Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

سانحہ 12 مئی کی سازش آئی ایس آئی نے تیارکی تھی جس کامقصد جنرل پرویز مشرف کو ہٹاناتھا۔الطاف حسین


سانحہ 12 مئی کی سازش آئی ایس آئی نے تیارکی تھی جس کامقصد جنرل پرویز مشرف کو ہٹاناتھا۔الطاف حسین
 Posted on: 5/11/2018

سانحہ 12 مئی کی سازش آئی ایس آئی نے تیارکی تھی جس کامقصد جنرل پرویز مشرف کو ہٹاناتھا۔الطاف حسین
جنرل پرویزمشرف نے آئی ایس آئی کی باتوں میں آکر افتخار چوہدری کوان کے عہدے سے ہٹایا۔الطاف حسین
ISIنے ایک طرف پرویزمشرف سے افتخارچوہدری کو عہدے سے ہٹوایا، دوسری طرف افتخار چوہدری کے حق میں وکلاء تحریک چلوادی
میں نے عشرت العبادکے ذریعے جنرل پرویز مشرف کو پیغام بھیجا کہ آئی ایس آئی ان کے خلاف سازش کررہی ہے لیکن انہوں نے میری باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا ۔الطاف حسین
12مئی کے ساشی منصوبہ پر پہلے پنجاب میں عمل کرنے کی کوشش کی گئی لیکن چوہدری پرویزالٰہی نے اس کی شدیدمخالفت کی 
ہم اسٹریٹوکریسی نہیں عوام کی حکمرانی چاہتے ہیں، جوعسکری ادارے سیاست میں حصہ لیں انہیںآئین وقانون کے تحت سزا ملنی چاہیے 
پاکستان میں عدالتیں اسٹیبلشمنٹ کی ماتحت ہیں ،مظلوموں کو انصاف دینے والا کوئی نہیں، ہم انصاف کے حصول کیلئے عالمی عدالت میں اپنامقدمہ پیش کریں گے۔ نوجوانوں کو متحد ہوکر عزم وحوصلے کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔الطاف حسین
ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین کا سوشل میڈیا کے ذریعہ دنیابھرمیں براہ راست وڈیوخطاب

لندن ۔۔۔11، مئی2018ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ سانحہ 12 مئی کی سازش آئی ایس آئی نے تیارکی تھی جس کامقصد اس وقت کے صدر اورچیف آف آرمی اسٹاف جنرل پرویز مشرف کو ہٹاناتھا۔جنرل پرویزمشرف نے آئی ایس آئی کی باتوں میں آکر افتخار چوہدری کوان کے عہدے سے ہٹایا تو آئی ایس آئی نے افتخار محمد چوہدری کی درپردہ حمایت کرکے ان کے حق میں وکلاء کی تحریک چلوادی۔ ہم پاکستان میں اسٹریٹوکریسی نہیں عوام کی حکمرانی چاہتے ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ جوعسکری ادارے اپنے دائرہ کار سے باہرنکل کرسیاست میں حصہ لیں وہ آئین شکنی کے مرتکب ہوں گے اور اس پرانہیںآئین وقانون کے تحت سزا ملنی چاہیے۔ پاکستان میں عدالتیں اسٹیبلشمنٹ کی ماتحت ہیں اورمظلوموں کو انصاف دینے والا کوئی نہیں ہے لیکن ہم انصاف کے حصول کیلئے عالمی عدالت انصاف میں اپنامقدمہ پیش کریں گے اور ظالموں کو مظلوم مہاجروں، پشتونوں اوربلوچوں کے ماورائے عدالت قتل کا حساب دینا پڑے گا۔ان خیالات کا اظہار جناب الطاف حسین نے سوشل میڈیا کے ذریعہ براہ راست وڈیوخطاب کرتے ہوئے کیا۔ جناب الطاف حسین کا خطاب فیس بک، ٹوئٹر اور یوٹیوب کے ذریعہ دنیا بھر میں دیکھاگیا۔ جناب الطاف حسین اپنے خطاب کاآغاز قرآنی آیات سے کیا جن کا ترجمہ ہے کہ حق آنے اورباطل مٹ جانے کیلئے ہے ، بے شک باطل مٹنے کیلئے ہی ہے اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہو۔ انہوں نے کہاکہ میں1992ء میں مرکزی کمیٹی اورکارکنان کے اصرارپر لندن آیا تھا اور گزشتہ 27 سال سے جلاوطن ہوں ۔ہرعام انتخابات میں ایم کیوایم نے بلاامتیاز رنگ ونسل، زبان ، مسلک اور مذہب امیدواروں کو نامزدکیا جن کی ان کے حلقے کے لوگوں نے شکل تک نہیں دیکھی تھی اور صرف ایم کیوایم کے انتخابی نشان کو دیکھ کر ووٹ دیکر انہیں کامیاب بنایا، انہیں وفاقی وصوبائی وزیر،مشیر، ارکان سینیٹ ، قومی اور صوبائی اسمبلی بنایاتاکہ وہ ایم کیوایم کے مشن ومقصد کے تحت ملک سے فرسودہ جاگیردارانہ نظام کے خاتمے کی جدوجہد کریں لیکن یہ منتخب نمائندے ان ایوانوں میں جاگیرداروں اوروڈیروں کے برابر بیٹھ کر ان کی جاگیردارانہ ذہنیت تبدیل کرنے کے بجائے خود جاگیردار، وڈیرے بن گئے اور مال بنانے میں لگ گئے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے سوچا کہ مہاجروں پر ریاستی طاقت کے استعمال ، ماورائے عدالت قتل اور کارکنوں کو دربدرکرکے خوف زدہ کردے گی لیکن حالات کے جبرکے باعث سینئر ساتھیوں کی اکثریت خاموشی، روپوشی یا جلاوطنی کی زندگی گزارنے کے باوجود آج بھی وفادار ہے۔انہوں نے کہاکہ فوجی اسٹیبشلمنٹ ، آئین ، قانون اور عدلیہ سے آزاد ہے ، وہ نہ توآئین وقانون کی پابند ہے اورنہ ہی شرافت واخلاقیات کے اصولوں سے واقف ہے ، اسٹیبلشمنٹ کو کبھی سچ بولنے کی عادت نہیں ہے ، وہ قرآن اٹھانے کے باوجود جھوٹی قسمیں کھاتی رہی ہے ۔ جناب الطاف حسین نے طلباوطالبات بالخصوص 12 سے 25 سال کی عمر کے Millennials کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ مہاجرقوم کا مستقبل آپ کے ہاتھ میں ہے ،اب یہ فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ مہاجرقوم کو باعزت زندگی دلانی ہے یا انہیں غلامی کے اندھیروں میں دھکیلنا ہے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہمارے بزرگوں کو اسلام کے نام پر بے وقوف بنایاگیا کہ پاکستان برصغیرکے مسلمانوں کا آزاد وطن ہوگا ، تحریک پاکستان کی جدوجہد میں برصغیرکے مسلم اقلیتی مسلمانوں نے20لاکھ جانیں قربان کیں جبکہ جہاں پاکستان قائم ہوا وہاں کے رہنے والوں نے قیام پاکستان کیلئے کوئی قربانی نہیں دی وہ صبح سو کر اٹھے تو انہیں بنا بنایا پاکستان مل گیا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ اگر ایک انسان کوئی غلطی کرتا ہے تو اس کا خمیازہ اس کے پورے خاندان کو بھگتنا پڑتا ہے لیکن اگر کوئی قوم اجتماعی غلطی کرے، عقل وشعور کے بجائے جذباتی فیصلے کرے اورمذہب کے نعرے میں استعمال ہوجائے تو اس کاخمیازہ نسل درنسل بھگتنا پڑتا ہے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں گزشتہ 40 برسوں سے مہاجروں سمیت ملک بھرکے مظلوموں کے جائز حقوق کی جدوجہد کررہا ہوں ، اس جدوجہد میں میرے 22 ہزار ساتھیوں نے جام شہادت نوش کیا،شہداء کے لواحقین میں میرا خاندان بھی شامل ہے ، 1992ء اور 2013ء میں جوکارکنان لاپتہ کیے گئے وہ آج تک لاپتہ ہیں ، ہزاروں کارکنان قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں اور جیلوں میں انہیں بہیمانہ مظالم کا نشانہ بنایاجارہا ہے ۔ نوجوانوں کو متحد ہوکر ایسے عزم وحوصلے کا مظاہرہ کرنا ہوگا کہ جیلوں کی دیواریں ٹوٹ جائیں اور پرعزم نوجوان نتائج کی پرواہ کیے بغیررینجرز کے ہیڈکوارٹرکے سامنے کھڑے ہوکرظالم قوتوں پر واضح کردیں کہ انہیں موت کے ڈرسے خوف زدہ نہیں کیاجاسکتااورمہاجرقوم اب کرائے دار بن کررہنا نہیں چاہتی بلکہ اپنے پیروں تلے اپنی زمین چاہتی ہے ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ مہاجرقوم کو ریاستی مظالم کانشانہ بنانے کے بعد بھی پوچھا جاتا ہے کہ پاکستان مخالف نعرہ کیوں لگایاجبکہ دیگر سیاسی رہنماؤں کی جانب سے فوج اورپاکستان کے خلاف نفرت انگیزباتیں کرنے کے باوجود نہ تو ان کے گھرکوتالالگایا گیا اورنہ ان کے اظہاررائے کی آزادی پر پابندی عائد کی گئی ۔ پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کہتی ہے کہ ہم نے ایم کیوایم کو کمزور کردیاہے اورایک لاکھ جہادیوں کی فوج کے ذریعہ ایم کیوایم کا مقابلہ کریں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ خود کبھی لڑنے نہیں جاتے ، کشمیر، سیاچن اورکارگل میں انہوں نے قبائلی پشتونوں کوبھیجا اور اب پشتونوں کومظالم کا نشانہ بنارہے ہیں۔ پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے قرآن کا واسطہ دیکربلوچوں کو مذاکرات کیلئے بلایا ، جب بلوچ مذاکرات کیلئے آئے تو انہیں گولیاں مارکرشہیدکردیا۔ جناب الطاف حسین نے حق پرست پنجابیوں، سندھیوں، بلوچوں، کشمیریوں، سرائیکیوں بالخصوص پشتونوں کو سلام تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ پشتون عوام اپنے حقوق کیلئے پشتون تحفظ موومنٹ کے پرچم تلے متحد ہوچکے ہیں ، میں پی ٹی ایم کے پشتون ساتھیوں سے کہتا ہوں کہ وہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جھوٹی باتوں میں ہرگز نہ آئیں اوراپنے جائز حقوق اورظلم کے نظام سے آزادی کی جدوجہدجاری رکھیں کیونکہ جس ملک میں کافروں سے بدترظالم لوگوں کا راج ہو اس ملک میں حقوق کامطالبہ کرنے والوں کارہنا حرام بنادیاجاتا ہے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان میں عدالتیں اسٹیبلشمنٹ کی ماتحت ہیں اورمظلوموں کو انصاف دینے والا کوئی نہیں ہے لیکن ہم انصاف کے حصول کیلئے عالمی عدالت انصاف میں اپنامقدمہ پیش کریں گے اور ظالموں کو مظلوم مہاجروں، پشتونوں اوربلوچوں کے ماورائے عدالت قتل کا حساب دینا پڑے گا۔ 
جناب الطاف حسین نے سانحہ 12، مئی 2007ء کاتذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اس سانحہ کاساراملبہ ایم کیوایم کے سر تھوپا جاتا رہا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سانحہ 12 مئی کی سازش آئی ایس آئی نے جنرل پرویز مشرف کو ہٹانے کیلئے تیارکی تھی۔ اس سازش کے تحت جنرل پرویز مشرف کے کان بھرے گئے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری آپ کے خلاف ساز ش کررہا ہے پھر ایک اٹارنی جنرل اورایک وکیل کو آبپارہ میں بلا کر سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ افتخارمحمد چوہدری کے خلاف ریفرنس تیار کرایاگیا۔ جب مجھے اس سازش کی اطلاع ملی تو میں نے اس وقت کے گورنر سندھ عشرت العباد کو اسلام آباد بھیجا کہ وہ جاکر جنرل پرویز مشرف کو بتائیں کہ آئی ایس آئی ان کے خلاف سازش کررہی ہے لیکن انہوں نے میری باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور کہنے لگے کہ ایسانہیں ہوسکتا، جنرل اشفاق پرویز کیانی میرا بچہ ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ یہ جنرل پرویز مشرف کی نالائقی تھی جبکہ بے نظیربھٹو کا یہ بیان ریکارڈ پر موجود ہے کہ آئی ایس آئی ، آرمی چیف کو بھی خاطر میں نہیں لاتی اوران کے منصوبے آرمی چیف کو بھی معلوم نہیں ہوتے ۔انہوں نے مزید کہا کہ ڈی جی رینجرز سندھ لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر دراصل آئی ایس آئی کا افسر تھا،اسی لئے آئی ایس آئی نے اسے قتل کاکھلا لائسنس دے رکھا تھا۔ رضوان اختر نے ڈی جی رینجرز سندھ کی حیثیت سے کراچی میں لوٹ مارکابازار گرم کیااورناجائز طریقے سے 33 ارب روپے کمائے ،اسے انعام کے طورپر آئی ایس آئی کاچیف بنادیا گیا ۔ اسی طرح جب بلال اکبر ، ڈی جی رینجرز سندھ بنا تو اس نے مہاجروں کے قتل عام میں رضوان اختر کا بھی ریکارڈ توڑدیااسے بھی انعام کے طورپر جی ایچ کیو میں سیکنڈ ان کمانڈ بنادیاگیاجبکہ کورکمانڈر کراچی نوید مختار کو رضوان اختر کے بعد آئی ایس آئی کاچیف بنادیاگیا۔ یہ فوجی افسران امریکہ سے کروڑوں ڈالرلیکر پشتونوں، مہاجروں اوربلوچوں کا قتل عام کرتے رہے ، جو سندھی سچے قوم پرست تھے انہیں آئی ایس آئی نے قتل کردیا اورجو بک گئے انہیں معاف کردیا جس طرح سنگین جرائم میں ملوث افراد کمالوگروپ میں جاکر ڈرائی کلین ہوجاتے ہیں اوران کے تمام جرائم معاف کردیئے جاتے ہیں ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ جب جنرل پرویزمشرف نے آئی ایس آئی کی باتوں میں آکر افتخار چوہدری کوان کے عہدے سے ہٹایا تو آئی ایس آئی نے افتخار محمد چوہدری کی درپردہ حمایت کرکے ان کے حق میں وکلاء کی تحریک چلوادی ، آئی ایس آئی نے اس عدلیہ بحالی تحریک پر اربوں کھربوں روپے خرچ کئے، ملک بھرمیں وکلاء کے جلسے اورمظاہرے کروائے اور یہ وکلاء ملک بھرمیں ایک جگہ سے دوسری جگہ فضائی سفرکرتے رہے ۔جنر ل پرویزمشرف آئی ایس آئی کی اس سازش کاشکارہوئے اور آج جلاوطن ہیں ۔ جناب الطاف حسین نے طلبا وطالبات بالخصوص Millennials کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ 12، مئی 2007ء کو ہم نے کہاکہ صرف جنرل پرویزمشرف کے خلاف تحریک چلائی جارہی ہے جبکہ آئین کے آرٹیکل 6 کی شق اے ، بی اورسی کے مطابق آئین توڑنے میں جوبھی معاون اورمددگار ہوگا وہ بھی آئین شکنی میں برابرکامجرم ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ تمام ٹی وی ٹاک شوز کے اینکرپرسنزاورسیاسی ودفاعی تجزیہ نگاروں کی اکثریت آئی ایس آئی کے پے رول پرہے جو صبح شام جنرل پرویزمشرف کی مخالفت تو کرتے ہیں لیکن یہ نہیں کہتے کہ جب 12، اکتوبر1999ء کو مارشل لاء لگاتھا اورمیاں نوازشریف کی حکومت کو برطرف کیاگیا تھا اس وقت جنرل پرویز مشرف فضا میں تھے اور زمین پر موجود جن فوجی افسروں نے مارشل لاء نافذ کیاانہیں بھی برابر کا مجرم قرار دیا جائے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں نے جنرل پرویزمشرف کو آئین کے آرٹیکل 6 کی تشریح اوراپنی تقاریر بھجوائیں لیکن پرویزمشرف ایک کمزور مہاجر ہیں،انہوں نے اوران کے ساتھیوں نے میری جانب سے بیان کیے گئے آئینی اورقانونی نکات کو کبھی نہیں اٹھایا کہ آرٹیکل 6 کے تحت صرف پرویزمشرف کونہیں بلکہ آئین شکنی میں معاونت اورمددکرنے والوں کو بھی پھانسی دی جائے ۔اسی طرح سپریم کورٹ کے وہ جج جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھاکر اس مارشل لاء کوجائز قراردیااوراس کوتین سال تک کام کرنے اورآئین میں ترمیم کااختیاردیاانہیں بھی اس آئین شکنی میں معاونت پر سزادی جائے۔ انہوں نے کہاکہ جن فوجی افسروں نے میاں نوازشریف کی کنپٹی پر پستول رکھ کر انہیں حکومت سے بیدخل کیا، ان کے بارے میںآج تک اینکرپرسنزاورسیاسی ودفاعی تجزیہ نگار نہیں کہتے کہ مارشل لاء لگانے والے ان فوجی افسران کو بھی آئین شکنی کے جرم میں قانون کے کٹہرے میں لایاجائے۔ انہوں نے کہاکہ ان جیسے متعصب اینکرپرسنزاورسیاسی ودفاعی تجزیہ نگاروں نے پاکستان کو دولخت کردیا اوراب یہ باقیماندہ پاکستان کو بھی توڑنے کے درپے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو الطاف حسین ، پشتون اوربلوچ نہیں بلکہ ان فوجی افسروں ، اینکرپرسنزاور سیاسی ودفاعی تجزیہ نگاروں کی متعصبانہ ذہنیت اور ظالمانہ رویہ نقصان پہنچاسکتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ انہوں نے مردہ باد کا نعرہ لگایاتو ان کی تحریر وتقریراورتصویرپر پابندی عائد کردی گئی مگر 93 ہزار فوجیوں نے ہتھیارڈالے اورملک کوتوڑ ڈالالیکن ان میں سے کسی ایک کوبھی سزا نہیں دی گئی کیونکہ پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ خود کو ملک کے آئین اورقانون سے بالاترسمجھتی ہے ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم کے سیاسی مخالفین، اینکرزاورتجزیہ نگار 12مئی کے واقعہ کابہت زکر کرتے ہیں،آج میں اس سازش کوبے نقاب کروں گا۔سابق چیف جسٹس افتخارچوہدری 12مئی کوکراچی میں دورے پر آرہے تھے ،اس روز ایم کیوایم نے بھی عدلیہ کی بحالی اورآزادی کے لئے ریلی نکالنے کااعلان کیاتھا۔ہماری ریلی میں شہربھرسے نوجوان، بزرگ، مائیں،بہنیں اوربچے بھی شریک تھے،حتیٰ کہ گودوں میں معصوم بچے بھی تھے۔ ہمارے مخالفین الزام لگاتے ہیں کہ ایم کیوایم والے ریلی کی آڑمیں لڑنے کیلئے آئے تھے۔انہوں نے کہاکہ اگر ہمیں لڑنا ہوتاتوکیاہم اپنی ماؤں بہنوں اورگودوں میں معصوم بچوں کو لے کرجاتے؟لڑائی کی سازش ہماری نہیں بلکہ آئی ایس آئی کی تیارکردہ تھی کہ ہنگامہ کرو اوراس کا الزام ایم کیوایم کے سرتھوپ دو اور پھر ہمیشہ اس کا ڈھول پیٹتے رہو، اس سازش کی منصوبہ بندی آبپارہ میں کی گئی اوراس پر عمل درآمدکیلئے پیپلزپارٹی، اے این پی ، جماعت اسلامی اورحقیقی کو ملایا گیا۔ انہوں نے بتایاکہ سازش کے تحت 12مئی سے دوروز قبل جماعت اسلامی کراچی کے رہنمامحمدحسین محنتی کے گھرپر ایک میٹنگ ہوئی جس میں حقیقی کے لوگوں کو ملایاگیا، وہاں انہیں منصوبہ سے آگاہ کیاگیاکہ انہیں 12مئی کوایم کیوایم کی ریلی میں شامل ہوکر دوسری جماعتوں کے لوگوں پر فائرنگ کرنی ہے، اس مقصدکیلئے جمعیت کے دفترسے انہیں اسلحہ اورایم کیوایم کے جھنڈے فراہم کئے گئے ۔اسی طرح عوامی نیشنل پارٹی کی مرکزی لیڈرشپ کی جانب سے کراچی میں اے این پی کے لوگوں کو ہدایت دی گئی کہ منشیات فروشوں اورغنڈہ عناصر کوساتھ ملا کر ایم کیوایم کے لوگوں پر براہ راست فائرنگ کرنی ہے۔جناب الطاف حسین کے خطاب کے دوران سانحہ 12مئی کے بارے میں ایک دستاویزی فلم بھی نشر کی گئی جس میں پیپلزپارٹی ،اے این پی اورجماعت اسلامی کے مسلح افراد کی جانب سے ایم کیوایم کی ریلی میں شریک کارکنوں اور ہمدردوں پر اندھا دھندفائرنگ، تشدد، مارپیٹ، گاڑیوں اوراملاک کوجلاتے اورتوڑپھوڑ کرتے ہوئے دکھایاگیاہے۔انہوں نے کہاکہ 12مئی کوجو54 افراد جاں بحق ہوئے تھے ان میں 15 ایم کیوایم کے کارکن بھی شامل تھے جن کے نام ، پتے، تصاویربھی ایم کیوایم نے جاری کیں لیکن سیاسی مخالفین، بیشتراینکرز، سیاسی ودفاعی تجزیہ نگار اس واقعہ کا الزام ایم کیوایم پر لگاتے ہیں لیکن انہیں یہ نظر نہیں آتاکہ کس طرح ایم کیوایم کے کارکنوں کوگولیاں ماری گئیں اوراملاک جلائی گئیں ۔ انہوں نے کہاکہ اس واقعہ کے بعد آئی ایس آئی کی ایماء پر اندرون سندھ کے ساتھ ساتھ پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان، آزادکشمیرمیں ایم کیوایم کے دفاترپر حملے کئے گئے اور انہیں توڑپھوڑکرجلادیاگیااورایم کیوایم کے خلاف دہشت گردی کی گئی ۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ فساد اورہنگامے کی جوسازش کراچی میں 12مئی 2007ء کوکی گئی اس ساشی منصوبہ پر پہلے پنجاب میں عمل کرنے کی کوشش کی گئی لیکن جب اس کاعلم اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویزالٰہی کوہواتوانہوں نے اس کی شدیدمخالفت کی اور سازشی منصوبہ بنانے والوں کوصاف کہہ دیاکہ وہ پنجاب میں یہ سازش نہیں ہونے دیں گے ، پھراس سازشی منصوبہ پرکراچی میں عمل کیاگیااوراس کاالزام ایم کیوایم پرتھوپ دیاگیا۔ چوہدری پرویزالٰہی نے اس بات کاانکشاف اپنے ٹی وی انٹرویوزمیں کرچکے ہیں۔ ان کے ہاتھ میں قرآن مجید رکھ کراس بارے میں پوچھاجاسکتاہے۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم پر دیگرقومیتوں کے افراد کے قتل کے الزامات لگائے جاتے ہیں لیکن یہ نہیں بتایاجاتاکہ 1947سے آج تک مہاجروں کاکس کس طرح جسمانی قتل عام کیاگیا ، دوسرے لوگوں نے پاکستان کے حوالے سے کیسی کیسی سخت باتیں کیں مگرکسی کے گھرپر تالہ نہیں ڈالا گیا لیکن ایم کیوایم کے مرکزکوسیل کردیاگیا، دفاترکوبلڈوزکردیاگیا، آج بھی ایم کیوایم کو سیاسی جلسے جلوس کرنے کی آزادی نہیں ہے ، ہزاروں کارکن جیلوں میں قید ہیں ، ایک پروفیسرڈاکٹرحسن ظفر عارف جنہوں نے دیکھاکہ بائیں بازہ اورترقی پسندی کے صحیح نظریہ کی ترجمانی الطاف حسین کررہاہے لہٰذا وہ ایم کیوایم میں شامل ہوگئے ، انہیں گرفتارکیاگیا، جیل میں ڈالاگیا،انہوں نے سرنہیں جھکایاتوانہیں بھی 13جنوری 2018ء کوگرفتارکرکے تشددکے بعدماورائے عدالت قتل 
کردیاگیا، اسی روز نقیب اللہ محسود اوراس کے ساتھیوں کوماورائے عدالت قتل کیاگیا،ڈاکٹرحسن ظفر عارف کی طرح نقیب اللہ محسود کے قتل میں بھی بدنام اور سفاک پولیس افسرراؤ انوار ملوث ہے جوپولیس کی وردی میں دراصل آئی ایس آئی کاایک افسرہے ، یہی وجہ ہے کہ جب گزشتہ دنوں اسے سپریم کورٹ میں پیش کیاگیاتوچیف جسٹس ثاقب نثار نے اسے نہایت پیاراورشفقت سے مخاطب کیا ،444ماورائے عدالت قتل میں ملوث یہ سفاک پولیس افسر اب کراچی میں اپنے گھرمیں شان سے رہ رہاہے جبکہ پڑھے لکھے لوگ جیلوں میں سڑرہے ہیں۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ ہم پختونوں، پنجابیوں، سندھیوں، بلوچوں، سرائیکیوں، ہزارے وال، گلگتی، بلتستانی، کشمیری کسی کے بھی خلاف نہیں ہیں، ہمارا جھگڑا صرف فرسودہ جاگیردارانہ نظام سے ہے ، ہم پاکستان میں ایک صحیح اورسچی جمہوریت چاہتے ہیں، ہم اسٹریٹوکریسی نہیں چاہتے بلکہ عوام کی حکمرانی چاہتے ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ جوعسکری ادارے اپنے دائرہ کار سے باہرنکل کرسیاست میں حصہ لیں وہ آئین شکنی کے مرتکب ہوں گے اور اس پرانہیںآئین وقانون کے تحت سزا ملنی چاہیے۔ جناب الطا ف حسین نے تحریک کے ثابت قدم کارکنوں کوخراج تحسین پیش کیااور کہاکہ وہ جلد ہی خطاب کی اگلی نشست میں قیام پاکستان کے بعد سے اب تک مہاجروں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں اورمظالم کی تفصیلات بیان کریں گے۔ 

*****


10/20/2018 7:13:06 PM