Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

19جون یوم ظلم، یوم سیاہ اوریوم جبر کے طورپریادکیاجاتارہے گا۔الطاف حسین


19جون یوم ظلم، یوم سیاہ اوریوم جبر کے طورپریادکیاجاتارہے گا۔الطاف حسین
 Posted on: 6/19/2018
19جون یوم ظلم، یوم سیاہ اوریوم جبر کے طورپریادکیاجاتارہے گا۔الطاف حسین
19جون 1992ء کوفوجی آپریشن ایم کیوایم کوکچلنے اورمہاجروں کی تباہی کیلئے شروع کیا گیا تھا جوآج تک جاری ہے
19جون 1992ء کو حقیقی دہشت گردوں کوفوجی ٹرکوں پر بٹھاکر ایم کیوایم کے دفاتر، رہنماؤں اور کارکنوں کے گھروں پر حملے کرائے گئے ، درجنوں کارکنوں اورعہدیداروں کواغو ا کیاگیا،کئی کارکنوں کو بیدردی سے گولیاں مارکرشہید کردیا
میں نے اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات کوبہترکرنے کیلئے فوج سے الائنس کیا،ہرموقع پر فوج کی حمایت کی، ضرب عضب کی حمایت میں تاریخی ریلی نکالی، لاکھوں کے جلسے میں کھڑے ہوکرفوج کوسیلوٹ کیالیکن فوجی اسٹیبلشمنٹ نے ایم کیوایم کوکچلنے کی پالیسی جاری رکھی
معاملہ مردہ بادکانعرہ نہیں بلکہ اصل مقصد مہاجروں کی آواز کوکچلنااورانہیں غلام بنانا ہے
1992ء کے حقیقی ٹولہ کی طرح آج پی ایس پی، پی آئی بی اوربہادرآباد ٹولے کو سامنے لایا گیا ہے، ان ضمیر فروشوں نے شہیدوں کے لہوکاسوداکرلیالیکن میں نے سودا نہیں کیا، 
میں اپنے شہیدوں کوکیسے بھول جاؤں؟ اگرمیں اپنے شہیدساتھیوں بھول گیاتو روز محشر انہیں کیا منہ دکھاؤں گا؟
میں جب تک زندہوں مہاجروں کے حقوق کے لئے جدوجہدکرتارہوں گا لیکن میں سرینڈرنہیں کروں گا
کارکنان آج اپنامحاسبہ کریں، یہ عہد کریں کہ ہم شہیدوں کے لہو کا سودانہیں کریں گے اور تحریک کی کامیابی کیلئے جدوجہدجاری رکھیں گے
19جون 1992ء کے شہداء کی برسی کے موقع ایم کیوایم امریکہ اور کینیڈاکے کارکنوں سے خطاب 

ایم کیوایم کے بانی وقائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ19جون 1992ء کوفوجی آپریشن ایم کیوایم کوکچلنے اورمہاجروں کی تباہی کیلئے شروع کیا گیا تھا جوآج تک جاری ہے، 19جون یوم ظلم، یوم سیاہ اوریوم جبر کے طورپریادکیاجاتارہے گا۔ انہوں نے یہ بات 19جون 1992ء کے شہداء کی برسی کے موقع ایم کیوایم امریکہ اور کینیڈاکے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ قیام پاکستان کے بعدمختلف حکومتوں کے دور میں مہاجروں کوسرکاری ملازمتوں سے بیدخل کردیاگیاتھا، مہاجروں کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں جیساسلوک کیاجارہاتھا، زندگی کے ہرشعبہ میں مہاجروں کے ساتھ مسلسل ناانصافیاں کی جارہی تھیں، کوٹہ سسٹم کے نام پر مہاجروں پر سرکاری ملازمتوں کے دروازے بندتھے،اعلیٰ سرکاری ملازمتوں کیلئے ہونے والے سی ایس ایس کے امتحانات میں مہاجروں کوجان بوجھ کرفیل کیاجاتاتھااورجوکسی طرح پاس بھی کرلے اسے ملازمتوں میں نہیں لیا جاتا تھا۔ وفاقی وصوبائی بیوروکریسی میں مہاجرنہ ہونے کے برابرتھے، متعصب عناصر کے زریعے مہاجروں کاقتل عام کیاجاتاتھا۔اس وقت تمام قومیتوں کی سیا سی وطلبہ تنظیمیں موجودتھیں جواپنی قوموں کی بات کیاکرتی تھی لیکن مہاجروں کیلئے بولنے والاکوئی بھی نہیں تھا۔ ان مسلسل ناانصافیوں اور مظالم کے خلاف میں نے

11جون 1978ء کوجامعہ کراچی میں ’’ اے پی ایم ایس او ‘‘ کے نام سے تنظیم بنائی اورمہاجرحقوق کی جدوجہدکاباقاعدہ آغازکیا ۔مہاجرطلبہ اے پی ایم ایس او کے قافلے میں تیزی سے شامل ہونے لگے تواسٹیبلشمنٹ کی تنظیم جماعت اسلامی اور جمعیت نے ہم پر حملے شروع کردیے اور دہشت گردی کے ذریعے ہم پر تعلیمی اداروں کے دروازے بندکردیے۔ ہم نے علاقوں میں کام شروع کردیااور18مارچ 1984ء کومہاجرقومی موومنٹ بنائی، مہاجر نوجوان ساتھ آتے گئے اورکارکنوں کی انتھک محنت سے کارواں بنتاگیا۔ 8 اگست 1986ء کو کراچی کے نشترپارک میں ایم کیوایم کاپہلاتاریخی عوامی جلسہ منعقد ہوا ۔ موسلا دھار بارش کے باوجودہونے والے وہ تاریخی جلسہ اسٹیبلشمنٹ کیلئے ایک الارمنگ آواز میں ان تک پہنچا ، انہوں نے یہ سوچاکہ یہ مہاجر جنہیں تلیر، مکڑ، مٹروے اورپناہ گیرکہہ کرماراجاتااوریہ سرجھکاکر ظلم وتشددسہتے تھے، یہ سراٹھانے کی پوزیشن میں کیسے آگئے ۔ چنانچہ 31 اکتوبر1986ء کو ایم کیوایم کا دوسرا بڑا عوامی جلسہ حیدرآبادکے پکاقلعہ میں ہوناتھاکہ اسٹیبلشمنٹ نے ایم کیوایم کوکچلنے کیلئے ظلم وستم کاسلسلہ شروع کردیا، اس روز ایم کیوایم کے جلوس پر حملے کرکے کارکنوں کوشہید کیاگیا، قاتلوں کے بجائے ایم کیوایم کے ہزاروں کارکنوں کوگرفتارکرلیاگیا۔ جب اس کے باوجود بھی ایم کیوایم کا کارواں نہ رکاتو اسٹیبلشمنٹ نے پنجابی پختون اتحاد اوراسی طرح کی دیگر تنظیمیں بناکرانہیں قتل وغارت گری ، لوٹ مار اوردہشت گردی کالائسنس دیدیا۔ 86ء سے 88ء تک کراچی میں مختلف مہاجربستیوں پر حملے کئے جاتے رہے، مہاجروں کاقتل عام کیاجاتارہا، کراچی کاکونساعلاقہ تھاجہاں حملے کرکے مہاجروں کاقتل عام نہ کیا گیا ہو،گھروں میں لوٹ مار نہ کی گئی ہواورگھروں کو لوٹ کرآگ نہ لگائی گئی ہو ۔اسی طرح حیدرآبادمیں بھی 1988ء سے 1990ء تک مہاجروں کاقتل عام کیا جاتارہا ۔ جب تمام ترقتل وغارت گری اورظلم وبربریت کے باوجود ایم کیوایم کوختم نہ کیاجاسکا،مہاجر وں کے اتحاد کی طاقت کوتوڑا نہ جاسکا اورتمام ترمظالم کے باوجودمہاجرعوام ایم کیوایم کاساتھ دیتے رہے اوراسٹیبلشمنٹ کی تمام سازشیں ناکام ہوتی رہیں تو فوجی اسٹیبلشمنٹ نے ایم کیوایم کو ختم کرنے اورمہاجروں کے حقوق کی اس جدوجہدکوکچلنے کیلئے وہی حربہ اختیارکیاجوپوری انسانی تاریخ میں ہرقوم کوکچلنے کیلئے اختیارجاتارہاہے۔ اسٹیبلشمنٹ نے ایم کیوایم کے مرکزی رہنماؤں میں سے آفاق احمداورعامرخان کوخریدا اوروہ افرادجنہیں مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی بناء پر ایم کیوایم سے خارج کیاگیاتھا ان پر مشتمل حقیقی ٹولہ بنایاگیا۔ سرکاری ایجنسیوں کی سرپرستی میں اس حقیقی ٹولے کے افراد کے ذریعے جون 1991ء میں لانڈھی میں ایم کیوایم کے سیکٹر آفس پر حملہ کرایا گیا ،ایم کیوایم کے کئی عہدیداروں اورکارکنوں کواغواکیاگیا لیکن جب عوام نے ان جرائم پیشہ افرادکوگھیراؤ کیاتوان حملہ آوروں کوبھاگناپڑا۔اس واقعہ کے بعد اسٹیبلشمنٹ نے ایم کیوایم کوکچلنے کیلئے براہ راست فوج کوسامنے لانے کافیصلہ کیا۔ چنانچہ قوم کودھوکہ دیتے ہوئے یہ کہاگیاکہ سندھ میں ڈاکوؤں ، اغوا برائے تاوان کی وارداتیں کرنے والوں اوران کی سرپرستی کرنے والے وڈیروں کے خلاف کارروائی کیلئے سندھ میں فوجی آپریشن کرنا ہے لیکن اصل میں اس کامقصدکراچی اورشہری سندھ میں ایم کیوایم کے خلاف آپریشن کرناتھا۔ 19جون 1992ء کو ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن شروع کردیا گیا ، ایم کیو ایم سے نکالے گئے حقیقی دہشت گردوں کوفوجی ٹرکوں پر بٹھاکر کراچی کے مختلف علاقوں میں ایم کیوایم کے دفاتر اورایم کیوایم کے رہنماؤں اور کارکنوں کے گھروں پر حملے کرائے گئے ، درجنوں کارکنوں اورعہدیداروں کواغو ا کیاگیا،کئی کارکنوں کو بیدردی سے گولیاں مارکرشہید کردیاگیا،ایم کیوایم کے سیکٹر دفاتر پر قبضہ کرلیاگیا۔ فوج کی سرپرستی میں دن بھر دہشت گردی کایہ سلسلہ جاری رہا۔ اس وقت کارکنوں نے کہاکہ ہمیں اجازت دیں کہ ہم ان حملہ آور دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہیں لیکن میں نے کارکنوں کویہی ہدایت کی کہ وہ کہیں کوئی مزاحمت نہ کریں بلکہ روپوشی اختیارکریں کیونکہ ہم فوج سے کسی بھی قسم کاتصادم نہیں چاہتے تھے ۔نائن زیروبندہوگیا اورتمام دفاترپر حقیقی دہشت گردوں کاقبضہ کرادیاگیا۔ فوج کی سرپرستی میں کافی عرصہ تک حقیقی دہشت گردوں کو کراچی میں قتل وغارت، گھروں پر حملوں، لوٹ مار، اغوا، اوردہشت گردی کا کھلا لائسنس دیاگیا۔ برسوں تک جاری رہنے والے اس فوجی آپریشن ،سرکاری ایجنسیوں کی سرپرستی میں جرائم پیشہ حقیقی ٹولے کی دہشت گردی اورتمام ترزیریلے پروپیگنڈوں کے باوجود بھی جب عوام کے دلوں سے الطاف حسین کی محبت نہیں نکالی جاسکی ، ایم کیوایم ختم نہ ہوسکی بلکہ اسٹیبلشمنٹ کی تمام ترسازشوں کے باوجود دوبارہ منظم ہوگئی اورملک بھرمیں پھیل گئی تو فوجی اسٹیبلشمنٹ نے ایم کیوایم کو ملک 

بھرمیں پھیلنے سے روکنے اور اسے کچلنے کیلئے ایک بارپھرایم کیوایم کے خلاف آپریشن کامنصوبہ بنایا۔جناب الطا ف حسین نے کہاکہ میں نے فوجی اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات کوبہترکرنے کیلئے فوج سے الائنس کیا، ہرموقع پر ان کی حمایت کی، فوج نے ضرب عضب شروع کی تومیں نے اس کی بھرپور حمایت کی، فوج کی حمایت میں تاریخی ریلی نکالی، لاکھوں کے جلسے میں کھڑے ہوکرفوج کوسیلوٹ کیااورعوام سے بھی سیلوٹ کروایا، میں نے ملک کی سلامتی وبقاء کی خاطر فوج کے شانہ بشانہ کام کرنے کیلئے دس لاکھ جوانوں کی خدمات کی پیشکش کی ، ملک کودرپیش مسائل کے حل کے لئے فوج کی مکمل حمایت کا بار بار اعلان کیالیکن فوجی اسٹیبلشمنٹ نے میرے جذبہ خیرسگالی اورحمایت وتعاون کی کوئی قدرنہیں کی اور ایم کیوایم کوکچلنے کی پالیسی جاری رکھی۔1992ء کی طرح اس باربھی عوام کو کہا گیا کہ جرائم پیشہ عناصر اورکالعدم تنظیموں کے جیٹ بلیک دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی لیکن کسی کے خلا ف کارروائی نہیں کی گئی بلکہ ایم کیوایم کے خلاف آپریشن شروع کیاگیا۔اسٹیبلشمنٹ نے سوچاکہ اگرایم کیوایم کا مرکزنائن زیرو کھلا رہا توایم کیوایم دوبارہ منظم ہوجائے گی لہٰذا انہوں نے اس بارپاکستان مردہ باد کے نعرے کوجوازبناکرایم کیوایم پر بڑی یلغارکردی، نائن زیرواورتمام مرکزی دفاترکوسیل کردیاگیا، کئی دفاتر کو مسمار کردیاگیا، سوسے زائدکارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کردیاگیا، ہزاروں کارکنوں کوگرفتارکرکے جھوٹے مقدمات میں جیلوں میں قیدکردیاگیاجبکہ سینکڑوں کارکن لاپتہ ہیں ۔انہوں نے کہاکہ مردہ باد کے نعرے تومجھ سے پہلے بھی ملک کے دیگر سیاسی رہنمااپنے اپنے وقت میں لگاچکے تھے لیکن کسی جماعت کے خلاف آپریشن نہیں کیاگیا، معاملہ مردہ بادکانعرہ نہیں بلکہ اصل مقصد مہاجروں کی آواز کوکچلنااورانہیں غلام بنانا ہے ۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ 19جون 1992ء کو شروع ہونے والے آپریشن میں اب تک 22ہزارکارکنوں کوشہید کیاجاچکاہے جن میں میرے بڑے بھائی ناصر حسین اوربھتیجے عارف حسین بھی شامل ہیں ، دیگر کارکنوں کے ساتھ ساتھ میرے بھتیجے خالدحسین اوربھانجے عبدالعزیزانصاری بھی تقریباً ایک سال سے لاپتہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج جو مہاجروں کے نام نہادلیڈربنے پھررہے ہیں کیاان میں سے کسی نے اس جدوجہدمیں ایک انگلی بھی کٹائی ہے ؟ ان لوگوں نے شہیدوں کی قربانیوں کی بدولت اپنے مفادات توضرور حاصل کئے لیکن قوم کے اجتماعی مفادات کیلئے کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے کہاکہ 19جون 1992ء کوفوجی آپریشن دراصل یم کیوایم کو کچلنے اورمہاجروں کی تباہی کیلئے شروع کیا گیا تھا جو آج بھی جاری ہے ۔ 1992ء کے حقیقی ٹولہ کی طرح آج پی ایس پی، پی آئی بی اوربہادرآباد ٹولے کو سامنے لایا گیا ہے تاکہ مہاجروں کومکمل طورپرتباہ کردیاجائے ۔ ان ضمیر فروشوں نے تحریک کے شہیدوں کے لہوکاسوداکرلیالیکن میں نے اپناسودا نہیں کیا، مجھے لندن میں بھی گرفتار کیا گیا لیکن میں نے ہتھیارنہیں ڈالے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں اپنے شہیدوں کوکیسے بھول جاؤں؟ اگرمیں انہیں بھول گیا تو میں روز محشر انہیں کیا منہ دکھاؤں گا؟میراعزم ہے کہ میں جب تک زندہوں مہاجروں کے حقوق کیلئے جدوجہدکرتارہوں گا لیکن میں سرینڈر نہیں کروں گا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ19جون یوم ظلم، یوم سیاہ اوریوم جبر کے طورپریادکیاجاتارہے گا۔ انہوں نے کہاکہ آج 19جون ہے اورہمیں آج کے دن اپنامحاسبہ کرناچاہیے کہ ہمارے شہیدوں نے تحریک کی جدوجہدمیں اپنی جانوں کاجونذرانہ پیش کیاہے ، ہم اس مشن ومقصدکوآگے بڑھانے کیلئے کیا کررہے ہیں،انہوں نے کہاکہ آج کے دن ہمیں اپنے شہیدوں کی روحوں سے یہ عہدکرناچاہیے کہ ہم چاہے دنیاکے کسی بھی حصہ میں رہیں لیکن ہم اپنے شہیدوں کے لہو کا سودانہیں کریں گے اوراپنی تحریک کوکامیابی سے ہمکنارکرنے کیلئے جدوجہدجاری رکھیں گے۔انہوں نے کہاکہ اگرآپ کو اپنی کامیابی کا یقین ہے تو اس یقین کامل کی بدولت آپ کوانشاء اللہ منزل ضرور ملے گی۔ کامیابی مضبوط ارادے کرنے اوریقین محکم رکھنے والوں کو ہی ملاکرتی ہے لہٰذا اپنا یقین محکم رکھئے اورمضبوط ارادے کے ساتھ ثابت قدمی کے ساتھ جدوجہدکرتے رہیے۔ ایک دن کامیابی ہمارامقدرہوگی۔ جناب الطا ف حسین نے اس موقع پر 19جون 1992ء کے شہداء سمیت تحریکی جدوجہدمیں اپنی جانیں قربان کرنے والے تمام شہیدوں کوزبردست خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے لئے دعائے مغفرت کی ۔ 
*****

7/20/2018 9:06:59 PM