Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پارلیمنٹ آئین بناتی ہے، اس کی بے توقیری کرناجمہوریت کے لئے کسی بھی طرح مناسب نہیں ۔الطاف حسین


پارلیمنٹ آئین بناتی ہے، اس کی بے توقیری کرناجمہوریت کے لئے کسی بھی طرح مناسب نہیں ۔الطاف حسین
 Posted on: 2/21/2018
پارلیمنٹ آئین بناتی ہے، اس کی بے توقیری کرناجمہوریت کے لئے کسی بھی طرح مناسب نہیں ۔الطاف حسین
1973ء کاآئین سپریم کورٹ نے نہیں بلکہ پارلیمنٹ نے بنایاتھا، پارلیمنٹ نے ہی آئین میں درجنوں ترامیم کیں
آئین سازی، آئین میں ترامیم کااختیارعدلیہ کونہیں پارلیمنٹ کوہے ،مقننہ کو کم ترسمجھنااس کی تذلیل اور بے توقیری ہے
نوازشریف کے بھی خطابات پرپابندی عائد کرنے کی بات افسوسناک عمل ہے۔الطاف حسین
اگر چیف جسٹس ثاقب نثار خادم حسین رضوی کی گالیوں کانوٹس نہیں لیتے توان کے تمام نوٹس غلط ہیں اورتعصب پر مبنی ہیں
نقیب اللہ محسود کاقاتل راؤ انوار اب تک اسی لئے گرفتارنہیں ہواکیونکہ اسے آئی ایس آئی نے اپنے سیف ہاؤس میں چھپارکھا ہے
فاٹاکے علاقے وفاق کے زیرانتظام نہیں فوج کے ہاتھوں مقبوضہ علاقے بنے ہوئے ہیں ۔الطاف حسین
فاٹاکے مظلوم عوام طالبان کے خلاف کارروائی کے نام پر ریاستی مظالم کانشانہ بن رہے ہیں ۔الطاف حسین
فلموںیاڈراموں میں دہشت گردکودکھاناہوتو تو پختون کو دکھایاجاتاہے، پوری پختون قوم کودہشت گردکے طورپرپیش کرنازیادتی ہے
مجھے اپنے قبائلی بھائیوں سے پوری ہمدردی ہے ،وہ بھی مہاجروں پرہونے والے مظالم کوسمجھیں ۔الطاف حسین
سپریم کورٹ سیاسی رہنماؤں کے کرپشن پر توکارروائی کررہی ہے لیکن جرنیلوں کی کرپشن پرکوئی بات نہیں کی جارہی ہے
میں فوج کادشمن نہیں ہوں، میں پاکستان کے خلاف نہیں ہوں، میں فرسودہ جاگیردارانہ نظام اورجرنیل شاہی کے خلاف ہوں
اسٹیبلشمنٹ الطاف حسین کوپاکستان کادشمن نہ سمجھے، الطاف حسین ہی پاکستان کوبچاسکتاہے۔الطاف حسین
ایم کیوایم کے بانی وقائدالطاف حسین کا سوشل میڈیاکے ذریعے کارکنوں اورعوام سے براہ راست خطاب

ایم کیوایم کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ ملک کاآئین یقیناًلائق احترام ہے لیکن آئین کوئی اورنہیں بلکہ پارلیمنٹ بناتی ہے، اس کی بے توقیری کرناجمہوریت کے مستقبل کے لئے کسی بھی طرح مناسب نہیں ۔ انہوں نے یہ بات منگل کی شب کارکنوں اورعوام سے اپنے براہ راست خطاب میں کہی ۔ جناب الطاف حسین کایہ خطاب سوشل میڈیاکے ذریعے پاکستان سمیت دنیابھرمیں براہ راست دیکھاگیا۔ اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے ملک میں عدلیہ، آئین اورپارلیمنٹ کے اختیارات کے معاملے پر جاری تنازعہ،مہاجروں، بلوچوں، پختونوں اورقبائلی علاقہ کے عوام پر ہونے والے مظالم، پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفر عارف کی شہادت ، نقیب اللہ محسود اور سینکڑوں معصوم وبے گناہ مہاجروں،پختونوں اوردیگرافرادکے ماورائے عدالت قتل میں ملوث بدنام زمانہ پولیس افسر راؤ انوارکی عدم گرفتاری، انسانی حقوق کی رہنمامحترمہ عاصمہ جہانگیرکے پراسرارانتقال اورموجودہ صورتحال پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ اپنے فیصلوں،اقدامات اورریمارکس سے ایسالگتاہے کہ جسٹس ثاقب نثار سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نہیں بلکہ وہ جنرل ثاقب نثارہیں اوران کی ٹیم جرنیلوں کی ٹیم ہے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ جسٹس ثاقب نثارکابیان آیاہے کہ پارلیمنٹ کااحترام ضروری ہے لیکن آئین اس سے بڑھ کر ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ بات درست ہے کہ آئین کااحترام ضروری ہے لیکن جسٹس ثاقب نثار کوکیایہ معلوم نہیں کہ آئین کون بناتاہے؟ آئین سپریم کورٹ کے ججز نہیں بلکہ پارلیمنٹ بناتی ہے ، ملک میں 1973ء کاآئین سپریم کورٹ نے نہیں بلکہ پارلیمنٹ نے بنایاتھا، پارلیمنٹ نے ہی 1973ء کے آئین میں درجنوں ترامیم کیں۔انہوں نے کہاکہ آئین سازی، آئین میں ترامیم ،اضافہ،کمی بیشی سب کااختیارعدلیہ کونہیں بلکہ پارلیمنٹ کوہے اسی لئے اسے مقننہ کہتے ہیں لہٰذا مقننہ کو کم ترسمجھنامقننہ کی تذلیل اور اس کی بے توقیری ہے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ چیف جسٹس سپریم کورٹ کو نوازشریف کے بعض بیانات پر جلال آیااورانہوں نے نوازشریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور ان کے دیگررہنماؤں کوتوہین عدالت کے نوٹس جاری کردیے اوراب کہاجارہاہے کہ جس طرح الطاف حسین کی تقریرپر پابندی عائد کی گئی ہے اسی طرح میڈیا پر نوازشریف کے بھی خطابات نشرکرنے پرپابندی عائد کی جائے کیونکہ الطاف حسین بھی غلط بات کرتاہے اورنوازشریف بھی غلط بات کرتاہے، یہ افسوسناک عمل ہے۔انہوں نے کہاکہ تحریک لبیک یارسول اللہ کے سربراہ خادم حسین رضوی نے فیض آباد دھرنے میں چیف جسٹس ثاقب نثار کانام لے کرگالیاں دیں لیکن چیف جسٹس نے اس کاکوئی نوٹس نہیں لیا۔اس موقع پر خادم حسین رضوی کی مغلظات کی وڈیوبھی دکھائی گئی ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ اگر چیف جسٹس ثاقب نثار خادم حسین رضوی کی گالیوں کانوٹس نہیں لیتے توان کی جانب سے لئے جانے والے تمام نوٹس غلط ہیں اورتعصب پر مبنی ہیں۔
جناب الطاف حسین نے ڈاکٹرحسن ظفر عارف کے ماورائے عدالت قتل کی شدیدمذمت کرتے ہوئے کہاکہ انہیں پولیس،رینجرزاورسرکاری ایجنسی نے ملکر قتل کیااورانہیں اسلئے قتل کیاگیاکیونکہ وہ بکے نہیں اورجھکے نہیں اوراپناسودانہیں کیا۔انہوں نے کہاکہ حکومت اورپولیس ورینجرزکی جانب سے عوام سے جھوٹ بولاگیاکہ ڈاکٹرصاحب کی موت طبعی طورپر ہوئی ۔ ایسے ہی جھوٹ بول بول کرملک کوتوڑدیاگیااوراب یہ باقیماندہ ملک کوتوڑنے کے درپے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ڈاکٹرصاحب کوجس بیدردی سے قتل کیاگیااس پر ہردرد مند دل رکھنے والے فرد کوسوچنا چاہیے کہ ملک میں استاد کیاعزت رہ گئی ہے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کئی معاملات پر سوموٹو لئے لیکن انہوں نے ابھی تک ڈاکٹرحسن ظفر عارف کے قتل کاکوئی نوٹس نہیں لیا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ جس دن ڈاکٹرحسن ظفر عارف کوشہید کیاگیااسی دن قبائلی نوجوان نقیب اللہ محسودکوبھی ماورائے عدالت قتل کیاگیااورڈاکٹرصاحب کاخون ایسارنگ لایاکہ پورے ملک میں پختون عوام ماورائے عدالت قتل کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ،یہاں تک کہ انہوں نے آزادی کے نعرے لگانے شروع کردیے اورآج بھی وہ آزادی کے نعرے لگارہے ہیں اوریہ کہہ رہے کہ ’’ یہ جو دہشت گردی ہے ۔۔۔ اس کے پیچھے وردی ہے ‘‘ ۔ انہوں نے کہاکہ نقیب اللہ محسود کاقاتل راؤ انوارپولیس کی کوششوں اورسپریم کورٹ کے تمام تر احکامات کے باوجوداب تک اسی لئے گرفتارنہیں ہواکیونکہ اسے آئی ایس آئی نے اپنے سیف ہاؤس میں چھپارکھا ہے بالکل اسی طرح جیسے القاعدہ کے اسامہ بن لادن کوایبٹ آباد میں رکھاگیاتھا۔ انہوں نے مزیدکہاکہ راؤ انوار توکیا، جس اینکر نے زینب زیادتی کیس میں بہت بڑاالزام لگایاتھااوراسے چیف جسٹس نے طلب کیالیکن اس کا آج تک کیا ہوا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ راؤ انوار نے صرف نقیب اللہ محسود اورسینکڑوں مہاجروں کو بیدردی سے قتل نہیں کیابلکہ سینکڑوں پختونوں، بلوچوں، سندھیوں اوردیگربے گناہ لوگوں کو ماورائے عدالت قتل کیاگیالیکن آصف زرداری کہتے ہیں کہ راؤ انواربہادر بچہ ہے ۔ یہ کہہ کرزرداری نے ثابت کردیاکہ راؤ انوارنے جتنے بھی قتل کئے اس کی سرپرستی زرداری نے کی۔ بینظیربھٹوکے گارڈ خالدشہنشاہ ، میرمرتضیٰ بھٹو، بلال شیخ کوبھی زرداری نے قتل کرایا، زرداری نے بینظیربھٹوکی جووصیت پیش کی وہ بھی جھوٹی تھی۔انہوں نے کہاکہ زرداری کے قریبی ساتھی ذوالفقارمرزانے توخود بیان دیاکہ ایم کیوایم ہماری حریف ہے، ایم کیوایم والوں کومارو، ان کے خلاف لیاری گینگ وارکی سرپرستی کرو۔ انہوں نے کہاکہ زرداری نے ایم کیوایم پر ایس ایچ اوز کومارنے کاالزام لگایا،انہیں اپنے بیان پر کھلے عام پرمعافی مانگناچاہیے ورنہ میں انہیں بے نقاب کروں گا۔ جناب الطاف حسین نے نقیب اللہ محسود شہید کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے کہاکہ نقیب کاقاتل دنیا میں توبچ سکتاہے لیکن اللہ تعالیٰ کے نظام انصا ف سے وہ نہیں بچ سکے گا اورنقیب کے قاتلوں اوران کے سرپرستوں پر اللہ کاعذاب نازل ہوگا۔ 

جناب الطاف حسین نے قبائلی علاقوں کی صورتحال کاذکرکرتے ہوئے کہاکہ فاٹاکے مظلوم عوام طالبان کے خلاف کارروائی کے نام پر ریاستی مظالم کانشانہ بن رہے ہیں،آج بھی بڑی تعدادمیں قبائلی نوجوان لاپتہ ہیں۔ فاٹا کے لوگ وہ ہیں جنہوں نے پاکستان کی خاطرکشمیرمیں جاکرقربانیاں دیں، ہرجنگ میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیااور قربانیاں دیں، فوج نے قبائلی عوام کوہمیشہ اسلام اورپاکستان کے نام پر اپنے مفادات کے لئے استعمال کیا، فوج کی پالیسیوں کے نتیجے میں ہی قبائلی علاقے بدامنی اورجنگ اوردہشت گردی کی آگ میں جھونک دیے گئے ، فاٹاکے لوگ دربدرہوگئے، طالبان کے خلاف آپریشن کے نام پر فاٹاکے لاکھوں افراد کوان کے گھروں سے بیدخل کرکے ان پر قبضہ کرلیاگیا، فاٹاکے علاقے فوج کے ہاتھوں مقبوضہ علاقے بنے ہوئے ہیں ،لاکھوں قبائلی راولپنڈی ، اسلام آباد اوردیگرشہروں میں آئی ڈی پیز بنے ہوئے ہیں اورکیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزارہے ہیں ، قبائلی عوام کو پنجاب میں رہنے نہیں دیاجاتااوراگروہ پنجاب جاتے بھی ہیں توچیکنگ کے نام پران کی تذلیل کی جاتی ہے ، فلموںیاڈراموں میں جب بھی دہشت گرد کودکھایا جاتاہے تودہشت گردکے طورپر پختون کو دکھایاجاتاہے اس طرح پوری پختون قوم کودہشت گردکے طورپرپیش کیاجاتاہے۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ مجھے اپنے قبائلی بھائیوں سے پوری ہمدردی ہے ،وہ بھی مہاجروں پرہونے والے مظالم کوسمجھیں، بلوچوں اوردیگرمظلوموں پر ہونے والے مظالم کوسمجھیں اوردیکھیں کہ جس جس نے پاکستان کاساتھ دیا آج اس کے ساتھ کیساسلوک کیاجارہاہے۔ آج فاٹا کے لوگوں کوتوطالبان کے نام پر ماراجارہاہے جبکہ ہزاروں افراد کے قتل اوردہشت گردی کے واقعات کی ذمہ داری قبول کرنے والے احسان اللہ احسان کو فوج نے اپنے ہاں دولہا بناکررکھاہوا ہے جبکہ سوات اور دیگر علاقوں میں ہزاروں بے گناہوں کوقتل کرنے والے صوفی محمدکورہاکردیاگیا۔انہوں نے کہاکہ قبائلی عوام خصوصاً قبائلی نوجوانوں کویہ سمجھناہوگاکہ یہ جوبے دخلی ، دربدری اوردہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ملک سے محبت اسی وقت ہوتی ہے جب سب کوبرابرکاشہری تصورکیاجائے لیکن اگرشہریوں کے ساتھ منصفانہ سلوک نہ کیاجائے اور ناانصافی کے خلاف آوازاٹھانے پر غدار اور ملک دشمن قراردیاجائے اورظلم کانشانہ بناکردیوار سے لگایاجائے توپھرلوگوں میں منفی سوچ پیداہوتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ قبائلی عوام کوچاہیے کہ وہ یاتو عزت کی زندگی حاصل کریںیاپھراس غلامی سے آزادی حاصل کریں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ فاٹاکے علاقوں میں توطالبان کے خلاف کارروائی کے نام پر ڈرون حملے اوربمباری کرکے بے گناہ لوگوں کومارا گیا ، جتنے بھی آپریشن کئے گئے وہ قبائلی علاقوں میں کئے گئے لیکن پنجاب میں جوپنجابی طالبان کے اڈے موجودہیں وہاں کوئی آپریشن کیوں نہیں کیاگیا؟ کیاپنجابی طالبان جائز ہیں ؟ اگر ایکشن کرناہے توسب جگہ کریں لیکن یہ کیاکہ فاٹا ، بلوچستان اورکراچی میں تو آپریشن کیاجارہاہے لیکن پنجاب میں کوئی آپریشن نہیں کیاجاتا، اگریہ پالیسی جاری رہی توپھر لوگوں کے سوال اٹھیں گے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ عمران خان نے اسلام آباد میں 126دن کادھرنادیاجس کے دوران پارلیمنٹ پر حملہ کیاگیا، پی ٹی وی پر قبضہ کیا گیا ، دہشت گردی کی گئی لیکن اسٹیبلشمنٹ نے ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں کیا، مذہبی انتہاپسندعناصر نے فیض آبادمیں دھرنادیا اورگھیراؤ جلاؤ کیا لیکن ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں کیاگیاجبکہ قبائلی پختونوں نے گزشتہ دنوں نقیب اللہ محسود کے قتل اور اپنے جائزمطالبا ت کیلئے اسلام آبادمیں پرامن دھرنادیا تو اسٹیبلشمنٹ نے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرکے اس دھرنے کو ختم کرادیا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ریاستی مظالم کے خلاف آواز اٹھانے پر میرے خطابات پر پابندی عائدکردی گئی ، کہاگیاتھاکہ یہ پابندی چھ ماہ کیلئے ہوگی لیکن اتناعرصہ ہوچکاہے اورآج تک پابندی ختم نہیں ہوئی، آخراس کھلی ناانصافی پر عدالتیں کہاں ہیں؟الطاف حسین سات کروڑعوام کالیڈر ہے ، وہ صرف مہاجروں ہی کا نہیں بلکہ سارے مظلوموں کا بھی ہمدرد ہے ، وہ صرف مسلمانوں ہی کے لئے نہیں بلکہ ہندوؤں، سکھوں،عیسائیوں،قادیانیوں کے حقوق کیلئے بھی ڈٹ کربولتاہے۔ انہوں نے کہاکہ مسلمان ، ہندو ، سکھ، عیسائی، قادیانی، کسی بھی مذہب یاعقیدے کے ماننے والے ہوں، سب پاکستانی ہیں اورسب کومساوی حقوق ملنے چاہئیں۔ انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے پاکستان میں قرآن کی بے حرمتی یاتوہین رسالت ؐ کاالزام لگاکرلوگوں کوماردیاجاتاہے، یہ ظلم ہے ، یہ سلسلہ بندہوناچاہیے۔ کسی بھی مذہب یاعقیدے کا ماننے والا قرآن مجید کی بے حرمتی نہیں کرسکتا۔

جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج تک پاکستان میں سویلین کاتواحتساب کیاگیالیکن فوجی جرنیلوں کوکبھی قانون کے کٹہرے میں نہیں لایاگیا، سپریم کورٹ سیاسی رہنماؤں کے کرپشن پر توکارروائی کررہی ہے لیکن جرنیلوں کی کرپشن پرکوئی بات نہیں کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ سابق آرمی چیف جنرل کیانی اوران کے بھائی اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل رضوان اختر کے بھائی کے کرپشن کی کہانیاں منظرعام پر آئیں لیکن اس پر کوئی ایکشن نہیں ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ فوج کوکچھ نہ کہوکیونکہ آئین میں لکھاہے کہ فوج پرتنقیدنہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے سوال کیاکہ آئین میں آرٹیکل 6بھی ہے جس میں لکھاہے کہ آئین توڑنے وا لا غداری کامرتکب ہوگا۔ فوج نے ملک میں کتنے مارشل لاء لگائے اورآئین کوتوڑا توآئین کوتوڑنے والے کتنے فوجی جرنیلوں کوسزادی گئی؟ پاکستان میں جاگیرداروں اوروڈیروں نے جوبڑی بڑی غیرقانونی نجی جیلیں قائم رکھی ہیں ان کے خاتمہ کیلئے عدالتوں نے کیاکیا؟ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں عدالتیں آزادنہیں ہیں اوراس پر میں کسی سے بھی مناظرہ کرسکتاہوں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں فوج کادشمن نہیں ہوں، میں پاکستان کے خلاف نہیں ہوں، میں فرسودہ جاگیردارانہ نظام کے خلاف ہوں، میں جرنیل شاہی کے خلاف ہوں، میں طبقاتی نظام کے خلاف ہوں،میں تو فوج میں بھی طبقاتی نظام کے خلاف ہوں ،میں فوج کے نچلے افسران اور سپاہیوں کے بھی حقوق کی بات کرتاہوں جواپنے بیوی بچوں سے دورسرحدپر قربانیاں دیتے ہیں جبکہ فوج کے جرنیل ایئرکنڈیشنڈ بنگلوں میں رہتے ہیں۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ میں پاکستان سے جہادی کلچر کاخاتمہ چاہتاہوں، بدقسمتی سے جہادی کلچر کو پاکستان سے باہرایکسپورٹ کیاجارہا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ نے سعودی عرب اوریمن کے مابین جاری تنازعہ میں قیام امن کے نام پر سعودی عرب فوج بھیجی ہے اس طرح اپناوزن سعودی عرب کے پلڑے میں ڈال دیاہے۔ اگرفوج کوقیام امن کے لئے بھیجاجاناتھاتوسعودی عرب کے ساتھ ساتھ یمن بھی بھیجا جانا چاہیے تھا۔ جناب الطاف حسین نے اسٹیبلشمنٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ الطاف حسین کوپاکستان کادشمن نہ سمجھیں، الطاف حسین ہی پاکستان کو بچاسکتا ہے ، مجھے اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ ہے، اگر مجھے موقع دیاگیا تومیں پاکستان کومشکلات سے نکالنے میں کامیاب ہوجاؤں گا۔ 

*****

7/16/2018 2:00:38 AM