Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ہم کسی سے لڑنانہیں چاہتے بلکہ پرامن جدوجہدکے ذریعے اپنے حقوق چاہتے ہیں۔الطاف حسین


ہم کسی سے لڑنانہیں چاہتے بلکہ پرامن جدوجہدکے ذریعے اپنے حقوق چاہتے ہیں۔الطاف حسین
 Posted on: 4/9/2018 1

ہم کسی سے لڑنانہیں چاہتے بلکہ پرامن جدوجہدکے ذریعے اپنے حقوق چاہتے ہیں۔الطاف حسین
ہمیں ہمارے حقوق دیدیں اورہمیں دیوارسے نہ لگائیں،اب ہمیں دوسرے درجے کے شہری کی زندگی قبول نہیں ۔الطاف حسین
ہم اب اس بات کوقبول کرنے کوتیارنہیں ہیں کہ ہماری طرح ہمارے بچوں کوبھی بے زمینی کاطعنہ دیاجائے۔الطاف حسین
اگر سعودی عرب میں حلال جواخانہ کھل سکتاہے تو اپنی قوم کی بقاء اورباعزت زندگی کے حصول کیلئے کسی سے بھی مدد لیناحلال ہے 
ڈاکٹرحسن ظفر عارف کے قتل سے بیداری پیدا ہوگئی ، اسی روز ہونے والے نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل پرپختون
ریاستی ظلم وبربریت کے خلاف میدان میں آگئے۔الطاف حسین
پشاور کے تاریخی جلسہ پرپشتون تحفظ مووومنٹ کے سربراہ منظورپشتین اورانکے تمام ساتھیوں کودلی مبارکبادپیش کرتاہوں۔الطاف حسین
ہم پشتون تحفظ موومنٹ کے مطالبات کی حمایت کرتے ہیں، ہم حقوق کیلئے جدوجہدکرنے والے بلوچوں کی بھی حمایت کرتے ہیں 
پشتون اوربلوچ بھائی بھی حقوق کی جدوجہد میں ہماری حمایت کریں تاکہ ہم مشترکہ دشمن سے اپنے حقوق حاصل کرسکیں۔الطاف حسین
پشاورمیں جلسہ میں شرکت کرنے والے پشتون نوجوانوں، بزرگوں، ماؤں بہنوں اوربچوں خراج تحسین پیش کرتاہوں۔الطاف حسین
مجھے ان تمام پشتون ماؤں بہنوں اوربزرگوں سے دلی ہمدردی ہے جن کے پیارے ریاستی اداروں نے اٹھاکرغائب کردیے۔الطاف حسین
میں ان پشتونوں کادکھ اچھی طرح سمجھ سکتاہوں کیونکہ ان کی طرح سینکڑوں مہاجرنوجوانوں کوبھی اسی طرح غائب کردیا گیاہے 
مہاجروں کو کوان پختونوں سے سبق حاصل کرناچاہیے جوظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔الطاف حسین
ایم کیوایم ساؤتھ افریقہ کے زیراہتما م کیپ ٹاؤن میں ایم کیوایم کے 34ویں یوم تاسیس کے اجتماع سے خطاب

لندن ۔۔۔ 9 اپریل 2018ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاکہ ہم کسی سے لڑنانہیں چاہتے بلکہ پرامن جدوجہدکے ذریعے اپنے حقوق چاہتے ہیں، ہم آج بھی یہی کہتے ہیں کہ ہمیں ہمارے حقوق دیدیں اورہمیں دیوارسے نہ لگائیں۔ انہوں نے یہ بات گزشتہ روز ایم کیوایم ساؤتھ افریقہ کے کیپ ٹاؤن چیپٹرکے زیراہتمام ایم کیوایم کے 34ویں یوم تاسیس کے اجتماع سے لندن سے فون پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اجتماع میں نوجوانوں، بزرگوں ، خواتین اوربچوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں نے محروم مہاجروں کے حقوق کے لئے جب سے تحریک کاآغاز کیااور غریب ومتوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کواسمبلیوں میں بھیجااسی وقت سے ملک کی اسٹیبلشمنٹ نے ایم کیوایم کے خاتمہ کی کوششیں شروع کردیں، مجھ پر قاتلانہ حملے کرائے گئے ، جب مجھ پر بموں سے حملے کرائے گئے تومرکزی کمیٹی نے مجھ سے کہاکہ اسٹیبلشمنٹ آپ کوزندہ دیکھنانہیں چاہتی اسلئے آپ ملک سے باہرچلے جائیے، میں مرکزی کمیٹی کے مشورے پر لندن آگیالیکن میں لندن آکربھی مسلسل اپنے خدشات کااظہارکرتارہاکہ اس وقت بھی فوج کی جانب سے جو 72 بڑی مچھلیوں کے خلاف آپریشن کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں وہ ایک کھلادھوکہ ہیں، اس آپریشن کااصل مقصد مہاجروں کوکچلناہے ، میر ی بات درست ثابت ہوئی اور19جون 1992ء کوفوج ایم کیوایم کے غداروں کواپنے ٹرکوں پر بٹھاکرلائی اوران سے ایم کیوایم کے دفاترپرقبضے کرائے گئے اور فوج اورحقیقی دہشت گردوں نے ایم کیوایم کے کارکنوں کاقتل شروع کردیااورہم برسوں تک اپنے ساتھیوں کی لاشیں اٹھاتے رہے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میری غیرموجودگی میں ایم کیوایم کے وہ ارکان اسمبلی جن کے پاس ایک بینر بنانے کے پیسے نہیں تھے اورجن کے الیکشن اورجلسے جلوسوں کے تمام اخراجات ایم کیو ایم نے اٹھائے لیکن ان نمائندوں کی اکثریت اپنے نظریہ اورشہید وں کوبھول کر سرکاری ایجنسیوں کی ایجنٹ بن گئی اوریہ لوگ بھول گئے کہ وہ کس کی بدولت ایوانوں میں پہنچے تھے، رابطہ کمیٹی کے ارکان اورتنظیمی ذمہ داران جو تحریک کے نظریہ کوپس پشت ڈال کرکرپشن اوربدعنوانیوں میں ملوث ہوگئے میں نے انہیں کئی بار رابطہ کمیٹی اوردیگرذمہ داریوں سے فارغ کیا، انہوں نے باربار قرآن مجیدپر حلف لے کرآئندہ غلطی نہ کرنے کاعہد کیالیکن وہ اپنے اعمال سے باز نہ آئے ، جب کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل، چھاپوں، گرفتاریوں اورجبری گمشدگیوں کے خلاف ہم نے کراچی پریس کلب پر بھوک ہڑتال کی تورابطہ کمیٹی کے بعض ارکان نے پہلے خود کہاکہ ہمیں پاکستان میں انصاف نہیں مل رہااورہماراپاکستان کے حق میں نعرہ لگانے کادل نہیں چاہتا، ان کے کہنے کے بعد میں نے کہاتھاکہ جس ملک میں انصاف کا حصول نہ ہواورکوئی سننے والا نہ ہوایسے ملک کوزندہ باد نہیں مردہ باد کہاجاتاہے ، میری اس بات کوجواز بناکرریاستی اداروں کی جانب سے ایم کیوایم پر چڑھائی کردی گئی ، نائن زیرواورتمام دیگردفاترکوسیل کردیاگیا،سوسے زائد دفاترکومسمار کردیاگیا، ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال دیاگیا، رابطہ کمیٹی کے وہ ارکان جنہوں نے اپنے منصب اورتحریک کی وجہ سے بہت کچھ مراعات اورآسائشیں حاصل کی تھیں، جب قربانیاں دینے کاوقت آیاتوانہوں نے اسٹیبلشمنٹ کی ایماء پر اپنے قائدسے لاتعلقی اختیارکرکے تحریک کوناقابل تلافی نقصان پہنچایااورایم کیوایم کوختم کرنے کے اسٹیبلشمنٹ کے منصوبے کاحصہ بن گئے ۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ جہاں ایک طرف تحریک اورقوم سے بے وفائی کرنے والے تھے وہاں 73سالہ بزرگ رہنما، پروفیسر ڈاکٹرحسن ظفر عارف بھی تھے جنہوں نے73سال کی عمر میں تحریک میں شمولیت اختیارکی، انہوں نے تحریک اورقوم سے وفانبھائی، انہیں گرفتارکیاگیا، قیدوبندکی اذیتیں دی گئیں، دھمکیاں دی گئیں لیکن وہ کسی بھی دھمکی میں نہیں آئے اوربالآخر13جنوری 2018ء کو پولیس ورینجرزاورآئی ایس آئی نے ڈاکٹرحسن ظفر عارف کو گرفتار کرنے کے بعد بیدری سے شہید کردیا۔ انہوں نے وفاپرستی کاجوپودالگایاتھا اس سے بیداری پیدا ہوئی۔جس دن ڈاکٹرحسن ظفر عار ف کوشہید کیاگیااسی دن پختون نوجوان نقیب اللہ محسود کوبھی کراچی میں ماورائے عدالت قتل کیاگیا، ڈاکٹرحسن ظفر عارف کے قتل کو تو چھپادیا گیا لیکن ان کے لہوسے ایسی بیداری پیداہوئی کہ اسی روز ہونے والے نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل نے پختونوں کوجگادیا، وہ اس ریاستی ظلم وبربریت کے خلاف میدان میں آگئے ، پورے ملک میں اس ظلم کے خلاف مظاہرے، جلسے ،جلوسوں کاسلسلہ شروع ہوگیا اورملک کے مختلف شہروں کی طرح آج پشاورمیں بھی پشتونوں کاایک بہت بڑاجلسہ منعقدکیاگیاجس پرمیں پشتون نوجوانوں، بزرگوں، ماؤں بہنوں اوربچوں کوشاباش اورخراج تحسین پیش کرتاہوں کہ وہ آج اپنے حقوق کے لئے میدان عمل میں نکل آئے ۔ انہوں نے کہاکہ مجھے ان تمام پشتون ماؤں بہنوں اوربزرگوں سے دلی ہمدردی ہے جن کے پیارے ریاستی اداروں نے اٹھاکرغائب کردیے ، میں ان کادکھ اچھی طرح سمجھ سکتاہوں کیونکہ ان کی طرح سینکڑوں مہاجرنوجوانوں کوبھی اسی طرح غائب کردیا گیاہے اوروہ آج تک لاپتہ ہیں اورانہیں عدالتوں میں باربارکی پٹیشنز کے باوجود رہانہیں کیاگیا۔ جناب الطاف حسین نے پشاور کے تاریخی جلسہ عام پرپشتون تحفظ مووومنٹ کے سربراہ منظورپشتین اوران کے تمام ساتھیوں کودلی مبارکبادپیش کی اور کہاکہ ہم پشتون تحفظ موومنٹ کے تمام مطالبات کی حمایت کرتے ہیں، ہم اپنے حقوق کیلئے جدوجہدکرنے والے بلوچوں کی بھی حمایت کرتے ہیں اوراپنے پشتون اوربلوچ بھائیوں سے بھی کہتے ہیں کہ انہیں بھی حقوق کی جدوجہد میں ہماری حمایت کرناچاہیے تاکہ ہم اپنے مشترکہ دشمن سے اپنے حقوق حاصل کرسکیں۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ 70برسوں سے مہاجروں کوان کے حقوق سے محروم رکھاجارہاہے، ہم نے 17مارچ کولندن میں ہونے والے یوم تاسیس کے اجتماع میں بھی سندھ کے وڈیروں کوبھی کہہ دیاہے کہ تم نے ہمارابہت حق ماراہے لیکن اب ہمیں غلامی اوردوسرے درجے کے شہری کی زندگی قبول نہیں ہے ، ہم اب اس بات کوقبول کرنے کوتیارنہیں ہیں کہ ہماری طرح ہمارے بچوں کوبھی بے زمینی کاطعنہ دیاجائے ، ہم واضح الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ سندھ میں ہماراحق تسلیم کیاجائے ، آج ہرمہاجریہ کہہ رہاہے کہ ’’ سندھ میں ہوگاکیسے گزارا ۔۔۔ آدھاہمارا آدھاتمہارا ‘‘۔اوراگرمہاجروں کایہ حق تسلیم نہیں کیاگیاتوپھر بات اس سے آگے چلی جائے گی۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہم کسی سے لڑنانہیں چاہتے بلکہ پرامن جدوجہدکے ذریعے اپنے حقوق چاہتے ہیں، ہم آج بھی یہی کہتے ہیں کہ ہمیں ہمارے حقوق دیدیں اورہمیں دیوارسے نہ لگائیں،ہم بھی جیتے جاگتے انسان ہیں، ہمیں بھی زندہ رہنے کاحق ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر سعودی عرب میں حلال جواخانہ کھل سکتاہے تو اپنی قوم کی بقاء اورباعزت زندگی کے حصول کے لئے کسی سے بھی مدد لیناحلال ہے ۔ 
جناب الطاف حسین نے ساؤتھ افریقہ یونٹ کے کارکنوں کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ یہ انتہائی افسوس اورشرم کی بات ہے کہ آپ یہاں آکراپنے شہیدوں اوران کے بچوں کوبھول گئے ہیں اوراپنی ذات میں مگن ہوگئے ہیں، آپ سے اچھے توپختون ہیں جو اپنی قوم پرہونے والے مظالم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ،انہوں نے آج پشاورمیں تاریخی جلسہ کیااور ظلم کرنے والوں کے خلاف کھل کرآوازبلند کی،آپ کوان پختونوں سے سبق حاصل کرناچاہیے ۔ انہوں نے کہاکہ الطاف حسین کے بھائی اوربھتیجے کوشہید کیاگیا، آج بھی الطاف حسین کا خالہ زادبھائی اوربھانجہ کئی مہینوں سے لاپتہ ہے لیکن الطاف حسین کا عزم کم نہیں ہوا، وہ خاموش نہیں ہوا، اس کے حوصلے آج بھی بلند ہیں اوروہ مہاجر قوم پر ہونے والے مظالم کے خلاف ہرسطح پر آوازاٹھارہاہے، قوم کامقدمہ دنیا کے ہرفورم پر پیش کررہاہے، چاہے کوئی اس کاساتھ دے یانہ دے وہ ظالموں کے خلاف آوازاٹھاتارہے گا۔جناب الطاف حسین نے ساؤتھ افریقہ یونٹ کے کارکنوں سے کہاکہ اپنی 40سالہ جدوجہد کوکامیاب بنانے کے لئے آپ کوبیدارہوناہوگااورماضی کی غلطیوں کاازالہ کرناہوگا۔ انہوں نے کہاکہ اگر آپ لوگوں نے اپنی اصلاح کی اورقومی بیداری کامظاہرہ کیاتومیں ساؤتھ افریقہ کادورہ کروں گا۔ جناب الطا ف حسین نے کارکنوں سے کہاکہ وہ اپنے علاقوں کے ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات کرکے انہیں مہاجروں پر ہونے والے مظالم سے آگاہ کریں اورشہیدوں اوراسیروں کے مصیبت زدہ اہل خانہ کی مدد کے لئے شہداء فنڈ میں عطیات جمع کرائیں۔ انہوں نے یوم تاسیس کاشانداراجتماع منعقد کرنے والے کارکنوں کوشاباش اورخراج تحسین پیش کیا۔ 

*****


4/19/2018 4:46:00 AM