Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

اگر مہاجروں کو ان کا الگ صوبہ نہیں دیا گیا تو پھر بات میرے ہاتھ سے نکل جائے گی، الطاف حسین


اگر مہاجروں کو ان کا الگ صوبہ نہیں دیا گیا تو پھر بات میرے ہاتھ سے نکل جائے گی، الطاف حسین
 Posted on: 4/1/2018 1

سات کروڑ مہاجروں کو ان کا الگ صوبہ دیاجائے، قائد تحریک الطاف حسین 
اگر مہاجروں کو ان کا الگ صوبہ نہیں دیا گیا تو پھر بات میرے ہاتھ سے نکل جائے گی، الطاف حسین
کہیں ایسا نہ ہو کہ مہاجرعوام علیحدہ صوبے کے بجائے آزاد مہاجر ریاست کا مطالبہ کرنے لگیں، الطاف حسین
الطاف حسین اپنے عوام کو سچی تاریخ بتاتاہے خواہ وہ کتنی ہی تلخ کیوں نہ ہو، الطاف حسین
میری تحقیقی باتوں کا آج تک کوئی جواب نہیں دے سکایا میری کہی ہوئی بات کوغلط ثابت نہیں کرسکا ، الطاف حسین
علامہ اقبال نے سرے سے پاکستان کاکوئی خواب نہیں دیکھاتھا، الطاف حسین
علامہ اقبال کا دن منایاجاتا ہے جبکہ خان لیاقت علی اور فاطمہ جناح جیسے قومی رہنماؤں کاکوئی دن نہیں منایاجاتا، الطاف حسین
جنرل ایوب خان نے محترمہ فاطمہ جناح را کی ایجنٹ اور پاکستان کی دشمن قراردیا، الطاف حسین
23 مارچ1940ء کو قرارداد پاکستان نہیں بلکہ قرارداد لاہورپیش کی گئی تھی، الطاف حسین
اگر کوئی قرارداد پاکستان کے نام سے ڈرافٹ دکھادے تو میں قیادت سے دستبردار ہوجاؤں گا،الطاف حسین
قبائلی ، بلوچ اور مہاجرعوام پر ظلم وستم کا سلسلہ بند کیاجائے، الطاف حسین
بنگلہ دیش کے ریڈ کراس کے کیمپوں میں محصور پاکستانیوں کو وطن واپس لایاجائے، الطاف حسین
جب تک میں زندہ ہوں مہاجروں کے حقوق کی جدوجہد کرتارہوں گا، الطاف حسین
جرمنی کے شہر فرینکفرٹ ایم کیوایم کے 34 ویں یوم تاسیس کے اجتماع سے ٹیلی فونک خطاب

لندن۔۔۔یکم ، اپریل 2018ء
متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ مہاجروں کے ساتھ زندگی کے ہرشعبہ میں ناانصافیاں کی جارہی ہیں ، ہزاروں مہاجروں کو ماورائے عدالت قتل کیاگیا، ہزاروں آج بھی جیلوں میں قید ہیں اور سینکڑوں مہاجرنوجوان آج بھی لاپتہ ہیں اس کے باوجود میرا مطالبہ ہے کہ سات کروڑ مہاجروں کو ان کا الگ صوبہ دیاجائے۔ انہوں نے مزید کہاکہ اگر مہاجروں کو ان کا الگ صوبہ نہیں دیا گیا تو پھر بات میرے ہاتھ سے نکل جائے گی اور پھرکہیں ایسا نہ ہو کہ مہاجرعوام علیحدہ صوبے کے بجائے آزاد مہاجر ریاست کا مطالبہ کرنے لگیں۔ 
ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز فرینکفرٹ میں ایم کیوایم جرمنی کے زیراہتمام ایم کیوایم کے 34 ویں یوم تاسیس کے اجتماع سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئی کہی۔ اجتماع میں ایم کیوایم جرمنی کی آرگنائزنگ کمیٹی کے اراکین، جرمنی کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے ذمہ داران ، کارکنان اور ان کے اہل خانہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ اس موقع پر اجتماع کے شرکاء بالخصوص خواتین کا جوش وخروش قابل دید تھا۔ اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے اجتماع کے شرکاء کو ایم کیوایم کے 34 ویں یوم تاسیس کی دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ یہ ضروری نہیں کہ کتابوں میں بیان کی گئی تاریخ سوفیصد درست ہویاسوفیصد غلط ہو ، تاریخ کے اصل حقائق خواہ کتنے ہی تلخ کیوں نہ ہوں انہیں نہ صرف پڑھنا چاہیے بلکہ مزید تحقیق بھی کرنی چاہیے تاکہ اصل تاریخ سے آگاہی حاصل ہوسکے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ مجھ پر ملک دشمنی ، غداری ، دہشت گردی اور ہرطرح کی برائی کا جھوٹا الزام تو لگادیا جاتا ہے لیکن میری تحقیقی باتوں کا آج تک کوئی جواب نہیں دے سکایا میری کہی ہوئی بات کوغلط ثابت نہیں کرسکا اس لئے کہ الطاف حسین اپنے عوام کو 
سچی تاریخ بتاتاہے خواہ وہ کتنی ہی تلخ کیوں نہ ہو۔ انہوں نے کہاکہ اکثریت کو شائدبرصغیر کی تقیسم کی تاریخ کا علم بھی نہ ہوکیونکہ ہمیں غلط تاریخ پڑھائی جاتی رہی ہے ۔ قیام پاکستان کی تاریخ میں بتایاجاتا ہے کہ شاعرمشرق علامہ اقبال نے پاکستان کاخواب دیکھا تھاجوکہ مکمل جھوٹ ہے اور اس بات کاکوئی ثبوت نہیں ہے ،حقیقت یہ ہے کہ علامہ اقبال نے سرے سے پاکستان کاکوئی خواب نہیں دیکھاتھا۔پاکستان میں علامہ اقبال کا دن منایاجاتا ہے جبکہ قائد اعظم کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح نے قیام پاکستان کی جدوجہد میں حصہ لیا، خان لیاقت علی خان نے پاکستان کی جدوجہد میں اپنی نوابی چھوڑی ، ملک کے پہلے وزیراعظم بنے ، انہیں راولپنڈی میں گولی مارکرشہید کردیا گیاجب ان کی میت کوغسل دینے کیلئے کپڑے اتارے گئے تو ان کے بنیان میں چھید تھے، پاکستان میں ایسے قومی رہنماؤں کاکوئی دن نہیں منایاجاتا اس کے برعکس جنرل ایوب خان کا بیان ریکارڈ پر موجود ہے کہ فاطمہ جناح را کی ایجنٹ اور پاکستان کی دشمن ہیں ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہ ابھی ایک ہفتہ قبل 23 مارچ کو یوم پاکستان منایاگیاجبکہ 23 مارچ1940ء کو قرارداد پاکستان نہیں بلکہ قرارداد لاہورپیش کی گئی تھی ۔ اگر کسی مستند کتاب میں کوئی قرارداد پاکستان کے نام سے ڈرافٹ دکھادے تو میں مہاجروں کی قیادت سے دستبردار ہوجاؤں گا، لاہورمیں مینار پاکستان پر پوری قرارداد لفظ بہ لفظ کنندہ ہے اور اس پوری قرارداد میں لفظ پاکستان سرے استعمال ہی نہیں ہوا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ علامہ اقبال 1938ء کو انتقال کرگئے تھے جبکہ قرارداد لاہور 1940 ء میں پیش کی گئی، علامہ اقبال کی کسی تحریریا ترانہ میں پاکستان کا نام استعمال نہیں کیاگیاہے ، علامہ اقبال پوری طرح ہندوستانی تھے اور انہوں نے ہندوستان میں رہتے ہوئے آبادی کے تناسب سے شمال مشرقی علاقوں میں خودمختار ریاستوں کا مطالبہ کیاتھا۔ یہی مطالبہ انہوں نے 1930ء میں خطبہ الہ آباد میں بھی کیاتھا کہ انڈیاکے زیرانتظام مسلم آبادیوں کوخودمختار ریاستوں کا درجہ دیا جائے ۔ انہوں نے مزیدکہاکہ مہاجروں کے ساتھ زندگی کے ہرشعبہ میں ناانصافیوں کے خلاف میں نے 1978ء میں جامعہ کراچی میں اے پی ایم ایس او قائم کی ، جب پاکستان کی مخالف جماعت اسلامی نے ہم پر حملے شروع کیے اور ہمیں تعلیمی اداروں سے بیدخل ہونے پر مجبورکردیا تو میں نے کراچی کی گلی گلی میں تحریک شروع کردی اور 18، مارچ1984ء کو مہاجرقومی موومنٹ بنائی اور 8 اگست 1986ء کو نشترپارک کراچی میں پہلا عوامی جلسہ منعقدکیاجس کے بعد کرپٹ فوجی جرنیلوں نے طے کرلیاکہ اگرمہاجروں کی آواز دبائی نہ گئی تو یہ اپنا علیحدہ صوبہ اور غصب شدہ حقوق حاصل کرلیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ 17، مارچ کو لندن میں ایم کیوایم کے یوم تاسیس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھی میں نے کہاتھاکہ سندھ میں ہوگا کیسے گزارا ، آدھا ہمارا ، آدھا تمہارا۔میں نے ارباب اختیارکو مخاطب کرتے ہوئے کہاتھاکہ مہاجروں کے ساتھ زندگی کے ہرشعبہ میں ناانصافیاں کی جارہی ہیں ، ہزاروں مہاجروں کو ماورائے عدالت قتل کیاگیا، ہزاروں آج بھی جیلوں میں قید ہیں اور سینکڑوں مہاجرنوجوان آج بھی لاپتہ ہیں اس کے باوجود میرا مطالبہ ہے کہ سات کروڑ مہاجروں کو ان کا الگ صوبہ دیاجائے۔ انہوں نے مزید کہاکہ اگر مہاجروں کو ان کا الگ صوبہ نہیں دیا گیا تو پھر بات میرے ہاتھ سے نکل جائے گی اور پھرکہیں ایسا نہ ہو کہ مہاجرعوام علیحدہ صوبے کے بجائے آزاد مہاجر ریاست کا مطالبہ کرنے لگیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان کے قیام کی جدوجہد میں جاگیرداروں ، وڈیروں اور فوجی جرنیلوں نے کوئی کردارادا نہیں کیا تھا بلکہ قیام پاکستان کی جدوجہد میں یوپی ، سی پی ، حیدرآباددکن، صوبہ بہار اوردیگرمسلم اقلیتی صوبوں کے عوام نے لاکھوں جانوں کانذرانہ دیکر پاکستان بنایا لیکن کرپٹ فوجی جرنیلوں نے جاگیرداروں اوروڈیروں کے ساتھ مل کر پاکستان پر قبضہ کرکے غریب سندھیوں، بلوچوں اوردیگرقومیتوں کو غلام بنالیا۔ سابقہ مشرقی پاکستان کے مہاجروں نے فوج کا ساتھ دیا اور پاکستان کے دفاع کیلئے سات لاکھ جانوں کے نذرانے پیش کیے لیکن آج کے دن تک لاکھوں محصورین بنگلہ دیش ریڈ کراس کے کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ہتھیار ڈالنے والے فوجیوں کو پاکستان واپس لے آیاگیا لیکن پاکستانی فوج کا ساتھ دینے والے سابقہ مشرقی پاکستان کے مہاجرین کو وطن واپس نہیں لایاگیا ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ مہاجروں کے ساتھ مسلسل ناانصافیوں پر میں نے ایک غلط نعرہ لگایا جس کی سزا کے طورپر ایم کیوایم کے مرکز نائن زیروپرتالا ڈال دیاگیا، ایم کیوایم کے تمام دفاتر مسمار کردیئے گئے اورمیری تحریروتقریرپرپابندی عائد کردی گئی ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں نے توصرف نعرہ لگایاتھا پاکستان نہیں توڑا تھا، مجھ سے بڑا جرم ملک توڑنے والوں نے کیا تھا لیکن جن لوگوں نے 1971ء میں پاکستان دولخت کیا ہے کیا ان میں سے کسی ایک کوبھی سزا دی گئی؟ جناب الطاف حسین نے کہاکہ حق پرستی کی جدوجہد میں ایم کیوایم کے 22 ہزار کارکنان کو ماورائے عدالت قتل کیا جاچکا ہے ، آج بھی 600 سے زائد مہاجروالد، بھائی اوربیٹے گرفتارکرکے لاپتہ کردیئے گئے ہیں اور جن کے پیارے تین تین برسوں سے لاپتہ ہیں ان کے اہل خانہ روز جیتے اور روزمرتے ہیں ، ان کے دل پر کیاقیامتیں گزرتی ہیں صرف وہی جان سکتے ہیں، ظالم وسفاک جرنیلوں کی فرعونیت کا اندازہ کریں کہ انہوں نے 73 سالہ بزرگ استاد پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفرعارف تک کو بیدردی سے شہید کردیا، اسی طرح ہزاروں مہاجروں کو قتل کیاگیاہے اوراب ہمیں پتہ چل رہا ہے کہ فاٹا میں طالبان کے خلاف آپریشن کی آڑ میں کس طرح فاٹاکے عوام کو آئی ڈی پیز بناکر ان کے گھروں پر قبضے کیے گئے ۔ جناب الطاف حسین نے مطالبہ کیاکہ قبائلی ، بلوچ اور مہاجرعوام پر ظلم وستم کا سلسلہ بند کیاجائے اوربنگلہ دیش کے ریڈ کراس کے کیمپوں میں محصور پاکستانیوں کو وطن واپس لایاجائے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں کسی پنجابی ، سندھی، بلوچی، پختون ، کشمیری ، ہزاروال یا دیگر قومیتوں کے خلاف نہیں ہوں ، الطاف حسین جاگیرداروں ، وڈیروں اور کرپٹ جرنیلوں کے خلاف تھا اورآخری سانس تک ان کی مخالفت کرتارہے گااورجب تک میں زندہ ہوں مہاجروں کے حقوق کی جدوجہد کرتارہوں گا۔ جناب الطاف حسین نے جرمنی میں یوم تاسیس کا پروگرام منعقد کرنے ایم کیوایم جرمنی کے آرگنائز ر افضال حسین سمیت تمام ذمہ داروں اورکارکنوں کو زبردست خراج تحسین بھی پیش کیا۔

*****


10/15/2018 6:12:19 PM