندی عائد کردی گئی اگر یہ کرپٹ فوجی جرنیل مرد کے بچے ہیں تو پنجابی ، پختون اوربلوچ لیڈرز پر پابندی عائد کرکے دکھائیں ، عمران خان جو فوج کا لاڈلہ بناہوا ہے اس نے فوج اورآئی ایس آئی کے بارے میں نفرت انگیز باتیں کیں لیکن عمران خان آزاد ہے ۔ 2018ء کے انتخابات میں فوجی اورآئی ایس آئی نے ننگی دھاندلی کی یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن کی تمام جماعتیں اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے دھرنادے رہی ہیں کیونکہ اگر صاف ، شفاف اور ایماندارانہ انتخابات ہوتے تو عمران خان کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔اس دھاندلی کے خلاف آج فوج کے سب سے بڑے ہمدرد اور وکیل مولانافضل الرحما ن کا ایمان بھی ان کے والد بزرگوار مولانامفتی محمود کی طرح جاگ گیا ہے اورمولانافضل الرحمان اورجے یو آئی کے دیگررہنما بھی فوج کے ناجائز اقدامات پر کھل کرتنقید کررہے ہیں۔ اس موقع پرجے یوآئی کے رہنما مولانا فضل الرحمان کی تقریر اور سینیٹر حمداللہ کے ٹی وی انٹرویو کے وڈیوکلپ دکھایاگیا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ کرپٹ فوجی جرنیلوں نے ملک کے منتخب وزرائے اعظم کو اقتدار کے ایوانوں سے نکالا، انتخابات میں واضح اکثریت کے باوجود مجیب الرحمان کی عوامی لیگ کو اقتدارنہیں سونپا اور ملک دولخت کرنا گواراکرلیا۔محترمہ بے نظیربھٹو، نواز شریف اوریوسف رضاگیلانی کو حکومت سے نکال دیا گیا لیکن ناجائز ذرائع سے اربوں روپے کی جائیدادیں رکھنے والے جنرل کیانی ، جنرل پاشا ، جنرل رضوان اختراور جنرل راحیل شریف کے خلاف آج تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی،خادم حسین رضوی نے سرعام چیف جسٹس ثاقب نثارکوفحش مغلظات بکیں جوکہ فوج ،آئی ایس آئی اور رینجرز کو سنائی نہیں دیں لیکن یہ کیسا مذاق ہے کہ ایک نعرہ لگانے پر مجھ پرپابندی عائد کردی گئی لیکن جن لوگوں نے پاکستان کو دولخت کردیا ان میں سے کسی ایک بھی فوجی جرنیل کو سزا نہیں دی گئی ۔اگرہماری حکومت آئی تو ہم پاکستان دولخت کرنے کے ذمہ دار فوجی جرنیل کی قبریں کھود کرجنرل کرامویل کی طرح ان کی لاشیں لٹکائیں گے چاہے ان میں جنرل ایوب خان ، جنرل یحییٰ خان ، جنرل نیازی ہوں یا بھٹو ہوں،کوئی بھی ہوں کسی کو معاف نہیں کیاجائے گا۔ 


جناب الطاف حسین نے کہاکہ وقت کاتقاضا ہے کہ مولانا فضل الرحمان اپنے حامیوں ، میاں نواز شریف ، پنجابیوں اوراسفندیارولی پختونوں کو کرپٹ فوج کے خلاف میدان عمل میں لائیں، میں بھی مہاجروں سے کہتا ہوں کہ وہ بھی باہر نکلیں ، ہم سب مل کر ملک میں عوام کی حکومت قائم کرتے ہیں اورملک کوکرپٹ فوجی جرنیلوں کو فوج سے پاک کرتے ہیں، اس کیلئے مسلم لیگ (ن) ، جے یوآئی اورپیپلزپارٹی سب کو فوج سے پاکستان اوراس کے عوام کو آزاد کرانے کیلئے میدان عمل میں آنا ہوگا ۔ جناب الطاف حسین نے مسلح افواج کے محب وطن ، غیرت مند اور ایماندار فوجی افسران سے اپیل کی کہ وہ ہماری رہنمائی کریں ، ہم انکے نقش قدم پر چلنے کیلئے تیارہیں تاکہ ملک کو کرپٹ جرنیلوں سے نجات دلائیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ فوج اورآئی ایس آئی نے نعوذباللہ اپنے درجے کو رسول کریم ؐ کے برابر لاکرکھڑا کردیا ہے کہ جو فوج کے خلاف بات کرے گا اس کا عمل توہین رسالت سمجھاجائے گا، میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے فوجی جرنیلوں سے پاکستان اور اس کے عوام کو معاف فرمائے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ مہاجروں کے اجداد نے تحریک پاکستان کے دوران 20 لاکھ جانوں 
کا نذرانہ دیا، اپنے بھرے پرے گھراور بزرگوں کی یادگاریں چھوڑیں اورہرقسم کی قربانیاں دیں ، پاکستان کی تعمیروترقی میں بھرپورکردار ادا کیالیکن آج بانیان پاکستان کی اولادوں پر عرصہ حیات تنگ کردیاگیاہے ، سندھ سیکریٹریٹ ، وزارتوں اور بیوروکریسی میں کوئی مہاجرنہیں ہے اگرکوئی ہے تو وہ فوج کی دلالی کرنے والا ہے جوفوج کے اشارے پر اپنی ہی قوم کے لوگوں کے قتل عام میں فوج کا ساتھ دیتے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے واشگاف الفاظ میں کہاکہ پاکستان ظلم وجبراور بندوق کی نوک سے قائم نہیں رہ سکتا، پاکستان صرف اورصرف انصاف کے نظام سے ہی قائم ودائم رہ سکتا ہے ، میں ارباب اختیارسے کہتا ہوں کہ نائن زیروکا تالاکھول دو ورنہ میں جب تک زندہ ہوں تمہارے سیاہ کرتوتوں کے تالے کھولتا رہوں گا۔ 
جناب الطاف حسین نے محب وطن فوجی افسران اور جوانوں کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ میں نے 8 اگست کوفوج کے نان کمیشنڈافسران اورسپاہیوں کے نام جوخطاب کیاتھا،اسے دوبارہ سن لیں، میں چاہتاہوں کہ ملک سے ہرقسم کی کرپشن ختم ہو لیکن یہ کیاکہ فوج کے غلط اقدامات اورپالیسیوں پر تنقیدکرنے کی پاداش میں مجھ پر توغداری کامقدمہ قائم کردیاگیالیکن عمرا ن خان جس نے فوج، آئی ایس آئی اوراسٹیبلشمنٹ کے بارے میں کیاکچھ کہا لیکن اسے کوئی سزا دینے کے بجائے پرائم منسٹربنایاجارہاہے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں انڈ یاگیاتوپورے پاکستان نے مجھ پر اعتراض کیا لیکن لاڈلا عمران خان انڈیا گیا اوروہاں وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی توکسی نے اعتراض نہیں کیا،نریندرمودی نوازشریف کی نواسی کی شاد ی میں شرکت کیلئے ان کے گھر آگئے تواس پر آج تک طعنے نہیں دیے جاتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیاکہ آخرعمران خان نے کس حیثیت میں وزیراعظم نریندرمودی سے ملاقات کی تھی ؟ جناب الطاف حسین نے کہاکہ عمران خان نے انڈیا جاکروہاں ایک ٹی وی انٹرویومیں فوج ، آئی ایس آئی اوراسٹیبلشمنٹ پر باقاعدہ تنقید کی اوریہاں تک کہاکہ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کی مددکے بغیرکوئی پارٹی نہیں جیت سکتی۔ عمران خان کے اپنے الفاظ میں اس بات کااعتراف ہے کہ ان کی حالیہ الیکشن میں کامیابی اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے ممکن ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ عمران خان کے انڈیامیں پاکستان فوج اوراسٹیبلشمنٹ کے بارے میں ان خیالات پر کہیں سے کوئی آوازنہیں اٹھی لیکن میری انڈیا میں کی گئی ایک تقریرپر آج تک اعتراض کیاجاتاہے۔ میں آج بھی اپنی اس بات پرقائم ہوں کہ برصغیرکی تقسیم انسانی تاریخ کی سب سے بڑی غلطی تھی۔اسلئے کہ اگرتقسیم نہ ہوتی تومسلمانوں کی طاقت تین حصوں میں تقسیم نہ ہوتی اورآج مسلمان وہاں بادشاہ گرہوتے ہیں۔ 


جناب الطاف حسین نے الیکشن میں بڑے پیمانے پر کی جانے والی دھاندلی پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے اس حوالے سے کئی مثالیں اورواقعات بیان کئے اور حوالے کیلئے تصاویر،وڈیوزاوراخباری تراشے بھی پیش کئے ۔ انہوں نے کہاکہ الیکشن میں دھاندلی کس طرح کی گئی اورٹی وی چینلزپرکس طرح دباؤ ڈالاگیا اس حوالے سے جیونیوز کے پروگرام ’’جرگہ ‘‘ کے اینکرسلیم صافی کاکالم پڑھ لیں جوروزنامہ جنگ میں یکم اگست کوشائع ہوا ۔انہوں نے کہاکہ پولنگ کا وقت پورا ہوتے ہی فوج نے تمام امیدواروں کے پولنگ ایجنٹس کو باہر نکال دیا اور خود گنتی کی۔ ابتدائی نتائج کافارم45کسی بھی امیدوار کے پولنگ ایجنٹ کو نہیں دیا گیا کیونکہ فوج نے خودنتائج تیارکئے تاکہ اپنے لاڈلے عمران خان کوجتوایاجاسکے۔انہوں نے سوال کیاکہ کیافوج کایہ کام ہے کہ وہ الیکشن میں ووٹوں کی گنتی کرے، نتائج تیارکرے؟ چند روزسے گلگت بلتستان، بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات ہورہے ہیں ، ان واقعات کی روک تھام نہیں ہورہی ہے کیونکہ فوج الیکشن کرانے میں مصروف ہے۔ جناب الطا ف حسین نے مزیدکہاکہ لاڈلے کوجتوانے کے لئے اس انداز میں دھاندلی کی گئی کہ عوام کے ڈالے گئے ووٹوں کے بیلٹ پیپرز اٹھاکر باہر پھینک دیے گئے، پورے پورے بیلٹ بکس اور ووٹوں کے تھیلے مختلف شہروں میں کچرے خانوں اورمختلف مقامات پر پائے گئے جن کی وڈیوز، تصاویراورخبریں میڈیاکے ریکارڈپرموجود ہیں۔ جیونیوزپر اینکرحامد میر نے اپنے پروگرام میں پنجاب کے ایک حلقے کے بیلٹ پیپرزدکھائے ۔ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ایک حلقہ سے10، 10، ہزار ، 15،15 ہزار ووٹ مسترد کردیے گئے ۔الیکشن کمیشن کی نااہلی کایہ عالم ہے کہ بلوچستان سے ایک افغان شہری بھی ایم پی اے منتخب ہوگیا ۔
جناب الطاف حسین نے RTS سسٹم کے حوالے سے کہاکہ الیکشن سے پہلے اعلان کیاگیاتھاکہ اس مرتبہ کمپیوٹرکے ذریعے نتائج کوالیکشن کمیشن ٹرانسفر کیا جائے گا۔ اس کیلئے ایک RTS سسٹم یعنی Result Transmission System متعارف کرایاگیااور اس کیلئے ملک بھر میں پریزائیڈنگ افسران کوخصوصی کمپیوٹرفراہم کئے گئے تھے ۔ الیکشن والے روز پولنگ ختم ہوتے اچانک اعلان کیاگیاکہ RTS سسٹم خراب ہوگیاہے اسلئے نتائج کمپیوٹرکے ذریعے نہیں بلکہ پرانے طریقے سے لکھ کربھیجے جائیں گے۔ اس معاملے کی چھان بین کی گئی ہے تویہ بات سامنے آئی ہے کہ RTS سسٹم خراب نہیں ہوا تھا بلکہ پولنگ ختم ہوتے ہی تمام پریزائیڈنگ افسران کویہ حکم دیدیاگیاتھاکہ وہ RTS سسٹم استعمال نہ کریں تاکہ مرضی کے نتائج تیارکئے جاسکیں۔ 
جناب الطا ف حسین نے کہاکہ پولنگ کے دوران ملک کے مختلف شہروں میں شہریوں اورفوج کے اہلکاروں کے درمیان جھگڑے کے بے شمار واقعات ہوئے ، فوج کے اہلکاروں نے پولنگ بوتھ میں خواتین کوخوفزدہ کیا ،ووٹرزپر بندوقیں تان لیں، ان کے ساتھ مارپیٹ کی، پولنگ ایجنٹوں ، پریزائیڈنگ افسران اور ریٹرننگ افسران تک کوہراساں کیا۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ الیکشن میں فوج کی نگرانی میں اس بڑے پیمانے پر کی گئی دھاندلی کے خلاف کراچی، اسلام آباد،مری، پشاور، چارسدہ، سوات سمیت ملک بھر میں مظاہرے بھی ہوئے جن میں، فوج اورآئی ایس آئی کے خلاف نعرے لگائے گئے ۔ہرجگہ عوام کا ایک ہی نعرہ تھا کہ ’’ یہ جوالیکشن میں دھاندلی ہے ۔۔۔اس کے پیچھے وردی ہے ‘‘ ۔ الیکشن سے دوروزقبل جب مسلم لیگ ن کے رہنماحنیف عباسی کی سزااور گرفتاری کے موقع پر راولپنڈی میں بھی پنجاب کے لوگوں نے فوج اورآئی ایس آئی کے خلاف یہی نعرے لگائے تھے ۔ انہوں نے کہاکہ اب الطاف حسین اکیلا نہیں بلکہ آج پوراملک جاگ اٹھاہے اور ایک آوازہوکرفوج کی دھاندلیوں،زیادتیوں اور مظالم کے خلاف آوازبلندکررہاہے ۔انہوں نے کہاکہ حالیہ الیکشن میں عوام کی رائے پر تاریخ کاسب سے بڑا ڈاکہ ڈالاگیاہے ،اگر یہ دھاندلی زدہ الیکشن کالعدم قرارنہیں دیے گئے توملک سے جمہوریت ختم ہوجائے گی ، عوام باہر آجائیں گے اورملک ٹوٹ جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ اس سے بڑامذاق کیاہوگاکہ ایک کوتوچورکہہ کرجیل میں ڈال دیاگیاہے جبکہ باقی چوروں کو پاک صاف قراردے کرگلے لگالیاگیاہے ۔انہوں نے تمام پاکستانیوں کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ وہ اٹھیں اورپاکستان کوکرپٹ جرنیلوں سے نجات دلائیں اوراس وقت تک اپنااحتجاج کرتے رہیں جب تک اس الیکشن کوکالعدم قرارنہ دیدیاجائے اورعوام کی حکومت قائم نہ ہوجائے ۔ 


جناب الطا ف حسین نے ایم کیوایم کے بزرگ رہنماشہیدوفاڈاکٹرحسن ظفر عارف کاذکرکرتے ہوئے کہاکہ وہ ایک بڑے استاد،فلاسفر، دانشوراوربڑے پروفیسرتھے ، انہوں نے نوجوانوں کوتعلیم دینے کے ساتھ ساتھ ملک میں ایک ایسے منصفانہ نظام کے قیام کیلئے بھی عملی جدوجہد کی جس میں تمام شہریوں کے ساتھ مساوی سلوک کیاجائے اورسب کوان کے حقوق دیے جائیں۔ انہوں نے ایم کیوایم میں شمولیت اختیارکی تو22 اگست کے بعد رینجرزنے گرفتار کرلیا گیا اورمہینوں قیدمیں رکھاگیا، انہیں ایم کیوایم چھوڑنے پرمجبورکیاگیا لیکن وہ ثابت قدم رہے ، انہیں 8 دسمبر 2017ء کوایک مرتبہ پھرگرفتارکیاگیااور ایم کیوایم نہ چھوڑنے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں لیکن انہوں نے ایم کیوایم چھوڑنے سے انکارکردیا۔بالآخرانہیں 13جنوری2018ء کوآئی ایس آئی نے حراست میں لیااورابراہیم حیدری کے دوردرازعلاقے میں لے جاکرتشددکرکے بیدردی سے شہیدکردیا۔جناب الطاف حسین نے آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ، آئی ایس آئی چیف جنرل نویدمختاراورایم آئی چیف عاصم منیرکومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اگرخدانخواستہ آپ کے والد یاگھرکے کسی بزرگ کے ساتھ ایسا ہوتوآپ کے دل پر کیاگزرے گی۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ صولت مرزاجوایم کیوایم کاکارکن تھا،اس کوپھانسی دیدی گئی لیکن طالبان کااحسان اللہ احسان جو آرمی پبلک اسکول کے بچوں اوراساتذہ کے قتل عام اوردہشت گردی کے متعددواقعات اورایم کیوایم کے ارکان اسمبلی اورکئی کارکنوں کی شہادت اوربم حملوں میں ملوث ہے ،فوج نے اسے آج تک اپناخاص مہمان اورداماد بناکررکھاہواہے ۔ انہوں نے کہاکہ اسٹیبلشمنٹ کوالطاف حسین کے سواکوئی غدارنظرنہیں آتااوراسے عوام کے سامنے غداربناکرپیش کیاجاتاہے۔انہوں نے کہاکہ قرآن مجیدکے چاروں قل شریف کی قسم الطاف حسین نہ بکا ہے اورنہ بکے گا۔انہوں نے کہاکہ نائن زیرو کھولاجائے اورایم کیوایم کواس کاجائزآئینی قانونی حق دیاجائے ۔


جناب الطاف حسین نے کہاکہ دنیامیں جس نے بھی کوئی نظریہ دیاوہ ہمیشہ اپنے نظریہ پرقائم رہا،اس نے اپنے نظریہ سے غداری نہیں کی جبکہ اس کے نظریہ کو ماننے والے یااس کے فالوورضروربدل گئے۔میں نے نظریہ دیا،میںآج بھی اپنے نظریہ پرقائم ہوں جبکہ جو لوگ میرے نظریہ کومان کرمیری تحریک میں شامل ہوئے ،جنہوں نے میرے نظریہ اورتحریک کی بدولت نام ،مقام اورمراعات حاصل کیں آج وہ حقیقی ،PSP اور بہادرآباد ٹولے کی شکل میں اسٹیبلشمنٹ کی گودمیں بیٹھے ہوئے ہیں۔جنہوں نے اپنے شہیدوں کے لہوکاسوداکیا اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ملکراپنی تحریک کی جڑیں کھوکھلی کیں اوراپنی ہی قوم کونقصان پہنچانے کاعمل کیا۔ فاروق ستار نے 22 اگست 2016ء کوکراچی پریس کلب پر بھوک ہڑتال میں شریک خواتین کی نشاندہی کرکے انہیں رینجرز کے ہاتھوں گرفتارکروایا۔ فاروق ستار دیگرشہیدوں کیلئے توکیاآوازاٹھاتااس نے اپنے کوآرڈی نیٹرآفتاب احمدشہیدکے لہوکوبھی فراموش کردیا۔اس نے مکاچوک پرنعرے لگانے والی شہیدوں کی ماؤں بہنوں کوشرپسند کہا اور یہ کہاکہ اگرانتظامیہ ہمارے ساتھ تعاون کرتی توہم خودان لوگوں کوپکڑکر رینجرزکے حوالے کرتے۔یہ انتہائی شرمناک اورقابل مذمت بات ہے۔ فاروق ستارنے اپنے قائدکوتحریک سے الگ کیا،اللہ تعالیٰ نے اسے دنیامیں ہی زلیل ورسوا کردیا۔جناب الطاف حسین نے نوجوانوں کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ مایوس مت ہونا،غدارنہ بننابلکہ اپنی قوم کے حقوق اوراپنی آنیوالی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لئے جدوجہدکرتے رہنا۔جناب الطاف حسین نے تمام ترریاستی مظالم اورمصائب ومشکلات کے باوجودثابت قدم رہنے پر کراچی ، حیدرآباد ، میرپورخاص، نوابشاہ ، سکھر،سانگھڑ، جامشورو، ٹنڈوالہ یار، ٹنڈوجام، ٹنڈومحمدخان، شہداد پور،ڈگری، نوکوٹ، عمرکوٹ ، ٹھٹھہ، سجاول، بدین ، گھوٹکی ، خیرپور، نوشیروفیروز، دادو، لاڑکانہ ، قمبرشہداد کوٹ ، شکارپور، کشمور، جیکب آبادکے کارکنان و عوام کوان کی وفاپرستی پر سلام تحسین پیش کیا۔ 

*****



9/24/2018 8:15:08 PM