Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

چھٹا حصہ


قائد تحریک جناب الطاف حسین کے خطابات پر لندن سیکٹر یٹ موصول ہو نے والے پیغامات کا چھٹا حصہ
 Posted on: 6/27/2018
چھٹا حصہ
جواپنے روحانی باپ کو چھو ڑ سکتاہے وہ حقیقی باپ کو بھی چھوڑ سکتاہے 
خواتین کا احترام صرف متحدہ قومی موومنٹ میں ہی دیکھا گیا
الطاف بھائی کی طرف سے 2018ء کے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان، ہمارے دلوں کی ترجمانی ہے 
قائد تحریک جناب الطاف حسین کے خطابات پر لندن سیکٹر یٹ موصول ہو نے والے وفا پرستوں کے تاثرات 
لندن۔12جون 2018ء 
متحدہ قومی موومنٹ کے بانی و قائد جناب الطاف حسین کے سوشل میڈیاپر براہ راست ویڈیو اور آڈیو خطابات کا سلسلہ جاری ہے جس میں وہ ملک کی موجودہ صورتحا ل او ر تاریخی حوالے سے عوام وکارکنان کو آگاہی فراہم کر رہے ہیں اس سلسلے میں عوام وکارکنان کی جانب سے قائد تحریک سے والہانہ عقیدت و محبت اوراپنے جذبات کا اظہار بھی کیاجارہا ہے جو مندرجہ ذیل ہیں ۔
نواب شاہ سے ایک بہن نے اپنے جذبات کا اظہار کر تے ہوئے کہا کہ اسلام علیکم الطاف بھائی میں نے آپ کی بائیکا ٹ کے حوالے سے تقریر سنی او ربغور سنی اس میں بہت سے ایسی باتیں تھیں جس کا ہمیں حقیقت میں علم میں نہیں تھا ۔آ پ کی اس تقریر کے ذریعے ہمیں بہت سی چیز وں کا علم ہوا۔ میر ی آپ سے گزارش یہی ہے کہ جو آپ نے کہا ہے کہ آپ آئندہ وڈیو خطاب میں ان سب کی حقیقتیں آپ لوگوں کو بتاؤں گا ، الطاف بھائی میرا خیال سے یہ کا م آپ کو بہت جلد کرنا چاہیئے کہ بہت سے لوگ غفلت کے اندر ہی جی رہے ہیں۔ ان کو ان حقائق یا ان کی بھیانک شکلوں کے بارے میں علم نہیں ہے۔ وہ لوگوں کو ضرور پتہ چلنی چاہیئے ۔ الطاف بھائی آپ یقین کر یں کہ ہم بہت کوشش کرتے ہیں بہت کوشش کر تے ہیں کہ ایسے لوگوں سے دور رہیں جنہوں نے آ پ کا ساتھ چھو ڑ ا، آپ کے ساتھ دھوکا کیا اور آپ کے ساتھ غدار ی کی ہم ان سے دور دور رہیں تو بہتر ہے ہم تو ان کاسایہ بھی اپنے اوپر پڑنے نہیں دیں گے کیونکہ ان لوگوں نے جس طرح ہماری قوم کو ذلتوں میں ڈالا ہے وہ ہم فیس کر تے ہیں ہمیں اندازا ہے کے لوگ ہم سے بڑا مزاحیہ اندا ز میں پوچھتے ہیں کہ اچھا بھئی اب PIBوالے یا بہادر آباد والے خیابان سحر والے اب مزید کہاں بنے گا آپ کا نیا گروپ ،کوئی نہیں پارٹی کہاں بنے گی ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو نظریہ آپ نے دیا ان لوگوں کو اور جو نام آپ نے دیا تو یہ کتنے بھی گروپ بنا لیں سب سے پہلے تو اس نام کو چھو ڑیں جو صرف اور صر ف آپ کی پہچان ہے، اس پارٹی کے نام کو چھو ڑیں چاہے وہ PIBگر وپ ہو ،بہادر آباد گروپ ہو یا خیابان سحر گروپ ہو یہ سب اپنے مفادات کے کیلئے کام کرنے والے لوگ تھے ،الطاف بھائی جب ہمیں لوگ آکر بتا یا کر تے تھے کہ ایسا ہور ہا ہے ویسا ہوہا ہے تو ہم یقین نہیں کر تے تھے کہ ایسا نہیں 

2
ہوسکتا، ایسا کچھ نہیں ہوسکتا لیکن بعد میں ہمیں انداز ا ہوا کہ جو کچھ بھی اندر کہانیاں چل رہی تھیں تو اس میں کافی حد تک سچ تھا جو ہمیں سننے کو ملا اور جو ہمیں لوگوں نے بتایا بہرحال ہماری دادی ایک کہاوت سنایا کر تی تھیں ہم لوگوں کو اس میں بڑی سچائی تھی اور میں سوچتی ہوں کہ جب ہم چھوٹے تھے تو ہمیں یہ بات سمجھ میں نہیں تھی لیکن اب جب ہم بڑے ہوئے ہم دنیا کے مسئلے مسائل کو فیس کرنے کیلئے خود پر یکٹیکل لائف کے اندر آگئے تو ہمیں اندازا ہوا کہ ہماری دادی جو بات کہتی تھیں اس میں کتنی سچائی تھی کہ’’ اصل سے خطا نہیں ،کم نسل سے وفا نہیں‘‘ تو حقیقت یہ یہی ہے کہ الطاف بھائی کہ اصل سے حقیقتاً خطا نہیں ہوسکتی تھی کم نسل سے وفا کی امید رکھی ہی نہیں جاسکتی کیونکہ وہ کبھی وفا نہیں کرے گا کیونکہ وہ اپنے مفاد کے لئے جیتا ہے اپنے مفاد کیلئے ہی مر تا ہے اور اپنے مفاد کیلئے ہی کام کر تا ہے ۔ حقیقت میں الطاف بھائی آپ کو بتاؤں کہ کارکنان جو چھوٹے علاقوں کے چھوٹی عمروں کے اور بہت ہی بیچارے غریب لوگ مفلوک الحال جو آپ سے بے پناہ محبت کر تے ہیں ، آپ کے نام کے ساتھ کسی اور کا نام سن نہیں سکتے ہیں ،آ پ کے لئے کوئی بر ا لفظ برداشت نہیں کر سکتے آپ یقین کر یں گے حقیقت میں قربانیاں تو انہیں لوگوں نے دی ہیں ہم نے خود اپنی آنکھوں سے یہ سب چیزیں دیکھی ہیں ہم نے خود کام کیا ہے اور الیکشن کا زمانہ تھا ہم گھر وں سے لوگوں کو ووٹ ڈالنے کیلئے لیکر آتے تھے اور ان نا ھنجاروں کو ووٹ ڈلوائے لیکن ہمیں انداز نہیں تھا کہ ہم جو اتنی محنت کر رہے ہیں ہم گھر گھر جارہے ہیں لوگوں کو مجبور کر رہے ہیں کہ چلیں بھئی ووٹ ڈالنے چلیں جبکہ یہ لوگ سہولت سے بیٹھے ہوئے تھے سورہے ہیں کھا رہے ہیں پی رہے ہیں مگر ہم نے کہا پہلے ووٹ ڈالیں بعد جو مر ضی چاہے اپنا کام کر نا ۔ میں اپنی مثال دے رہی ہوں کہ الطاف بھائی لوگوں نے اتنا کام کیا ہے اتنا کام کیا ہے ان لوگوں کے لئے ان کو جتوانے کیلئے لڑکوں نے رات دن ایک کیا ہے جبکہ ان کو حقیقتاً ان کو کسی قسم کا کوئی لالچ نہیں ہے بالکل کسی طرح کا کوئی لالچ نہیں ہے ہمیں بھی کسی قسم کا کوئی لالچ ہیں ہے ہم صر ف آپ کا نام لیکر آپ کی چیزوں کوآگے پہنچانا چاہتے ہیںآپ کے نظریے کوآگے چلانا چاہتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ آ پکا نام لوگوں کے دلوں میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کی زبان پر ہو ہمیں کسی قسم کا کوئی لالچ ،کسی قسم کی تمنا نہیں ہے ہم چھوٹے کارکن کی حیثیت سے کام کرنا چاہتے ہیں اور جو حقیقتاً آپ سے محبت کر تے ہیں میں آپ کو حقیقت بتاؤں کہ میں نے بہت سے لوگوں سے بات کی ہے بہت سے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر بہت سے لوگوں کوخیالات جانے ہیں آپ یقین کر یں لوگ آ پ سے اتنا پیار کر تے ہیں ، اتنا پیار کر تے ہیں اور ان کو کسی قسم کا کوئی لالچ نہیں ہے کسی بھی چیز کا کوئی لالچ نہیں ہے ان کوکوئی چیز نہیں چاہیئے۔ یہ تو مفاد پرست لوگ ہیں جو آکے سیٹوں کا ناجائز استعمال کر تے ہیں آپ یقین کریں لوگ اس قدر بد دعائیں دیتے ہیں اس قدر گالیاں دیتے ہیں اس قدر برا بھلا کہتے ہیں کہ ہمیں شرمندگی محسوس ہوتی ہے کہ یہ ہماری پارٹی کا حصہ رہے ہیں، ہمارے لوگوں کے ساتھ اٹھے بیٹھے ہیں، ہمارے لوگوں کے ساتھ کھایا پیاہے انہوں نے ہمارے لوگوں کے ساتھ کام کیا ہے اور آج اپنا وقت آیا تو یہ چھو ڑ کر بھاگ گئے تو جس طرح یہ روحانی باپ کو چھو ڑسکتے ہیں تو یہ حقیقی باپ کوبھی چھو ڑسکتے ہیں کیونکہ وہی والی مثال یہاں کوٹ کر وں گی کہ’’ اصل سے خطا نہیں کم نسل سے وفا نہیں ‘‘جو آپ نے سنا ہی ہوگا کیونکہ اب تو یہ چیز بہت عام ہوگئی 

3
ہے کہ بوڑھی ماں کو مارنا پیٹنا ،اولڈہوم میں چھوڑ جانا ، ایدھی سینٹر میں چھو ڑ جانا یا کسی پارک میں چھوڑ جانا پلٹ کر واپس نہ لیکر آنا ،یا باپ کو گالیاں دینا یا بر ا بھلا کہنا ،جائیداد کی خاطر ماردینا اپنے ماں باپ پر ظلم کرنا یہ سب ہورہا ہے اسی قسم کے لوگوں سے کوئی بعید نہیں ہے وہ اسی قسم کے لوگ ہونگے جو ظاہر سے بات ہے کہ خون بھی بڑا میٹر کر تا ہے جس طرح کی پرورش جس ماحول میں ان کی گئی جو انہوں نے اپنے ماں باپ کو دیکھا ہے اپنے ان کے ارد گرددیکھا ہے وہ اسی طرح کے پریکٹیکل لائف کے اندر نکلتے ہیں جب ہم چھوٹے تھے تو ہمارے والد ہم سے ایک بات کہا کرتے تھے کہ دیکھو کبھی بھی جھوٹ مت بولنا ،جھوٹ تمام خوبیوں کو کھا جاتا ہے ۔تو ہم بڑا سوچا کرتے تھے کہ کیسے کھا لیتا ہے جھوٹ سمجھ میں نہیں آتی تھی یہ چیز لیکن جب میں پر یکٹیکل لائف میں آئی تو محسوس ہوا کہ حقیقت میں تما م برائیوں کا جو نچوڑ ہے وہ جھوٹ ہے جھوٹ جو شخص بول سکتا ہے وہ دنیا کا ہر برا کام کر سکتا ہے تو انہوں نے قوم کو دھوکہ دیا، جھوٹ بولا آپ کے ساتھ غداری کی تو میری ناقص رائے ہے الطاف بھائی میں ایک چھوٹی سی کارکن ہوں آپ کی بہت چاہنے والی ہوں ، بہت بے پناہ آپ سے محبت کرنے والی ہوں میری تو رائے یہی ہے کہ ان کوکبھی بھی معافی مت دیجئے گا اس لئے کہ جب آ پ نے پہلے دو غداروں کی معافی کا اعلان کیا تھا اس وقت بھی ہمارے جذبات یہی تھے کہ ان لوگوں کومعافی نہیں ملنی چاہیئے تھی اور بہت سے لوگوں نے ہم سے کہا کہ کام کریں سے ان بات کریں لیکن کبھی دل نے گوارا نہیں کیا کہ ان سے بات چیت کی جائے کیونکہ ہمارے ذہن میں وہ کارکنان وہ شہید کارکنان تھے جو برے لوگوں کی وجہ سے شہید ہوئے اگر یہ غداری نہیں کرتے تو اتنے کارکنان شہید نہیں ہوتے اتنے اچھے اچھے اور اتنے جانبازہمارے کارکنان جو ان کی غداری کی بھینٹ چڑھ گئے تو دل میں کہیں نہ کہیں خلش تھی کہیں نہ کہیں چبھن اور کہیں نہ کہیں غم و غصہ دبا ہوا تھا چنگاری جو مجبور کرتی تھی کہ ان سے بالکل کسی قسم کی کنو رسیشن نہ کی جائے ، تو الطاف بھائی ہمارے جذبات تو یہی ہیں کہ جب ماضی میں ایک تجر بہ کر کے دیکھا کہ معافی کا اعلان کیا اور اس کے بعد قبول کیا تو انہوں نے بعد میں پھر مرکز کے اوپر آپ دیکھیں کیا کیا انہوں نے تو ان غداروں کو تو کسی صورت میں معافی نہیں ملنی چاہیئے پارٹی میں دوبارہ شمولیت نہیں ہونی چاہیئے ان کی ورنہ عوام کا اعتماد ختم ہوجائے گا کیونکہ جو چھوٹے کارکنان جو ہیں الطاف بھائی وہ بے انتہا جذباتی ،بے انتہا جوشیلے ، بے انتہا محبت کرنے والے اور حددرجہ مرنے مٹنے والے کارکنان جو آپ سے بے انتہاپیار کرتے ہیں وہ نہیں چاہتے کہ ایسے لوگ دوبار ہ پارٹی میں آئیں۔ اور جو کچھ بھی پیپلز پارٹی کے دور میں ہوا ہے یا ن لیگ کے دور میں ہوا ہے وہ ہم سے پوشید ہ ڈھکی چھپی بات نہیں ہے اب تو بچے بچے چھوٹے چھوٹے ان سے بھی اگر آپ پوچھیں تو وہ بھی حقیقت میں آپ کو بہت ساری چیز یں بتائیں گے کہ آپ سن کر حیران رہ جائیں گے کہ ان کو کیسے علم ہے ۔اسٹیڈی میں کرتی رہتی ہوں میں یحیٰ خان کے دور کے بارے میں کچھ پڑھا ہے اس کے دور کے اندر ایک جنرل رانی کے نام سے ایک خاتون تھی کیریکٹر لیس خاتون، ان پر جرنیلوں کا ہاتھ تھا اور ان کی آشیر باد کے بغیر پتہ بھی نہیں ہل سکتا تھا اور بھٹو کی بھی ایک طرح سے اب میں کیا کہہ سکتی ہوں میرے پاس وہ الفاظ نہیں ہیں 


4
میںیہاں وہ الفاظ استعمال نہیں کر سکتی کیونکہ ظاہر سی بات ہے آپ بڑے ہیں اور آپ کے سامنے میں اس طرح کے الفاظ استعمال کرنا نہیں چاہتی لیکن الطاف بھائی یہ کردار ہے ہمارے محافظوں ،ہماری فوج کا کہ جو اتنی عیاشی میں اتنی فحش چیز وں میں پڑے رہیں۔ اب سے نہیں ظاہر سی بات ہے تو اس دور کی بات بتا رہی ہوں جب بھٹو صاحب زندہ تھا اور انہوں نے کیا کچھ گل نہیں کھلائے ان خاتون کے ساتھ اور یحییٰ خان کے ساتھ کیا کچھ نہیں کرتی رہی تو بہرحال اس تفصیل میں اس لئے جانا نہیں چاہتی کہ میرے پاس وہ الفاظ نہیں ہیں کہ آپ کے سامنے بول سکوں احترام کا ایک جذبہ ہے میں اس کی وجہ سے وہ الفاظ استعمال نہیں کر ناچاہتی لیکن یہ چیزیں عوام کے سامنے کوٹ کرنے والی ہیں تاکہ ان کو پتہ چلے کہ ان کا کردار کیا رہا ہے جو آج بڑے بڑے لیڈر بن کر بیٹھے ہوئے ہیں اور بڑ ے فخر سے ان کا ذکر کر تے ہیں کہ اس نے یہ نظریہ دیا تو اس نے یہ نظریہ دیا تو ان کے پاس نظریہ ہے کہاں یہ تو وہ قومیں ہیں کہ جن کے پاس سوائے فحاشی ، بدمعاشی اور عیبوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے کہ اگر آپ دیکھیں جاکر تو چاہے وہ سندھ ہو ،پنجاب ہو ، بلوچستان ہو ،کوئی بھی صوبہ ہو سب میں اتنا بر ا استفر اللہ کیونکہ ان قوموں میں عورت کی عزت کرنا تو کوئی تصور میں ہی نہیں ،احترام تو کوئی ہے ہی نہیں ، خواتین کا احترام اگر کسی نے جو دنیا نے دیکھا وہ صرف متحدہ کی وجہ سے ملا ہم علی الاعلان ایک چیز کہتے ہیں اگر ہم ہزاروں کے مجمع میں دو تین خواتین اگر پھنس جاتی ایک بھی مرد کا ہاتھ ٹچ نہیں ہوسکتا تھا وہ بحفاظت مجمع میں سے نکل کر اپنے گھروں کو چلی جاتی لیکن آپ PTIکا جلسہ دیکھ لیں۔۔۔ ن لیگ کا جلسہ دیکھ لیں یا کسی بھی پارٹی کا جلسہ دیکھ لیں اس کے اندر خواتین کے ساتھ کس طرح کی بدتمیزیاں ،بد سلوکی کیا جاتی ہے یہ تو کسی بھی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے ۔ اور رہ گئی بات بائیکاٹ کی تو ہم تو بہت خوش ہیں کہ آپ نے یہ فیصلہ کیا یہ ہمارے دل کی آواز تھی جو ہم چاہتے تھے کہ الیکشن کا بائیکاٹ ہو کہ جب آپ منظر سے اپنے آپ کو ہٹائیں گے ،آپ کا ہاتھ سر پر سے ان لوگوں کے ہٹے گا تو دنیا پھر خود تماشا دیکھے گی ان کے ساتھ ہوتا کیا ہے ۔ اور الطاف بھائی ہم لوگ تو آپ سے بے پنا ہ محبت کرنے والے لوگ ہیں آپ سے دلی وابستگی ہے ہمیں آپ کی آواز سن کر ہمیں بڑی خوشی ہوتی ہے ،آپ کی صورت دیکھ کر ہمیں خوشی ملتی ہے اور جو آپ تقریر کرتے ہیں ایسا لگتا ہے وہ ہمارے دل کی آواز ہے جو آپ نے جذبے اور جس جوش کا جس طرح آپ نے ایک ایک لفظ ادا کیا ہم نے بغور اس کوسنا اور میری پوری فیملی کے لوگوں نے یہی باتیں کہیں کہ ایسی تقریر بالکل صاف، بناوٹ کے بغیر اور بالکل اس میں ایسی کوئی چیز نہیں تھی کہ جو رٹے رٹائے جملے لکھے لکھائے اسکرپٹ قسم کی کوئی چیز نظر آئی ہو بالکل خلوص کے ساتھ سچے دلی اور بالکل ٹھیک چیزیں کہی گئیں وہ دلوں کو چھونے والی چیزیں ہیں آج نہیں کل ،کل نہیں پر سوں انشاء اللہ تعالیٰ اس چیز کو اس حقیقت کو مانیں گے کہ جو آپ نے کہا وہ بالکل صحیح تھا اور جو کچھ بھی ہورہا ہے وہ سب کچھ غلط ہورہا ہے ۔ ہماری دادی فرمایا کر تی تھیں کہ سچ جو ہے وہ کبھی چھپتا نہیں ہے چاہے کتنے بھی پر دو ں میں ہو ،سچ کھل کر سامنے ضرور آتاہے اور انشاء اللہ تعالیٰ ضرور آئے گا اور میری دل سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو زندگی صحت و وتندرستی اور اتنی کامیابی عطا کر کے الطاف بھائی آپ کا نام لینے والوں کی تعداد میں دن دگنی رات چگنی اتنا اضافہ کرے ،اتنااضافہ کرے کہ یہ مر جائیں سوچتے سوچتے کہ ہم جتنا ختم کرنے کی کوشش کر تے ہیں مگر چاہنے 

5
والوں کی تعداد میں اتناہی اضافہ ہوجاتا ہے۔ تو یہ پریشان ہیں خوف زدہ ہیں یہ سوچ رہے ہیں کہ اگر آپ کی آواز پر پابندی لگا دی آپ کے ویڈیو پر پابندی لگادی آپ کے گھر پر تالا لگادیا یا آپ کے خورشید میموریل پر تالا لگا دیا تما م آفسز بند کر دیئے تو کیا یہ ان کی کامیابی ہے حقیقت میں یہ ان کے زوال کا کا ٹائم شروع ہوچکا ہے اور لوگوں کے دلوں میں اتنی زیادہ نفرت پید ا ہوگئی ہے جو میں پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی الطاف بھائی مگر میں خود دیکھی ہے یہ چیز کہ لوگوں کے دلوں میں اس قدر نفرت ہے، نفرت ہے اصل میں یہ خود ان کی پیدا کی ہوئی نفرت ہے جو انہوں نے حرکتیں کی ہیں لوگوں کے ساتھ سلوک کیا ہے جو لوگوں کے ساتھ ظلم وتشد د اور جو انصافیاں ان لوگوں نے کی ہیں وہ سب کو نظر آرہی ہیں ۔الطاف بھائی اگر آپ حقیقت میں لوگوں سے رائے لیں گو تو آپ کو انداز ا ہوگا کہ لوگ کتنی نفرت ہے لوگوں کے دلوں میں اور آپ کا گراف نیچے جانے کے بجائے اوپر کی طرف چلا گیا لو گ آپ سے اتنا پیار کر تے ہیں کہ میں بتا نہیں سکتی کہ جس کو میں نے نوٹ کیا ہے ۔میری پانچ سال کی بھانجی ہے آپ سے بہت پیار کرتی ہے جب آپ کی تقریر آتی ہے تو وہ جئے مہاجر، جئے مہاجر، کے نعرے لگا تی ہے۔ میں بھی یہی چاہتی ہوں کہ ہماری آنے والی نسلیں جو ہیں وہ بھی بڑے فخر سے یہ بات کہیں کے ہمارا لیڈ ر جو ہے وہ سب سے اچھا اور سب سے سچا ہے اس میں کوئی لفاظی نہیں ہے الطاف بھائی آ پ یہ مت سوچیئے گا کہ شاید میں تعریف کر کے میں لفاظی کر رہی ہوں یہ میرے دل کی آواز ہے حقیقت میں جو میر ے جذبات ہیں ان کا اظہار نہیں کر سکتی جو میں نے ہمیشہ محسوس کی ہے آ کی تقریر کو سن کر جب میں اسکول و کالج لائف میں تھی تو میں نے یہی چیزیں دیکھی سنی اور آہستہ آہستہ وہ محبت بڑھتی چلی گئی ۔ سوری بھائی میری بات بہت طویل ہوگئی ہے لیکن میں اپنے جذبات بتا نا چارہی ہوں کیونکہ مجھے اتنا علم نہیں تھا سیاست کا میں واقفیت نہیں تھی لیکن پھر بھی میں آ پ کی آواز سننے آپ کے جلسے دیکھنے کیلئے لازمی جاتی تھی ۔ شکریہ ۔۔۔اللہ آپ کو صحت دے تندرستی دے آ پ کو اپنے نیک مقصد میں کامیاب کر ے۔ آمین 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

9/22/2018 9:43:42 AM