Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

Voice of America: 'آرمی چیف دیگر اداروں میں اپنے لوگوں کی مداخلت روکیں'


Voice of America: 'آرمی چیف دیگر اداروں میں اپنے لوگوں کی مداخلت روکیں'
 Posted on: 7/18/2018
'آرمی چیف دیگر اداروں میں اپنے لوگوں کی مداخلت روکیں'

جسٹس صدیقی نے 'آئی ایس آئی' کے نمائندے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے لوگ اپنی مرضی کے بینچ بنوانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان لوگوں کالے کرتوت سامنے آنے چاہئیں۔ آرمی چیف کو پتا ہونا چاہیے ان کے لوگ کیا کر رہے ہیں۔


اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اوپن کورٹ میں بری فوج کے سربراہ قمر جاوید باجوہ سے اپیل کی ہے وہ کہ اپنے لوگوں کو روکیں، عدلیہ میں ججوں کو اپروچ کیا جا رہا ہے، ججز کے فون ٹیپ کیے جاتے ہیں، ان کی زندگیاں محفوظ نہیں ہیں۔

جسٹس صدیقی نے یہ اپیل بدھ کو شہریوں کی جبری گمشدگی سے متعلق ایک مقدمے کی سماعت کے دوران کی۔

سماعت کے دوران عدالت میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی 'آئی ایس آئی' کا نمائندہ بھی پیش ہوا۔

جسٹس صدیقی نے نمائندے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے لوگ اپنی مرضی کے بینچ بنوانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان لوگوں کالے کرتوت سامنے آنے چاہئیں۔ آرمی چیف کو پتا ہونا چاہیے ان کے لوگ کیا کر رہے ہیں۔

عدالت نے اپنے تحریری حکم میں لکھا ہے کہ شہریوں، کاروباری اور بااثر افراد کو اسلام آباد سے اٹھانا معمول بن چکا ہے۔ حساس ادارے اپنی آئینی ذمہ داری کو سمجھیں۔ عدلیہ، ایگزیکٹیو اور دیگر اداروں میں مداخلت روکی جائے۔

تحریری حکم میں مزید کہا گیا ہے کہ حساس ادارے ملک کے دفاع اور سکیورٹی پر توجہ دیں۔ ریاست کے اندر ریاست کا تصور ختم کیا جائے۔ اگر دیگر اداروں میں مداخلت کو نہ روکا گیا تو فوج اور ریاست کے لیے تباہ کن ہو گا۔

جسٹس صدیقی نے تحریری حکم میں مزید لکھا ہے کہ آرمی چیف اس الارمنگ صورتِ حال کو سمجھیں اور دیگر اداروں میں اپنے لوگوں کی مداخلت روکیں۔

عدالت نے عدالتی حکم کی کاپی آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی، سیکریٹری دفاع اور سیکریٹری داخلہ کو پہنچانے کا بھی حکم دیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے یہ ریمارکس ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب پاکستان میں عام انتخابات سے قبل ملکی ذرائع ابلاغ اور بعض سینئر صحافی سینسر شپ اور کئی سیاسی جماعتیں اپنے امیدواروں کو ڈرانے دھمکانے کی شکایات کرتے ہوئے ڈھکے چھپے اور بعض اوقات کھلم کھلا فوج کو موردِ الزام ٹہرا رہے ہیں۔

بدھ کو سماعت کے دوران جسٹس صدیقی نے 'آئی ایس آئی' کے نمائندے سے کہا کہ آپ کے لوگ بھتے وصول کر رہے ہیں۔ خدا کے لیے ملک پر رحم کریں۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ اپنے آپ کو عقلِ کل مت سمجھیں، عقلِ کل سے قبرستان بھرے پڑے ہیں۔ پولیس والے ایجنسیوں کے آگے بے بس ہیں۔

عدالت نے اسلام آباد پولیس کے ایس پی انویسٹی گیشن زبیر شیخ پر بھی اظہارِ برہمی کرتے ہوئے کہا کہ جو
افسر سچ نہ بول سکے اور خوف و مصلحت کا شکار ہو اسے پولیس میں نہیں ہونا چاہیے۔

Click to read full story


10/17/2018 5:24:04 PM