Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

کراچی کے طلبہ کیلئے مختص نشستیں اندرون سندھ کے طلبہ کودیناکراچی کے طلبہ کے حق پرکھلاڈاکہ ہے ۔ رابطہ کمیٹی ایم کیوایم


کراچی کے طلبہ کیلئے مختص نشستیں اندرون سندھ کے طلبہ کودیناکراچی کے طلبہ کے حق پرکھلاڈاکہ ہے ۔ رابطہ کمیٹی ایم کیوایم
 Posted on: 1/26/2018
کراچی کے طلبہ کیلئے مختص نشستیں اندرون سندھ کے طلبہ کودیناکراچی کے طلبہ کے حق پرکھلاڈاکہ ہے ۔ رابطہ کمیٹی ایم
 کیوایم
کراچی کے طلبہ سے ان کاحق چھیننے کیلئے پیپلزپارٹی کی حکومت سندھ نے ایک بہت بڑاگھناؤنا کھیل کھیلاہے
جامعہ کراچی میں اندرون سندھ کے طلبہ کیلئے 90نشستیں مخصوص ہیں لیکن کراچی کے 900سے زائد طلبہ کاحق چھین کراندرون سندھ کے ایک ہزارسے زائدطلبہ کوداخلے دیدیے گئے۔رابطہ کمیٹی
کراچی کے متاثرہ طلبہ کی نظرثانی کی درخواستیں حکومت سندھ کی ایما پر مستردکردی گئیں جبکہ اندرون سندھ کے
سینکڑوں طلبہ کے کوائف مشکوک ہیں ان کے معاملے کودبادیا گیاہے ۔ رابطہ کمیٹی
یہ معاملہ بہت ہی اہم اورسنجیدہ ہے، چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار اس سنگین معاملے کا سوموٹولیں۔رابطہ کمیٹی
گورنر سندھ اورکراچی یونیورسٹی کے چانسلر زبیراحمدسے بھی اس معاملے کی تحقیقات کرائیں۔رابطہ کمیٹی
قائدتحریک الطاف حسین سے لاتعلقی اختیارکرنے والے نام نہاد رہنما اورارکان اسمبلی اس کھلی حق تلفی پر مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں 
لندن۔۔۔26، جنوری2018ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے جامعہ کراچی میں کراچی کے لئے مختص نشستیں اندرون سندھ کے طلبہ کودینے کی شدیدمذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ یہ کراچی کے ہونہار طلبہ کے ساتھ کھلی ناانصافی اورحق تلفی ہے ۔ اپنے بیان میں رابطہ کمیٹی نے کہاکہ کراچی اورشہری سندھ کے عوام اورطلبہ پیپلزپارٹی کی مہاجردشمن حکومت کے دورمیں نافذ کئے گئے غیرمنصفانہ کوٹہ سسٹم کے تحت کی جانے والی ناانصافی اورحق تلفیوں کاپہلے ہی برسوں سے شکارہیں اوراب ان کا رہاسہا حق بھی چھیناجارہاہے۔ رابطہ کمیٹی نے کہاکہ کراچی کے طلبہ سے ان کاجائزتعلیمی حق چھیننے کے لئے دیہی سندھ کی نمائندہ پیپلزپارٹی کی حکومت سندھ نے ایک بہت بڑاگھناؤنا کھیل کھیلاہے ، پہلے اندرون سندھ کے طلبہ کوایڈجسٹ کرنے کیلئے این ٹی ایس ٹیسٹ کامیرٹ گرایاگیا ۔ داخلہ ٹیسٹ کے پاسنگ مارکس کو50 سے کم کرکے 40 کیاگیا۔ رابطہ کمیٹی نے کہاکہ جامعہ کراچی میں اندرون سندھ کے طلبہ کے لئے 90نشستیں مخصوص ہیں لیکن اس مرتبہ نہایت خاموشی کے ساتھ کراچی کے 900سے زائد طلبہ کاحق چھین کراندرون سندھ کے ایک ہزارسے زائدطلبہ کوداخلے دیدیے گئے جن میں سے بیشترکے کوائف بھی مشکوک ہیں ۔رابطہ کمیٹی نے مزیدکہاکہ پاسنگ مارکس کم کئے جانے سے متاثرہ کراچی کے اہل 450سے زائدطلبہ نے نظرثانی کی جودرخواستیں یونیورسٹی میں جمع کرائی تھیں انہیں بھی حکومت سندھ کی ایما پر مستردکردیاگیاہے جبکہ اندرون سندھ کے جن سینکڑوں طلبہ کے کوائف مشکوک ہیں ان کے معاملے کودبادیا گیاہے ۔ رابطہ کمیٹی نے کہاکہ یہ اقدام کراچی کے طلبہ کی سراسر حق تلفی اوران کے حق پر کھلا ڈاکہ ہے ، ملک اورصوبہ سندھ کی دولت پر ڈاکہ ڈالنے والی پیپلز پارٹی کی حکومت سندھ نے اب کراچی کے طلبہ کے تعلیمی حق پر کھلاڈاکہ ڈالاہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ رابطہ کمیٹی نے کہاکہ یہ معاملہ بہت ہی اہم اورسنجیدہ ہے ، ہر معاملے پر سوموٹو نوٹس لینے والے چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار سے اپیل ہے کہ وہ اس سنگین معاملے کابھی سوموٹو لیں ۔ رابطہ کمیٹی نے گورنر سندھ اورکراچی یونیورسٹی کے چانسلر زبیراحمدسے بھی مطالبہ کیاکہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کرائیں اورکراچی کے طلبہ کے ساتھ یہ کھلی ناانصافی بندکرائیں۔ رابطہ کمیٹی نے اس امرپربھی نہایت افسوس کااظہارکیاکہ اسٹیبلشمنٹ کی ایماء پر قائدتحریک الطاف حسین سے لاتعلقی اختیارکرنے والے نام نہاد رہنما اورارکان اسمبلی بھی کراچی کے طلبہ کی اس کھلی حق تلفی پر مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ 

10/16/2018 7:52:34 PM