Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیوایم کے بانی وقائد الطاف حسین نے2018ء کے عام انتخابات کے بائیکاٹ کااعلان کردیا


ایم کیوایم کے بانی وقائد الطاف حسین نے2018ء کے عام انتخابات کے بائیکاٹ کااعلان کردیا
 Posted on: 6/1/2018 1

ایم کیوایم کے بانی وقائد الطاف حسین نے2018ء کے عام انتخابات کے بائیکاٹ کااعلان کردیا
عوام سے اپیل کی ہے وہ 25جولائی کوووٹ نہ ڈالیں اور انتخابی عمل کامکمل بائیکاٹ کرتے ہوئے اپنے گھروں میں رہیں 
ہمیں یوم شہداتک منانے نہیں دیاجاتا، ہماری ماؤں بہنوں کو اپنے شہیدوں کی یادگارپرفاتحہ پڑھنے تک کی اجازت نہیں ہے 
مہاجرعوام کی سیاسی آزادی کوطاقت کے ذریعے چھین لیاگیا، ایسی صورت میں ہم الیکشن میں کس طرح حصہ لے سکتے ہیں 
رابطہ کمیٹی نے اس صورتحال پر انتخابات کے بائیکاٹ کافیصلہ کیا، کارکنوں اورذمہ داروں کی جانب سے یہی رائے آئی 
کارکنوں کی رائے اورابطہ کمیٹی کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے انتہائی دکھ کے ساتھ انتخابات کے بائیکاٹ کااعلان کررہاہوں 
اب دوہرامعیارنہیں چلے گا، مہاجروں کوبھی ان کے حقوق دینے ہوں گے اوران کے وجودکوتسلیم کرناہوگا۔الطاف حسین
اب یہ مذاق نہیں چلے گاکہ حقوق کی آواز کوسننے کے بجائے اسے طاقت سے دبالیاجائے۔الطاف حسین
دیگرقومیتوں کی طرح مہاجربھی ایک حقیقت ہیں،مہاجروں کی علیحدہ شناخت ہے ۔ ۔الطاف حسین
ہماری علیحدہ شناخت، زبان ، ثقافت، تہذیب وتمدن اورپہچان قیام پاکستان سے قبل بھی تھی۔الطاف حسین
اگر ہماری شناخت کوتسلیم نہیں کیاجائے گااورمہاجروں کومائنس کرنے کی کوشش کی جائے گی توسب کچھ مائنس ہوجائے گا
ایم کیوایم کے بانی و قائد الطاف حسین کا کارکنان اورہمدردوں سے سوشل میڈیاکے ذریعے براہ راست خطاب

لندن ۔۔۔ یکم جون 2018ء
متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائدجناب الطاف حسین نے کارکنوں اورذمہ داروں کی رائے اور رابطہ کمیٹی کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے25جولائی 2018ء کوہونے والے عام انتخابات کے بائیکاٹ کااعلان کیاہے اورعوام سے اپیل کی ہے وہ 25جولائی کوووٹ نہ ڈالیں اور انتخابی عمل کامکمل بائیکاٹ کرتے ہوئے اپنے گھروں میں رہیں۔ یہ اعلان انہوں نے آج کارکنان اورہمدردوں سے سوشل میڈیاکے ذریعے اپنے براہ راست خطاب میں کیا۔ جناب الطاف حسین کایہ خطاب سوشل میڈیاکے ذریعے پاکستان اوردنیاکے مختلف ممالک میں براہ راست دیکھاگیا۔ خطاب کے دوران کارکنان اورہمدرد عوام خطاب کے ہرنکتہ پر اپنے جذبات کااظہاربھی کرتے رہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہمارے خلاف بدترین ریاستی آپریشن جاری ہے ، کارکنوں کا ماورائے عدالت قتل کیاجارہاہے، انہیں چن چن کرگرفتار کیاجارہاہے، انہیں لاپتہ کیاجارہاہے، ہزاروں کارکن جھوٹے مقدمات میں جیلوں میں قید ہیں، سینکڑوں لاپتہ ہیں، ایم کیوایم کے مرکزنائن زیروپرتالا پڑاہواہے، خورشیدمیموریل ہال اورایم پی اے ہاسٹل سیل ہے ، دیگر دفاتر بھی سیل ہیں، سینکڑوں دفاتر مسمار کردیے گئے ، ایم کیوایم کے فلاحی اداروں پر ضمیرفروش عناصر کاقبضہ کرادیاگیاہے،ریاستی طاقت کے ذریعے ایم کیوایم پر غیراعلانیہ پابندی عائد کردی گئی ہے ،ہمیں ہمارے بنیادی حق سے محروم کردیاگیاہے ،ہمیں یوم شہداتک منانے نہیں دیاجاتا،حتیٰ کہ ہماری ماؤں بہنوں کو اپنے شہیدوں کی یادگارپرفاتحہ 

پڑھنے تک کی اجازت نہیں ہے ، مہاجرعوام کی سیاسی آزادی کوطاقت کے ذریعے چھین لیاگیا، ایسی صورت میں ہم الیکشن میں کس طرح حصہ لے سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ رابطہ کمیٹی نے اس ساری صورتحال پر اپنا اجلاس کیا اور آئندہ انتخابات کے بائیکاٹ کافیصلہ کیاجبکہ پاکستان اورمختلف ممالک سے بھی کارکنوں اورذمہ داروں کی جانب سے یہی رائے آئی کہ ان حالات میں الیکشن میں حصہ نہیں لیاجاسکتااسلئے آئندہ انتخابات کابائیکاٹ کیاجائے ۔ لہٰذا میں کارکنوں اورذمہ داروں کی رائے اورابطہ کمیٹی کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے انتہائی دکھ کے ساتھ 25جولائی 2018ء کوہونے والے عام انتخابات کے بائیکاٹ کااعلان کرتاہوں اورکارکنوں ، ہمدردعوام ماؤں، بہنوں اوربزرگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ 25جولائی کوہرگزووٹ نہ ڈالیں ، انتخابی عمل کامکمل بائیکاٹ کرتے ہوئے اپنے گھروں میں رہیں اوراگرانہیں کوئی زبردستی ووٹ ڈالنے کیلئے لے جائے تووہ ووٹ کی پرچی پرکراس لگادیں اورکسی کو ووٹ نہ دیں ۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ وہ طبقہ جس نے قیام پاکستان کی مخالفت کی، جوانگریزوں کاوفاداراورتنخواہ دار تھااس نے قیام پاکستان کے بعد پاکستان پر قبضہ کرلیااوراس قابض ٹولے نے پاکستان کی تاریخ ہی بدل کررکھ دی ہے،بانیان پاکستان اورتحریک پاکستان کے رہنماؤں کوفراموش کردیاگیاہے جبکہ تحریک آزادی کوناکام بنانے کے لئے انگریزوں کی غلامی کرنے والوں کوہیروبناکرپیش کیاجاتاہے، یہی مسخ شدہ تاریخ تعلیمی نصاب میں پڑھائی جاتی ہے۔ملک میں کوئی غدارنہیں بلکہ بلکہ یہ قابض ٹولہ ہی دراصل ملک کااصل غدار ہے ، اسی ٹولے نے بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کوسازش کے تحت قتل کیا، پھر قائداعظم کے دست راست لیاقت علی خان کوپنڈی میں بھرے جلسے میں شہید کردیاگیا۔ملک میں جنرل ایوب خان نے مارشل لاء نافذ کیاتوقائداعظم کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح نے اس کی آمریت کوللکاراتوانہیں انڈین ایجنٹ کہاگیا،ریڈیوپران کی تقریرنشرکرنے پر پابندی عائد کردی گئی، انہوں نے جنرل ایوب خان کے خلاف صدارتی الیکشن میں حصہ لیاتو انہیں دھاندلی کے ذریعے ہرادیاگیا،مہاجروں نے محترمہ فاطمہ جناح کاساتھ دیاتھا ، انہیں اس کی سزا دینے کے لئے جنرل ایوب خان کے بیٹے گوہرایوب خان کی سربراہی میں کراچی میں جشن فتح کاجلوس نکالاگیا، سرحدسے پختونوں کویہ کہہ کرلایاگیاکہ کراچی میں کافروں سے نمٹناہے ،جشن فتح کے اس جلوس کی آڑ میں کراچی میں مہاجربستیوں پر حملے کئے گئے اورمہاجروں کاقتل عام کیاگیا،گھروں اوردکانوں کی لوٹ مار کی گئی اوراملاک کونذرآتش کیاگیا۔جنرل ایوب خان نے مہاجروں کودھمکی دی کہ مہاجروں کے لئے سمندرہے ۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ ظلم وناانصافیوں اورحق تلفیوں کے نتیجے میں 1971ء میں پاکستان دولخت ہوگیا، سابقہ مشرقی پاکستان الگ ہوکربنگلہ دیش بن گیا، بنگالی عوام جوپاکستان کی کل آبادی کا 56فیصد تھے انہوں نے پاکستان سے علیحدگی اختیارکرلی، پاکستان کے ٹوٹتے ہی دوقومی نظریہ بھی ختم ہوگیا۔انہوں نے کہاکہ اگردوقومی نظریہ صحیح ہوتاتو اسلام کے نام پر قائم ہونے والے پاکستان بنگالی قوم کے نام پر تقسیم نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہاکہ میں موجودہ پاکستان کے تمام تاریخ دانوں، سیاسی ودفاعی مبصرین اوردانشوروں کوچیلنج کرتاہوں کہ وہ دوقومی نظریہ پر مجھ سے مناظرہ کرلیں، اگرانہوں نے دلائل کے ذریعے مجھے شکست دیدی تومیں ایم کیوایم ختم کردوں گااورسیاست چھوڑ دوں گا۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ یہ کیساظلم ہے کہ 1971ء میں ہتھیارڈالنے والے پاکستان کے فوجی تودوسال انڈیا کی قیدمیں رہنے کے بعد وطن واپس آگئے لیکن 71ء کی جنگ میں پاکستان کاساتھ دینے والے مہاجر، جنہیں عرف عام میں بہاری کہاجاتاہے وہ آج 45سال گزرجانے کے بعد بھی بنگلہ دیش کے ریڈکراس کے کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزارہے ہیں ، ان کی واپسی کی کوئی بات نہیں کرتااسلئے کہ وہ مہاجرہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ 1972ء میں ذوالفقارعلی بھٹوکی حکومت نے سندھ اسمبلی میں اردوزبان کے خلاف لسانی بل پیش کیا، اس کے خلاف پرامن احتجاج کرنے والے مہاجروں کوریاستی طاقت کے ذریعے کچلاگیا، ان کاقتل عام کیاگیا، 1973ء میں صرف سندھ میں دیہی اورشہری کی بنیادپر کوٹہ سسٹم نافذ کیاگیاجس کے ذریعے مہاجروں پر سرکاری ملازمتوں اوراعلیٰ تعلیم کے دروازے بندکردیے گئے۔ کوٹہ سسٹم بھٹونے نافذ کیالیکن اس سے وہ فوج نے کرایااسلئے دس سال کے لئے رائج ہونے والاکوٹہ سسٹم آج تک نافذ ہے ۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ میں نے 1978ء میں جب سے مہاجروں کے حقوق کی تحریک شروع کی ہے اس وقت سے ہم پر طرح طرح کے جھوٹے اور شرمناک الزامات لگائے جارہے ہیں لیکن کسی کومہاجروں کے ساتھ قیام پاکستان کے بعد سے ہونے والی ناانصافیاں نظرنہیں آتیں،تمام سیاسی مخالفین اور متعصب سیاسی ودفاعی تجزیہ نگاروں اور اینکرزکو12مئی توہمیشہ یاد رہتاہے لیکن کبھی وہ 1947ء سے اب تک ہردورمیں مہاجروں کے قتل عام کے واقعات اور بڑے بڑے سانحات نظرنہیں آتے۔انہوں نے کہاکہ میں پہلے بھی بتاچکاہوں اورآج پھربتاتاہوں کہ سانحہ 12مئی آئی ایس آئی کی تیارکردہ سازش تھی جس میں ایم کیوایم کے 14کارکنان بھی شہید ہوئے لیکن متعصب سیاسی ودفاعی تجزیہ نگاروں اوراینکرزکوایم کیوایم کے شہیدکارکنان نظرنہیں آتے۔ 27دسمبر2007ء کوبینظیر بھٹوکاقتل راولپنڈی میں ہوالیکن پیپلزپارٹی کے دہشت گردوں نے کراچی میں ہزاروں گاڑیاں، دکانیں، بینکس، فیکٹریاں اور بے شمار املاک کو لوٹ کرنذرآتش کردیالیکن کسی کوبھی یہ دہشت گردی نظرنہیں آتی۔ جوہم پر الزام لگاتے ہیں کہ ایم کیوایم والے ایک کال پر شہرکوبند کردیتے تھے وہ اس دہشت گردی پرخاموش ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ٹی وی مذاکروں اورتبصروں میں سندھیوں، بلوچوں، پشتونوں، پنجابیوں، سرائیکیوں، گلگتی بلتستانیوں کاذکرکیاجاتاہے لیکن مہاجروں کاکوئی ذکرنہیں کیاجاتا، کہاجاتاہے کہ آپ سندھ میں رہتے ہیں اسلئے سندھی بن کررہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کی دیگرقومیتوں کی طرح مہاجربھی ایک حقیقت ہیں،مہاجروں کی علیحدہ شناخت ہے ۔ قیام پاکستان سے قبل بھی ہندوستان میں ہماری علیحدہ شناخت، زبان ، ثقافت، تہذیب وتمدن اورپہچان تھی۔ اگرپاکستان میں ہماری شناخت کوتسلیم نہیں کیاجائے گااورمہاجروں کومائنس کرنے کی کوشش کی جائے گی توسب کچھ مائنس ہوجائے گا۔ اب دوہرامعیارنہیں چلے گا، مہاجروں کوبھی ان کے حقوق دینے ہوں گے اوران کے وجودکوتسلیم کرناہوگا۔ اب یہ مذاق نہیں چلے گاکہ حقوق کی آواز کوسننے کے بجائے اسے طاقت سے دبالیاجائے ۔ انہوں نے کہاکہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے بلوچوں کے حقو ق کی تحریک کودبانے کے لئے قرآن مجید پر قسمیں کھاکھاکربلوچوں سے دھوکہ کیا، اسی طرح پشتونوں کے حقوق کی تحریکوں کودبایاگیا، اب مہاجروں کے حقوق کی تحریک کوریاستی طاقت اورظلم وجبر کے ہتھکنڈوں کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ، ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے حکومتوں کے ساتھ ملکر ہردورمیں ہمیں ریاستی مظالم کانشانہ بنایا،ہمارے 22 ہزارنوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کردیاگیا، سینکڑوں کولاپتہ کیا، آج بھی ہزاروں جیلوں میں ہیں اورسینکڑوں لاپتہ ہیں، ہمارے بزرگ رہنما پروفیسر ڈاکٹرحسن ظفرعارف جنہوں نے لاکھوں نوجوانوں کوتعلیم دی، جو مشکل وقت میں ثابت قدم رہے ، انہیں فوج اوررینجرزنے گرفتارکرکے قید میں اذیتیں دی، جھوٹے مقدمات بنائے ، گزشتہ یوم شہداء سے ایک روزقبل پھرگرفتارکیاگیااوردھمکیاں دی گئیں، جب وہ دھمکیوں میں نہیں آئے تو13جنوری 2018ء کوانہیں دوبارہ گرفتار کیاگیا ، انہیں پھرایم کیوایم سے لاتعلقی اختیارکرنے اوروفاداری تبدیل کرنے کے لئے دباؤڈالاگیا، انہوں نے انکارکیا تو انہیں ابراہیم حیدری میں لے جاکر تشددکرکے بیدردی سے شہیدکردیاگیااوران کی آواز کوہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاموش کردیاگیا۔اس سفانہ قتل میں راؤ انوار بھی ملوث ہے ۔ انہوں نے دعاکی کہ اللہ تعالیٰ ڈاکٹرحسن ظفر عارف شہید اورتمام شہیدوں کی قربانیوں کوقبول فرمائے، انہیں اپنی جواررحمت میں جگہ عطا فرمائے اورلاپتہ ساتھیوں کی بحفاظت ان کے گھروں پر واپسی کے اسباب پیداکرے۔ 

*****


10/19/2018 9:01:52 AM