Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیوایم ملک دشمن جماعت نہیں، وہ پاکستان کے خلاف نہیں بلکہ فرسودہ جاگیردارانہ ،وڈیرانہ نظام کے خلاف ہے۔الطاف حسین


ایم کیوایم ملک دشمن جماعت نہیں، وہ پاکستان کے خلاف نہیں بلکہ فرسودہ جاگیردارانہ ،وڈیرانہ نظام کے خلاف ہے۔الطاف حسین
 Posted on: 12/26/2017
ایم کیوایم ملک دشمن جماعت نہیں، وہ پاکستان کے خلاف نہیں بلکہ فرسودہ جاگیردارانہ ،وڈیرانہ نظام کے خلاف ہے۔الطاف حسین
کلبھوشن یادیو سے اس کی اہلیہ اوروالدہ کی ملاقات کرانااچھااقدام ہے لیکن جنرل قمرجاویدباجوہ لاپتہ مہاجروں،
بلوچوں، فاٹااور دیگرعلاقوں سے تعلق رکھنے والے لاپتہ افرادکے اہل خانہ کوبھی ان کے پیاروں سے ملوائیں
جنرل قمرجاویدباجوہ چھوٹے صوبوں کے عوام پر ظلم بندکرائیں،سب کوان کے حقوق دیں،چھوٹے صوبوں کے عوام
اوران کے رہنماؤں کو غدار قراردینے کاسلسلہ بندکرائیں اوران کے ساتھ انصاف کرائیں
ایم کیوایم کے قائد الطا ف حسین کاچیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کے نام اہم اورتفصیلی آڈیوپیغام 

متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمرجاویدباجوہ کومخاطب کرتے ہوئے کہاہے کہ میں یقین دلاتاہوں کہ ایم کیوایم ملک دشمن جماعت نہیں، وہ پاکستان کے خلاف نہیں بلکہ فرسودہ جاگیردارانہ ،وڈیرانہ نظام کے خلاف ہے اوریہ سمجھتی ہے کہ پاکستان صرف وڈیروں جاگیرداروں اورسرمایہ داروں کے چندخاندانوں کاملک نہیں بلکہ 22کروڑعوام کاملک ہے۔ بھارتی شہری کلبھوشن یادیو سے اس کی اہلیہ اوروالدہ کی ملاقات کرانااچھااقدام ہے لیکن جنرل قمرجاویدباجوہ لاپتہ مہاجروں، بلوچوں، فاٹااورپاکستان کے دیگرعلاقوں سے تعلق رکھنے والے لاپتہ افرادکے اہل خانہ کوبھی ان کے پیاروں سے ملوائیں،چھوٹے صوبوں کے عوام پر ظلم بندکرائیں،سب کوان کے حقوق دیں،چھوٹے صوبوں کے عوام اوران کے رہنماؤں کو غدار قراردینے کاسلسلہ بندکرائیں اوران کے ساتھ انصاف کرائیں۔جناب الطا ف حسین نے ان خیالات کااظہارچیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کے نام اپنے ایک اہم اورتفصیلی آڈیوپیغام میں کیا۔جناب الطاف حسین نے پاکستان سمیت دنیابھرمیں مقیم مسیحی برادری کوان کے مذہبی تہوارکرسمس کی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کے 141 ویں یوم پیدائش کی بھی تمام پاکستانیوں کودلی مبارکبادپیش کی۔
اپنے آڈیوپیغام میں جناب الطاف حسین نے فیض آباددھرنے کے دوران پیش آنے والے واقعات، معاہدے،سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی نااہلی، سینیٹ کی کمیٹی کے سامنے آرمی چیف جنر ل قمرجاویدباجوہ کی بریفنگ،لاپتہ افرادکے معاملے ، ایم کیوایم کے خلاف جاری آپریشن ،بلوچستان، فاٹا کے حالات اورملک کی مجموعی صورتحال کے بارے میں کھل کراظہارخیال کیا۔ جناب الطاف حسین نے فیض آباددھرنے کاذکرکرتے ہوئے کہاکہ اس دھرنے کے شرکاء نے وزراء، میڈیااوردیگرمخالفین کوگندی گالیاں دیں، دھمکیاں دیں، بعدمیں ان کی جانب سے پولیس اہلکاروں کوشہیدوزخمی کیاگیا، سرکاری ونجی املاک پرحملے کئے ، انہیں جلایااوراپنی پرتشددکارروائیوں کے ذریعے ملک کواربوں روپے کا نقصان پہنچایالیکن آرمی چیف نے وزیراعظم شاہدخاقان عباسی سے ملاقات کرکے اس دھرنے کے شرکاء کے خلاف طاقت استعمال نہ کرنے کااعلان کیا، جس کے بعد فوج کی وساطت سے ان عناصر کے ساتھ تحریری معاہدہ ہواجس پر فوج کے ایک میجرجنرل نے بھی دستخط کئے اورپرتشددکارروائیوں کے دوران گرفتار کئے جانے والوں میں ڈی جی رینجرزپنجاب میجرجنرل
اظہرنوید نے پیسے بھی تقسیم کئے ۔ انہوں نے کہاکہ دنیابھرمیں کہیں بھی فوج اس طرح کے معاملات میں اس اندازسے ملوث نہیں ہوتی۔کسی حکومتی وزیریامسلم لیگی رہنمامیں یہ ہمت نہ ہوئی کہ اس بارے میں قوم کوحقائق سے آگاہ کرتالیکن اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس شوکت عزیزصدیقی نے اس بارے میں جرات و ہمت کے ساتھ حقائق بیان کئے اوراہم آئینی وقانونی نکات اٹھائے ۔ جناب الطاف حسین نے سینیٹ کی کمیٹی کے اجلاس میں آرمی چیف جنر ل قمرجاویدباجوہ کی شرکت کاذکرکرتے ہوئے کہاکہ اس اجلاس میں آرمی چیف نے قومی سلامتی کے معاملے پرجوتفصیلی بریفنگ دی اورسینیٹرزکے سوالات کے جوابات دیئے وہ مثبت عمل ہے، لیکن لاپتہ افرادکے معاملے پرسوال کے جواب میں آرمی چیف کا یہ کہناحیران کن ہے کہ’’ کچھ لوگ خود غائب ہوجاتے ہیں جنہیں لاپتہ قراردیدیاجاتاہے ،سرکاری ایجنسیاں ان لوگوں کوحراست میں لیتی ہیں جوملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہوں‘‘ ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ لاپتہ افرادکے بارے میںیہ جواب آرمی چیف کوان کے ماتحت افسران نے ہی بتایاہوگا، مگرحقیقت یہ ہے کہ یہ بات سفید جھوٹ ہے کہ لوگ خود ہی لاپتہ ہوجاتے ہیں۔کوئی خودسے لاپتہ نہیں ہوتا، لوگوں کوگھروں سے پولیس، رینجرز، فوج یااس کی ایجنسیوں کے افراد گھروں میں داخل ہوکراہل خانہ کے سامنے گرفتاریاں کرتے ہیں اورپھرانہیں غائب کردیتے ہیں، ان لاپتہ افرادکے اہل خانہ ہائیکورٹ میں پٹیشن دائرکرتے ہیں مگر عدالتوں میں پولیس،رینجرز، فوج اوراس کے اداروں کے اہلکاران جبری گمشدگیوں سے صاف انکارکردیتے ہیں،بعدمیں سے کچھ کی مسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں اورکچھ کامہینوں سالوں کچھ پتہ نہیں چلتا۔ایم کیوایم کے ایک کارکن آفتاب احمدکویکم مئی 2016ء کوان کے گھرسے اہل خانہ کے سامنے رینجرزنے گرفتار کیااورسرکاری حراست میں ان پردوروز تک اس قدر بہیمانہ تشددکیاگیاکہ وہ 3مئی کوشہیدہوگئے، رینجرزنے دعویٰ کیاکہ ان کی موت حرکت قلب ہونے کی وجہ سے ہوئی لیکن جب میڈیاپر ان کی تشددزدہ لاش دکھائی گئی توڈی جی رینجرزکوبھی مانناپڑا اورسابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اس کی تحقیقات کرنے اورذمہ داروں کوسزادینے کا اعلان بھی کیالیکن آج تک کسی ایک اہلکارکوبھی سزانہیں دی گئی ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ 19جون 1992ء کوایم کیوایم کے خلاف شروع ہونے والے آپریشن کے دوران کراچی اورسندھ کے دیگرشہری علاقوں سے گرفتارکئے جانے والوں میں سے سینکڑوں کاآج تک کچھ پتہ نہیں چل سکاہے۔ سابق وزیرداخلہ چوہدری شجاعت حسین نے 1998ء میں سینیٹ کے سامنے یہ بیان بھی دیاتھاکہ ایم کیوایم کے بہت سے لاپتہ افرادکواسلام آبادمیں مارنے کے بعد مارگلہ کی پہاڑیوں میں دفن کردیاگیاتھا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ 1992ء کے آپریشن میں میرے خاندان کوتباہ وبربادکردیاگیا جن کاسیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا،بینظیربھٹو کے دورحکومت میں رینجرز اور پولیس نے5دسمبر 1995ء کو میرے بڑے بھائی 71سالہ ناصرحسین اوربھتیجے 28سالہ عارف حسین کوگرفتارکیاگیا اورتین روزتک تشددکانشانہ بنانے کے بعد 9دسمبر1995ء کوگڈاپ کے علاقے میں لے جاکردونوں کوگولیاں مارکرشہید کردیاگیا۔1995ء میں ہی میرے بہنوئی محمداسلم ابراہانی کوگرفتارکرکے تشددکیاگیا، انہیں چھ ماہ تک اڈیالہ جیل میں رکھاگیا، اس تشدداوراذیتوں کے نتیجے میں رہائی کے بعد وہ بھی شہید ہوگئے۔جناب الطاف حسین نے آرمی چیف جنرل قمرباجوہ کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ یہ صرف الطاف حسین کے گھرکی داستان نہیں بلکہ ہزاروں مہاجروں کے ساتھ یہی کیاگیاہے اوریہ ظلم آج تک جاری ہے۔ انہوں نے سوال کیاکہ اگرخدانخواستہ اسی قسم کا ظلم آپ کے گھروالوں پرہوتاتوآپ کے دل پر کیاگزرتی؟جناب الطاف حسین نے کہاکہ آرمی چیف کہتے ہیں کہ لوگ خود لاپتہ ہوجاتے ہیں جبکہ میرے بھتیجے خالدحسین ولداشراق حسین کو19جولائی 2017ء کواہل محلہ کے سامنے گرفتارکیاگیا، میرے بھانجے عبدالعزیزانصاری ولدعبدالستارانصاری کو25جولائی 2017ء کوقانون نافذ کرنے والے اداروں نے اٹھایاوہ آج تک لاپتہ ہیں، رابطہ کمیٹی کے رکن مصطفےٰ عزیزآبادی کے بڑے بھائی منیرعلی کو21جولائی کواوررابطہ کمیٹی کے سابق رکن واسع جلیل کے برادرنسبتی محمدانوار الحق ولد مظہرالحق کو15 اگست 2017ء کوگھرسے حراست میں لیاگیایہ بھی آج تک لاپتہ ہیں، اسی طرح ایم کیوایم کے ڈھائی سوسے زائدکارکنان کئی مہینوں اورسالوں سے لاپتہ ہیں۔
جناب الطاف حسین نے آرمی چیف جنرل قمرباجوہ کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ نے انسانیت کے ناطے بھارتی شہری کلبھوشن یادیو کی اس کی اہلیہ اور 
والدہ سے ملاقات کرادی، اچھی بات ہے لیکن ایم کیوایم کے لاپتہ کارکنوں،لاپتہ بلوچوں اوردیگرلاپتہ افرادسے ان کے اہل خانہ کی ملاقات نہیں کروائی جارہی ہے، انہیں اپنے گمشدہ پیاروں کے بارے میں کچھ نہیں بتایاجارہاہے۔میں آ پ کواللہ اوررسول ؐ کاواسطہ دیتاہوں کہ تمام لاپتہ افرادکوبازیاب کرایا جائے ، انہیں عدالتوں میں پیش کیاجائے اورکم ازکم ان کے اہل خانہ سے انکی ملاقات کرائی جائے ، ان کے خاندان کے افرادبھی اپنے پیاروں سے ملنے کے لئے ایک عرصہ سے تڑپ رہے ہیں ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں نے ہمیشہ کشمیریوں کے لئے آواز بلند کی ہے، میں بھارت سے بھی کہتاہوں کہ کشمیریوں پر مظالم بند کئے جائیں، جس طرح پاکستان نے کلبھوشن یادیو کی اہلیہ اوروالدہ سے ملاقات کرائی ہے، بھارت بھی وسیع القلبی کامظاہرہ کرتے ہوئے لاپتہ کشمیریوں سے ان کے والدین کوبھی ملاقات کی اجازت دے اورکشمیریوں کواقوام متحدہ کی قرارداوں کے مطابق حق خودارادیت دے۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ کراچی ، سندھ کے دیگر شہری علاقوں اوربلوچستان میں پولیس ، رینجرزاوردیگرقانون نافذ کرنے والے ادارے ماورائے عدالت قتل اورغائب کرنے کی دھمکیاں دے کر گرفتار شدگان کی رہائی کے عوض ان کے اہل خانہ سے لاکھوں روپے وصول کررہے ہیں اوریہ دھندا اس وقت عروج پر ہے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ فوج کے ہیڈکوارٹرجی ایچ کیو اورمسلح افواج کے دیگر مراکزاورحساس تنصیبات پر حملے کرنے والے اور مسجدوں ، امام بارگاہوں، بزرگان دین کی درگاہوں اورپبلک مقامات پر خودکش حملے اوردھماکے کرنے والے طالبان کے خلاف پہلے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے آپریشن شروع کیا اوراس آپریشن کانام حضوراکرم ؐ کی تلوار ’’ عضب ‘‘ کے نام پر’’ضرب عضب ‘‘ رکھاگیالیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس آپریشن میں طالبان دہشت گردوں کے بجائے معصوموں اورکمزوروں کونشانہ بنایاگیا۔ اس کے بعد موجودہ آرمی چیف جنرل قمرباجوہ کے دورمیں ’’ ردالفساد ‘‘ کے نام سے آپریشن شروع کیاگیا لیکن اس آپریشن میں بھی کالعدم تنظیموں اوردھرنے کے نام پر فساداورتشددبرپاکرنے والے مذہبی شدت پسندعناصرکے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی جبکہ میری بہن اپنی والدہ کی برسی پر گھرپرقرآن خوانی کااہتمام کریں تووہاں رینجرزپہنچ جاتی ہے، ہماری مائیں بہنیں اپنے شہداکی یادگار پرفاتحہ خوانی کیلئے جائیں توانہیں گرفتارکیاجاتاہے اورتشددکانشانہ بنایاجاتاہے۔انہوں نے سوال کیاکہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو ایبٹ آبادمیں کاکول اکیڈمی کے قریب کس نے چھپا کررکھاتھا؟ بیت اللہ محسود کے جانشین احسان اللہ احسان کومہمان بناکرکہاں رکھاگیاہے؟ اسے قوم کے سامنے کیوں نہیں لایاجاتا؟ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ضرب عضب اورردالفساد کے نام پر کئے جانے والے آپریشن کے نام پر فاٹاکے لوگوں سے ان کے گھرچھین لئے گئے اورانہیں گھروں سے نکال کر کیمپوں میں منتقل کیاگیا ،وہ آئی ڈی پیز بن کرآج بھی کیمپوں میں پڑے ہوئے ہیں،دوسری طرف بلوچستان میں سی پیک کے نام پر بلوچوں کو ان کے قدیم گھروں سے بیدخل کرکے وہاں چین کے شہریوں کوبسایاجارہاہے ۔انہوں نے کہاکہ الطاف حسین نے ایم کیوایم بناکر عو ام میں ان کے حقوق کا شعوربیدارکیا، ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ غریب ومتوسط طبقہ سے قیادت نکال کرایوانوں میں بھیجی لیکن آج الطاف حسین کوملک دشمن سمجھا جاتاہے، اس کا گھرغیرقانونی طورپر سیل ہے،ایم کیوایم کے کئی دفاترکومنہدم کردیاگیا، باقی دفاترسیل ہیں اورایم کیوایم کی سیاسی وفلاحی سرگرمیوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے،آرمی چیف یہ ظلم بندکرائیں ۔جناب الطاف حسین نے آرمی چیف جنرل قمرباجوہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ کے ہاتھ میں ملک کی مسلح افواج کی چھڑی ہے،اس کوفوج کے مفادکے بجائے ملک کے مفاد میں استعمال کریں ،آپ لوگوں پر ہونے والے ظلم کو بند کراکے اورانہیں انصاف فراہم کرکے ملک کوصحیح ڈگرپر لاسکتے ہیں۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ 1947ء سے اب تک حقوق مانگنے پر بلوچوں کوغدارکہاجارہاہے، انگریزوں کے خلاف جدوجہد کرنے والے رہنما غفار خان المعروف باچہ خان اورولی خان کوغدارقراردیاگیا، قیام پاکستان کے حق میں ووٹ دینے والے سندھ کے رہنماسائیں جی ایم سیدکوغدارقراردیاگیا،الطاف حسین کوغدارقراردیاگیا، بنگالیوں نے حق مانگاتوانہیں غدارقراردیاگیالیکن پنجاب جس نے قیام پاکستان کی جدوجہدمیں قائداعظم کی مسلم لیگ کے بجائے یونینسٹ پارٹی کاساتھ دیاتھا، پنجاب کے جن رہنماؤں نے انڈیاکوسکھوں کی فہرستیں فراہم کیں، جنہوں نے بھارٹی ٹینکوں پر بیٹھ کرپاکستان میں داخل ہونے 
کی باتیں کیں ان میں سے کسی ایک کوبھی غدارقرارنہیں دیاگیااوروہ آج بھی سیاست کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ فوج نے ذوالفقارعلی بھٹوکوسپریم کورٹ کے ذریعے پھانسی دلوائی، مارشل لاء کے اس دورمیں کیا پنجاب سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں نے بیرون ملک جاکرپناہ نہیں لی، کیاوہ پناہ کے لئے انڈیانہیں گئے؟ کیا پی آئی اے کاطیارہ اغواکرنے والے پیپلزپارٹی کے کارکن نہیں تھے؟ لیکن انہیں توغدارقرارنہیں دیاگیا جب کہ حقوق کی بات کرنے والے چھوٹے صوبوں کے سارے لوگ غدارقراردیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جنرل قمرجاویدباجوہ چھوٹے صوبوں کے عوام پر ظلم بندکرائیں،سب کوان کے حقوق دیں،چھوٹے صوبوں کے عوام اوران کے رہنماؤں کو غدار قراردینے کاسلسلہ بندکرائیں اوران کے ساتھ انصاف کرائیں۔انہوں نے کہاکہ اگر آرمی چیف نے یہ ظلم بند نہیں کرایاتوملک کے حالات 1971ء سے بدترہوجائیں گے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ حقوق کامطالبہ کرنے والے بنگالیوں کو غدار قرار دیا گیا،انہیں چھوٹے قد کاکہہ کرفوج میں نہیں لیا گیا،بالآخرانہوں نے فوج کوہتھیارڈالنے پر مجبورکیا، جس مشرقی پاکستان کومعیشت پر بوجھ سمجھاجاتاتھاآج اس کی معیشت پاکستان سے بہترہے۔ انہوں نے کہاکہ جوجرنیل پاکستان توڑنے کے ذمہ دارتھے ان میں سے کسی ایک کوبھی سزانہیں دی گئی اور آج تک حمودالرحمن کمیشن رپورٹ شائع نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہاکہ آرمی چیف جنرل قمرباجوہ کہتے ہیں کہ ملک سے باہر بیٹھے لوگ ملک کے خلاف بات کرتے ہیں ، انہوں نے کہاکہ اگرآپ کے بچوں کوکوئی گھرسے اٹھاکرلے جائے ، اسے غائب کردے یا اس کی مسخ شدہ لاش ملے توکیاآپ ایساکرنے والوں کی تعریف کریں گے اوراس پر پھولوں کی بارش کریں گے؟ انہوں نے کہاکہ یہ سراسرزیادتی ہے کہ جو بھی فوج یا ایجنسیوں کے مظالم کے خلاف آوازاٹھائے تواسے ملک کے خلاف قراردے دیاجاتاہے، اس کوتشددکانشانہ بنایاجاتاہے، سینئرصحافی حامد میرنے لاپتہ افراد کامعاملہ اٹھایااورایجنسیوں کی زیادتیوں پر بات کی تو اس پر فائرنگ کی گئی، ایک اور صحافی کواغواکرکے تشددکانشانہ بنایاگیا، پنجاب سے تعلق رکھنے والے کچھ غیرمتعصب بلاگرز نے فوج اورایجنسیوں کے غلط اقدامات پر تنقید کی توانہیں اٹھاکرغائب کردیاگیا، یہ سلسلہ بند کیاجائے۔ میں پنجاب کے ان ترقی پسندبلاگرزکوسلام پیش کرتاہوں جوآج بھی جدوجہدجاری رکھے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب کے لوگوں خصوصاً نوجوانوں کافرض ہے کہ وہ پاکستان کوقائداعظم کاپاکستان بنانے کے لئے اپنی جدوجہدجاری رکھیں اور عوام میں یہ شعورپیداکرتے رہیں ۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ جنرل قمرجاویدباجوہ 1992ء سے آپریشن کے نام پر کئے جانے والے مظالم کی تحقیقات کرائیں، لاپتہ لوگوں کوبازیاب کرائیں ، مہاجروں پر ظلم بندکرائیں اورایم کیوایم کوختم کرنے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کاسلسلہ بندکرائیں۔ میں یقین دلاتاہوں کہ ایم کیوایم ملک دشمن جماعت نہیں، وہ پاکستان کے خلاف نہیں بلکہ فرسودہ جاگیردارانہ وڈیرانہ نظام کے خلاف ہے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ میرا دل بہت دکھی ہے، میرایہی کہناہے کہ فوج سب کے ساتھ انصاف کرے، اگرفوج مارشل لاء لگواسکتی ہے تووہ محروم لوگوں کو انصاف بھی دلواسکتی ہے، آج مہاجروں میں احساس محرومی بہت شدید ہے، آج سندھ سیکریٹریٹ میں کوئی مہاجرنہیں ہے،انہیں کوٹہ سسٹم کی چکی میں پیسا جارہاہے، دیگراداروں سے بھی مہاجروں کو ملازمتوں سے نکالاجارہاہے، تجاوزات کے خلاف کارروائی کے نام پر مہاجروں کے گھر، شادی ہال اور عمارتیں گرائی جارہی ہیں، ان کاسیاسی، معاشی اورتعلیمی قتل کیاجارہاہے۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ فوج کے وہ تمام باغیرت جرنیل اورنچلے افسران اورسپاہی جن کوپاکستان کی بقاء سلامتی اور استحکام سے سچاپیار ہے ، ان کو حرکت میں آناہوگا اورپاکستان کوبچانا ہوگا اورمہاجروں اورتمام محروم قوموں کے ساتھ انصاف کرناہوگا۔

*****

9/23/2018 11:58:43 AM