Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

وزیراعظم شاہدخاقان عباسی اوروزیرداخلہ احسن اقبال صحافی فوادحسن کی حراست اورتشددکے واقعہ کی تحقیقات کرا ئیں تمام صحافیوں، بلاگرزاورانسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے افراد کوتحفظ فراہم کیاجائے۔الطاف حسین


وزیراعظم شاہدخاقان عباسی اوروزیرداخلہ احسن اقبال صحافی فوادحسن کی حراست اورتشددکے واقعہ کی تحقیقات کرا ئیں تمام صحافیوں، بلاگرزاورانسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے افراد کوتحفظ فراہم کیاجائے۔الطاف حسین
 Posted on: 1/22/2018

پاکستان میں ریاستی جبراپنی حدتک بڑھ چکاہے، فوج اپنے ہی لوگوں کو طاقت کے ذریعہ کچلنے پر تلی ہوئی ہے۔الطاف حسین
وزیراعظم شاہدخاقان عباسی اوروزیرداخلہ احسن اقبال صحافی فوادحسن کی حراست اورتشددکے واقعہ کی تحقیقات کرا ئیں
تمام صحافیوں، بلاگرزاورانسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے افراد کوتحفظ فراہم کیاجائے۔الطاف حسین
چیف جسٹس سپریم کورٹ ہرمعاملے میں ازخودنوٹس لے رہے ہیں لیکن ملک کے عظیم استاد،فلاسفرڈاکٹرحسن ظفرعارف کے ماورائے عدالت قتل پر خاموش ہیں ۔چیف جسٹس ڈاکٹرحسن ظفرعارف اورفوادحسن کے واقعہ کاسوموٹونوٹس لیں
ملک میں کوئی غدارنہیں ہے ، غداراورملک دشمن فوج کے وہ کرپٹ عناصر ہیں جنہوں نے ظالمانہ اقدامات کرکے ملک کو توڑ ڈالا
ملک کوتباہ ہونے سے بچانے کیلئے عوام کوفوج اورسرکاری ایجنسیوں کے ظالمانہ اورڈریکونین اقدامات کے خلاف میدان میں آناچاہیے
فوج ،آئی ایس آئی اورسرکاری ایجنسیوں کا سیاست میں عمل دخل بند ہوناچاہیے۔ قائدتحریک الطاف حسین کا تازہ ترین آڈیوپیغام 

لندن۔۔۔22، جنوری2018ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے ایکسپریس ٹربیون کے نوجوان صحافی فوادحسن کی گرفتاری اورانہیں حراست میں تشددکانشانہ بنائے جانے کے واقعہ کی شدیدمذمت کرتے ہوئے ہوئے کہاہے کہ پاکستان میں ریاستی جبراپنی حدتک بڑھ چکاہے، فوج اپنے ہی لوگوں کو طاقت کے ذریعہ کچلنے پر تلی ہوئی ہے اور سیاسی جماعتوں کو بوٹوں تلے دباکر سیاست میں مداخلت کررہی ہے۔انہوں نے وزیراعظم شاہدخاقان عباسی اوروزیرداخلہ احسن اقبال سے مطالبہ کیاکہ فوادحسن کی حراست اورتشددکے واقعہ کی تحقیقات کرا ئی جائے اورتمام صحافیوں، بلاگرزاورانسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے افراد کوتحفظ فراہم کیاجائے ۔ملک میں کوئی غدارنہیں ہے ، غداراورملک دشمن فوج کے وہ کرپٹ عناصر ہیں جنہوں نے ایسے ہی ظالمانہ اقدامات کرکے ملک کو توڑ ڈالا اور آج بھی باقیماندہ ملک کو تباہ وبرباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ملک کوتباہ ہونے سے بچانے کے لئے زندگی سے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے عوام کوفوج اورسرکاری ایجنسیوں کے ان ظالمانہ اورڈریکونین اقدامات کے خلاف میدان میں آناچاہیے اورفوج ،آئی ایس آئی اورسرکاری ایجنسیوں کا سیاست میں عمل دخل بند ہوناچاہیے۔جناب الطاف حسین نے ان خیالات کااظہارآج اپنے تازہ آڈیوپیغام میں کیا۔
جناب الطاف حسین نے اپنے آڈیو پیغا م میں کہاکہ مجھ پر بہت بہتان تراشی کی گئی، مجھے بھارت اور اسرائیل کا ایجنٹ اورملک دشمن قراردیا گیاکہ میں نے پاکستان کے خلاف بات کی لیکن یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ میں نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے دو مرتبہ تحریری معافی بھی مانگی لیکن ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے میری معافی تسلیم نہیں کی۔ انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے ملٹری اسٹیبلشمنٹ، پاکستان کی سرحدوں کا دفاع کرنے کے بجائے ملک دولخت کرچکی ہے لیکن ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے اپنی شرمناک شکست اور93 ہزار فوجیوں کے ہتھیار ڈالنے کے عمل پر کسی قسم کی شرمندگی کا اظہارنہیں کیااور نہ ہی یہ عہد کیا کہ فوج آئندہ سیاست میں حصہ نہیں لے گی ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ محترمہ فاطمہ جناح نے ایک فوجی ڈکٹیٹر کے خلاف صدارتی الیکشن میں حصہ لیا تو اس کی پاداش میں فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان نے محترمہ فاطمہ جناح کو بھارت کاایجنٹ قراردیا اور بالآخرانہیں قتل کرادیاگیا۔انہوں نے کہاکہ فوج اور آئی ایس آئی کی 

جانب سے جھوٹ کو سچ کہنے اورظرف وضمیرکا سودا کرنے والوں کے سینکڑوں خون معاف کردیئے جاتے ہیں اور ان کی اربوں کھربوں روپے کی کرپشن معاف کردی جاتی ہے لیکن اپناسودانہ کرنے والوں کو نشانہ بنایاجاتاہے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ یہ تاریخی حقائق ہیں کہ ملک میں جتنے مارشل لاء نافذ ہوئے ہیں ہرمارشل لاء کو سپریم کورٹ نے نظریہ ضرورت کے تحت جائز قراردیا اور فوج کو مقدس گائے بناکر پیش کیاگیا۔ پاکستان میں سیاستدانوں کاتو احتساب کیاجاتا ہے لیکن آج تک فوج کے کرپٹ جرنیلوں کا احتساب نہیں کیاگیا۔ فوج اورآئی ایس آئی کے کرپٹ جرنیلوں کی اولادیں بیرون ملک تعلیم حاصل کررہی ہیں آخران کرپٹ جرنیلوں کے پاس اتنی رقم کہاں سے آئی کہ وہ بادشاہوں سے بہتر زندگی گزارتے ہیں ، سینکڑوں فوجی جرنیل بھیانک کرپشن میں ملوث پائے گئے مگران کے خلاف کوئی میدان عمل میں نہیں آیا۔ انہوں نے کہاکہ الطاف حسین پاکستان کا واحد سیاسی رہنما ہے جو فرسودہ جاگیردارانہ، وڈیرانہ ، سرمایہ دارانہ ،سردارانہ اورکرپشن کے نظام کے خلاف ہے ،یہ بات ریکارڈ پرموجود ہے اورفوج کے سابق بریگیڈ یئر اوردیگر افسران ٹیلی ویژن پربیان دے چکے ہیں کہ الطاف حسین نے باربارکی پیشکشوں کے باوجود فوج سے رقم لینے سے صاف انکارکیا ۔ انہوں نے کہاکہ میراقصور یہ ہے کہ میں نے ملک کے مظلوم ومحکوم عوام کے حقوق اورکرپشن کے نظام کے خلاف آواز بلند کی جس کی پاداش میں مجھے قیدوبندکی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں لیکن میں نے اپنے ظرف وضمیرکا سودا نہیں کیا، حق پرستی کی جدوجہد کی پاداش میں1995ء میں میرے بڑے بھائی 71 سالہ ناصر حسین اور28 سالہ بھتیجے عارف حسین کو ماورائے عدالت قتل کردیاگیا، میرا ایک بھانجا اورایک بھتیجا گزشتہ چھ ماہ سے گرفتاری کے بعد سے لاپتہ ہے، اسی طرح رابطہ کمیٹی کے رکن مصطفی عزیزآبادی کے بھائی منیر علی سمیت ایم کیوایم کے سینکڑوں ذمہ داران وکارکنان کوگرفتارکرکے لاپتہ کردیاگیا ہے۔ چند روزقبل رابطہ کمیٹی کے سابق ارکان اشرف نور ، اکرم راجپوت اورفیڈرل بی ایریا کے کارکن زائرآرائیں کو گرفتارکرکے لاپتہ کردیاگیاہے جنہیں فوج، آئی ایس آئی اوررینجرز عدالت میں پیش نہیں کرتی کیونکہ جب سپریم کورٹ ، فوج کی ماتحت بن جائے تو پھر ہائی کورٹس اورلوئرکورٹس کی حیثیت کااندازہ بخوبی لگایاجاسکتا ہے ۔ سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخارمحمد چوہدری نے فوج اورآئی ایس آئی کے حکم پر غیرقانونی اورغیرآئینی اقدامات کیے یہی وجہ ہے کہ ان کے بیٹے ارسلان افتخار چوہدری کی کرپشن کے تمام ثبوت وشواہدعدالت میں پیش کئے جانے کے باوجود آج تک فوج، رینجرز اورنیب کاادارہ حرکت میں نہیں آیا۔ 
جناب الطاف حسین نے پاکستان کی تمام مظلوم قومیتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ وہ اپنی اپنی شناخت کو بالائے طاق رکھ کر صرف پاکستانی بن کرسوچیں کہ لسانیت اورقومیت کے نعرے فوج کی ناانصافیوں کی پیداوارہیں ، آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد کے نام پر مظلوم قبائلیوں کو ان کے گھروں سے بیدخل کیاگیا ، انہیں آئی ڈی پیز بناکر کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور کیاگیا اورآج تک ان مظلوم قبائلی خاندانوں کو ان کے گھروں میں واپس نہیں بسایا گیا ہے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ پرنٹ اورالیکٹرانک میڈیا اورغیرجمہوری قوتیں ن لیگ کے صدر میاں نوازشریف اوران کے خاندان کے خلاف صف آراء ہیں ، اگرکوئی ان کی حمایت یا ناروا سلوک کے خلاف آواز بلند کرے تو انہیں فوج اورآئی ایس آئی کی جانب سے دھمکیاں دی جاتی ہیں ، سچ لکھنے والے صحافیوں اوراینکرپرسنز کو اغواء کرکے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایاجاتا ہے اوران کے ساتھ توہین آمیز سلوک کیا جاتا ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ فوج اپنے ہی لوگوں کو طاقت کے ذریعہ کچلنے پر تلی ہوئی ہے اور سیاسی جماعتوں کو بوٹوں تلے دباکر سیاست میں مداخلت کررہی ہے ۔متعدد صحافیوں کو آئی ایس آئی اورفوج اپنے سیف ہاؤسز میں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بناکر قتل کرچکی ہے ۔ معروف دانشور اورایم کیوایم کے مرکزی رہنما پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفرعارف جن کی پوری زندگی طلباء کو روشن خیالی کادرس دیتے اور علم کے فروغ میں گزرگئی ، انہیں ایم کیوایم میں شمولیت کے بعد اکتوبر 2016ء میں بلاجواز گرفتارکرکے چھ ماہ تک جیل میں قیدرکھاگیا ، 8، دسمبر2017ء کوگرفتارکرکے 24 گھنٹے حراست میں رکھ کر دھمکیاں دی گئیں کہ ایم کیوایم کا کام ترک کردیں، بعد میں دیگر ذرائع سے بھی دھمکیاں دی جاتی رہیں کہ پروفیسر حسن ظفرعارف سے کہیں کہ وہ ایم کیوایم سے الگ ہوجائیں ورنہ ان کی لاش ملے گی ۔بالآخر 13، جنوری 2018ء کو ڈاکٹر حسن ظفرعارف کو فرید چیمبرسے گھرجاتے ہوئے اغواء کرکے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بناکرقتل کردیاگیا اوران کی لاش ابراہیم حیدری کے علاقے 

میں پھینک دی گئی ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے میڈیا پر یہ پابندی عائد کردی گئی کہ ان کے ہاتھوں ہونے والے کسی بھی ماورائے عدالت قتل کے واقعہ پر کوئی ٹاک شونہ کیاجائے تاہم تمام ترجبر کے باوجود بعض صحافیوں نے ڈاکٹر حسن ظفرعارف کے حوالہ سے اخبارات میں مضامین لکھے، سوشل میڈیا پربعض صحافیوں ، اینکرپرسنز اوربلاگرز نے ڈاکٹرحسن ظفرعارف کے ماورائے عدالت قتل کی مذمت کی جس پرمیں انہیں زبردست سلام تحسین پیش کرتا ہوں۔ 
جناب الطاف حسین نے نوجوان صحافی فوادحسن کے غیرقانونی اغوا اورتشددکے واقعہ کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہاکہ آج مورخہ 22 جنوری 2018 کراچی یونیورسٹی ٹیچرزسوسائٹی کے زیراہتمام ایم کیوایم کے سینئررہنما، جامعہ کراچی کے عظیم استاد، فلاسفر،دانشور ، پروفیسر ڈاکٹرحسن ظفر عارف شہید کی یاد میں ایک تعزیتی اجلاس منعقدکیاگیاتھا۔یہ تعزیتی اجلاس کراچی یونیورسٹی کے آرٹس آڈیٹوریم میں دن کے وقت منعقد کیاگیااوراس تعزیتی اجلاس میں جامعہ کراچی کے اساتذہ، طلبہ وطالبات اورصحافیوں نے شرکت کی ۔ دیگرصحافیوں کے ساتھ ساتھ انگریزی روزنامہ ’’ ایکسپریس ٹریبیون ‘‘ (Express Tribune) کے نوجوان صحافی فواد حسن بھی اس تعزیتی اجلاس کی کوریج کیلئے وہاں موجود تھے۔ فوادحسن اس تعزیتی اجلاس کی کوریج کے بعد واپس جارہے تھے کہ سادہ لباس میں ملبوس آئی ایس آئی اوررینجرزاہلکاروں نے انہیں حراست میں لے لیا۔جب اس واقعہ کی اطلاع یونیورسٹی میں موجود دیگر صحافیوں کوملی تو وہ فوری طور پر یونیورسٹی میں قائم رینجرزہیڈکوارٹر پہنچے اوررینجرزکے افسران سے فوادحسن کو حراست میں لئے جانے اورجبری گمشدگی کے واقعہ پر بات کی ۔ اس وقت رینجرزکے افسران نے ایسے کسی بھی واقعہ سے لاعلمی کااظہارکیالیکن جب فواد حسن کی غیرقانونی حراست کی خبر سوشل میڈیاپر پھیل گئی اور کئی روشن خیال ، جمہوریت پسند اورانسانی حقوق پریقین رکھنے والے سینئرصحافیوں، بلاگرزاورسوشل میڈیا ایکٹوسٹ نے اس واقعہ پر اپنی سخت تشویش کا اظہار کیا توکچھ گھنٹوں بعد فوادحسن کو رینجرزکے ہیڈکوارٹرسے ریلیز کیاگیا۔جناب الطا ف حسین نے کہاکہ میڈیاکی اطلاعات کے مطابق فوادحسن کو حراست کے دوران بری طرح تشددکانشانہ بنایاگیااور انہیں دھمکیاں دی گئیں کہ وہ آئندہ ایسے کسی شخص کے بارے میں منعقدکئے گئے کسی سیمینار میں شرکت نہ کریں جسے فوج یا آئی ایس آئی نے ماراہو۔میڈیا کے مطابق فوادحسن کو یہ دھمکیاں بھی دی گئیں کہ وہ اس واقعہ کا تذکرہ کسی سے نہ کریں کیونکہ سرکاری ایجنسیاں ان کے فون ریکارڈ کررہی ہیں۔ اگرانہوں نے اس واقعہ کے بارے میں کسی کو بتایا تو انہیں دوبارہ اٹھالیاجائے گااوران کابہت براحشر ہوگا۔
جناب الطاف حسین نے فوادحسن کی حراست اورتشددکے واقعہ کی شدیدمذمت کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان میں ریاستی جبراس حدتک بڑھ چکاہے کہ کوئی صحافی ڈاکٹرحسن ظفرعارف شہید کے تعزیتی اجلاس کی کوریج تک نہیں کرسکتا۔اس سے قبل سرکاری ایجنسیوں نے ڈاکٹرحسن ظفرعارف کی شہادت سے متعلق خبروں اورٹاک شوزپر بھی پابندی لگادی تھی جس کے لئے میڈیاپر شدیددباؤ ڈالاگیاجس کی وجہ سے ٹی وی چینلزپر ڈاکٹرحسن ظفرعارف کی شہادت کی سے متعلق خبریں الیکٹرانک میڈیاسے غائب کردی گئیں اوراس حوالے سے کوئی ٹاک شونہیں ہوا۔آج جامعہ کراچی میں ڈاکٹرحسن ظفرعارف شہید کے لئے ہونے والے تعزیتی اجلاس کی کوریج پر بھی دباؤ ڈال کر پابندی لگادی گئی۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ فوادحسن کی غیرقانونی حراست اورتشددکے واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ڈاکٹرحسن ظفرعارف شہید کے ماورائے عدالت قتل میں وہی عناصر ملوث ہیں جواس واقعہ کودبانے کیلئے تعزیتی اجلاس کی کوریج کوروک رہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ کچھ عرصہ قبل جب جامعہ کراچی کے پروفیسر ریاض احمداوردیگراساتذہ ڈاکٹرحسن ظفر عارف کی رہائی کیلئے کراچی پریس کلب پریس کانفرنس کرنے جارہے تھے کہ پروفیسرریاض احمدکوبھی سرکاری ایجنسیوں نے گرفتارکرلیا تھا اورکئی دنوں تک غیرقانونی حراست میں رکھ کرانہیں ذہنی وجسمانی اذیتیں دی تھیں۔ جناب الطا ف حسین نے غیرقانونی حراست اورتشددکے واقعہ پرایم کیوایم کی جانب سے صحافی فوادحسن سے مکمل ہمدردی کااظہار کیا۔انہوں نے وزیراعظم شاہدخاقان عباسی اوروزیرداخلہ احسن اقبال سے مطالبہ کیاکہ فوادحسن کی حراست اورتشددکے واقعہ کی تحقیقات کرا ئی جائے اور تمام صحافیوں، بلاگرزاورانسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے افراد کوتحفظ فراہم کیاجائے ورنہ ایسی وزارت عظمیٰ اوروزارت داخلہ سے کیافائدہ ۔ 

جناب الطاف حسین نے کہاکہ ملک کی خدمت کرنے والے اساتذہ اوردانشوروں کوتو ماورائے عدالت قتل کیاجارہاہے،روشن خیال صحافیوں اوربلاگرزکو اغوا کرکے تشدد کانشانہ بنایاجارہاہے جبکہ طالبان کے سربراہ صوفی محمد جنہوں نے خودکش حملوں، بم دھماکوں اوردیگرتخریبی کارروائیوں کے ذریعے ملک کی بے شمار مساجد، امام بارگاہوں،بزرگان دین کے مزارات، سیکوریٹی فورسز کے مراکزکوبم دھماکوں سے اڑادیااور ملک میں دہشت گردی کابازارگرم کرایا اس صوفی محمد کورہاکردیاگیا اوراسے ٹی وی پرپیش کیا جارہاہے۔ آخر فوج اورآئی ایس آئی والے یہ کیاکررہے ہیں؟ کیایہ عمل ملک کے لئے صحیح ہے؟ انہوں نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمرجاویدباجوہ کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ کیاآپ کواللہ کے ہاں جواب نہیں دیناہے؟ کیایہ عمل کرکے آپ باقی ماندہ ملک کونقصان نہیں پہنچارہے ہیں؟ انہوں نے کہاکہ ملک میں کوئی غدارنہیں ہے ، غداراورملک دشمن فوج کے وہ کرپٹ عناصر ہیں جنہوں نے ایسے ہی ظالمانہ اقدامات کرکے ملک کوتوڑڈالااورآج بھی باقیماندہ ملک کو تباہ وبرباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ پوری فوج بری نہیں ہے ، فوج کے سپاہی برے نہیں ہیں ،اسی طرح آئی ایس آئی کے سپاہی برے نہیں ہیں بلکہ کچھ کرپٹ جرنیل ہیں جویہ سب کچھ کروارہے ہیں۔جناب الطا ف حسین نے کہاکہ ملک کوتباہ ہونے سے بچانے کیلئے زندگی سے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے عوام کوفوج اورسرکاری ایجنسیوں کے ان ظالمانہ اورڈریکونین اقدامات کے خلاف میدان میں آناچاہیے اورفوج ،آئی ایس آئی اورسرکاری ایجنسیوں کا سیاست میں عمل دخل بند ہوناچاہیے۔جناب الطاف حسین نے چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ پانی،بجلی، اسپتال،ٹریفک ہرمعاملے میں ازخودنوٹس لے رہے ہیں لیکن ملک کے عظیم استاد،فلاسفرڈاکٹرحسن ظفرعارف کے ماورائے عدالت قتل پر آپ خاموش ہیں ، اتنے بڑے واقعہ پرآپ کاضمیرکہاں گیا؟ کیاآپ کواللہ کے ہاں حساب نہیں دیناہے؟انہوں نے چیف جسٹس سپریم کورٹ سے اپیل کی کہ وہ ڈاکٹرحسن ظفرعارف کے ماورائے عدالت قتل اور فوادحسن ودیگر صحافیوں اوربلاگرز کے اغوا اور تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کابھی سوموٹو لیں ۔ انہوں نے تمام صحافتی تنظیموں اورانسانی حقوق کی انجمنوں سے بھی اپیل کی کہ وہ بھی صحافیوں اوربلاگرزکے اغواکے واقعات کے خلاف آواز احتجاج بلندکریں اورملک کوبچائیں۔

*****


2/17/2018 1:10:21 PM