Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ڈاکٹر حسن ظفرعارف کی شہادت غیرطبعی ہے ،ان کے قتل میں آئی ایس آئی ، رینجرز اور راؤ انوار کا قاتل ٹولہ ملوث ہے ۔ الطاف حسین


ڈاکٹر حسن ظفرعارف کی شہادت غیرطبعی ہے ،ان کے قتل میں آئی ایس آئی ، رینجرز اور راؤ انوار کا قاتل ٹولہ ملوث ہے ۔ الطاف حسین
 Posted on: 1/24/2018

ڈاکٹر حسن ظفرعارف کی شہادت غیرطبعی ہے ،ان کے قتل میں آئی ایس آئی ، رینجرز اور راؤ انوار کا
قاتل ٹولہ ملوث ہے ۔ الطاف حسین
مہاجروں ، بلوچوں اور قبائلیوں کے ماورائے عدالت قتل میں ملوث عناصر Truth and reconciliation کے
تحت اللہ تعالیٰ اورمظلوم عوام سے خلوص دل سے معافی مانگیں ۔ الطاف حسین
میں ملک کو بچانا چاہتا ہوں، لہٰذا تمام ترقی پسند ،پروگریسیو اورروشن خیال پاکستانیوں کو میرا ساتھ دینا چاہیے ۔ الطاف حسین
میں آج بھی پاکستان کی خدمت کرنا چاہتا ہوں لیکن اب ایماندار جرنیلوں کو آگے آکر کرپٹ جرنیلوں کو سزادینی ہوگی
قبائلی نوجوان نقیب اللہ محسود کا سفاکانہ قتل قابل مذمت ہے،قبائلی عوام کے دردکوسمجھتاہوں۔الطاف حسین
ملک میں ماورائے عدالت قتل کسی بھی قومیت کے فرد کا ہو،ماورائے عدالت قتل ، قتل ہوتا ہے۔الطاف حسین
چیف جسٹس، عدالتی کمیشن بناکرتحقیقات کرائیں، جیلوں میں اسیر کارکنان کو رہا اور لاپتہ کارکنان کوبازیاب کرائیں
اگر ملک میں زیادہ سے زیادہ انتظامی یونٹس بنائے جائیں تو ملک میں کلچرل پلورل ازم اور ایک قوم کا تصور مضبوط ہوگا
چیف جسٹس ثاقب نثار جو فیصلے کررہے ہیں وہ آئینی اورقانونی نہیں بلکہ سیاسی فیصلے ہیں جوانہیں نہیں کرنے چاہئیں
ایم کیوایم کے قائدالطاف حسین کاوڈیوکانفرنسنگ کے ذریعہ اپنے براہ راست خطاب

لندن۔۔۔24، جنوری2018ء
متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائد جناب الطاف حسین نے معروف دانشور، فلاسفر اور ایم کیوایم کے رہنما ڈاکٹر حسن ظفرعارف شہید کی کیمیائی تجزیاتی رپورٹ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ ڈاکٹر حسن ظفرعارف کی شہادت غیرطبعی ہے اور اس قتل میں آئی ایس آئی ، رینجرز اور راؤ انوار کا قاتل ٹولہ ملوث ہے ۔ انہوں نے کہاکہ مہاجروں ، بلوچوں اور قبائلیوں کے ماورائے عدالت قتل میں ملوث عناصر Truth and reconciliation کے تحت اللہ تعالیٰ اورمظلوم عوام سے خلوص دل سے معافی مانگیں ۔ الطاف حسین ملک کو بچانا چاہتا ہے لہٰذا تمام ترقی پسند ،پروگریسیو اورروشن خیال پاکستانیوں کو میرا ساتھ دینا چاہیے ۔ میں آج بھی پاکستان کی خدمت کرنا چاہتا ہوں لیکن اب ایماندار جرنیلوں کو آگے آکر کرپٹ جرنیلوں کو سزادینی ہوگی ۔
ان خیالات کا اظہار جناب الطاف حسین نے وڈیوکانفرنسنگ کے ذریعہ اپنے براہ راست خطاب میں کیا۔ اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ 1970ء میں پاکستان جن مسائل کا شکار تھا آج ان مسائل میں کئی گنااضافہ ہوتاجارہا ہے،میں نے اپنی 40 سالہ جدوجہد کے دوران اپنی سوچ وفکر کے مطابق ملٹری وسول بیوروکریسی اور تمام مکاتب فکر کے عوام کو ان درپیش مسائل کے حل پیش کیے ، میں مسلسل کہتا رہاہوں کہ پاکستان جاگیرداروں ، وڈیروں ، سرداروں ، سرمایہ داروں ، فوجی جرنیلوں یا بیوروکریسی نے نہیں بلکہ برصغیرکے 10 کروڑمسلمانوں نے قائداعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں بنایاتاکہ وہ کسی بھی اکثریت کے ماتحت رہ کر دوسرے یا تیسرے درجے کی زندگی گزارنے کے بجائے پاکستان کے برابر کے شہری بن کر سکون کی زندگی بسرکرسکیں اورانہیں 

مذہبی تفریق سمیت کسی بھی قسم کی عصبیت اورتعصب کاسامنا نہ کرناپڑے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ 14، اگست 1947ء کو پاکستان اوربھارت آزادملک بن گئے، اس وقت پاکستان کی آبادی تقریباً 22 کروڑ جبکہ بھارت کی آبادی سوا ارب ہے ، بھارت میں مختلف نسلی، لسانی ، ثقافتی اورمذہبی گروپس ہیں لیکن وہاں ایک قوم کا تصور مضبوط ہے جبکہ پاکستان میں آج تک نسلی، لسانی ، ثقافتی اورمذہبی تفریق نمایاں ہے اورملک میں Ethno linguistic pluralism دیکھنے میں نہیں آتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد سے ہی ملک پرملٹری اسٹیبلشمنٹ نے جاگیرداروں ، وڈیروں اورسرمایہ داروں سے گٹھ جوڑ کر کے قبضہ کرلیا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان میں آبادی کے لحاظ سے صوبہ پنجاب بڑا صوبہ ہے اور فوج میں پنجاب سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے جس کی بنیاد پر چھوٹے صوبوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کا سلسلہ شروع کردیاگیا، ماضی میں بنگالی عوام اکثریت رکھتے تھے لیکن ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے سابقہ مشرقی پاکستان پر قبضہ کرکے ہم مذہب بنگالی عوام کے حقوق غصب کیے ، اکثریت رکھنے کے باوجود بنگالیوں کیلئے پیریٹی کا اصول بنایاگیا لیکن اس پر بھی عمل درآمد نہیں کیاگیا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں نے اپنی تحریرکردہ کتاب ’’آزادی کے پچاس سال ۔۔۔ کیاکھویا کیاپایا‘‘ میں اعدادوشمار پیش کیے ہیں کہ مغربی پاکستان اورسابقہ مشرقی پاکستان کو زندگی کے ہرشعبہ میں کتنا حصہ دیاجاتا تھا۔ انہوں نے کہاکہ چھوٹی قومیتوں کے ساتھ ناانصافیوں کے مسلسل عمل اورظلم وستم کے باعث ملک دولخت ہوگیا۔ ہم آج کے دن تک ایک قوم نہیں بن سکے ، اگر پاکستان کے چاروں صوبوں کے افراد پر مشتمل ایک ٹیم بن کردنیا کے مختلف ممالک میں پاکستانی سفارتخانے ، نادرا کے دفاتراور ہائی کمیشن کا دورہ کریں تو انہیں وہاں سندھی، بلوچ ،پختون اورمہاجرشاذونادر ہی ملیں گے البتہ ہرجگہ صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد ہی دکھائی دیں گے ،یہ کھلی حقیقت ہے اورایسا نہیں ہونا چاہیے بلکہ میرٹ کی بنیاد پر تمام صوبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو ان کا حق دینا چاہیے ، انصاف کے اس عمل سے ملک کمزور نہیں بلکہ مضبوط ہواکرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پوری دنیا میں آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ مسائل کے حل اور بہترانتظام حکومت کیلئے صوبے بنائے جاتے ہیں لیکن قیام پاکستان سے آج کے دن تک پاکستان میں صرف چار صوبے ہی ہیں ، پاکستان میں سرائیکی ، ہزاروال ، بلتستانی اور قبائلی عوام اپنے علیحدہ صوبے کا مطالبہ کررہے ہیں ، اگر ملک میں زیادہ سے زیادہ انتظامی یونٹس بنائے جائیں تو ملک میں کلچرل پلورل ازم اور ایک قوم کا تصور مضبوط ہوگا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان میں صورتحال بالکل برعکس ہے ، 1948ء میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے بلوچستان کو مکمل طورپر اپنے ساتھ ملالیااور بلوچ عوام خوشی سے پاکستان کے ساتھ شامل بھی ہوگئے مگرآج کے دن تک بلوچ عوام کو پاکستان کابرابر کا شہری نہیں سمجھاگیا اور ان کے جائز حقوق دیئے گئے یہی وجہ ہے کہ بلوچستان میں علیحدگی کا رحجان پایاجاتاہے۔ اسی قسم کے تحفظات کا اظہار سندھی ، پختون اور قبائلی عوام کی جانب سے بھی کیاجارہا ہے کہ پاکستان میں سندھی ، پختون، بلوچ اور قبائلی سب کو غدار قراردیا جاتا ہے اورصرف پنجابیوں کو غدار نہیں کہاجاتا۔ جناب الطاف حسین نے قبائلی نوجوان نقیب اللہ محسود کے سفاکانہ قتل کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ میں سوگوارلواحقین سے دلی تعزیت وہمدردی کا اظہارکرتا ہوں، ملک میں ماورائے عدالت قتل کسی بھی قومیت کے فرد کا ہو،ماورائے عدالت قتل ، قتل ہوتا ہے ، یہ نہیں کہ کسی پنجابی کا قتل ، قتل کہلائے اور مہاجر، سندھی، بلوچ اور پختون کاقتل پولیس مقابلہ قراردیاجائے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نقیب اللہ محسود کے اہل خانہ اور دیگرقبائلی عوام کے درد کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کیونکہ ہمارے 22 ہزار مہاجرکارکنوں کو سفاکی سے ماورائے عدالت قتل کرکے پولیس مقابلہ قراردیاگیا، یہ عمل ملک کیلئے نہ پہلے ٹھیک تھا اورنہ اب ہوگا۔ 
جناب الطاف حسین نے معصوم بچی زینب کے وحشیانہ اوربہیمانہ قتل کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ آج کل پاکستان ٹی وی چینلوں پر معصوم بچیوں کے ساتھ ظلم وبربریت اور وحشیانہ سلوک کے حوالہ سے بہت مباحثے کیے جارہے ہیں اوربتایاجارہا ہے کہ بچیوں کو جسمانی اعضاء کے بارے میں تعلیم دی جائے ۔ انہوں نے کہاکہ میں بچیوں میں شعوری آگاہی کے عنوان سے گزشتہ کئی برسوں سے طلباوطالبات اور ایم کیوایم کے کارکنان کو لیکچرز دیتا رہا ہوں، اس سلسلے میں ، میں نے ’’فلسفہ ء محبت‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب بھی تحریرکی ہے جس میں ہم جنس پرستی اور محبت کے نام پر زناسمیت محبت کی کئی اقسام کو تفصیل 

سے بیان کیاگیا ہے اوریہ بھی بتایا ہے کہ یہ خونی رشتوں میں بھی ہوتی ہے، اس کتاب کی اشاعت پر بہت اعتراضات کیے گئے کہ الطاف حسین یہ کیا باتیں کررہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ علم تو علم ہے اورہمیں اپنی بچیوں کو علم وشعور سے آگاہ کرنا چاہیے ۔ اگرہم علم کی باتیں اپنی بچیوں کو نہیں بتائیں گے تو انہیں کیسے علم ہوگا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ معصوم زینب کے قتل کو درندگی اور نقیب اللہ محسود کے قتل کو وحشیانہ قراردیاجارہا ہے لیکن ڈاکٹر پروفیسر حسن ظفرعارف کے سفاکانہ قتل کواسی طرح طبعی موت قراردے دیاگیا جس طرح ایم کیوایم کے کارکن آفتاب احمد کے ماورئے عدالت قتل کو طبعی موت قراردیاگیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ روز ڈاکٹرحسن ظفرعارف شہید کی کیمیائی تجزیاتی رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے جسم پر چوٹ کا نشان نہیں ہے اور ان کی موت دل کادورہ پڑنے کے باعث ہوئی ہے ۔ جب ڈاکٹرصاحب کی شہادت ہوئی تو پولیس اورجناح اسپتال کی ڈاکٹرسیمی جمالی نے ثبوت وشواہد کے بغیریہ فتویٰ جاری کردیاتھاکہ ڈاکٹرصاحب کی موت طبعی ہے ، پھر ڈاکٹر حسن ظفرعارف کے گھروالوں پر ڈباؤ ڈال کریہی بیانات دلوائے گئے کہ ڈاکٹر صاحب کی موت طبعی ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ حقائق بیان کرتے ہوئے کہاکہ ڈاکٹرحسن ظفرعارف شہید 13 ، جنوری کی شام فرید چیمبرز سے اپنے گھرواقع ڈیفنس فیز 6 جانے کیلئے کار میں اکیلے روانہ ہوئے کیونکہ انہیں اپنی بیٹی سے ملاقات کرنے تھی جوکہ اگلے روز لندن جارہی تھیں ، ڈاکٹر صاحب کو 9 بجے تک اپنے گھرپہنچ جانا چاہیے تھا لیکن وہ گھر نہیں پہنچے ۔ ڈاکٹرسیمی جمالی ، رینجرز، پولیس اور کیمیائی تجزیاتی رپورٹ کی روشنی میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ڈاکٹر صاحب اپنے گھرجانے کیلئے روانہ ہوئے تھے تو ان کی لاش ابراہیم حیدری کے الیاس گوٹھ میں کیوں پائی گئی؟ ڈاکٹر صاحب کی لاش گاڑی کی پچھلی سیٹ پر کیسے پہنچی؟ اگر ڈاکٹر صاحب کی موت طبعی ہوتی تو ان کی گاڑی اورلاش ان کے گھرکے راستے پر ملنی چاہیے تھی۔جہاں جگہ جگہ پاکستان نیوی کی جانب سے چیکنگ کی جاتی ہے اور کوئی عام آدمی اس جگہ نہیں جاسکتا تو پھر ڈاکٹر صاحب کی گاڑی اس جگہ کیسے پہنچی؟انہوں نے کہاکہ جن لوگوں نے 72 سالہ بزرگ دانشور، استاد اورفلاسفر ڈاکٹر حسن ظفرعارف کو قتل کیاہے انہوں نے ایک عالِم کو نہیں بلکہ پورے عَالم کوقتل کیاہے ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ پوری دنیا میں کرائم سین کو محفوظ بنایاجاتا ہے لیکن یہاں کرائم سین کو اسی طرح کھول دیاگیا جس طرح راولپنڈی میں بے نظیربھٹو کی شہادت کے بعد کرائم سین کودھودیا گیاتھا، اس عمل میں دوپولیس اہلکاروں کو سزادی گئی جبکہ تمام منصوبہ ساز آج بھی مزے کررہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کی جانب سے اس معاملہ کو اٹھانے کے بجائے بھٹو اوراب بے نظیرکے نام پر صرف سیاست کی جارہی ہے اورپیپلزپارٹی ، آئی ایس آئی کے ساتھ مل کر نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل میں ملوث بدنام زمانہ قاتل راؤ انوار کو بچانے کی کوشش کررہی ہے ۔ 
جناب الطاف حسین نے اقوام متحدہ ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اورعالمی عدالت انصاف سے اپیل کی کہ وہ ڈاکٹرحسن ظفرعارف کے قتل کے حقائق جاننے کیلئے اپنے نمائندے پاکستان بھیجیں تاکہ صرف ڈاکٹر حسن ظفرعارف شہید کے ماورائے عدالت قتل کی حقیقت ہی سامنے نہ آئے بلکہ ہزاروں مہاجروں اوربلوچوں کے قتل عام کا معمہ بھی حل ہو۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے ازخود نوٹس لیکر نقیب اللہ محسود کے قتل کی تحقیقات کی بات کی ہے جوکہ ایک اچھا قدم ہے لیکن انہوں نے ڈاکٹر حسن ظفرعارف کے قتل پر اب تک سوموٹو ایکشن نہیں لیاہے، ان کی نظر میں ایک دانشور اورپروفیسر کی موت کی اس لئے کوئی اہمیت نہیں ہے کہ انہیں فوج، آئی ایس آئی اوررینجرز نے قتل کیا ہے ۔ 22 ، جنوری 2018ء کو جامعہ کراچی میں ٹیچرز ایسوسی ایشن کے تحت ڈاکٹر حسن ظفرعارف شہید کی یاد میں تعزیتی اجلاس ہوا جس میں مقامی روزنامہ کے نمائندے فواد حسن نے بھی تقریر کی جنہیں رینجرز کے اہلکاروں نے گرفتارکرکے بہیمانہ تشدد کانشانہ بنایا لیکن اس کی خبر میڈیا پرنشر نہیں کی گئی ۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار جو فیصلے کررہے ہیں وہ آئینی اورقانونی نہیں بلکہ سیاسی فیصلے ہیں جوانہیں نہیں کرنے چاہئیں ، چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ میرے ساتھ ڈیڑھ لاکھ وکلاء کی فوج اوراگرکوئی میرے خلاف آیا تو میں یہ فوج لیکر اسے پسپا کردوں گا۔ میراسوال ہے کہ ثاقب نثارسپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہیں یا فوج کے سپہ سالار ہیں؟چیف جسٹس ثاقب نثارکو پورے 

پاکستان میں کرپٹ اوربدعنوان لوگوں میں صرف میاں نوازشریف اوران کا خاندان ملا ہے باقی سب کے سب دودھ کے دھلے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ، عمران خان نے سیتا وائٹ سے جسمانی تعلقات قائم کرکے بغیرنکاح کے ایک بچی پیدا کی، کیلی فورنیا کی عدالت کافیصلہ ہمارے پاس موجود ہے جس میں کہاگیا ہے کہ عمران خان ، ٹیریان جیڈ کا باپ ہے لیکن چیف جسٹس ثاقب نثاراوران کی پوری بینچ نے عمران خان کو صادق ، امین اورپرہیزگار قرار دیا ۔ انہوں نے کہاکہ جسٹس ثاقب نثار نے کراچی میں تقریرکرتے ہوئے ونسٹن چرچل کا قول دہرایا ہے ، میں بھی سرونسٹن چرچل کا ایک قول ان کے سامنے پیش کرتا ہوں کہ جب جرمن فوج نے برطانیہ پرچڑھائی کی تو برطانوی کمانڈرز نے ونسٹن چرچل کو بتایا کہ ہم شکست کھاسکتے ہیں ۔ چرچل نے اپنے کمانڈرز سے پوچھا کہ کیا ہماری عدالتیں انصاف پر مبنی فیصلے کررہی ہیں تو جواب ملا جی ہاں ۔ اس پر چرچل نے کہاکہ پھرکوئی طاقت برطانیہ پر قبضہ نہیں کرسکتی۔انہوں نے کہاکہ اگر چیف جسٹس آف پاکستان بھی کسی دباؤ کے بغیرحق وسچ پر مبنی فیصلے کریں گے توپاکستان کوکوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ چیف آ ف آرمی اسٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ نے کہاکہ فوج سیاست میں حصہ نہیں لیتی اورنہ جمہوریت کے خلاف سازش کرتی ہے لیکن کیا اسلام آباد میں تحریک لبیک یارسول اللہ ؐ کے دھرنے میں فوج کاکردار نہیں تھا؟ کیافوج کے افسر نے ایک ضامن کی حیثیت سے تحریری معاہدے پر دستخط نہیں کیے تھے ؟ ڈی جی رینجرز پنجاب کی جانب سے دھرنے کے شرکاء میں رقوم کے لفافے کس بات پرتقسیم کیے گئے؟انہوں نے کہاکہ فوجی جرنیلوں نے ملک میں سوائے مارشل لاء نافذ کرنے اور سیاست میں مداخلت کرنے کے علاوہ اور کیا کیا ہے ؟ چنددنوں قبل ن لیگ کے ارکان اسمبلی کو شامل کرکے وزیراعلیٰ بلوچستان کے خلاف اچانک تحریک عدم اعتماد پیش کردی گئی ، وزیراعظم پاکستان کوئٹہ پہنچے تو ن لیگ کے اراکین اسمبلی نے ان سے ملاقات تک نہیں کی کیونکہ انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئی تھیں ۔ وزیراعظم شاہدخاقان عباسی میں الطاف حسین کی طرح جرات اظہار نہیں ہے کہ وہ کہہ سکیں کہ آئی ایس آئی نے ن لیگ کے اراکین اسمبلی کو دھمکیاں دیکربلوچستان کی حکومت پلٹ دی ۔ انہوں نے کہاکہ فوج کا کام سرحدوں کا دفاع کرنا ہے لیکن جب دفاع کرنے کا وقت آیا تو فوج نے آدھے ملک کو دفع کردیا۔ 1971ء کے بعد سے اب تک ملک کے دفاع کا مسئلہ پیش نہیں آیا ، بھارت سے محض زبانی احتجاج کرکے معاملہ ختم کردیتے ہیں اور لڑنے نہیں جاتے ۔ فوج اورآئی ایس آئی نے کشمیر میں جہادی تنظیمیں بناکر ہزاروں کشمیریوں کو قتل کروادیا، اگر انہیں کشمیریوں سے ہمدردی ہے تو جہاد کرکے کشمیرکو آزاد کیوں کرالیتے ؟ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ جن لوگوں نے بزرگ استاد ڈاکٹر حسن ظفرعارف کو تشدد کا نشانہ بناکرقتل کیا ہے وہ انسانیت کے دشمن ہیں ،مہاجروں ، بلوچوں اور قبائلیوں کے ماورائے عدالت قتل میں ملوث عناصر Truth and reconciliation کے تحت اللہ تعالیٰ اورمظلوم عوام سے خلوص دل سے معافی مانگیں ، اس طرح نہیں کہ ڈھاکہ میں بنگالی دانشوروں کو مذاکرات کے نام پر جمع کرکے ان کا قتل عام کردیاگیا، اس قتل عام میں جماعت اسلامی، اسلامی جمعیت کی دہشت گرد تنظیمیں البدراورالشمس بھی شامل تھیں۔اس طرح کا دھوکہ بلوچ عوام کو بھی دیا گیا، قرآن کا واسطہ دیکر بلوچوں کو پہاڑ وں سے بلاکر مذاکرات کی دعوت دی اورپھر انہیں بھی سفاکی سے قتل کردیا۔ انہوں نے کہاکہ فوج کے پاس طاقت ہے لیکن اسے یاد رکھنا چاہیے کہ سب سے بڑی طاقت اللہ تعالیٰ کی ہے ، فوج ایک مرتبہ ہتھیارڈال چکی ہے لہٰذا وہ ماضی کی غلطیوں کو نہ دہرائے ، اپنی غلطیوں کو تسلیم کرے اوربلوچوں اورمہاجروں سے معافی مانگے ۔حضرت علی ؑ کا قول ہے کہ کفر کی حکومت قائم رہ سکتی ہے لیکن ظلم کی حکومت قائم نہیں رہ سکتی ، جب اللہ تعالیٰ فوج کی طاقت ختم کردے گا تو پھر ایک ایک ماورائے عدالت قتل کا حساب دینا پڑے گا۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ ڈاکٹر حسن ظفرعارف صرف ایم کیوایم کے رہنما نہیں تھے بلکہ بہت بڑے فلاسفر، دانشور، مفکر اورمصنف بھی تھے ، ان کاقتل علم اور روشن خیال سوچ وفکر کا قتل ہے ، یہ صرف ایم کیوایم کا نہیں بلکہ پورے ملک کے محروم ومظلوم عوام کانقصان ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ماضی میں اسی قسم کے ماورائے عدالت قتل ، غیرقانونی چھاپے ، گرفتاریوں اورجبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری تھا حتیٰ کہ جیلوں میں قیدایم کیوایم کے کارکنوں کو قتل کیاجارہا تھا 

اورعدلیہ کی جانب سے مظلوم مہاجروں کو انصاف فراہم نہیں کیاجارہا تھا تو فرط جذبات میں ، میں نے کہہ دیا کہ جس ملک میں انصاف نہ ملے وہ مردہ باد ہے ۔ اس غلطی میں صرف الطاف حسین ہی نہیں بلکہ وہ تمام لوگ شریک تھے جنہیں ڈرائی کلین کرکے سیاست کی اجازت دیدی گئی ۔اسی طرح قومی اسمبلی کے فلور پر محمود خان اچکزئی ، خواجہ آصف ، آصف علی زرداری اور عمران خان نے ملک اورفوج کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیاگیا جبکہ الطاف حسین نے اپنی غلطی پر دومرتبہ تحریری معافی مانگ چکا ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں پاکستان کا دشمن تھا نہ ہوں ،الطاف حسین ایک ایک مظلوم کا ساتھی ہے ، الطاف حسین کرپٹ جاگیردارانہ ، وڈیرانہ اورکرپشن کے نظام کے خلاف ہے ، جمہوریت ، ترقی پسند اور پروگریسیو خیالات کا حامی ہوں اورمذہبی انتہاء پسندی کے بجائے مذہبی رواداری پر یقین رکھتا ہوں۔ میں سب کو برابر کا پاکستانی سمجھتا ہوں ، زبان ، رنگ، نسل اورمذہب کی بنیاد پر تفریق نہیں کرتا اوریہی الطاف حسین کا انقلابی نظریہ ہے۔انہوں نے کہاکہ مذہبی انتہاء پسندی پاکستان کو تباہی کی جانب دھکیل دے گی جبکہ ترقی پسند اور روشن خیال سوچ ہی پاکستان کی بقاء کی ضمانت ہے ، الطاف حسین ملک کو بچانا چاہتا ہے لہٰذا تمام ترقی پسند ،پروگریسیو اورروشن خیال پاکستانیوں کو میرا ساتھ دینا چاہیے ۔ انہوں 
نے کہاکہ میں آج بھی پاکستان کی خدمت کرنا چاہتا ہوں لیکن اب ایماندار جرنیلوں کو آگے آکر کرپٹ جرنیلوں کو سزادینی ہوگی ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ پنجاب کے عوام پہلی مرتبہ جمہوریت کیلئے جدوجہد کررہے ہیں ، انہیں ملک اور جمہوریت کی بقاء کیلئے ملٹری اسٹیبلشمنٹ ، آئی ایس آئی اور ایم آئی کی ناانصافیوں کے خلاف میدان عمل میں آنا ہوگا، فرسودہ جاگیردارانہ نظام کے خلاف جدوجہد کرنی ہوگی ، مظلوم پاکستانیوں اور سچی جمہوریت کے نفاذ کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔
جناب الطاف حسین آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ اور چیف جسٹس ثاقب نثار سے اپیل کی کہ ڈاکٹر حسن ظفرعارف کے ماورائے عدالت قتل کو طبعی موت قراردینے کے بجائے اس کا نوٹس لیاجائے ، ماورائے عدالت قتل کی تحقیقات کرائی جائے ۔ چیف جسٹس، عدالتی کمیشن بناکرتحقیقات کرائیں، جیلوں میں اسیر کارکنان کو رہا اور لاپتہ کارکنان کوبازیاب کرائیں اورماورائے عدالت کیے گئے کارکنان کے لواحقین کو انصاف فراہم کریں ۔ جناب الطاف حسین نے شہید وفا ڈاکٹر حسن ظفرعارف سمیت ایم کیوایم کے تمام شہداء کو زبردست خراج عقید ت پیش کیا اور شہداء کے بلنددرجات کیلئے دعا بھی کی ۔ 

*****


9/23/2018 10:54:26 AM