Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

یہ عوامی نہیں بلکہ فوجی الیکشن ہیں، عوام ایسے فوجی الیکشن کا مکمل بائیکاٹ کریں۔الطاف حسین


یہ عوامی نہیں بلکہ فوجی الیکشن ہیں، عوام ایسے فوجی الیکشن کا مکمل بائیکاٹ کریں۔الطاف حسین
 Posted on: 6/24/2018
یہ عوامی نہیں بلکہ فوجی الیکشن ہیں، عوام ایسے فوجی الیکشن کا مکمل بائیکاٹ کریں۔الطاف حسین
اس الیکشن میں فوج اپنی مرضی سے لوگوں کو کامیاب کروائے گی تاکہ اپنی مرضی کی حکومت لائی جاسکے
صوبہ پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان ، سندھ اور قبائلی علاقوں کے عوام جاگیرداروں اوروڈیرو ں کو ہرگز ووٹ نہ دیں
اوراپنے حقوق کے لئے خود آگے آئیں
آپ کی مدد کیلئے آسمان سے فرشتے نہیں آئیں گے بلکہ انہیں اپنے جائز حقوق کیلئے خود میدان عمل میں آنا ہوگا 
قائدتحریک الطا ف حسین کاسوشل میڈیا کے ذریعے کارکنوں اورعوام سے تفصیلی خطاب 

لندن ۔۔۔ 24 جون 2018ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطا ف حسین نے کہاہے کہ یہ عوامی نہیں بلکہ فوجی الیکشن ہیں، اس الیکشن میں فوج اپنی مرضی سے لوگوں کو کامیاب کروائے گی تاکہ اپنی مرضی کی حکومت لائی جاسکے لہٰذا عوام ایسے فوجی الیکشن کا مکمل بائیکاٹ کریں۔ صوبہ پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان ، سندھ اور قبائلی علاقوں کے عوام سمیت کشمیری، سرائیکی، ہزاروال ،گلگتی اور بلتستانی عوام بھی جاگیرداروں اوروڈیرو ں کو ہرگز ووٹ نہ دیں اوراپنے حقوق کے لئے خود آگے آئیں اور یادرکھیں کہ ان کی مدد کیلئے آسمان سے فرشتے نہیں آئیں گے بلکہ انہیں اپنے جائز حقوق کیلئے خود میدان عمل میں آنا ہوگا اور فرسودہ جاگیردارانہ نظام ، جاگیرداروں اوروڈیروں کی موروثی سیاست اورظلم وجبرکے نظام سے آزادی کے لئے عملی جدوجہد کرنی ہوگی۔جناب الطا ف حسین نے ان خیالات کااظہار گزشتہ روز سوشل میڈیا کے ذریعے کارکنوں اورعوام سے اپنے تفصیلی خطاب میں کیا۔ جناب الطاف حسین کایہ خطاب سوشل میڈیاکے ذریعے دنیابھرمیں براہ راست نشر کیاگیاجسے لاکھوں افراد نے دیکھا۔ اپنے اس خطاب میں انہوں نے پاکستان کی سیاسی تاریخ، حالیہ الیکشن اورموجودہ سیاسی صورتحال کے بارے میں تفصیل سے روشنی ڈالی۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ بدقسمتی سے پاکستان میں طلبہ کومسخ شدہ تاریخ پڑھائی جاتی ہے ، نوجوانوں کوبتایاجاتاہے کہ علامہ اقبال نے پاکستان کاخواب دیکھاتھا اوراس کے لئے علامہ اقبال کے 1930ء میں دیے گئے خطبہ الہ آباد کاحوالہ دیاجاتاہے جبکہ تاریخی حقیقت اس کے برعکس ہے ، علامہ اقبال کے خطبہ الہ آباد میں پاکستان کازکرتک نہیں ہے بلکہ انہوں نے اپنے خطبہ میں یہ فارمولاپیش کیاتھاکہ ہندوستان کے شمال مغربی علاقوں کو ہندوستان کے جغرافیہ میں رہتے ہوئے آزاداورخودمختارریاستوں کادرجہ دیدیاجائے ۔علامہ اقبال تقسیم ہندکے نہیں بلکہ خودمختاری کے حامی تھے،تاریخی حقیقت یہ ہے کہ جب علامہ اقبال کے ایک شاگردجن کانام راغب تھا،انہوں نے جرمنی یہ کتاب لکھی کہ علامہ اقبال نے خطبہ الہ آبادمیں پاکستان کامطالبہ کردیاتو علامہ اقبال نے ناراض ہوکر اپنے اس شاگردکوخط لکھاکہ انہوں نے اپنی کتاب میں خطبہ الہ آبادکے بارے میں غلط بات کیوں لکھی، انہوں نے پاکستان کاکوئی مطالبہ نہیں کیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ علامہ اقبال نے پاکستان کاکوئی مطالبہ یاتصورپیش نہیں کیاتھا، ان کاانتقال 1939ء میں ہی ہوگیا تھا اور 1939ء میں پاکستان کے نام سے کوئی تحریک نہیں چل رہی تھی۔ کہاجاتاہے کہ پاکستان کانام چوہدری رحمت علی نے پیش کیاتھاجبکہ اس کے بارے میں بھی اختلاف پایاجاتاہے ۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ قیام پاکستان کے فوری بعد1948ء میں فوج نے قبائلی علاقوں کے لوگوں سے کشمیرپر حملہ کرایا، جب بھارت کی فوج آگے آئی توپاکستان کی فورسزکوپیچھے ہٹناپڑا۔انہوں نے کہاکہ 6ستمبرکویوم دفاع منایاجاتاہے اورقوم کوبتایا جاتاہے کہ 6ستمبر1965ء کوبھارت نے حملہ کیا تھا تو فوج نے دفاع کیاتھاجبکہ اصل تاریخی حقیقت کچھ اور ہے، ریٹائرڈ ایئرمارشل اصغرخان نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویومیں بھی ساری حقیقت کھول کررکھ دی اور بتایاکہ کشمیرکے محاذپر پاکستان نے جنگ شروع کی تھی اوریہ سمجھاتھاکہ انڈیا انٹرنیشنل بارڈر نہیں کھولے گا لیکن جب انڈیانے انٹرنیشنل بارڈرکھول کر جوابی حملہ کیاتو اس وقت کے حکمرانوں نے امریکہ سے درخواست کرکے یہ جنگ بندکروائی ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ یہ تلخ حقیقت ہے کہ چاہے 48ء کی جنگ ہویا65ء کی جنگ ہو،1971ء کی جنگ ہویا اس کے بعدکارگل کی جنگ ہو، ہر جنگ میں پاکستان کی فوج کوشکست اورپسپائی کاسامناکرناپڑاہے لیکن عوام کوفوج کی بہادری کے کارنامے سنائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جب فوج نے کوئی جنگ نہیں جیتی توپھرفوج کے جرنیلوں اوراعلیٰ افسران کس بات پر اپنے سینوں پر بڑے بڑے تمغے سجاتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ دراصل یہ تمغے تاریخ کومسخ کرنے، ملک میں باربارمارشل لاء لگانے ، ایم کیوایم کوکچلنے ، سیاسی جماعتوں کوتقسیم کرنے اوراپنے ہی ملک کوفتح کرنے کے تمغے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ فوج نے ہمیشہ اپنے ہی ملک کے شہریوں سے جنگ کی ہے اور اپنے ہی شہروں کوفتح کیاہے ، فوج نے پختونوں، بلوچوں اورسندھیوں کوفتح کیا، اب مہاجروں کوفتح کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ، لوگوں کوگرفتارکرکے لاپتہ کیاجارہاہے، سرکاری عقوبت خانوں میں تشددکانشانہ بنایاجارہاہے اور ماورائے عدالت قتل کیا جارہاہے۔ انہوں نے کہاکہ قوم کوبتایاگیاکہ ملک میں ضرب عضب دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ اس کی آڑ میں معصوم قبائلیوں کو مارا گیا ، آج ردالفساد کے نام سے آپریشن ہورہاہے تو قبائلی علاقوں کے بے گناہ لوگوں کولاپتہ اوربے گھر کیا جارہا ہے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ جودفاعی تجزیہ نگاربھی ٹی وی پر بیٹھ کربڑی بڑی باتیں کرتے ہیں انہوں نے بھی کوئی جنگ نہیں لڑی ، حقیقت تویہ ہے کہ جنگیں صرف سپاہی ، صوبیداراورنچلے افسران لڑتے ہیں جبکہ بڑے بڑے افسران اپنے ایئرکنڈیشنڈ بنگلوں اوربڑے بڑے کیمپوں میں آرام سے بیٹھتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اینکرز کی اکثریت بھی صرف وہی بیانیہ پیش کرتی ہے جو فوج کا دیا ہواہوتاہے ، جواینکرز، صحافی اورتجزیہ نگار اسٹیبلشمنٹ کی غلط پالیسیوں اور ااقدامات پرتنقیدکرتے ہیں انہیں اٹھالیا جاتا ہے اورسرکاری عقوبت خانوں میں آنکھوں پر پٹیاں باندھ کررکھاجاتاہے اورکئی کئی روز تک وحشیانہ تشدد کانشانہ بنایاجاتا ہے اوراسی وقت چھوڑاجاتاہے جب وہ اسٹیبلشمنٹ کا پڑھایاہواسبق بیان کرنے کے لئے تیارہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آج پاکستان میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کو اتنامقدس قراردیدیاگیا ہے کہ اس کے خلاف ایک لفظ بولنا اور اس کے ظلم کوظلم کہناسب سے بڑاجرم بنادیاگیاہے۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ فوج ملک کی نوکر ہوتی ہے ، پاکستان کی فوج بھی ملک کے 22کروڑ عوام ماتحت ہیں، ملک کے عوام فوج سے سوال کرسکتے ہیں ۔ پوری دنیامیں فوج ماتحت ہوتی ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں فوج اصل حاکم بنی ہوئی ہے اورملک کے تمام ادارے اس کے ماتحت بنے ہوئے ہیں۔ انڈیااورپاکستان ایک ساتھ آزادہوئے ، انڈیانے آزادہوتے ہی جاگیردارانہ نظام ختم کردیااورفوج کوکبھی بھی سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرنے دی، 70سال میں وہاں ایک دن کے لئے بھی مارشل لانہیں لگاجس کی وجہ سے انڈیامیں جمہوریت مستحکم ہوتی رہی اورملک نے ترقی کی لیکن پاکستان میں گزشتہ 70سال کے عرصہ میں 35سال توبلاواسطہ مارشل لاء نافذ رہااورباقی عرصے بلواسطہ فوج کی حکمرانی رہی ہے ، اب فوج کومارشل لاء نافذ کرنے کی ضرورت نہیں رہی ہے کیونکہ آج حکومت، انتظامیہ، پارلیمنٹ، عدلیہ ، میڈیا اورسارے ادارے فوج کے کنٹرول میں ہیں ، فوج سرحدوں کی حفاظت چھوڑکر تجارت اور کاروبارکررہی ہے۔سیمنٹ ، ریتی بجری، بینکس، شادی ہال ، واٹرہائیڈرینٹ، پیٹرول پمپس، بلڈنگ میٹریلز،کولڈرنکس، گوشت، کونساکاروبار ہے جوفوج نہ کررہی ہو۔ انہوں نے کہاکہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ اگرملک سے واقعی مخلص ہوتی توالطاف حسین کی باتوں کابرامنانے کے بجائے الطاف حسین کی باتوں پر توجہ دیتی، الطاف حسین کی صلاحیتوں کوملک کی فلاح وبہبود اورترقی کے لئے استعمال کرتی ۔ انہوں نے کہاکہ میں آج بھی پاکستان کی بقا، سلامتی اورترقی وخوشحالی کے لئے اپنی خدمات پیش کرنے کوتیارہوں لیکن شرط یہ ہے کہ فوج ، آئی ایس آئی ملک کوجوابدہ ہوگی ، اگرمیں پانچ سال میں ملک کانقشہ نہ بدل دوں تو سیاست چھوڑدوں گا۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ چیف جسٹس سپریم کورٹ میاں ثاقب نثارآج اسپتالوں اورجگہ جگہ کے دوے کررہے ہیں لیکن انہیں جیلوں کے دورے بھی کرنے چاہئیں جہاں لوگ جھوٹے مقدمات میں برسوں سے جیلوں میں قید ہیں، چیف جسٹس کوپختونخوا، قبائلی علاقوں، بلوچستان اورکراچی کادورہ کرنا چاہیے جہاں ہزاروں نوجوان برسوں،مہینوں سے لاپتہ ہیں اوران کے اہل خانہ مارے مارے پھررہے ہیں۔ چیف جسٹس نے اقامہ کے معاملے پر نوازشریف کوتونااہل قراردیدیا لیکن انہیں آصف زرداری، عمران خان اوردیگرلوگوں کو بھی بلاکرپوچھناچاہیے کہ ان کے پاس اربوں کھربوں کی جائیدادیں اورمحل کہاں سے آئے ۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک کی عدلیہ بھی فوج کی غلام اوراس کی ترجمان بنی ہوئی ہے جو غریب ومظلوم عوام کوانصاف دینے کے بجائے ظالموں کاتحفظ کررہی ہے ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ فوجی اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کولیڈربنانے اوراس کواقتداردلانے کے لئے اب تک کھربوں روپے خرچ کئے ہیں جبکہ اس کے کردارکے بارے میں سب جانتے ہیں کہ وہ ایک ناجائزبچی کاباپ ہے اوراس کے بارے میں لاس اینجلس کورٹ کافیصلہ موجود ہے لیکن سپریم کورٹ نے اسے صادق اورامین قراردیدیاہے ۔ 
جناب الطاف حسین نے دریافت کیا کہ پاکستان کی تاریخ میں کسی ایک بھی لیڈر کا نام بتائیں جو الطاف حسین کی طرح غریب ومتوسط طبقہ سے تعلق رکھتا ہو اور جس نے اسکول ،کالج اوریونیورسٹی کی تعلیم ٹیوشن پڑھا کر حاصل کی ہواوروہ ایسی جماعت کا بانی وقائد بن گیا جس نے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ غریب ومتوسط طبقہ کی حکمرانی کی بنیاد ڈالی اور موروثی سیاست پر کاری ضرب لگائی ہو؟ انہوں نے مزیدکہاکہ حق پرستی کی جدوجہد کے دوران الطاف حسین نے اپنے بھائی اوربھتیجے کی قربانی ضرور دی ہے لیکن اپنے کسی بھائی یا بھتیجے کو سینیٹ ، قومی اسمبلی ، صوبائی اسمبلی کارکن یا میئر، ڈپٹی میئر نہیں بنایا۔ پاکستان کے سیاسی رہنماؤں میں کوئی ایک نام بتادیں جو الطاف حسین جیسا ہو، پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے الطاف حسین کو متعدد بار پرکشش مراعات کی پیشکش کی، بہت لالچ دیئے، نوٹوں سے بھرے صندوق بھیجے لیکن میں نے آئی ایس آئی کی بھیجی ہوئی رقم لینے سے انکارکردیا۔ آئی بی کے سابق سربراہ بریگیڈیئر(ر) امتیاز احمد آج بھی زندہ ہیں ، اللہ انہیں سلامت رکھے ، وہ ٹیلی ویژن پر اس حقیقت کا اعتراف کرچکے ہیں کہ ہم رقم لیکر الطاف حسین کے پاس گئے تھے لیکن انہوں نے رقم لینے سے صاف انکارکردیا ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ جو لوگ میرے پاس رقم لیکر آئے انہیں میں نے صاف کہہ دیا تھا کہ میں فوج کے ساتھ کام کرنے کیلئے تیار ہوں لیکن اس معاملہ میں پلاٹ ، پرمٹ اورپیسہ درمیان میں نہ لایاجائے کیونکہ الطاف حسین بے لوث ہوکر ملک وقوم کی خدمت کرنا چاہتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ملک وقوم کی خدمت اورغریب ومتوسط طبقہ کی حکمرانی کیلئے ہم نے مہاجرقومی موومنٹ کو متحدہ قومی موومنٹ میں تبدیل کیا، ایم کیوایم کے پلیٹ فارم سے تمام قومیتوں کے افراد کومنتخب کرایا اور ایوانوں میں نمائندگی دلوائی،یکجہتی اوربھائی چارے کے فروغ کیلئے اپنے گھریعنی نائن زیرو سے غریب سندھیوں کوالیکشن میں کامیاب بنایا مگر سندھی وڈیروں اور نام نہاد قوم پرستوں نے ہمارے خلوص کی کبھی قدر نہیں کی کیونکہ سندھی جاگیردار، وڈیرے اور نام نہاد قوم پرست نہیں چاہتے کہ غریب سندھیوں اورمہاجروں میں اتحاد قائم ہو۔اسی طرح پنجاب کے جاگیرداروں اورزمینداروں نے غریب پنجابیوں کو اپنا غلام بنارکھا ہے ،ان کے ہاتھوں کسی غریب ہاری، کسان یا مزارعہ کی بہو بیٹی کی عزت محفوظ نہیں ہے ، جوبھی زمینداروں کے ظلم کے خلاف آواز بلند کرتا ہے تو اس کے پورے خاندان کا برہنہ جلوس نکالا جاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ الطاف حسین نے خود کبھی الیکشن نہیں لڑا بلکہ غریب کارکنوں کو ایوانوں میں بھیجا جوکہ انتخابی بینربنانے کی بھی استطاعت نہیں رکھتے تھے ،ان امیدواروں کی نامزدگی کی فیس بھی ایم کیوایم ادا کرتی تھی تاکہ کروڑوں روپے خرچ کرکے انتخابات میں حصہ لینے کی روایت ختم کی جاسکے لیکن یہ نظام فوج اورآئی ایس آئی کو پسند نہیں آیااورانہوں نے ایم کیوایم کے خلاف سازشیں شروع کردیں۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ 1990ء کو جب میں نے مینارپاکستان لاہور میں جلسہ عام سے خطاب میں پنجاب کے غریب عوام کو پیغام دیا کہ وہ جاگیرداروں ، وڈیروں ، زمینداروں اورسرمایہ داروں کو منتخب کرنے کے بجائے اپنی صفوں سے قیادت نکالیں تو کرپٹ جرنیل ، جاگیردار، وڈیرے اورسرمایہ دارمیرے دشمن بن گئے اورانہوں نے میرے خلاف منفی پروپیگنڈے شروع کردیئے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ جب تک غریب ومتوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ اور ایماندار افراد منتخب ہوکر ایوانوں میں نہیں جائیں گے اس وقت تک پاکستان کانظام کبھی تبدیل نہیں ہوگا، شاعرمشرق علامہ اقبال کے چاہنے والے بالخصوص نوجوان طلباوطالبات کو چاہیے کہ وہ میدان عمل میں آئیں اورپنجاب کے جاگیرداروں ، زمینداروں اورنوابوں کے ظلم سے نجات کیلئے انتخابات میں انکے مقابل کھڑے ہوں۔جس طرح ملٹری اسٹیبلشمنٹ اورآئی ایس آئی نے تمام electables جاگیرداروں ، وڈیروں اورسرمایہ داروں کو فون کرکے تحریک انصاف میں شامل کرایا اسی طرح یہی لوگ پورے سندھ میں مہاجروں کو دھمکیاں دے رہے ہیں کہ فلاں کی پارٹی میں شامل ہوجاؤ یا فلاں کو ووٹ دو ورنہ پروفیسر ڈاکٹرحسن ظفرعارف یا آفتاب احمد کی طرح شہید یا لاپتہ ہونے کیلئے تیارہوجاؤ۔ 
جناب الطاف حسین نے سوال کیا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انتخابات کیلئے ساڑھے تین لاکھ فوج کیا کشمیرفتح کرنے کیلئے مانگی ہے ؟ انتخابات کرانا فوج کا کام نہیں ہوتا،مجھے برطانیہ میں رہتے ہوئے26 سال ہوگئے ہیں میں نے آج تک یہاں پولنگ اسٹیشنوں پرایک بھی پولیس اہلکارتعینات ہوتے نہیں دیکھا۔ کیاپاکستان میں انتخابات کرانے کیلئے پولنگ اسٹیشنوں پر اندر اورباہر اس لئے فوج تعینات کرائی جارہی ہے کہ اپنی مرضی سے ٹھپہ لگائے جاسکیں اور من پسند افراد کو الیکشن میں کامیاب بنایاجاسکے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان کی فوج فلسطین اور یمن میں مسلمانوں کا قتل عام کررہی ہے، افغانستان میں پاکستانی طالبان استعمال کیے جارہے ہیں اور وہاں گڈ طالبان کے ذریعہ حملے کروائے جارہے ہیں، اس کے پیچھے آئی ایس آئی ہے جو پوری دنیا میں دہشت گردی پھیلارہی ہے ،اقوام متحدہ ، عالمی برادری اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کو آئی ایس آئی کو لگام دینی چاہیے ۔
جناب الطاف حسین نے الیکشن 2018ء کے بائیکاٹ کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہاکہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے طے رکھا ہے کہ شہری سندھ میں الطاف حسین کی جماعت اور اس کے ووٹرزکو انتخابات کیلئے سازگار ماحول فراہم نہ کیاجائے ، سازگار ماحول کے بغیر انتخابات شفاف اورغیرجانبدار کیسے ہوسکتے ہیں؟ الیکشن میں دھاندلی کیلئے پہلے الیکشن کی مانیٹرنگ کیلئے پاکستان آنے والے عالمی مبصرین پر پابندی لگائی گئی اورجب امریکہ نے زور دیا تو ’’یس سر‘‘ کہہ دیا گیا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ جولوگ کہتے ہیں کہ ایم کیوایم کو پارلیمانی سیاست سے باہرنہیں ہونا چاہیے وہ جواب دیں کہ کیا 1992ء میں پاکستان کے تمام منتخب ایوانوں میں ایم کیوایم کی نمائندگی نہیں تھی؟ اس کے باوجود ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن کیاگیا اورایم کیوایم کے منتخب نمائندے اس آپریشن کو رکوانے کیلئے کچھ نہ کرسکے بلکہ ان کی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرائی گئیں۔ جب جب ایم کیوایم کے خلاف آپریشن کیاگیا ، ایم کیوایم کے نمائندے منتخب ایوانوں کے رکن تھے لیکن جب پاکستان کے وزیراعظم کے سرپرپستول رکھ کر استعفے پر دستخط کرائے جاسکتے ہیں توایم کیوایم کے نمائندوں کی کیاحیثیت ہے۔ ایسے الیکشن کا کیافائدہ کہ کارکنان رات دن انتخابی مہم چلائیں ، عوام اپنے امیدواروں کووو ٹ دیکر کامیاب بنائیں اور کامیاب ہونے والے راتوں رات فوج کے اشارے پر لوٹے بن جائیں ۔ انہوں نے کہاکہ جو عناصر انتخابات کے بائیکاٹ کی مخالفت کررہے ہیں وہ مہاجروں کو بہکارہے ہیں ، حقیقت یہ ہے کہ حالیہ مردم شماری میں مہاجروں کی ساڑھے تین کروڑ آبادی کم کرکے صرف ڈیڑھ کروڑ ظاہرکی گئی ہے ، آبادی کے تناسب سے قومی وصوبائی اسمبلی میں سندھ کے شہری کو نمائندگی کے حق سے محروم کردیاگیا،حلقہ بندی میں مہاجراکثریتی علاقے دیگرعلاقوں میں شامل کیے گئے ہیں ۔ان حالات میں الیکشن میں حصہ لیکر کیاکریں گے؟ انہوں نے مزید کہاکہ ایم کیوایم کے مرکزنائن زیرو، خورشید بیگم سیکریٹریٹ ، ایم پی اے ہاسٹل پر تالا پڑاہواہے، ایم کیوایم کی میڈیاکوریج پر پابندی ہے ، میری تحریروتقریر پرپابندی ہے ، ایم کیوایم کو سیاسی سرگرمیوں کی آزادی نہیں دی جارہی، جلسہ جلوس اور احتجاجی مظاہرے تودرکنا ر مہاجروں کو یوم شہداء منانے اور قرآن خوانی تک کرنے کی اجازت نہیں ہے ، یادگارشہداء جانے والی خواتین تک کو تشدد کا نشانہ بنایاجاتا ہے ،رینجرز اہلکار ان پر بندوقیں تان کربہادری دکھاتے ہیں۔ ان حالات میں شہری سندھ کے عوام آزادی کے ساتھ کس طرح اپنا حق رائے دہی استعمال کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہاجربزرگوں اورخواتین پر تشدد کرنے والے اگر بہادرہیں تو اپنے عوام کو فتح کرنے اور ان پر بندوقیں تاننے کے بجائے کشمیرکو آزادکرائیں ، آخروہ کب تک مظلوم کشمیریوں کے نام پر پیسہ کھاتے رہیں گے ۔یہ اتنے بہادرہیں کہ ٹیلی ویژن پر الطاف حسین کانام آنے سے ڈرتے ہیں کہ اگر انہوں نے الطاف حسین کا نام سن لیا تورات کو ان کو نیند نہیں آئے گی لہٰذا الطاف حسین اورایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کا مؤقف میڈیا پر نہیں آناچاہیے۔عوام پانی ، بجلی ، گیس اورصحت وصفائی کی سہولیات کو ترس رہے ہیں ، عوامی ایشوزپر آواز اٹھانے والاکوئی نہیں ہے کیونکہ رینجرز ٹینکرمافیا بنی ہوئی ہے ان کے خلاف کوئی نہیں بولتا، ؟ انہوں نے کہاکہ ٹی وی ٹاک شوز میں الزام لگایاجاتا ہے کہ کراچی آپریشن میں حصہ لینے والے پولیس اہلکاروں کو ماردیاگیا، انہیں جس نے بھی مارا غلط عمل کیا لیکن ان ضمیرفروش اینکرپرسنز اورتجزیہ نگاروں سے کوئی نہیں پوچھتا کہ ہزاروں مہاجرنوجوانوں کوماورائے عدالت قتل کرنے والے پولیس افسران کو آج تک آئین اورقانون کے مطابق سزا کیوں نہیں دی گئی؟جناب الطاف حسین نے کہاکہ 22 اگست2016ء کو کراچی پریس کلب کے باہر بھوک ہڑتالی کیمپ میں مجھ سے پہلے عامرخان نے پاکستان کے خلاف بات کی اوروہاں موجود فاروق ستارسمیت تمام افراد نے تالیاں بجائیں تھیں لیکن میرے گھرپرتالا ڈال گیا، پاکستان کے خلاف بات کرنے اورتالیاں بجانے والے سب ڈرائی کلین ہوگئے اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں نے دکھ اورصدمہ میں نعرہ لگایاتھا تو دومرتبہ تحریری معافی بھی مانگی، جنرل راحیل شریف اور جنرل قمرجاوید باجوہ کے نام خطوط بھی لکھے لیکن الطاف حسین کو معاف نہیں کیاگیاکیونکہ الطاف حسین کو معاف کرنے کامطلب غریب ومتوسط طبقہ کے عوام کو معاف کرنا ہے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ اگر ملٹری اسٹیبلشمنٹ یہ سمجھ رہی ہے کہ الطاف حسین کے چاہنے والے ختم ہوگئے تو یہ ان کی بھول ہے ،حالات کے تمام ترجبرکے باوجود الطاف حسین آج بھی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں ، بزرگوں ، نوجوانوں اورمعصوم بچوں کے دلوں میں بستا ہے ۔ اس موقع پر ایک معصوم بچی نے جناب الطاف حسین سے اپنی والہانہ عقیدت ومحبت کااظہار بھی کیا۔ 
جناب الطاف حسین نے شہیدوں کے لہوسے بے وفائی کرنے والے ضمیرفروشوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ یہ قدرت کا مکافات عمل ہے کہ جس نے ایم کیوایم کا آئین تبدیل کرکے مجھ سے رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کا حق چھینا اسے ہی رسوائی کا منہ دیکھنا پڑا۔انہوں نے کہاکہ ہزاروں شہیدساتھیوں کے گھروں پر ماتم ہے، لاپتہ کارکنان کے اہل خانہ شدیدذہنی کرب واذیت کا شکارہیں، شہیدوں اورلاپتہ ساتھیوں کے بچوں کے پاس کھانے اور اسکول کی فیس دینے کیلئے پیسے نہیں ہیں، ان حالات میں مہاجرقوم کے غدار الیکشن میں کس طرح حصہ لینے کی باتیں کررہے ہیں؟اگرغیرت ہوتی تو ایسے الیکشن میں حصہ لینے کے بجائے مرجانا قبول کرتے ۔پہلے خدمت خلق فاؤنڈیشن کے تحت شہیدوں کے اہل خانہ اوردیگرمستحقین کی بھرپورمدد کی جاتی تھی لیکن غداروں نے یہ سلسلہ بھی بند کردیا ہے ، ان ضمیرفروشوں نے تحریک کے پیسے اور تمام اثاثوں پر قبضہ کررکھا ہے ، مالی مشکلات کے باعث میں دنیا بھرمیں مقیم تحریکی ساتھیوں سے مالی مدد کی اپیلیں کررہاہوں، ماضی کی طرح آج بھی شہید، اسیراورلاپتہ ساتھیوں کی اپنی بساط سے بڑھ کر مالی مدد کررہاہوں، اگرمہاجرقوم کے حقوق کیلئے مجھے بھیک بھی مانگنی پڑی تو میں مانگوں گا مگراپنا تحریکی مشن جاری رکھوں گا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ جب تک پاکستان کے غریب ومتوسط طبقہ کے عوام اپنی صفوں سے قیادت نہیں نکالیں گے پاکستان کی ترقی وخوشحالی اورعوام کی فلاح وبہبود یقینی بنائی نہیں جاسکتی۔ مجھے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے غدار اورملک دشمن کہاگیا لیکن اس کے باوجود میں آج بھی پاکستان کی سلامتی اوراستحکام کی بات کررہاہوں کیونکہ قیام پاکستان کی جدوجہد میں میرے اجداد کالہو شامل ہے اورمیرے دل میں پاکستان کا درد موجود ہے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہم نے آئندہ الیکشن کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کیاہے اوران شااللہ سندھ کے شہری عوام الیکشن کا ایسا بائیکاٹ کریں گے کہ دنیا دیکھے گی ، مجھے اپنی ماؤں، بہنوں، بزرگوں اور ساتھیوں سے امیدہے کہ وہ الیکشن کے دن اپنے گھروں سے نہیں نکلیں گے اور پولنگ اسٹیشنوں پر قبرستان کا سناٹا ہوگا۔ اس موقع پر جناب الطاف حسین نے بائیکاٹ ، بائیکاٹ۔۔۔الیکشن کا بائیکاٹ ‘‘ کے نعرے بھی لگائے۔ جناب الطاف حسین نے صوبہ پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان ، سندھ اور قبائلی علاقوں کے عوام سمیت کشمیری، سرائیکی، ہزاروال ،گلگتی اور بلتستانی عوام سے بھی اپیل کی وہ جاگیرداروں اوروڈیرو ں کو ہرگز ووٹ نہ دیں، یہ عوامی نہیں بلکہ فوجی الیکشن ہیں، اس الیکشن میں فوج اپنی مرضی سے لوگوں کو کامیاب کروائے گی لہٰذا ایسے فوجی الیکشن کا مکمل بائیکاٹ کیاجائے۔جناب الطاف حسین نے غریب مہاجروں، پنجابیوں، سندھیوں، بلوچوں، پختونوں، قبائلیوں، کشمیریوں ، سرائیکیوں، ہزاروال اوردیگرقومیتوں سے تعلق رکھنے والے عوام بالخصوص Millennial اور نوجوان طلباوطالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ انہیں یادرکھنا چاہیے کہ ان کی مدد کیلئے آسمان سے فرشتے نہیں آئیں گے بلکہ انہیں اپنے جائز حقوق کیلئے خود میدان عمل میں آنا ہوگا اور پاکستان کے غریب ومتوسط طبقہ کے عوام کو فرسودہ جاگیردارانہ نظام ، جاگیرداروں اوروڈیروں کی موروثی سیاست اورظلم وجبرکے نظام سے آزادی دلانی ہوگی۔
*****


7/20/2018 5:19:33 PM