Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پاکستان میں ڈیموکریسی نہیں ’’ اسٹریٹوکریسی ‘‘ ( Stratocracy) ہے،چند کرپٹ فوجی جرنیلوں نے پور ے ملک پر قبضہ کررکھا ہے۔الطاف حسین


پاکستان میں ڈیموکریسی نہیں ’’ اسٹریٹوکریسی ‘‘ ( Stratocracy) ہے،چند کرپٹ فوجی جرنیلوں نے پور ے ملک پر قبضہ کررکھا ہے۔الطاف حسین
 Posted on: 4/4/2018 1
پاکستان میں ڈیموکریسی نہیں ’’ اسٹریٹوکریسی ‘‘ ( Stratocracy) ہے،چند کرپٹ فوجی جرنیلوں نے
پور ے ملک پر قبضہ کررکھا ہے۔الطاف حسین
پاکستان کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے لیکن در حقیقت پاکستان میں جمہوریت نہیں ہے
یاتو پاکستان کانام اسلامی جمہوریہ پاکستان سے تبدیل کردیں یا پھر کرپٹ فوجی جرنیلوں سے پورے پاکستان کوآزاد کیاجائے
آج پاکستان ڈیموکریٹک نہیں ’’ اسٹریٹوکریٹک پاکستان ‘‘ہے جہاں نہ عدلیہ آزاد ہے نہ میڈیا ، سب فوج کے اشارے پر کام کررہے ہیں
پاکستان سے محبت کرنے والے فوجی جرنیل آگے آئیں اوران کرپٹ جرنیلوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں،
احتساب صرف نوازشریف کاہی کیوں کیاجارہاہے،اگر احتساب کرناہے تو زرداری اور عمران خان کابھی کرو، میرابھی کرو
کشمیری عوام پر مظالم کی مذمت کرتے ہیں،کشمیرمیں وہ ظلم نہیں ہورہے ہیں جوپاکستان کی فوج اپنے ہی شہریوں پر کررہی ہے
قبائلی علاقوں اوربلوچستان میں عوام پر ہونے والے مظالم اوران کا دکھ سمجھتے ہیں ،وہ بھی مہاجروں کادرد سمجھیں
ایم کیوایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن سے سوشل میڈیا کے ذریعہ عوام سے براہ راست خطاب
امریکہ عظیم انقلابی رہنمامارٹن لوتھر کنگ اور پاکستان کے عظیم انقلابی رہنماؤں حسن ناصر شہید اور ڈاکٹر حسن ظفرعارف شہید کو خراج عقیدت

متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ پاکستان میں ڈیموکریسی نہیں ’’ اسٹریٹوکریسی ‘‘ ( Stratocracy) ہے،چند کرپٹ فوجی جرنیلوں نے پور ے ملک پر قبضہ کررکھا ہے ، پاکستان سے محبت کرنے والے فوجی جرنیل آگے آئیں اوران کرپٹ جرنیلوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں، پاکستان سے فرسودہ جاگیردارانہ ، وڈیرانہ نظام اوربے لگام سرمایہ دارانہ نظام کاخاتمہ کرکے پاکستان کو بچائیں ورنہ کرپٹ جرنیل باقیماندہ پاکستان کو بھی دولخت کردیں گے ۔ ان خیالات کااظہارجناب الطاف حسین نے ایم کیوایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن سے سوشل میڈیا کے ذریعہ عوام سے براہ راست خطاب کرتے ہوئے کیا۔اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے امریکہ میں سیاہ فام باشندوں کے مساوی حقوق کے لئے جدوجہدکرنے والے عظیم رہنمااورسچے کامریڈ مارٹن لوتھر کنگ جونیئر اور پاکستان میں غریب اورکچلے ہوئے عوام کے حقوق کے لئے جدوجہدکرنے والے عظیم انقلابی رہنماؤں حسن ناصر شہید اورشہیدوفا ڈاکٹر حسن ظفرعارف کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے مارٹن لوتھرکنگ کوان کی پچاسویں برسی پر شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ کامریڈ مارٹن لوتھرکنگ نے سیاہ فام امریکیوں کے ساتھ کئے جانے والے تعصب اورناانصافیوں کے خلاف آواز حق بلند کی اور اسی جدوجہد میں اپنی جان قربان کردی۔ اسی طرح پاکستان میں انقلاب کے لئے جدوجہدکرنے والے کامریڈحسن ناصر شہید کو جنرل ایوب خان کے دور میں لاہور کے شاہی قلعہ میں قید کرکے تشددکا نشانہ بنا کر شہید کردیا گیا اورجنرل قمرجاوید باجوہ کے دور میں ایک عظیم انقلابی اورایک عظیم استادپروفیسر ڈاکٹر حسن ظفرعارف کو فوج، رینجرز اورآئی ایس آئی نے بیدردی سے شہیدکردیا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ کامریڈمارٹن لوتھرکنگ، کامریڈ حسن ناصرشہید، کامریڈ پروفیسرڈاکٹر حسن ظفرعارف شہید اوردیگر سچے کامریڈ اس دنیا سے چلے گئے لیکن انکی سوچ وفکر،نظریہ اورقربانیاں رائیگاں نہیں گئیں اوران کانظریہ آج بھی زندہ ہے اورتمام ترمظالم اوررکاوٹوں کے باوجود سچے نظریاتی لوگ آج بھی انقلاب کے لئے جدوجہدکررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حقوق کی جدوجہد کو ختم کرنے کیلئے فوج نے ایم کیوایم میں گروپ بنائے لیکن وہ عوام کے دلوں سے الطاف حسین کا سچا نظریہ ، حقیقت پسندی وعملیت پسندی اور محبت نہ نکال سکی۔ جناب الطاف حسین نے مارٹن لوتھرکنگ، حسن ناصر شہید اور پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفرعارف شہید کی ارواح کو مخاطب کرتے ہوئے وعدہ کیاکہ جب تک ہمارے جسم میں سانس ہے ہم آمریت کے خلاف جدوجہد کرتے رہیں گے اوراس جدوجہد میں بڑی سے بڑی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ۔ انہوں نے کہاکہ حقوق کی جدوجہد کرنے والے بلوچوں، قبائلیوں اور مہاجروں کو غائب کیا جارہا ہے اور دوسرے دن ان کی لاشیں ملتی ہیں ۔ یہ ظلم کوئی بھارت کی فوج نہیں کررہی بلکہ پاکستان کی فوج اورآئی ایس آئی کررہی ہے ۔ 93 ہزار فوجیوں نے دشمن ملک کی فوج کے آگے ہتھیار ڈالے مگرپھربھی انہیں زرہ برابر شرم نہیں آتی اورانہوں نے ماضی کے تلخ تجربے سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے لیکن در حقیقت پاکستان میں جمہوریت نہیں ہے ، اگرکوئی کہتا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت ہے تو وہ جھوٹ بولتا ہے۔ جمہوریت کا مطلب عوام کی حکومت، عوام سے اورعوام کیلئے ، ہے جبکہ پاکستان میں ڈیموکریسی نہیں بلکہ ’’ اسٹریٹوکریسی ‘‘Stratocracy قائم کردی گئی ہے جس کامطلب ہے کہform of government headed by military chiefs) ) جس میں ملک کے تمام ادارے فوج کے ماتحت ہوتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کے عوام کوچاہیے کہ یاتو وہ پاکستان کانام اسلامی جمہوریہ پاکستان سے تبدیل کردیں یا پھر کرپٹ فوجی جرنیلوں سے پورے پاکستان کوآزاد کرادیں۔ انہوں نے کہاکہ آج پاکستان درحقیقت Stratocratic Pakistan ہے جہاں نہ عدلیہ آزاد ہے ، نہ میڈیا آزاد ہے جبکہ 99 فیصد صحافی ، تجزیہ نگار اور اینکرپرسنز فوج کے اشارے پر کام کررہے ہیں اور جو ایک فیصد حق اور سچائی کی آوازبلند کرتے ہیں انہیں تشددکا نشانہ بنایاجاتا ہے ، انکے ساتھ توہین آمیز سلوک کیاجاتا ہے ، گرفتارکرکے لاپتہ کردیا جاتا ہے یا پھر قتل کردیاجاتا ہے ۔ آج ہی جیونیوز کے اینکرپرسن سلیم صافی کے گھرپر حملہ کرکے ان کے گارڈ کو زخمی کردیاگیا ، اسی طرح نجانے کتنے صحافیوں کو قتل کیاجاچکا ہے یعنی اگرآپ فوج کی مرضی کے بغیرکوئی خبردیں گے تو یاتو غائب کردیئے جائیں گے یا پھر آپ کی لاش ملے گی ۔ جیو نیوز کے اینکرحامد میرکو تین گولیاں ماری گئیں تو انہوں نے بلوچوں اورقبائلیوں کی زبوں حالی کا تذکرہ کرنابند کردیا۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج کشمیر میں کشمیری عوام اپنے حق خودارادیت کیلئے جدوجہد کررہے ہیں ، جب جب کشمیری عوام پر مظالم ڈھائے گئے ہم نے ہمیشہ مذمت کی اورآج بھی کررہے ہیں لیکن چاہے مجھ پر غداری کا ایک اور مقدمہ کیوں نہ بنادیا جائے میں سچ بات کہنے سے ہرگز پیچھے نہیں ہٹوں گا کہ کشمیری عوام کو آج بھی احتجاجی مظاہرے کرنے کی آزادی ہے لیکن پاکستان میں اپنے حقوق کے لئے آوازاٹھانے والوں کوگرفتارکرکے کئی کئی مہینوں اورسالوں کے لئے غائب کردیاجاتا ہے یا ان کی لاشیں ملتی ہیں ۔کشمیرمیں وہ ظلم نہیں ہورہے ہیں جوپاکستان کی فوج پاکستان میں اپنے ہی کلمہ گو پاکستانیوں پر کررہی ہے ۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان میں قبائلی، بلوچ اوردیگرمظلوم عوام پاکستانی فوج، جاگیرداروں اوروڈیرون کے ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں ، آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد کے نام پر فوج نے قبائلیوں پربمباری کی ، ان کا قتل عام کیا اورامریکہ کوکہتے رہے کہ وہ طالبان کو ماررہے ہیں جبکہ طالبان کے خلاف آپریشن کے نام پرہزاروں قبائلیوں کوشہیدکردیاگیا، ان کے علاقوں پر قبضہ کرلیاگیا، بچے یتیم کردیئے گئے ،ہزاروں گھر اجاڑ دیئے گئے۔اس موقع پر ایک وڈیوبھی پیش کی گئی جس میں ایک قبائلی پشتون نوجوان ایک خاندان پر ہونے والے ظلم کی کہانی بیان کرتاہے کہ کس طرح ایک ہی خاندان کے دونوجونوں کوگرفتارکرکے ماورائے عدالت قتل کردیا گیااوران کے معصوم بچوں کویتیم کردیاگیا۔ جناب الطاف حسین نے اس واقعہ کی شدیدمذمت کرتے ہوئے کہاکہ اس ظلم پر جنرل قمرجاوید باجوہ کو خوف خدا کرنا چاہیے ۔جناب الطاف حسین نے مظلوم قبائلیوں اوربلوچوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ 19، جون 1992ء سے اب تک ایم کیوایم کے 22 ہزار سے زائد کارکنوں کو قتل کیاجاچکاہے ، ہم نقیب اللہ محسود سمیت دیگرقبائلیوں اور بلوچوں کے یتیم بچوں اورقبائلی علاقوں اوربلوچستان میں عوام ماؤں بہنوں،بزرگوں اوربچوں پر ہونے والے مظالم اوران کا دکھ سمجھتے ہیں لہٰذا وہ بھی مہاجروں کادرد سمجھیں۔انہوں نے قبائلی علاقوں میں چیک پوسٹوں پر قبائلی ماؤں بہنوں اوربزرگوں کے ساتھ توہین آمیزسلوک اور بلوچستان میں ہزارہ قوم پر ہونیو الے مظالم کی بھی مذمت کی اوراس ظلم کے خلاف جرات سے آوازبلندکرنے والی ہزارہ قوم کی ماؤں بہنوں اورنوجوانوں کوبھی انکی جرات وہمت پر سلام تحسین پیش کیا۔ جناب الطاف حسین نے بلوچوں، قبائلیوں، مہاجروں اوردیگرمظلوم قومیتوں سے اپیل کی کہ وہ آپس میں متحد ہوجائیں اورمتحد ہوکر اپنے حقوق کی جدوجہد کریں۔ 
جناب الطا ف حسین نے کہاکہ چند کرپٹ فوجی جرنیلوں نے پور ے ملک پر قبضہ کررکھا ہے لہٰذا میں پاکستان سے محبت کرنے والے ایماندار فوجی جرنیلوں سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتاہوں کہ خدارا وہ آگے آئیں اوران کرپٹ جرنیلوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں، کرپٹ جرنیلوں سے پاکستان کوبچائیں،پاکستان سے فرسودہ جاگیردارانہ ، وڈیرانہ نظام اوربے لگام سرمایہ دارانہ نظام کاخاتمہ کر یں ورنہ کرپٹ جرنیل باقیماندہ پاکستان کو بھی دولخت کردیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ جنرل راحیل شریف نے ریٹائرمنٹ سے قبل ہی سعودی عرب میں ملازمت اختیاکرلی، اسی طرح دیگر جرنیل بھی وہاں ملازمت کررہے ہیں، انہیں اگرکشمیریوں کاواقعی احساس ہوتاتویہ دوسرے ملک کی ملازمت اختیارکرنے کے بجائے کشمیرکوآزادکراتے ، آج یہ سعودی عرب کی طرف سے یمن کے خلاف جنگ میں سرگرم ہیں،انہوں نے سوال کیاکہ کیایمن،شام اورایران کے عوام مسلمان نہیں ہیں؟کیاآج سوشل میڈیاکے دورمیں وہاں ہونے والے واقعات دنیاسے چھپائے جاسکتے ہیں؟جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایک طرف ملک میں بلاامتیاز احتساب کی بات کی جاتی ہے لیکن دوسری جانب سپریم کورٹ فیصلہ دیتی ہے کہ کرپشن کرنے والے اوراپنے اثاثے چھپانے والے فوجی افسر کا کورٹ مارشل نہیں ہوسکتا۔انہوں نے پاکستان کے عوام کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ وہ اس ظلم ، ناانصافی اوردوہرے نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں، آپ کامذہب، مسلک اورعقیدہ کچھ بھی ہولیکن آپ پاکستان کو بچائیں، چاہیں آپ الطاف حسین کوپاکستان میں نہ آنے دیں لیکن خدارا پاکستان کوبچائیں۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ مہاجر 7 کروڑہیں لیکن تمام ترکوششوں کے باوجود انہیں ان کے حقوق نہیں دیے جاتے اوروہ کسی بھی طرح سندھ میں اپنی حکومت نہیں بناسکتے اسلئے اب ہرمہاجرکایہ نعرہ ہے کہ ’’ سندھ میں ہوگاکیسے گزارا ۔۔۔آدھاہمارا، آدھاتمہارا ‘‘ ۔ اب چاہیے پیارسے کرلیں یالڑکرکرلیں۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ مہاجروں سمیت ملک بھرکے مظلوم عوام اس حقیقت سے واقف ہیں کہ الطاف حسین نے مظلوموں کوحقیقت پسندی اورعملیت پسندی کا نظریہ دیا ،غریب ومتوسط طبقہ کی حکمرانی کیلئے عملی جدوجہد کی ، الطاف حسین، پاکستان کا واحد لیڈر ہے جس نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ غریب ومتوسط طبقہ کے افراد کو سینیٹ ، قومی اسمبلی اورصوبائی اسمبلی میں بھیجا، اگر ایسے لوگ بے شرمی اوربے غیرتی کی چادراوڑھ لیں تو حق کے راستے ہٹ جاتے ہیں اورمفادپرست بن جاتے ہیں ۔جناب الطاف حسین نے کارکنوں کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ جن ذمہ داروں،کارکنوں اورمنتخب نمائندوں کے ایمان ڈگمگاگئے اورقدم لڑکھڑاگئے،جنہوں نے شہیدوں کے لہوسے غداری کی ،انہوں نے یہ بھی نہیں سوچاکہ عوام نے انہیں ان کی شکلیں دیکھ کر نہیں بلکہ الطاف بھائی کی اپیل پر ووٹ دیے تھے، اگران میں زرہ برابربھی شرم ہوتی تووہ پہلے وہ الطاف حسین اورعوام کی امانت لوٹاتے اورپھرچاہے جس پارٹی میں بھی جاتے ، ان میں اگرشرم وغیرت ہوتی تویہ جیلوں میں جاتے، تشددبرداشت کرتے قربانی دیتے لیکن اپنے شہیدوں کے لہو، قوم اورظرف وضمیرکاسودانہیں کرتے ، شہیدوں کاسوداکرنے والوں پر اللہ تعالیٰ کی لاٹھی برسے گی۔جناب الطا ف حسین نے سابق وزیراعظم نوازشریف کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ جب ایم کیوایم کے مرکزنائن زیروپر چھاپہ مارا گیا،آپ کواس وقت آوازاٹھاناچاہئے تھا لیکن آپ نے مجرمانہ خاموشی اختیارکی لیکن میں آپ کے لئے ہرموقع پر آواز اٹھارہاہوں، میں آج بھی کہتاہوں کہ احتساب صرف نوازشریف کاہی کیوں کیاجارہاہے،اگر احتساب کرناہے تونوازشریف ہی کانہیں زرداری اور عمران خان کابھی کرو، میرابھی کرو۔ جناب الطاف حسین نے خطاب کے آخرمیں دعاکی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کی فوج کے ایماندارجرنیلوں، افسروں اورسپاہیوں میں انقلاب کاجذبہ بیدارکردے، پاکستان کے غریب ومتوسط طبقہ کے عوام کوبیداراورمتحد کردے تاکہ ہم سب متحد ہوکرپاکستان کو بچاسکیں ۔ 
*****

8/15/2018 12:15:36 AM