Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

محترمہ عاصمہ جہانگیر کی موت طبعی نہیں تھی، انہیں فوج پر تنقیدکرنے پرزہردیکرقتل کرایاگیا۔الطاف حسین


محترمہ عاصمہ جہانگیر کی موت طبعی نہیں تھی، انہیں فوج پر تنقیدکرنے پرزہردیکرقتل کرایاگیا۔الطاف حسین
 Posted on: 5/17/2018

فوج کے غلط اقدامات پر تنقید کرنے والے ہرشخص کوملک دشمن اورغدارکہاجارہاہے۔الطاف حسین
جن جرنیلوں نے سویلین حکومت کاتختہ الٹا، بار بارملک کا آئین توڑا اور ملک کودولخت کردیاانہیں آج تک غدار قرار نہیں دیاگیا
فوج نے ہرسویلین حکومت کاتختہ الٹا، جوبھی سویلین حکومت آئی وہ ہمیشہ فوج کی تابعداری کرتی رہی اورفوج کے اشاروں پرچلتی رہی 
میں نے فوج کے مظالم کے خلاف آوازاٹھائی تومجھے غدار قرار دیدیاگیا، میری جماعت کو کچلنے کیلئے مظالم کے پہاڑتوڑے جارہے ہیں
میرے ہزاروں بے گنا ہ ساتھیوں کو تشددکانشانہ بناکرماورائے عدالت قتل کیاگیا،کیایہ وحشیانہ ظلم وستم آئین وقانون کے مطابق تھا؟
کیایہ ظالمانہ عمل کرنے والے فوج اورریاستی اداروں کے افسران غداری کے زمرے میں نہیں آئیں گے؟۔الطاف حسین
محترمہ عاصمہ جہانگیر کی موت طبعی نہیں تھی، انہیں فوج پر تنقیدکرنے پرزہردیکرقتل کرایاگیا۔الطاف حسین
حالیہ مردم شماری میں ہماری آبادی کوسازش کے تحت آدھاکردیاگیا، حلقہ بندیوں میں بھی تبدیلی کردی گئی ، جبروستم کے پہاڑ توڑے
جارہے ہیں، کیاایسی صورت میں الیکشن میں حصہ لیناعقل مندی ہوگی؟ الطاف حسین
قوم کامستقبل نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہے ،نوجوان آگے آناہوگااورقوم کی بقاء کیلئے ہرطرح کی قربانی دیناہوگی۔الطاف حسین
اگرنوجوانوں نے قوم کی بقاء کے لئے کچھ نہ سوچااورآگے نہ آئے تومہاجروں کی داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں۔الطاف حسین
شہیدوں، اسیروں اورلاپتہ ساتھیوں کے اہل خانہ کی خبرگیری کریں،زکوٰۃ فطرے کے عطیات سے ان کی مددکریں۔الطاف حسین

لندن۔۔۔17، مئی 2018ء
متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ پاکستان میں فوج کے مظالم اوراس کے غلط اقدامات پر آواز اٹھانے والوں کو تو غدار قرار دیاجاتاہے لیکن فوج کے وہ جرنیل جنہوں نے سویلین حکومت کاتختہ الٹا، بار بارملک کا آئین توڑا اورجنہوں نے ملک کودولخت کردیاانہیں آج تک غدار قرار نہیں دیاگیابلکہ انہیں انعام واکرام سے نوازاجاتاہے ۔ انہوں نے یہ بات آج پاکستان کی موجودہ صورتحال کے تناظرمیں اپنے ایک آڈیوپیغا م میں کہی۔ جناب الطاف حسین نے ’’ غداری اورحب الوطنی ‘‘ کے موضوع پر اظہارخیال کرتے ہوئے نوجوانوں اورطلبہ وطالبات سے کہاکہ وہ قیام پاکستان کی سچی تاریخ سے آگاہ ہونے کیلئے اپنے بزرگوں سے سوال کریں اورمعلوم کریں کہ پاکستان کیسی کیسی قربانیوں سے وجودمیں آیا اورپاکستان کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کیلئے ہمارے بزرگوں کوکیسی کیسی مشکلات کاسامنا کیا۔ انہوں نے کہاکہ قیام پاکستان کے بعد ملک پر ا ن لوگوں نے قبضہ کرلیا جنہوں نے قیام پاکستان کی جدوجہدمیں قطعی کوئی حصہ نہیں لیاتھا۔فوج نے ملک کوٹیک اوورکرلیا، بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کوایک سازش کے تحت زہردیکر قتل کردیا، اس کے بعد قائداعظم کے دست راست اورملک کے پہلے وزیراعظم خان لیاقت علی خان کوشہیدکردیا، تحریک پاکستان کے رہنماحسین شہید سروردی اور دیگر رہنماؤں کورسوا کیا، قائداعظم کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح جنہوں نے قیام پاکستان کی جدوجہدمیں اپنے بھائی کاشانہ بشانہ ساتھ دیا ،فوج نے انہیں بھی غدار 

قراردیااورانہیں بھی سازش کے تحت قتل کردیا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ فوج کے حاظراورسابق جرنیل، فوج کاادارہ آئی ایس پی آر اوردفاعی تجزیہ نگار کھلے عام کہتے ہیں ا ورباربار اس بات کودہراتے رہتے ہیں کہ فوج کاچیف جوسوچتاہے ،وہی سوچ ،وہی مؤقف فوج کے تمام جرنیلوں، افسروں اورسپاہیوں کا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ فوج نے ہرسویلین حکومت کاتختہ الٹا، جوبھی سویلین حکومت آئی وہ ہمیشہ فوج کی تابعداری کرتی رہی اورفوج کے اشاروں پرچلتی رہی ، یہ بات اگرچہ تلخ ہے لیکن یہی بات سچی اورحقیقت پر مبنی ہے ۔ انہوں نے مزیدکہاکہ اگرکوئی پاکستان کی فوج کی غلط کاریوں اورغلط پالیسیوں پر تنقید کرے،فوج کے مظالم، بے گناہ سیاسی مخالفین کی قتل وغارتگری، جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اورر یاستی جبرکے دردناک واقعات پر تنگ �آکریہ کہہ دے کہ جس پاکستان میں اس قدرظلم ہو ایسا پاکستان مردہ باد، تواسے غدار قراردے دیاجاتاہے لیکن فوج کے وہ جرنیل جنہوں نے سویلین حکومت کاتختہ الٹا، بار بارملک کا آئین توڑا اورجنہوں نے ملک کودولخت کردیاانہیں آج تک غدار قرار نہیں دیاگیابلکہ انہیں انعام واکرام سے نوازاجاتاہے ۔انہوں نے سوال کیا کہ 1971ء میں پاکستان کو توڑنے والے کسی ایک فوجی جرنیل کوبھی غدار قراردیاگیا؟ کیا ملک توڑنے والے ان فوجی جرنیلوں کوایک دن کی بھی سزادی گئی؟ کیاسانحہ مشرقی پاکستان کے اسباب جاننے کے لئے بنائے گئے جسٹس حمودالرحمن کمیشن کی رپورٹ سرکاری سطح پرسامنے لائی گئی؟ انہوں نے کہاکہ یہ ریکارڈکی بات سے جس سے کوئی انکارنہیں کرسکتاکہ 1971ء میں بھارتی فوج کے جنرل اروڑاسنگھ کے آگے ہتھیارڈالنے والے پاکستان کی فوج کے کمانڈر جنرل امیرعبداللہ نیازی پر ملک توڑنے کامقدمہ چلانے کے بجائے انہیں 1977ء کی تحریک نظام مصطفےٰ کے دوران بڑے فخر سے اسٹیج پر بلایا جاتا اور ’’ قوم کا غازی۔۔۔ جنرل نیازی، جنرل نیازی ‘‘ کے نعرے لگائے جاتے۔ انہوں نے کہاکہ آج فوج کے غلط اقدامات پر تنقیدکرناملک دشمنی قراردے دیا گیا ہے ، فوج پر تنقیدکرنے والے ہرشخص کوملک دشمن اورغدارکہاجارہاہے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں نے فوج کے مظالم کے خلاف آوازاٹھائی تومجھے بھی غدار قرار دے دیاگیا، میری جماعت کوریاستی طاقت سے کچلنے کیلئے ریاستی مظالم کے پہاڑتوڑے گئے جس کاسلسلہ آج تک جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں نے کوئی جرم کیاہے توآئین وقانون کے تحت مجھے سزادیں لیکن مجھے جواب دیاجائے کہ میرے بڑے بھائی ناصر حسین اوربھتیجے عارف حسین جن کاایم کیو ایم سے کوئی تعلق نہیں تھاانہیں گرفتارکرنے کے بعد سفاکانہ تشددکرکے قتل کیوں کیاگیا؟اسی طرح میرے 22ہزارے سے زائد معصوم وبے گنا ہ ساتھیوں کوسفاکانہ تشددکانشانہ بناکرماورائے عدالت قتل کیاگیا، ان کے ٹکڑے ٹکڑے کئے گئے ،ان کے جسموں کی کھالیں اتاری گئیں، آنکھیں نکالی گئیں، انہیں استری سے جلایاگیا، صرف اس جرم میں کہ ان کاتعلق ایم کیوایم سے ہے ۔کیایہ وحشیانہ ظلم وستم آئین وقانون کے مطابق تھا؟ اسی طرح پاکستان کے ایک بہت بڑے دانشور، فلاسفر، استاد، پروفیسرڈاکٹرحسن ظفر عارف کوبھی پیراملٹری رینجرز،پولیس افسرراؤانوار اورسیکوریٹی ایجنسیز نے گرفتارکرکے ماورائے عدالت قتل کردیا، کیایہ قانون کے مطابق تھا؟ اسی طرح انسانی حقو ق کی رہنمامحترمہ عاصمہ جہانگیر کوبھی فوج پر تنقیدکرنے کی پاداش میں زہردے کر قتل کردیاگیا، ان کی لاش کافورنزک ٹیسٹ کرایاجائے توثابت ہوجائے گاکہ ان کی موت طبعی نہیں تھی بلکہ انہیں قتل کیاگیاہے ۔ فوج پر تنقید کرنے والے بلاگرزکوگرفتارکرکے غیرقانونی حراست میں کئی روزتک وحشیانہ تشددکانشانہ بنایاگیا، کیایہ سب ظلم وستم آئین وقانون کے مطابق تھا؟ کیایہ ظالمانہ عمل کرنے والے فوج اورریاستی اداروں کے افسران غداری کے زمرے میں نہیں آئیں گے؟ کیایہ ظلم وستم کرنے والوں کوظالم ، ہلاکوخان اورچنگیزخان قرارنہیں دیا جائے گا؟
جناب الطاف حسین نے طلبہ، طالبات اورنوجوانوں کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ قوم مستقبل آپ کے ہاتھوں میں ہے، خدارا آپ سوچیں کہ آپ کوقوم کی بقاء کے لئے الطاف حسین کاساتھ دیناہے یامہاجرقوم کے میرجعفروں اورمیرصادقوں کاساتھ دیناہے ؟۔انہوں نے کہاکہ حالیہ مردم شماری میں آپ کی آبادی کوسازش کے تحت آدھاکردیاگیاہے، آپ کی نمائندگی کاراستہ روکنے کے لئے حلقہ بندیوں میں بھی تبدیلی کردی گئی ہے ،آپ پر جبروستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں، کیاایسی صورت میں الیکشن میں حصہ لیناعقل مندی ہوگی؟ کیاآپ چاہتے ہیں کہ آپ اپنے امیدواروں کوکامیاب بنانے کے لئے 

رات دن محنت کریں، قربانیاں دیں، انہیں کامیاب کرائیں اورجب وہ کامیاب ہوجائیں توآزمائش کاوقت آنے پر وہ اپناظرف وضمیراورشہیدوں کے لہو کا سودا کرکے قوم کے دشمنوں اورقاتلوں کی صف میں شامل ہوجائیں؟ یہ ضمیرفروش دشمنوں کاکرداراداکرتے ہوئے شہیدوں کے لواحقین کے بارے میںیہاں تک کہنے لگیں کہ یہ شرپسندہیں اورہم انہیں خودپکڑکررینجرزکے حوالے کریں گے۔انہوں نے نوجوانوں سے سوال کیاکہ کیاآپ کونہیں معلوم کہ کمالوٹولہ، پی آئی بی ٹولہ اوربہادرآبادٹولہ آج مہاجرنام پر کس کے لئے کام کررہاہے؟ کیاانہوں نے تحریک کے شہیدوں،لاپتہ اوراسیروں کے لئے اب تک کہیں کوئی مظاہرہ یااحتجاج کیا؟کیاآپ ایسے لوگوں کاساتھ دیں گے جواپنے شہیدوں کے لہوکاسوداکرچکے ہیں؟ کیاآپ ایسے لوگوں کوالیکشن میں کامیاب کراکر منتخب ہونے والوں کودوبارہ فوج کاایجنٹ بنوانے کاعمل کریں گے؟انہوں نے نوجوانوں سے مزیدکہاکہ قوم کامستقبل آپ کے ہاتھوں میں ہے ، آپ کوخود سو چنا ہے کہ آپ کوبے غیرتی اورضمیرفروشی کا راستہ اختیارکرناہے یاٹیپوسلطان کابتایاہوایہ راستہ اختیارکرناہے کہ ’’ شیرکی ایک دن کی زندگی ،گیدڑکی سوسالہ زندگی سے بہترہے ‘‘ ۔ انہوں نے کہاکہ آپ کوقوم کی بقاء کے لئے ہرطرح کی قربانی دیناہوگی ، آپ یہ نہ دیکھیں کہ دوسرا تحریک کاکام کررہاہے یانہیں، آپ اپنے ضمیر کے سامنے جوابدہ ہیں۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج سے رمضان المبارک کامہینہ شروع ہوچکاہے ، زراتصورکریں کہ جوساتھی شہید ہوگئے یاجولاپتہ یااسیرہیں ان کے معصوم بچے اپنی ماں سے سوال نہیں کرتے ہوں گے کہ اب ہمارے لئے کھجلاپھینی کون لائے گا؟ ہمارے لئے افطاری کے لئے پھل کون لائے گا؟ آپ شہیدوں، اسیروں اورلاپتہ ساتھیوں کے اہل خانہ کے دکھ درد کوسمجھیں،ان کی خبرگیری کریں، ان کے سرپر شفقت کاہاتھ رکھیں،زکوٰۃ فطرے کے عطیات سے ان پریشان حال خاندانوں کی مددکریں، اس کیلئے آپ کوگروپ بنانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ آپ اپنے طورپران کی مددکریں، اسی طرح جیلوں میں اسیر ساتھیوں کوبھی کھانااورامدادی سامان پہنچائیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ تحریک کے وہ ساتھی جوجلاوطنی میں اوورسیز آگئے ان کی اکثریت اپنی اپنی زندگیوں میں مگن ہوگئے اورتحریک کے نظریے، مشن ومقصداورتحریک کے شہیدوں ، اسیروں اورلاپتہ ساتھیوں کوبھول گئے ، انہیں مہاجروں کی کسمپرسی کی زندگی کی کوئی فکرنہیں۔ جنہیں فکرہے ان کی تعدادآٹے میں نمک کے برابر ہے اوروہ قوم کیلئے کام کررہے ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں اس کااجردے ۔انہوں نے کہاکہ اگرنوجوانوں نے قوم کی بقاء کے لئے کچھ نہ سوچااورآگے نہ آئے تومہاجروں کی داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں۔ 

*****


8/20/2018 8:07:28 AM