Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ڈاکٹر حسن ظفرعارف کو جمہوریت دشمن قوتوں نے ماورائے عدالت قتل کیا ہے،قائد تحریک الطاف حسین


 Posted on: 1/16/2018
ڈاکٹر حسن ظفرعارف کو جمہوریت دشمن قوتوں نے ماورائے عدالت قتل کیا ہے،قائد تحریک الطاف حسین
جمہوریت دشمن قوتیں1947ء سے 2018ء تک ہر جمہوری حکومت کے خلاف سازشیں کرتی رہی ہیں ،الطاف حسین
فوجی آمریت آج بھی جمہوری حکومت کے خاتمے کی سازش کررہی ہے، الطاف حسین
ملک کی 99.9فیصد جماعتیں ،فوجی اسٹیبلشمنٹ کی آلہ کار بنی ہوئی ہیں ،الطاف حسین
فوجی اسٹیبلشمنٹ نے ذرائع ابلاغ کو یرغمال بنارکھا ہے ،الطاف حسین
پاکستان کی سپریم کورٹ سمیت انصاف کے تمام ادارے فوجی آمریت کے ماتحت ہیں ، الطاف حسین
ڈاکٹرصاحب نے آمریت کے خلاف جدوجہد میں قیدوبند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں ، الطاف حسین
اگر ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے ڈاکٹر حسن ظفرعارف جیسے عالم کے قتل اور بے گناہ شہریوں کو گرفتارکرکے غائب کرنے کا عمل بند نہ کیا تو
ملک پر عذاب نازل ہوگا اور اس کا نتیجہ 22 کروڑ عوام کو بھگتنا پڑے گا، الطاف حسین
متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائد جناب الطاف حسین کا آڈیوپیغام

متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ ایم کیوایم کے مرکزی رہنما پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفرعارف ، پاکستان میں صحیح معنوں میں جمہوریت کے فروغ اور جمہوری اداروں کے استحکام کیلئے جدوجہد کررہے تھے،ڈاکٹر حسن ظفرعارف کو جمہوریت دشمن قوتوں نے تشدد کا نشانہ بناکر ماورائے عدالت قتل کیا ہے،یہ فوجی آمریت آج بھی جمہوری حکومت کے خاتمے کی سازش کررہی ہے۔اپنے ایک آڈیو پیغام میں جناب الطاف حسین نے ڈاکٹرحسن ظفرعارف شہید کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ ڈاکٹر حسن ظفرعارف مورخہ 13، جنوری 2018ء کی شام کراچی کے علاقے صدر میں واقع فرید چیمبرسے اپنے گھرواقع ڈیفنس فیز 6 جانے کیلئے روانہ ہوئے تھے ، ڈاکٹر صاحب کی صاحبزادی بیرون ملک جارہی تھیں اور وہ ایک دن اپنی صاحبزادی کے ساتھ گزارنا چاہتے تھے لہٰذا تحریکی ساتھیوں نے ڈاکٹر صاحب کے ساتھ طے شدہ میٹنگیں ملتوی کردیں اور ڈاکٹر صاحب سب کوخداحافظ کہہ کر اکیلے اپنی کار میں گھر کیلئے روانہ ہوگئے لیکن 14، جنوری2018ء کو ان کی لاش ابراہیم حیدری کے علاقے سے پائی گئی۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ڈاکٹر حسن ظفرعارف ایک ذہین اور عالم شخص تھے،ان کا آئی کیو لیول اتنا اعلیٰ تھا کہ وہ پاکستان ، امریکہ اور برطانیہ سمیت جہاں جہاں تعلیم حاصل کرنے گئے وہاں وہاں وہ ذہین ترین طلباء میں سرفہرست رہے ۔ ڈاکٹرصاحب ملک بھرکے مظلوم ومحروم عوام کیلئے بلاامتیاز رنگ ونسل، زبان ، جنس، مسلک اور مذہب مساویانہ حقوق کیلئے جدوجہد کررہے تھے ، ملک بھرکے مظلوم عوام کیلئے اظہار رائے، تحریر و تقریراور اختلاف رائے کی آزادی پریقین رکھتے تھے اور ملک میں تنقید کرنے اور تنقید برداشت کرنے کا معاشرہ قائم کرنا چاہتے تھے ۔ڈاکٹر صاحب نہ صرف ایک استاد، عالم، فلسفی ، رائٹر، مصنف اور مترجم تھے بلکہ ہرشعبہ میں معلومات رکھنے والی شخصیت بھی تھے ، وہ ایک ترقی پسند، پروگریسیواور انسانیت پریقین رکھنے والی شخصیت تھے،انہوں نے جمہوریت کے فروغ، انسانیت کی بقاء اورآمریت کے خلاف جدوجہد میں قیدوبند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ جمہوریت دشمن قوتوں نے ملک میں سچی جمہوریت کے قیام کی جدوجہد کرنے والی شخصیت کو بڑی بیدردی اورسفاکی سے شہید کردیا۔ انہوں نے کہاکہ جو قوتیں ،ملک میں آمریت مسلط کرنا چاہتی ہیں ان قوتوں نے جمہوریت کی بقاء وسلامتی اور آمریت کے خاتمے کی جدوجہد کرنے والی شخصیت کو پاکستان کے مظلوم ومحروم عوام سے چھین لیا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ جمہوریت دشمن قوتیں1947ء سے 2018ء تک ہر جمہوری حکومت کے خلاف سازشیں کرتی رہی ہیں ، ان عسکری 

2
قوتوں نے پاکستان کی آزادی کیلئے کوئی قربانی نہیں دی لیکن آج وہ ملک کی سب سے بڑی محب وطن بنی بیٹھی ہیں، انہی فوجی قوتوں نے پاکستان دولخت کیا اور 93 ہزار فوجیوں کو ہتھیار ڈالنے پڑے لیکن فوجی اسٹیبلشمنٹ نے ماضی کے تلخ تجربے سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ ڈاکٹرحسن ظفرعارف نے کسی کو کیا نقصان پہنچایا تھا؟ وہ صرف مظلوموں اورمحروموں کے حقوق کی جدوجہد کررہے تھے ، انہیں 28، جنوری کو سرائیکی علاقے میں دورہ کرنا تھا اورپھر ان کاصوبہ خیبرپختونخوا اور صوبہ بلوچستان کے دورے کا بھی پروگرام تھا ، وہ چاہتے تھے کہ ملک بھرکے عوام کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے انقلاب فرانس کی طرز پر انقلاب لایاجائے تاکہ ملک بھرکے عوام بلاامتیاز وتفریق باعزت زندگی گزارسکیں اور ملک میں آقا غلام کا کوئی تصور نہ ہوبلکہ سب برابر ہوں۔ ایسی ریاست کی تمنا کرنے والی شخصیت کو فوجی آمریت نے چھین لیااوریہ فوجی آمریت آج بھی جمہوری حکومت کے خاتمے کی سازش کررہی ہے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ملک کی 99.9فیصد جماعتیں ،فوجی اسٹیبلشمنٹ کی آلہ کار بنی ہوئی ہیں ، فوجی اسٹیبلشمنٹ نے ذرائع ابلاغ کو یرغمال بنارکھا ہے ، جو صحافی ، تجزیہ نگاراور اینکرپرسن سچ لکھے یا بولے اسے فوجی قوتیں اور ان کے ہرکارے غائب کرکے اس کا حشر نشرکردیتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ پاکستان کی سپریم کورٹ سمیت انصاف کے تمام ادارے بھی آزاد نہیں بلکہ فوجی آمریت کے ماتحت ہیں ، خود چیف جسٹس آف سپریم کورٹ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے تابع ہیں اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے اسکرپٹ پڑھ کرسناتے ہیں ، حدتو یہ ہے کہ قاتلوں کو آزاد کرنا اور مظلوموں کو قید کرنا ان عدالتوں کا وطیرہ بن چکا ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان کے تمام ادارے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ماتحت کام کررہے ہیں جس کا ثبوت ڈاکٹر حسن ظفرعارف کی شہادت ہے جو جمہوریت اور انسانیت سے محبت کرنے والے وفاپرستوں کا گروپ بنارہے تھے اور ڈاکٹر صاحب کے مشن کو روکنے کیلئے ان کو قتل کردیا گیا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ڈاکٹر حسن ظفرعارف 22، فروری 1945ء کو پیدا ہوئے اوران کے والد کانام مقبول حسین تھااور شناختی کارڈ میں ان کی شناختی علامت دائیں ہاتھ پر تل کا نشان ہے ۔ ڈاکٹرحسن ظفرعارف ’’وفا‘‘کی علامت ہیں اور پوری قوم نے انہیں ’’شہید وفا‘‘ کا لقب دیاہے ۔ جناب الطاف حسین نے ڈاکٹرحسن ظفرعارف کی موت کی وجہ کے حوالہ سے جناح اسپتال کی ڈاکٹرسیمی جمالی کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ انہیں ثبوت وشواہد کو نظرانداز کرکے جہادیوں کی طرح فتویٰ نہیں دینا چاہیے تھا۔ ڈاکٹر صاحب کی شہادت کے بعد ان کی تصاویر اور وڈیو سے پوری دنیا اصل حقائق سے واقف ہوچکی ہے اورفوجی اسٹیبلشمنٹ ان حقائق کو جھٹلانہیں سکتی ۔ ڈاکٹر صاحب اکیلے گاڑی چلاکر اپنی رہائش گاہ مکان نمبر 29/C راحت لین ، 2 راحت کمرشل ایریا، فیز 6 ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کراچی نزد پوسٹ آفس ڈیفنس 6 کراچی جارہے تھے تو پھر ان کی لاش ابراہیم حیدری کے ساحلی علاقے کے قریب سے کیسے برآمد ہوئی؟ اس جگہ کا ڈاکٹر صاحب کی رہائش گاہ سے فاصلہ تقریباً 25 کلومیٹر ہے۔ جو شخص تمام اجلاسوں کوچھوڑ کر اپنے گھرکیلئے روانہ ہواسے تو سیدھا اپنے گھرجانا چاہیے ، کیا وہ سمندر سے خطاب کرنے جارہے تھے؟انہوں نے کہاکہ بقول ڈاکٹرسیمی جمالی، ڈاکٹر حسن ظفرعارف کی موت طبعی ہے ، اگر اس بات کو مان بھی لیاجائے تو پھر ڈاکٹر صاحب کا انتقال گھرکے راستے میں ہونا چاہیے تھا ،پھران کی لاش ابرہیم حیدری کے علاقے سے کیوں پائی گئی؟ سیمی جمالی صاحبہ کو اس بات کابھی جواب دینا چاہیے کہ ڈاکٹر صاحب اپنی گاڑی خود ڈرائیو کررہے تھے مگران کی لاش گاڑی کی پچھلی نشست پر کیوں پائی گئی ؟سیمی جمالی کو جھوٹ بولتے ہوئے شرم کرنی چاہیے وہ جھوٹ بول کر ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے تو بچ سکتی ہیں لیکن اللہ کے عذاب سے نہیں بچ سکتیں۔ ملٹری اسٹیبلشمنٹ اپنے سربراہ جنرل ضیاء الحق اور دیگر اعلیٰ فوجی افسران کو بھی نہیں بچاسکی۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ اگر ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے ڈاکٹر حسن ظفرعارف جیسے عالم کے قتل اور بے گناہ شہریوں کو گرفتارکرکے غائب کرنے کا عمل بند نہ کیا توملک پر عذاب نازل ہوگا اور اس کا نتیجہ 22 کروڑ عوام کو بھگتنا پڑے گا۔ جناب الطاف حسین نے تحریک کے تمام کارکنان پر زوردیا کہ وہ ڈاکٹر حسن ظفرعارف کی طرح وفاپرست بننا سیکھیں جو نظریہ کی بقاء کی خاطر اپنی جان دے سکتا ہے اورجان دیکراپنے نظریہ کو بچابھی سکتا ہے ۔
*****

6/21/2018 1:03:01 PM