Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

شہیدوفا پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفرعارف ہمیشہ اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ رہیں گے ریاستی مظالم کے باوجود حق پرستی کی جدوجہد جاری رہے گی ۔ ڈاکٹرندیم احسان


شہیدوفا پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفرعارف ہمیشہ اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ رہیں گے  ریاستی مظالم کے باوجود حق پرستی کی جدوجہد جاری رہے گی ۔ ڈاکٹرندیم احسان
 Posted on: 2/18/2018

شہیدوفا پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفرعارف ہمیشہ اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ رہیں گے 
ریاستی مظالم کے باوجود حق پرستی کی جدوجہد جاری رہے گی ۔ ڈاکٹرندیم احسان
پروفیسر حسن ظفرنے اپنے شاگردوں کو مطالعہ کی عادت اور دلیل سے بات کرنے کافن سکھایا۔شفیع نقی جامعی
پروفیسر حسن ظفرعارف کاسفاکانہ قتل صرف ایم کیوایم کا نہیں بلکہ ملک بھرکے مظلوموں کا نقصان ہے ۔پختون دانشورفرحت تاج
اگر ریاست تمام مظلوم قومیتوں کو سانس لینے کا حق دے گی تو اس کی بقاء وسلامتی ممکن ہے۔طاہراسلم گورا
طاقت رکھنے والے عناصرڈاکٹرحسن ظفرعارف جیسی علم کی شمع بجھاکر آنے والی نسل کو بانجھ بنا ناچاہتے ہیں۔عاطف توقیر
ڈاکٹرحسن ظفرعارف کے قتل کی تحقیقات کے لئے عدالتی کمیشن تشکیل دیا جائے۔بیرسٹرصبغت اللہ قادری
ڈاکٹرحسن ظفرعارف نے ہرآمرانہ دورمیں جمہوریت کیلئے آواز بلند کی اورقیدوبندکی صعوبتیں بھی برداشت کیں 
تمام قومیتوں کے بے گناہ شہریوں کے ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ بند کیاجائے ۔رحمان بونیری
پروفیسر حسن ظفرعارف خود ایک درس گاہ تھے،وہ اصولوں پر ڈٹ جانے والی ایسی شخصیت تھے۔انیس فاروقی
جن قوتوں نے پروفیسر حسن ظفرعارف کو مٹانے کی کوشش کی ہے وہ علم اورشعورکے دشمن ہیں۔حلیمہ سعدیہ
پروفیسرحسن ظفرعارف ایثارووفا کی ناقابل فراموش داستان رقم کرگئے ہیں ۔دلاوراصغر
ڈاکٹرحسن ظفرعارف ، ظالم اورمظلوم میں تمیزکرنا جانتے تھے ،انہوں نے ہمیشہ مظلوموں کیلئے آوازبلند کی ۔جعفرعباس
پاکستان میں سچ بولنے والا لاپتہ کردیا جاتا ہے ایسا ظلم تو آمریت میں بھی نہیں ہوتا
ڈاکٹرحسن ظفرعارفنے کٹھن حالات میں قائد تحریک الطاف حسین کا ساتھ دیا اورآخری وقت تک وفانبھائی ۔ہاشم اعظم
لندن میں پروفیسر حسن ظفرعارف شہید کی یاد میں منعقدہ تعزیتی اجتماع سے مقررین کاخطاب

لندن۔۔۔18، فروری2018ء
مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے دانشوروں ، تجزیہ نگاروں،صحافیوں، قانون دانوں ، شعراء اورانسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے کارکنوں نے ایم کیوایم کے تحت دانشور، فلاسفر اوراستاد پروفیسر ڈاکٹرحسن ظفرعارف شہید کی یاد میں منعقدہ تعزیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفرعارف شہید کثیر الجہت شخصیت کے مالک تھے اوروہ محروم ومظلوم عوام کے لئے اپنی جدوجہداورقربانیوں کے لئے ہمیشہ اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ رہیں گے ۔ رابطہ کمیٹی کے کنوینر ڈاکٹر ندیم احسان نے تعزیتی اجتماع کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پروفیسرحسن ظفرعارف بہت عظیم دانشور،مفکراور استاد تھے ، پاکستان کی ریاست اور اس کے اداروں نے انہیں سچ بولنے اور قائد تحریک جناب الطاف حسین کا ساتھ دینے کی سزا دی ہے اور ایک سازش کے تحت ان کے سفاکانہ قتل کو طبعی موت ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ۔ انہوں نے کہاکہ یہ قدرت کا نظام ہے کہ ریاستی اداروں نے ڈاکٹر صاحب 
کے قتل کوچھپانے کی کوشش کی لیکن اسی دن قبائلی نوجوان نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل کے واقعہ سے سفاک ظالموں کے چہرے پوری دنیا کے سامنے عریاں ہوگئے ۔انہوں نے کہاکہ یہ ظلم کی انتہاء ہے کہ پروفیسر حسن ظفرعارف شہید کے قاتلوں کی نشاندہی کرنے والے صحافی فواد حسن کو رینجرز اہلکاروں نے اغواکرکے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ ڈاکٹر ندیم احسان نے پروفیسر حسن ظفرعارف شہید کو شاندارالفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ ریاستی مظالم کے باوجود حق پرستی کی جدوجہد جاری رہے گی ۔ قبل ازیں بی بی سی اردو کے ممتازپریزینٹراورسینئرصحافی ودانشور تجزیہ نگار شفیع نقی جامعی نے اپنے خطاب میں کہاکہ پروفیسر حسن ظفرعارف بہت اچھے اورزندہ دل انسان ہیں ، انہوں نے اپنے شاگردوں کو مطالعہ کی عادت اور دلیل سے بات کرنے کافن سکھایا،ہم انہیں مردہ نہیں سمجھتے وہ ہماری گفتگو، ہمارے دلوں اورذہنوں میں زندہ ہیں ۔ انہوں نے تجویز دی کہ پروفیسرحسن ظفرعارف شہید کے نام سے اسکالرشپ شروع کی جائے اوریونیورسٹی قائم کی جائے تاکہ پروفیسر حسن ظفرعارف کا نام مٹانے کی سازش کو ناکام بنایاجاسکے۔ فاٹاسے تعلق رکھنے والی معروف تجزیہ نگار ،ناروے کے سینٹرفار مائیگریشن اینڈ ہیلتھ کی ایڈوائزر اورکوہاٹ یونیورسٹی کی سابق پروفیسر ودانشور محترمہ فرحت تاج نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ الطاف حسین بھائی کی ایم کیوایم ہی اصل ایم کیوایم ہے جسے ریاستی طاقت سے ختم نہیں کیاجاسکتا۔انہوں نے کراچی ، قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں کے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاکہ ملک بھرکے مظلوم ایک ہی طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور مظلوموں پر ریاستی اداروں کے مظالم سے ہمارے درمیان رشتہ اورمضبوط ہورہا ہے ، اگر مظلوم بلوچ، پشتون، سندھی، پنجابی اورمہاجر ظلم کے خلاف متحد ہوکر صدائے احتجاج بلند کریں گے تو ظلم کے ایوانوں کی بنیادیں ہل جائیں گی ۔ انہوں نے کہاکہ کراچی کو سماجی انجن قراردینے والے پروفیسر حسن ظفرعارف جیسے لوگ ہمارے معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہیں اوران کاسفاکانہ قتل صرف ایم کیوایم کا نہیں بلکہ ملک بھرکے مظلوموں کا نقصان ہے ۔انہوں نے کہاکہ الطاف حسین بھائی ملک بھرکے مظلوموں کیلئے آوازاحتجاج بلندکرتے ہیں، سیاسی رہنماؤں میں الطاف حسین بھائی کی واحد آواز ہے جو مظلوم قومیتوں کیلئے اٹھتی ہے لیکن افسوس کہ پختون رہنماؤں کی جانب سے فاٹاکے عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف کوئی آواز بلندنہیں کی جاتی۔ انہوں نے کہاکہ کرپٹ جرنیلوں کو غلط فہمی ہے کہ وہ ملک کے محافظ ہیں ، یہ کرپٹ جرنیل پاکستان کو دولخت کرچکے ہیں اورباقیماندہ ملک توڑنے کے درپے ہیں۔ محترمہ فرحت تاج نے کہاکہ مجھے خوشی ہے کہ آج اس تعزیتی اجتماع میں نقیب اللہ محسود شہید کی تصویربھی موجود ہے ، مظلوم عوام کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر احتجاج کرنا ہم سب کی اخلاقی ذمہ داری ہے ۔ 
کینیڈا سے ٹیگ ٹی وی کے چیف ایگزیکٹو، سینئر اینکر وتجزیہ نگار طاہر اسلم گورا نے تقریب سے اپنے خطاب میں کہاکہ پاکستان میں مظلوموں کا انقلاب وقت کی اہم ضرورت ہے اور یہ انقلاب جناب الطاف حسین کی نظریاتی تحریک سے ہی ممکن ہے ۔انہوں نے کہاکہ یہ المیہ ہے کہ پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفرعارف جیسی ادبی ، علمی اورنظریاتی شخصیت کوایم کیوایم سے جوڑ کران کی علمی خدمات کوفراموش کیاجارہا ہے ، جناب الطاف حسین واحد سیاسی رہنما ہیں جنہوں نے لوئرمڈل کلاس طبقہ سے قیادت نکالی اور اسی سوچ وفکر کو دیکھتے ہوئے پروفیسر حسن ظفرعارف نے ایم کیوایم میں شمولیت اختیار کی ۔ انہوں نے پولیس افسر راؤ انوار کا دفاع کرنے پر آصف علی زرداری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ پاکستان کے سیاسی ومذہبی رہنماؤں کی اکثریت اسٹیبلشمنٹ کے ایجنٹ ہیں اورراؤ انوار کو بہادر کہنے والا آصف علی زرداری بھی وردی کاغلام ہے ۔ انہوں نے کہاکہ الطاف حسین کی ایم کیوایم کو سائیڈلائن کرنے کی سازش کبھی کامیاب نہیں ہوگی ، اسٹیبلشمنٹ ، ایم کیوایم کے جتنے چاہے ٹکڑے کرلے حق پرستی کی یہ تحریک کبھی تحلیل نہیں ہوگی ۔ انہوں نے کہاکہ ہم سب پاکستان کے خیرخواہ اور پاکستان کے فرسودہ ظالمانہ نظام کے خلاف ہیں اگر ریاست تمام مظلوم قومیتوں کو سانس لینے کا حق دے گی تو اس کی بقاء وسلامتی ممکن ہے۔ انہوں نے ایم کیوایم کے کارکنوں اورہمدردوں سے کہاکہ غداری کے سرٹیفیکٹ جاری کرنے والی اسٹیبلشمنٹ بہت طاقتور اورظالم ہے لیکن آپ مایوسی کا شکارہوئے بغیرہمت وحوصلے سے اپنی جدوجہد جاری رکھیں ۔معروف صحافی اور شاعر عاطف توقیر نے اپنے وڈیو پیغام میں کہاکہ علم اور شعورسے محبت کرنے والے ہرفرد 
کو پروفیسرحسن ظفرعارف کی شہادت کا دکھ ہے ، پروفیسر حسن ظفرعارف نایاب لوگوں میں بھی کمیاب تھے جوآخری سانس تک اپنے نظریے اورخیالات پر ثابت قدم رہے، وہ سقراط کی راہ پرگامزن تھے اورانہیں زہرکا پیالاپیناہی تھا ۔ انہوں نے کہاکہ یہ بہت دکھ کی بات ہے کہ ان جیسے ذہن کو قتل کردیاگیا، طاقت رکھنے والے عناصرعلم کی اس شمع بجھاکر آنے والی نسل کو بانجھ بنانے کا منصوبہ رہے ہیں ، مذہبی انتہاء پسندی اورعدم برداشت کی فصلیں اگارہے ہیں لیکن یہ قوتیں چاہے کوئی بھی فصل اگائیں ہمیں پروفیسرحسن ظفرعارف کی طرح گلاب بن کرکھلتے رہنا ہے ۔
برطانیہ کے پہلے کوئنز کاؤنسل اورقانون داں بیرسٹرصبغت اللہ قادری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پروفیسرحسن ظفرعارف بہت بڑے مفکر اوراصول پر ڈٹ جانے والی شخصیت کا نام ہے ، وہ سچے مارکسسٹ تھے ، علم حاصل کرنا اور علم بانٹنا ان کی زندگی کا نصب العین تھا۔ انہوں نے ہرآمرانہ دورمیں جمہوریت کیلئے آواز بلند کی اورقیدوبندکی صعوبتیں بھی برداشت کیں ، پروفیسر حسن ظفرعارف کی شہادت سے محسوس ہوتا ہے کہ انسانی حقوق کا ایک علمبردار دنیا سے رخصت ہوگیا۔ انہوں نے کہاکہ پروفیسرحسن ظفرعارف اپنی بیٹی سے ملنے کیلئے اپنے گھرڈیفنس جانے کیلئے نکلے تھے لیکن ابراہیم حیدری کے علاقے میں اپنی کارکی پچھلی نشست پر مردہ پائے گئے ، ان کی موت کو طبعی کیسے قراردیاجاسکتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ یہ افسوس کی بات ہے کہ پاکستان میں سچ بولنے والا لاپتہ کردیا جاتا ہے ایسا ظلم تو آمریت میں بھی نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہاکہ وقت کی ضرورت ہے کہ ایک ایسا عدالتی کمیشن تشکیل دیا جائے جوڈاکٹرحسن ظفرعارف کے قتل کی تحقیقات کرے اور ساتھ ساتھ جہاں لاپتہ افراد کے اہل خانہ اپنی فریاد بیان کرسکیں اور تحقیقات ہوسکے کہ ان کے پیاروں کو کس نے لاپتہ کردیا ہے ۔
امریکہ سے معروف تجزیہ نگار رحمان بونیری نے کیپٹل ہل واشنگٹن سے اپنے وڈیو پیغام میں کہا کہ میں 20برس تک کراچی میں رہا اور وہاں مجھے زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا ہے ۔اس شہر نے پورے ملک کو تعلیمی ،سیاسی اور کاروباری لحاظ سے ترقی دی ہے ، یہ شہرتہذیبوں کامرکز ہے بدقسمتی سے ملک کے سیکوریٹی ادارے اس شہر کے باسیوں ، شعراء اوراساتذہ کو بیدری سے ماورائے عدالت قتل کررہے ہیں جس میں پروفیسرحسن ظفر صاحب کا بھی نام شامل ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کو ترقی دینے والے عوام کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر امریکہ سمیت دیگرممالک میں گہری تشویش پائی جاتی ہے ۔انہوں نے مطالبہ کیاکہ تمام قومیتوں کے بے گناہ شہریوں کے ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ بند کیاجائے ، اس کے ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے اورمتاثرین کو انصاف فراہم کیاجائے۔
کینیڈاسے آنے والے معروف اینکر، تجزیہ نگار اور شاعر انیس فاروقی نے اپنے خطاب میں کہاکہ پروفیسر حسن ظفرعارف خود ایک درس گاہ تھے، اصولوں پر ڈٹ جانے والی ایسی شخصیت تھے کہ اپنے نظریات کی آبیاری کیلئے جس پلیٹ فارم کو منتخب کرتے وہ ہمیشہ موجوں کے خلاف چلنے کا درس دیتا رہا ہے ۔ انیس فاروقی نے ایم کیوایم کے خلاف سازشوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ قوم کے روحانی باپ ، سربراہ ، بانی ،قائداور ایم کیوایم ایک ہی ہے جوکہ جناب الطاف حسین ہیں اورہمیشہ رہیں گے ۔انہوں نے کہاکہ پروفیسر حسن ظفرعارف جو عشق لیکرچلے تھے وہ میرا، آپ کااورپوری قوم کاتھاجس کی انہیں سزا دی گئی لیکن عشق نے ڈاکٹر صاحب کو کسی کا ہونے نہیں دیا۔ انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر حسن ظفرعارف کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور انشاء اللہ بہت جلد تبدیلی آئے گی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معروف اینکر اور دانشور محترمہ حلیمہ سعدیہ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آج ہم یہاں اپنے ملک کی ایک عظیم ہستی کو یاد کرنے کیلئے جمع ہوئے ہیں جنہیں سفاکی سے قتل کردیا گیا،پروفیسرحسن ظفرعارف کاسفاکانہ قتل پورے معاشرے کیلئے دعوت فکر ہے کہ ہم بطور قوم اپنے استاد کو کیامقام دیتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ترقی یافتہ ممالک میں فلاسفر ، دانشوروں اور اساتذہ کو اعلیٰ مقام دیا جاتا ہے اورانہیں معاشرے کیلئے مشعل راہ سمجھا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جن قوتوں نے پروفیسر حسن ظفرعارف کو مٹانے کی کوشش کی ہے وہ علم اورشعورکے دشمن ہیں ، ان جیسے دانشور روز روز پیدا نہیں ہوتے ۔ انہوں نے کہاکہ جس معاشرے میں دلیل سے گفتگوکاسلسلہ بند کردیاجائے اس معاشرے کی تباہی یقینی بن جاتی ہے ۔امریکہ سے معروف صحافی 
اورتجزیہ نگار دلاور اصغر نے اپنے پیغام میں کہاکہ پروفیسر حسن ظفرعارف اس ہستی کانام ہے جو ہمت وحوصلہ کی علامت ہے، حق کی خاطر ڈٹ جانے ، اپنے اصولوں پر ثابت قدمی سے جمے رہنے اور اس کی پاداش میں خندہ پیشانی سے قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے پروفیسرحسن ظفرعارف ایثارووفا کی ناقابل فراموش داستان رقم کرگئے ہیں ۔نوجوان صحافی، بلاگر اور ہیومن رائٹس ایکٹویسٹ اوراین ایس ایف کے رہنماجعفرعباس نے پروفیسر حسن ظفرعارف کی شہادت پر دلی تعزیت کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ ڈاکٹرصاحب ، ظالم اورمظلوم میں تمیزکرنا جانتے تھے اورانہوں نے ہمیشہ مظلوموں کیلئے آوازبلند کی ۔ انہوں نے کہاکہ مہاجروں کے ساتھ قانون نافذکرنے والے اداروں کارویہ انتہائی قابل مذمت ہے، اچھے اوربرے طالبان کی اصطلاح ایجاد کرنے والوں نے آج اچھی اوربری ایم کیوایم کی اصطلاح استعمال کرنا شروع کردی ہے ، حق پرستی کی جدوجہد کرنے والے ایم کیوایم کے کارکنان کو ماورائے عدالت قتل کیاجارہا ہے ، انہیں گرفتارکرکے لاپتہ کیاجارہا ہے اور مہاجروں کے انسانی حقوق پامال کیے جارہے ہیں لیکن اس ظلم پر پروگریسیو کلاس کی خاموشی انتہائی افسوسناک ہے ۔ ایم کیوایم برطانیہ کے آرگنائزر ہاشم اعظم نے تعزیتی اجتماع میں مختلف ممالک سے آنے والے مہمانوں کی تشریف آوری پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ شہیدوفا پروفیسر حسن ظفرعارف کی تمام زندگی حق وصداقت کی جدوجہد میں بسر ہوئی ہے ، انہوں نے کٹھن حالات میں قائد تحریک جناب الطاف حسین کا ساتھ دیا اورآخری وقت تک جناب الطاف حسین سے اپنی وفانبھائی ۔ تعزیتی اجتماع کے آخر میں پروفیسرحسن ظفرعارف سمیت تمام شہداء کے بلند درجات کیلئے دعا بھی کی گئی ۔
*****


9/21/2018 10:04:39 PM