Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

امریکی کانگریس مین ڈینا رورا بیکر کی ’’مہاجروں کا مستقبل‘‘ کے عنوان سے کیپٹل ہل ، واشنگٹن میں تقریر کا متن


امریکی کانگریس مین ڈینا رورا بیکر کی ’’مہاجروں کا مستقبل‘‘ کے عنوان سے کیپٹل ہل ، واشنگٹن میں تقریر کا متن
 Posted on: 7/19/2018
امریکی کانگریس مین ڈینا رورا بیکر کی ’’مہاجروں کا مستقبل‘‘ کے عنوان سے کیپٹل ہل ، واشنگٹن میں تقریر کا متن
13، جولائی2018ء

میں یہاں موجود ہوں کہ میں کراچی کے عوام ( مہاجروں) اور انکی نمائندہ جماعت ایم کیو ایم سے اظہار یکجہتی کرسکوں۔ اور ساتھ ہی یہ بھی بتا سکوں کہ امریکہ کی کیا روایات ہیں کہ لوگوں کو اپنے فیصلے کرنے کی مکمل آزادی ہونی چاہیے، انھیں اس بات کی بھی مکمل آزادی ہونی چاہیے کہ وہ اپنی خودمختاری کا فیصلہ کرسکیں اور انھیں اپنی پسند کی حکومت بھی بنانے کی مکمل آزادی ہونی چاہیے۔میں ان لوگوں کو جو اسلام آباد میں بیٹھ کر گھناؤنا کھیل کھیل رہے ہیں پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ہم (امریکہ) ان کے کرتوتوں سے مکمل آگاہ ہے، ہمیں ان تمام جرائم کا مکمل ادراک ہے جو وہ کررہے ہیں، ہمیں انکی ہر بدعنوانی کا مکمل علم ہے۔ وہ لوگ عوام کے ساتھ جو ظلم اور زیادتیاں کررہے ہیں وہ قطعاً ناقابل برداشت اور قطعاً ناقابل قبول ہے۔
، ہمیں جب موقع ملے کہ ہم ان پسے ہوئے لوگوں کو منظم و متح کرسکیں اور ان کی مدد کرسکیں کہ ان کے مطالبات تسلیم کئے جائیں اور ان پر کئے جانے والے مظالم کا خاتمہ ہو، ہم امریکی عوام ان پسے ہوئے لوگوں کے ساتھ ہیں اور ہم اسلام آباد میں براجمان بدعنوان لوگوں کی مخالفت کرتے ہیں کیونکہ وہ ان معصوم پسے ہوئے لوگوں کے ساتھ ظلم کررہے ہیں۔ یہی وہ وقت ہے، تاریخ کا وہ لمحہ ہے کہ جب ہم پہاڑی اور بحر اوقیانوس کے علاقوں میں ایسی ہی مملکتیں مثلا سنگاپور اور ہانگ کانگ کو دیکھ چکے ہیں اور آج کوئی وجہ نہیں ہے کہ کراچی کے عوام مظالم کے خلاف اپنے علیحدہ تشخص اور آزادی کا مطالبہ نہ کریں۔ کراچی کے عوام کے سے ساتھ حیوانوں سے بدتر سلوک کیا جارہا ہے۔ ہمیں ایسی کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ دنیا کراچی کے عوام کے جذبہ آزادی سے صرف نظر کرسکے۔ اگر اسلام آباد کی حکومت ایماندار اور رحمدل ہوتی اور وہ کراچی کے عوام پر مظالم کے پہاڑ نہ توڑتی تو شاید میں آج یہ باتیں نہ کررہا ہوتا۔ اسلام آباد کی حکومت کراچی کے عوام (مہاجروں) کو کچل کر ان پر مذہبی انتہا پسند مسط کرنے کے ایجنڈے پر کام کررہی ہے۔
یہ امریکہ کے لئے ناقابل برداشت اور ناقابل تسلیم عمل ہے۔ اسی سے ملتے جلتے حالات افغانستان میں بھی تھے جو نائن الیون سے پہلے سے موجود تھے اور ہم اسی طرح سے ان کے لئے راستے بنارتے رہے ہیں کہ وہ سوویت شہنشاہیت سے نجات پاسکیں کیونکہ اس نے افغان قوم کو یرغمال بنا رکھا تھا اور ان پر بھی مظالم کے پہاڑ توڑرکھے تھے۔ سوویت یونین کی شکست کے باوجود افغانستان میں امن اس لئے نہیں آسکا کیونکہ اسلام آباد اور آئی ایس آئی نے یہ طے کررکھا تھا کہ وہ افغانستان کو اپنے کنٹرول میں رکھیں گے اور اس کے لئے انھوں نے افغانستان میں دراندازی اور مداخلت کی اور وہاں پر بھی افغان عوام پر ظلم کے پہاڑ توڑدالے۔ وہ اپنے مالی فائدے کے لئے افیون کی فصلوں کو پروان چڑھاتے رہے۔ آئی ایس آئی اور اسلام آباد نے جس طرح افغانستان میں پنجابی اور پختون طالبان کی فوج داخل کی تاکہ وہ افغانستان کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھال سکیں تو بالکل اسی طرح وہ کراچی میں کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں علم ہے کہ کراچی کے مہاجر پاکستان بننے کے وقت ہندوستان سے ہجرت کرکے کراچی آئے تھے تاکہ وہ ہندوستان میں ظلم و ستم سے بچ سکیں لیکن کراچی میں بھی ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں۔ 
یہی سب کچھ بنگالی قوم کے ساتھ ہوا اور انہوں نے پاکستان سے نجات حاصل کرلی اور انھیں ایک نعمت یہ بھی حاصل تھی کہ وہ موجودہ پاکستان سے بہت فاصلے پر تھے۔ہم کراچی کے عوام کے جذبہ حریت کو ، انکی تحریک کو پرامن طور پر آگے لیکر جانا چاہتے ہیں۔ ہم کراچی کے عوام کو ہر گز تشدد پر نہیں اکسائیں گے لیکن اب وقت آگیا ہے کہ اسلام آباد میں موجود ظالم اشرافیہ اور آمروں کو برسرعام ننگا کیا جائے اور ان کے خلاف مزاحمت کی جائے جو کراچی میں مہاجروں پر مظالم ڈھارہے۔ ہیں اور انھیں غلام بناکر رکھنا چاہتے ہیں۔ امریکہ ان (مہاجروں ) کے شانہ بشانہ کام کرے گا کیونکہ آپ لوگ (مہاجر) وہ قوم ہے جو ان کی دشمن ہے جو امریکہ کے دشمن ہیں آپ لوگ ان قوتوں کے دشمن ہیں جو آزادی پر یقین نہیں رکھتے اور کیونکہ ہمیں آپ کی امریکہ سے محبت کا مکمل ادراک اور علم ہے تو ہم امریکی بھی آپ کے دوست ہیں اور آپ کے ساتھ کھڑے ہیں کیونکہ ہم ایک بہتر دنیا تخلیق کرسکتے ہیں۔ کراچی شاید پچاس یا سو برس قبل اپنے تئیں زندہ نہیں رہ سکتا تھا لیکن آج کراچی معاشی طور پر بہت طاقتور ہے اور خود کو اکیلے سنبھال سکتا ہے تو پھر اس بات کی کیا ضرورت ہے کہ وہ کسی بڑے ملک کے ساتھ خود کو جوڑے رکھے۔ بالکل ایسا ہی کچھ سنگاپور کیساتھ تھا۔ آج ہمارے پاس وہ ٹیکنالوجی ہے جس کے ذریعے ہم لوگوں تک آناً فاناً رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔ ماضی کے مقابلے میں کہ جب کسی بھی کام کو سرانجام دینے کے لئے ہمیں لاکھوں لوگوں کی ضرورت پڑتی تھی وہی کام ہم آج جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے صرف چند لوگوں سے لے سکتے ہیں۔ تو میں مہاجروں سے کہتا ہوں کہ وہ آزادی کا جو خواب دیکھ رہے ہیں وہ کوئی ناممکن امرنہیں ہے۔ کراچی کے لوگ جلد اپنے مقصد کو حاصل کرلیں گے تاکہ وہ ایک آزاد ملک و قوم کی حیثیت سے اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق حکومت قائم کرسکیں۔
*****

8/19/2018 10:38:25 PM