Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

یہ کہناکہ ایم کیوایم کے قیام کی وجہ سے مہاجروں پر مظالم ہوئے ہیں،تاریخی حقائق کی روشنی میں سراسرغلط ہے مہاجروں نے ہی پاکستان بنایا، ان کا وجود ایک حقیقت ہے، اس حقیقت کوتسلیم کیاجائےقاسم علی رضا


 یہ کہناکہ ایم کیوایم کے قیام کی وجہ سے مہاجروں پر مظالم ہوئے ہیں،تاریخی حقائق کی روشنی میں سراسرغلط ہے مہاجروں نے ہی پاکستان بنایا، ان کا وجود ایک حقیقت ہے، اس حقیقت کوتسلیم کیاجائےقاسم علی رضا
 Posted on: 1/5/2018 1

ایم کیوایم کاقیام مہاجروں پرہونیوالے مظالم ،ناانصافیوں اوراستحصال کا نتیجہ ہے۔ ایم کیوایم کے رہنماؤں کااہم خطاب
یہ کہناکہ ایم کیوایم کے قیام کی وجہ سے مہاجروں پر مظالم ہوئے ہیں،تاریخی حقائق کی روشنی میں سراسرغلط ہے
مہاجروں نے ہی پاکستان بنایا، ان کا وجود ایک حقیقت ہے، اس حقیقت کوتسلیم کیاجائے
ایم کیو ایم کے خلاف ریاستی آپریشن فی الفوربند کیاجائے،ایم کیوایم کوسیاسی سرگرمیوں کی مکمل آزادی دی جائے
اسٹیبلشمنٹ لیاقت علی خان کے مکے سے خوفزدہ ہے ، پہلے مکاچوک کا نام تبدیل کر ایا اور پھر اس علامتی مکے کو وہاں سے ہٹا دیا۔قاسم علی رضا
ہم ایسے کسی فیصلے کو ہرگز تسلیم نہیں کریں گے جو مہاجروں کی خواہشات اورامنگوں کے برخلاف مسلط کیے جارہے ہیں۔قاسم علی رضا
مصطفےٰ کمال ایک بدبخت اورگمراہ شخص ہے ، وہ اسٹیبلشمنٹ کی ایماء پر ایم کیوایم کوختم کرنے کی باتیں کررہاہے۔ڈاکٹرندیم احسان
پی آئی بی ٹولہ کے سرکردہ افراد اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ اورعیاشیوں کے لئے اسٹیبلشمنٹ کی کاسہ لیسی کررہے ہیں۔ڈاکٹرندیم احسان
مہاجروں کوبرابرکاپاکستانی سمجھتے ہوئے انہیں سرکاری ملازمتوں،اعلیٰ تعلیم اور زندگی کے تمام شعبوں میں ان کاحق دیاجائے،منظوراحمد
سیاسی جماعتیں، اینکرزاور تجزیہ نگار سانحہ ماڈل ٹاؤن کا ذکرکرتے ہیں لیکن مہاجروں کے قتل عام کاذکرکوئی نہیں کرتا ۔مصطفےٰ عزیزآبادی
کراچی میں قیام امن اور جرائم کے خاتمہ کے دعوے سراسر ڈھکوسلہ ہیں، صورتحال پہلے سے زیادہ خراب ہے ۔سفیان یوسف
مہاجروں کے زخموں پر مرہم رکھناہوگااورطاقت کے بجائے بات چیت سے مسئلے کوحل کرناہوگا۔شاہدرضا
متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماؤں کا انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میں اہم اور تفصیلی وڈیوبریفنگ سے خطاب

لندن ۔۔۔ 5 جنوری 2018ء

مہاجروں کاسیاسی،معاشی،اقتصادی اورجسمانی قتل اوراستحصال قیام پاکستان کے بعد ہردورمیں کیاگیاہے، ایم کیوایم انہی مظالم ،ناانصافیوں اوراستحصال کا نتیجہ ہے، لہٰذایہ کہناکہ ایم کیوایم کے قیام کی وجہ سے مہاجروں پر مظالم ہوئے ہیں،تاریخی حقائق کی روشنی میں سراسرغلط اورحقائق کے منافی ہے۔ مہاجروں نے ہی پاکستان بنایا، ان کا وجود ایک حقیقت ہے، اس حقیقت کوتسلیم کیاجائے،مہاجروں کوبرابرکاپاکستانی سمجھتے ہوئے انہیں سرکاری ملازمتوں،اعلیٰ تعلیم اور زندگی کے تمام شعبوں میں ان کاحق دیاجائے،مہاجروں کے خلاف مظالم اورناانصافیوں کاسلسلہ بند کیاجائے ،مہاجروں کی واحدنمائندہ جماعت ایم کیو ایم کے خلاف ریاستی آپریشن فی الفوربند کیاجائے اورایم کیوایم کوقائدتحریک الطاف حسین کی قیادت میں سیاسی سرگرمیوں کی مکمل آزادی دی جائے ۔ ان خیالات کا اظہار متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماؤں نے انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میں ایک اہم اور تفصیلی وڈیوبریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وڈیوبریفنگ سے انٹرنیشنل سیکریٹریٹ کے انچارج قاسم علی رضا، رابطہ کمیٹی کے سابق ارکان ڈاکٹرندیم احسان، مصطفےٰ عزیزآبادی، منظوراحمد، رکن قومی اسمبلی سفیان یوسف اور شاہد رضانے خطاب کیا۔ اس وڈیوبریفنگ میں وڈیوز، تصویروں،اخباری تراشوں اوراعدادوشمارکی مدد سے قیام پاکستان کے بعد مختلف ادوارمیں کئے گئے مہاجروں کے قتل عام اورمظالم کے واقعات ، ایم کیوایم کے خلاف جاری ریاستی آپریشن کے دوران کئے جانے والے غیرآئینی اقدامات اورایم کیوایم کے خلاف سرکاری سرپرستی میں قائم کئے گئے گروپس کی کارروائیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ۔ 

انٹرنیشنل سیکریٹریٹ کے انچارج قاسم علی رضا نے قائد تحریک جناب الطاف حسین کی صدارت میں چندروزقبل ہونیوالے سینئر ذمہ داران کے طویل اجلاسوں میں کئے گئے فیصلوں کاذکرکرتے ہوئے کہاکہ تنظیم نوکے سلسلے میں کنوینروڈپٹی کنوینر سمیت رابطہ کمیٹی سے یونٹوں کی سطح تک پاکستان میں تمام تنظیمی ڈھانچہ تحلیل کیاجاچکا ہے ۔ اب ہر کارکن بذات خود نہ صرف تحریک کا مجاہد ہے بلکہ قائد تحریک جناب الطاف حسین بھائی کا نمائندہ بھی ہے لہٰذا ہرتحریکی ساتھی پر لازم ہے کہ وہ تحریک ، قوم اور نظریہ کی بقاء کیلئے اپنی ذمہ داریوں کو خود محسوس کرے اور قائد تحریک جناب الطاف حسین کی تعلیمات کے مطابق مہاجرقوم کے حقوق کی جدوجہد میں اپنی صلاحیتوں کو پوری دیانتداری اور ایمانداری سے استعمال کرے ۔ 
قاسم علی رضا نے عزیزآباد کے تاریخی ’’مکاچوک‘‘ کا نام تبدیل کر نے کے فیصلہ کو سراسر بدنیتی پر مبنی اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی ’’وش لسٹ‘‘ کے مطابق قراردیا اور کہا کہ مکاچوک ، شہید ملت خان لیاقت علی خان کے تاریخی ’’مکے‘‘ سے ہی منسوب ہے لیکن خان لیاقت علی خان کو شہید کرنے والی اسٹیبلشمنٹ اس تاریخی سے مکے سے آج بھی خوف زدہ ہے یہی وجہ ہے کہ اس نے مہاجرشہداء کے لہو کا سودا کرنے والے پی آئی بی ٹولے کے ذریعے پہلے مکاچوک کا نام تبدیل کر ایا اور پھر اس علامتی مکے کو وہاں سے ہٹا دیا ۔انہوں نے پیپلزپارٹی کی متعصب سندھ حکومت کی جانب سے قائد تحریک جناب الطاف حسین کے نام سے موسوم تعلیمی ادارے ، عمارتوں، شاہراہوں اورجگہوں کے نام بھی تبدیل کرنے اور دیگر متعصبانہ اقدامات اورفیصلوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاکہ ہم ایسے کسی فیصلے کو ہرگز تسلیم نہیں کریں گے جو کراچی ، حیدرآباد اور سندھ کے دیگر شہروں میں بسنے والے پانچ کروڑ سے زائد مہاجروں کی خواہشات اورامنگوں کے برخلاف مسلط کیے جارہے ہیں ۔ یہ فیصلے اوراقدامات سراسر آمرانہ ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ قاسم علی رضا نے کہا کہ قائد تحریک جناب الطاف حسین کو کسی بھی عدالت کی جانب سے مجرم قرارنہیں دیا گیا ہے البتہ عدالت کے تاریخی فیصلے میں ذوالفقارعلی بھٹو کو قاتل قراردیاجاچکا ہے ۔ پیپلزپارٹی کے جاگیردار اوروڈیرے اگرقائد تحریک جناب الطاف حسین کے نام سے موسوم تعلیمی اداروں، عمارتوں ، شاہراہوں اورجگہوں کا نام تبدیل کرنے کی کوشش کریں گے تو پھر ذوالفقارعلی بھٹو کے نام پر رکھے گئے تعلیمی اداروں، عمارتوں اور شاہراہوں کے نام بھی تبدیل کرنے کا مطالبہ کرنا قطعی حق بجانب ہوگا کیونکہ ذوالفقارعلی بھٹو کو عدالت کی جانب سے قاتل قراردیکر پھانسی پرلٹکایاجاچکا ہے اورکسی قاتل کے نام پر تعلیمی اداروں، عمارتوں اورشاہراہوں کے نام رکھنا آئینی ، قانونی ،اخلاقی اور شرعی اعتبار سے ناجائز ہے ۔انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی کی متعصب حکومت،طاقت کے نشے میں آمرانہ فیصلوں سے گریز کرے بصورت دیگر اسے سندھ کے شہری عوام بالخصوص مہاجرقوم کے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا ۔قاسم علی رضانے کہاکہ ارباب اختیارکو یادرکھنا چاہیے کہ ریاستی طاقت کے بل پر کیے جانے والے غیرآئینی وغیرقانونی اقدامات اورناانصافیوں کے مسلسل عمل سے عوام میں محبت نہیں بلکہ نفرت جنم لیتی ہے ۔ مہاجرقوم کے خلاف ریاستی طاقت کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ بھی عوام کے دلوں سے قائد تحریک جناب الطاف حسین کی محبت کوختم نہیں کرسکا ہے ۔ انہوں نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمرباجوہ کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان پر خطرات کے بادل منڈلارہے ہیں ، ملک کی سلامتی وبقاء داؤ پر لگی ہوئی ہے ایسے مشکل وقت میں قومی یکجہتی کوفروغ دینے پرتوجہ دی جانی چاہیے لیکن اس کے برعکس مظلوم بلوچوں ، مہاجروں ، سندھیوں اور قبائلیوں کو ظلم وستم کا نشانہ بناکر قومی یکجہتی کا مزید شیرازہ بکھیرا جارہا ہے جوملک سے ہمدردی نہیں ہے ۔انہوں نے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے دردمندانہ اپیل کی کہ خداراایم کیوایم کی حقیقت کو تسلیم کیاجائے ، ایم کیوایم کو دیگر جماعتوں کی طرح سیاسی سرگرمیوں کی مکمل آزادی دی جائے ، ایم کیوایم کے مرکز نائن زیروکو کھولا جائے ، قائد تحریک جناب الطاف حسین کی تحریر، تقریروتصویر کو نشر وشائع کرنے پر عائد غیرآئینی پابندی ختم کی جائے ۔ ایم کیوایم کے دفاتر واپس کیے جائیں ، چائنا کٹنگ ،زمینوں پر قبضہ ، بھتہ خوری اور دیگرجرائم میں ملوث ضمیر فروشوں کی سرپرستی کا سلسلہ بندکیاجائے ، مہاجرقوم پر مصنوعی لیڈران مسلط کرنے کی ناکام کوشش بند کی جائے ، ایم کیوایم کے اسیر کارکنوں کو رہا اور لاپتہ کارکنوں کو فی الفور بازیاب کرایا جائے اور ریاستی طاقت کے بل پر ایم کیوایم اورمہاجرقوم کو کچلنے کی روش ترک کی جائے ۔


رابطہ کمیٹی کے سابق رکن ڈاکٹرندیم احسان نے اس موقع پر اظہارخیال کرتے ہوئے پی ایس پی ٹولے اورپی آئی بی ٹولے کی کارروائیوں پر روشنی ڈالی ۔ انہوں نے پی ایس پی کے سرغنہ مصطفےٰ کمال کی پریس کانفرنس کاجواب دیتے ہوئے کہاکہ مصطفےٰ کمال ایک بدبخت اورگمراہ شخص ہے جس نے ایم کیوایم کے پلیٹ فارم سے قائدتحریک الطاف حسین کی بدولت تمام نام اور مقام حاصل کیااورآج وہ اسٹیبلشمنٹ کی ایماء پر ایم کیوایم کوختم کرنے کی باتیں کررہاہے اور قائدتحریک الطاف حسین کی ذات کومسلسل ہدف تنقید بنارہاہے۔ انہوں نے کہاکہ مصطفےٰ کمال ، انیس قائم خانی اورپی ایس پی ٹولے کے دیگرافراد ایم کیوایم کے کارکنوں کورینجرز سے گرفتارکرانے کی دھمکیاں دے دے کرانہیں پی ایس پی میں شامل ہونے پر مجبورکررہے ہیں، اس موقع پر انیس قائم خانی کی ایک کارکن سے فون پر دھمکی آمیزگفتگوکی آڈیوبھی پیش کی گئی ۔ ڈاکٹرندیم احسان نے کہاکہ ایم کیوایم کے کارکنان وعوام پی ایس پی ٹولے کے گھناؤنے کردار کو اچھی طرح جانتے ہیں اسی لئے عوام بارباراس ٹولے کو مستردکررہے ہیں جس کاثبوت لیاقت آبادمیں ہونے والا فلاپ جلسہ ہے ۔ انہوں نے ایک ٹی وی چینل پر نشرہونے والی گیلپ سروے کی رپورٹ پرتبصرہ کرتے ہوئے اسے حقائق کے سراسرمنافی قراردیا۔ انہوں نے کہاکہ اس قسم کے سروے اسٹیبلشمنٹ کے تیارکردہ ہیں جودنیاکوبیوقوف بنانے کے لئے ڈرائنگ رومز میں بیٹھ کرکئے جارہے ہیں جن کازمینی حقائق اورعوام کی آراسے کوئی تعلق نہیں ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ تمام ترمظالم، جبروستم اورپروپیگنڈوں کے باوجود عوام آج بھی ایم کیوایم اورقائدتحریک الطاف حسین کے ساتھ ہیں۔ ڈاکٹرندیم احسان نے کہاکہ پی آئی بی ٹولہ کے سرکردہ افراد اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ اورعیاشیوں کے لئے اسٹیبلشمنٹ کی کاسہ لیسی کررہے ہیں اورتحریک کے نظریہ ، شہداء کی قربانیوں اورمقصد کوبھول چکے ہیں۔انہوں نے پی آئی بی ٹولے کے سربراہ ڈاکٹرفاروق ستارکی جانب تحریک کے شہداء کے لواحقین کوشرپسند قراردینے کی بھی شدید مذمت کی اورکہاکہ یہ عمل انتہائی شرمناک ہے، ایسا کرتے ہوئے انہیں یادرکھناچاہیے تھاکہ انہی شہداء کی قربانیوں کے صدقے فاروق ستاراوران کے حواری اسمبلیوں میں پہنچے تھے اورتمام نام مقام اورمراعات حاصل کی تھیں۔
رابطہ کمیٹی کے سابق رکن منظوراحمدنے اس موقع پر اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ ایم کیوایم کے بعض مخالفین یہ الزام لگاتے ہیں کہ جب سے ایم کیوایم وجود میں آئی ہے ، فسادات ہورہے ہیں ،مہاجروں پرظلم ہورہاہے اورایم کیوایم ہی ان مظالم اورفسادات کی ذمہ دار ہے ۔انہوں نے کہاکہ یہ الزام تاریخی حقائق کی روشنی میں سراسرغلط اورحقائق کے منافی ہے ۔انہوں نے کہاکہ حقیقت یہ ہے کہ مہاجروں کاسیاسی،معاشی،اقتصادی اورجسمانی قتل اوراستحصال قیام پاکستان کے بعد ہردورمیں کیاگیاہے۔انہوں نے جنرل ایوب خان کے مارشل لاء کاذکرکرتے ہوئے کہاکہ 1965ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں مہاجروں نے جنر ل ایوب خان کے مقابلے میں قائداعظم کی ہمشیرہ اورمادرملت محترمہ فاطمہ جناح کاساتھ دیاتھا۔ اس کی پاداش میں ایوب خان نے صوبہ سرحد سے پختونوں کوکراچی لاکرجشن فتح کے جلوس نکالے ،جنرل ایوب کے بیٹے گوہرایوب کی سربراہی میں کراچی کی مہاجربستیوں پر حملے کئے گئے اور کئی بے گناہ مہاجروں کوشہیدکردیاگیاجس کے بعد کراچی میں کرفیو نافذ کیاگیا۔ انہوں نے اس بارے میں برطانیہ کے انگریزی روزنامہ ’’ دی ٹائمز ‘‘ میں 6 اور 8 جنوری 1965ء کوشائع ہونے والی خبریں بھی پڑھ کرسنائیں ۔ایک خبرکے مطابق’’ ہنگامے اس وقت شروع ہوئے جب جنرل ایوب خان کے بیٹے گوہرایوب خان کی قیادت میں جشن فتح کاجلوس نکالاگیا، فسادات میں کم ازکم 30افراد جاں بحق ہوئے،دوسے تین ہزار گھروں کوآگ لگادی گئی، پولیس اورفوج نے کوئی ایکشن نہیں کیا ‘‘۔ ایک اوررپورٹ میں گوہرایوب خان کواس واقعہ میں قاتل قراردیاگیاتھا جوکہ فوج میں کیپٹن کے عہدے پرفائز رہ چکا تھا۔ منظوراحمدنے1972ء میں ذوالفقارعلی بھٹوکے دورحکومت میں صوبہ سندھ میں سندھی زبان کوواحدسرکاری زبان قرار دینے پر ہونے والے لسانی فسادات کا بھی ذکرکیااوراس بارے میں 12جولائی 1972ء کوانگریزی روزنامہ ’’ دی ٹائمز ‘‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ بھی پڑھ کرسنائی جس کے مطابق فساد میں 20افرادہلاک ہوئے ، کراچی میں کرفیو نافذ کیاگیا اورتشددکے واقعات ہوئے ۔ اسی طرح ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں مارچ 1977ء میں عام انتخابات میں دھاندلی کے خلاف پی این اے کی تحریک کے دوران کراچی میں پولیس اورسیکوریٹی فورسز کی اندھا دھند فائرنگ اورلاٹھی 

چارج سے کئی شہری جاں بحق اورزخمی ہوئے ۔ اس حوالے سے 23 مارچ 1977ء کودی ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ بھی پیش کی گئی ۔ منظوراحمدنے کہاکہ مہاجروں کے قتل عام ، فسادات اورمہاجروں کے ساتھ زیادتیوں اورناانصافیوں کے یہ واقعات جب پیش آئے اس وقت نہ تو ایم کیوایم کاکوئی وجود تھااورنہ ہی قائدتحریک الطاف حسین عملی سیاست میں تھے ، لہٰذایہ کہناکہ ایم کیوایم کے قیام کی وجہ سے مہاجروں پر مظالم ہوئے ہیں،تاریخ کی روشنی میں سراسرغلط اورحقائق کے منافی ہے۔ حقیقت تویہ ہے کہ ایم کیوایم انہی مظالم ،ناانصافیوں اوراستحصال کا نتیجہ ہے۔
رابطہ کمیٹی کے سابق رکن مصطفےٰ عزیزآبادی نے وڈیوبریفنگ میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ تمام سیاسی ومذہبی جماعتیں، ٹی وی اینکرزاورسیاسی ودفاعی تجزیہ نگار 17جون 2014ء کو لاہورمیں پیش آنے والے سانحہ ماڈل ٹاؤن کاتوبہت ذکرکرتے ہیں جس میں پولیس کی فائرنگ سے14 افرادجاں بحق ہوئے تھے لیکن کوئی بھی ان سانحات کاذکرنہیں کرتاجن میں سینکڑوں مہاجروں کا قتل عام کیاگیاتھا۔ مصطفےٰ عزیزآبادی نے چندسانحات کاذکر کرتے ہوئے کہاکہ 31 اکتوبر1986ء کوحیدرآبادجلسہ عام میں شرکت کیلئے کراچی سے جانے والے ایم کیوایم کے قافلے پر سہراب گوٹھ اورحیدرآبادمیں مارکیٹ چوک کے مقام پر فائرنگ کی گئی جس سے درجنوں کارکن شہید اورزخمی ہوئے۔ 14دسمبر1986ء کوکراچی کی علی گڑھ کالونی اورقصبہ کالونی پر درجنوں مسلح افراد نے حملہ کرکے چھ گھنٹوں تک مہاجروں کاقتل عام کیا، 200سے زائد مہاجرنوجوان، بزرگ، بچے، مائیں بہنیں بیدردی سے قتل کردی گئیں، گھروں کو لوٹ کرآگ لگائی گئی، انسانوں کوزندہ آگ میں جلایاگیالیکن کوئی اس سانحہ علی گڑھ کاذکرنہیں کرتا۔اسی طرح 30ستمبر 1988ء کوحیدرآبادمیں درجنوں مسلح قوم پرستوں نے حیدرآبادکے مختلف علاقوں میں داخل ہوکراندھادھندگولیاں برسائیں اور300کے قریب معصوم وبے گناہ مہاجروں کو سفاکی سے شہید کردیاگیا، حیدرآبا کی سڑکیں خون میں نہلادی گئیں لیکن اس قتل عام کے ذمہ داروں کوکوئی سزانہیں دی گئی ۔ اسی طرح 26، 27مئی 1990ء کو بینظیر بھٹو کے دورحکومت میں حیدرآبادکے پکاقلعہ میںآپریشن کیاگیااورپکاقلعہ کو پانی ، بجلی، گیس کی سپلائی بندکردیاگیا،چھاپوں کے نام پر گھروں پرحملے کئے گئے ، جب مہاجرخواتین نے سروں پر قرآن مجید رکھ کراس آپریشن کے خلاف پرامن احتجاج کیاتوان خواتین پربھی بیدریغ گولیاں چلائی گئیں اورکئی مہاجرخواتین شہیدکردی گئیں ۔ اس سانحہ پکاقلعہ کے ذمہ داروں کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔مصطفےٰ عزیزآبادی نے کہاکہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ہم بھی مذمت کرتے ہیں، قائدتحریک الطاف حسین اورایم کیوایم کی پوری قیادت نے ہرفورم پر سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کامطالبہ کیا لیکن یہ سراسر ظلم ہے کہ کوئی بھی سیاسی یامذہبی جماعت ، کوئی بھی اینکریاتجزیہ نگارکبھی بھی سانحہ علی گڑھ وقصبہ کالونی، سانحہ سہراب گوٹھ، سانحہ حیدرآباد اورسانحہ پکاقلعہ آپریشن کی تحقیقات کرانے اوراس کے ذمہ داروں کوسزادینے کا مطالبہ نہیں کرتا، کیا مہاجروں کی جانوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے؟ کیاوہ پاکستانی نہیں ہیں؟ انہوں نے کہاکہ دیگرسیاسی جماعتوں، اینکرزاورتجزیہ نگاروں کے اس طرزعمل پر مہاجروں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔ 
رکن قومی اسمبلی سفیان یوسف نے وڈیوبریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حکومت ، پولیس،رینجرزاورقانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کراچی میں قیام امن اورجرائم کے خاتمہ کے بڑے بڑے دعوے کئے جارہے ہیں جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے ، کراچی میں دہشت گردی کی وارداتوں کے ساتھ ساتھ بھتہ خوری، ڈکیتی، دکانوں کی لوٹ مار، اغوابرائے تاوان اوردیگر جرائم کی وارداتیں پہلے سے زیادہ ہورہی ہیں جس کی وجہ سے شہرمیں کاروبار بھی بہت متاثر ہورہاہے ۔انہوں نے 30دسمبر2017ء کوروزنامہ جنگ میں شائع ہونے والی ایک خبرکاحوالہ دیاجس کے مطابق کراچی کی مختلف مارکیٹوں کی انجمنوں کے 50سے زائد نمائندوں نے مارکیٹوں میں ڈکیتیوں ،تالے توڑنے اوربھتہ کے واقعات میں مسلسل اضافے پرگہری تشویش کا اظہار کیا اور جرائم پیشہ عناصرکے خلاف کارروائی کے بجائے رینجرزکی جانب سے دکانداروں کوہی گرفتارکرنے پراحتجاج کیاگیااورکراچی چیمبرآف کامرس سے اس بارے میں آوازاٹھانے کے لئے اپیل کی ۔ سفیان یوسف نے کہا کہ اس صورتحال سے صاف ظاہرہے کہ کراچی میں جرائم کے خاتمہ کے دعوے سراسر ڈھکوسلہ ہیں بلکہ صورتحال پہلے سے زیادہ خراب ہے ۔ انہوں نے گزشتہ تین سالوں کے دوران ہونے والی اسٹریٹ کرائمزاوردیگرسنگین وارداتوں کاچارٹ 

بھی پیش کیاجس کے مطابق وارداتوں میں پہلے سے اضافہ ہواہے۔ سفیان یوسف نے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ کراچی اور حیدرآباد کادورہ کریں اوریہاں مہاجروں کے قتل عام کے مختلف سانحات اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورذیوں کی تحقیقات کریں اورمہاجروں کے لئے آواز بلندکریں۔
رابطہ کمیٹی کے سابق رکن شاہدرضانے اس موقع پر اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ ریاستی آپریشن کے نا م پر بے گناہ مہاجرنوجوانوں کوغائب کیاجارہاہے، ان کے اہل خانہ عدالتوں کے چکرلگارہے ہیں لیکن انہیں انصاف نہیں مل رہاہے، ہزاروں مہاجرنوجوان مختلف جیلوں میں قید ہیں جبکہ سینکڑوں لاپتہ ہیں اوریہ سلسلہ جاری ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ریاستی طاقت کے استعمال سے حقوق کی آوازکوکچلنا مسئلے کاحل نہیں ہے ، ریاست کومہاجروں پر کیاجانے والایہ ظلم وستم بند
کرناہوگا، مہاجروں کے زخموں پر مرہم رکھناہوگااورطاقت کے بجائے بات چیت سے مسئلے کوحل کرناہوگا۔انہوں نے کہاکہ طاقت کے استعمال کے نتائج نہ ماضی میں مثبت نکلے ہیں اورنہ ہی اب نکلیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ قائدتحریک الطاف حسین بارہامصالحت کاہاتھ بڑھاچکے ہیں، اب ریاست کوچاہیے کہ وہ بھی اس پیشکش کامثبت جواب دے اورایم کیوایم کوختم کرنے اورمہاجروں کوکچلنے کی روش کوترک کردے ۔
وڈیو بریفنگ کے اختتام پر تحریک کے شہیدوں کوخراج عقیدت پیش کیاگیااورتحریک کے خلاف کی جانے والی سازشوں کی ناکامی، قائدتحریک الطاف حسین کی درازی عمر، تحریکی جدوجہدکی کامیابی ،لاپتہ کارکنوں کی بازیابی اوراسیروں کی رہائی کے لئے بھی دعاکی گئی۔ 

*****


12/11/2018 7:18:40 AM