Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

آرمی چیف جنرل قمرباجوہ عدالتوں اورجمہوری حکومتوں کے معاملات میں فوج اورآئی ایس آئی کی مداخلت بند کرائیں۔الطاف حسین


آرمی چیف جنرل قمرباجوہ عدالتوں اورجمہوری حکومتوں کے معاملات میں فوج اورآئی ایس آئی کی مداخلت بند کرائیں۔الطاف حسین
 Posted on: 12/20/2017
آرمی چیف جنرل قمرباجوہ عدالتوں اورجمہوری حکومتوں کے معاملات میں فوج اورآئی ایس آئی
کی مداخلت بند کرائیں۔الطاف حسین
نچلی عدالتوں سے لیکرسپریم کورٹ تک ،تمام فیصلے خفیہ ہاتھوں کے تیار کردہ ہوتے ہیں۔الطاف حسین
چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمرباجوہ کے نام ایم کیوایم کے قائدالطا ف حسین کے چنداہم سوالات
یہ سوالات میرے نہیں بلکہ قوم کے ہرباشعور، باضمیر شخص کے سوالات ہیں۔الطاف حسین

متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمرباجوہ سے کہاہے کہ وہ عدالتوں اورجمہوری حکومتوں کے معاملات میں فوج اورآئی ایس آئی کی مداخلت بند کرائیں۔انہوں نے یہ بات اپنے آڈیوپیغام میں کہی۔ اپنے اس آڈیو پیغام میں جناب الطاف حسین نے آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ سے اہم سوالات کئے۔ جناب الطاف حسین نے آرمی چیف سے جو سوالات کئے وہ یہ ہیں۔
(1) طالبان کاسربراہ بیت اللہ محسود کاجانشین احسان اللہ احسان جسے فوج اورآئی ایس آئی نے گرفتارکیاتھا،جس کو ٹی وی پر ہیروبناکرپیش کیاگیاتھا وہ آج کل کہاں ہے؟
(2) سینکڑوں معصوم افرادکادرندہ صفت قاتل لیاری گینگ وارکا عزیربلوچ کہاں ہے؟
(3) پشاورمیں آرمی پبلک اسکول میں معصوم طلبہ وطالبات اوراساتذہ کوقتل کرنے والے دہشت گرد کہاں ہیں؟
(4) خان عبدالولی خان یونیورسٹی کاہونہارطالبعلم مشال خان کے قاتل کہاں ہیں؟
(5) قوم کی بیٹی عائشہ گلالئی اورڈیرہ اسماعیل خان کی 16سال کی بیٹی جسے پکڑکرپی ٹی آئی کے رہنماؤں نے اپنی سرپرستی میں برہنہ کرکے علاقے میں گھمایااورانتہائی نازیباسلوک کیااورجن پولیس والوں نے اس ظلم میں ساتھ دیاوہ مجرمان کہاں ہیں؟
(6) انتہائی اہم اورحساس سول اورفوجی مقامات مثلاًفوج کے ہیڈکوارٹر جی ایچ کیو، نیول بیس مہران، کامرہ ایئر بیس، آئی ایس آئی کے دفاتر،پی آئی اے ،بڈابیرایئربیس، پولیس ہیڈکوارٹرز اورایسے دیگرحساس مقامات پر حملے کرنے والے دہشت گردکہاں ہیں؟
(7) ملک کے مختلف شہروں میں متعدد مساجد،امام بارگاہوں،بزرگان دین کے مزارات،احمدیوں کی عبادت گاہوں، گرجاگھروں،مندروں اوردیگر اقلیتوں کی عبادت گاہوں پرحملے کرنے والے اورمعصوم شہریوں کاقتل عام کرنے والے دہشت گردکہاں ہیں؟
(8) اہل تشیع افرادکوشناخت کرکرکے ان کاسفاکانہ قتل کرنے والے دہشت گرد کہاں ہیں؟
(9) بلوچستان میں ہزارہ کمیونٹی کی نسل کشی کرنے والے دہشت گرد کہاں ہیں؟
(10) بلوچوں کوپکڑ پکڑ کرانہیں سفاکی سے قتل کرکے ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکنے والے اورانہیں گرفتارکرکے لاپتہ کرنے والے کہاں ہیں؟غائب کئے جانے والے لاپتہ بلوچ کہاں ہیں؟انہیں بازیاب کراکے ان کے ماں باپ تک کیوں نہیں پہنچایاگیا؟
(11) 19جون 1992ء سے فوج نے مہاجروں کے خلاف براہ راست آپریشن کیا، اس کے بعد سے یہ آپریشن بالواسطہ یابلاواسطہ جاری رہا۔خصوصاً 2013ء کے بعدنیشنل ایکشن پلان کے تحت جوآپریشن ضرب عضب اور ردالفسادشروع کیاگیااس دوران جومہاجرماورائے عدالت قتل کئے گئے ، فوج ، رینجرزاوردیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھوں جوبے گناہ مہاجرگرفتار کرکے جبراً لاپتہ کئے گئے ، اسیرکئے گئے ، ان کے قاتل اورانہیں ریاستی مظالم کانشانہ بنانے والے کہاں ہیں؟
(12) جبراً لاپتہ کئے گئے افرادکے اہل خانہ کوآج تک کیوں نہیں بتایاگیاکہ وہ کہاں ہیں اورانہیں کہاں رکھاگیاہے؟انہیں آج تک کسی عدالت میں پیش کیوں نہیں کیاگیا؟
(13) لاپتہ کئے گئے ایم کیوایم کے رہنماؤں اورکارکنوں کے اہل خانہ نے سندھ ہائیکورٹ میں لاپتہ افرادکی بازیابی کے لئے باربار پٹیشنز دائر کیں، انہیں انصاف کیوں نہ مل سکا؟ ہائیکورٹ کے ججزکہتے ہیں کہ ہم مجبورہیں، ہم فوج اورآئی ایس آئی کے مقامی حکام کے احکامات کے پابند ہیں،ہم ان کی مرضی کے خلاف فیصلہ نہیں دے سکتے۔جیساچیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثارنے دوروز قبل ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جھوٹی قسم کھائی کہ ان پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے کہ دباؤ بندوق کانہ ہو لیکن بغیربندوق لائے آپ نے فیصلے وہ سنائے جوخفیہ ہاتھوں نے آپ کواسکرپٹ لکھ کردیے ۔ دو چورآپ کے سامنے لائے گئے ،دونوں نے ایک ایک سو روپے کی چوری کی ، ایک کوآپ نے معاف کردیا، باعزت کردیااورایک کوآپ نے عمرقید کی سزا دے ڈالی۔یہ کونساانصاف ہے؟
یہ سوالات میرے نہیں بلکہ قوم کے ہرباشعور، باضمیر شخص کے سوالات ہیں، آج آئی ٹی کی صدی ہے ،اسکولوں کا بچہ بچہ اسمارٹ کے ذریعے تمام معلومات رکھتاہے اورآج سینئراورجونیئروکلا ہی نہیں بلکہ عام طلبہ وطالبات بھی یہ کہتے ہیں کہ نچلی عدالتوں سے لیکرسپریم کورٹ تک ،تمام فیصلے خفیہ ہاتھوں کے تیار کردہ ہوتے ہیں اوروہیں سے تیارکرکے عدالتوں میں بھیجے جاتے ہیں۔
(14) جنرل قمرباجوہ نے بحیثیت چیف آف آرمی اسٹاف نے وزیراعظم شاہدخاقان عباسی سے ملاقات کرکے دھرنے کوختم کرانے کیلئے فوج کواس میں شامل کیا، فوج کے ایک میجرجنرل نے دھرنادینے والے افرادسے معاہدے میں کس حیثیت سے ضامن کے طورپر دستخط کئے ، وہ افراد جنہوں نے سرکاری ونجی املاک کو نقصان پہنچایا ، ان کے خلاف فوج اورآئی ایس آئی نے اب تک کوئی کارروائی کیوں نہیں کی؟ دھرنے کے اختتام پرڈی جی رینجرزپنجاب نے کس کے کہنے پر دھرنادینے والے افرادمیں پیسے تقسیم کئے ؟ ان کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟
(15) آپ سے سات کروڑ مہاجرعوام جن کے بیٹے، والد،بھائی ایم کیوایم کے ذمہ داروں اورکارکنوں کے نہ ملنے پر گرفتارکئے گئے ۔ ایم کیوایم کے بے شمار ذمہ داروں اورکارکنوں کے نہ ملنے پر ان کے بھائیوں اوردیگررشتہ داروں کوگرفتارکیاگیا۔ میرے سگے بھتیجے اور بھانجے ،جنہیں اہل محلہ کے سامنے گھرسے گرفتار کیا گیا ،انہیں غائب کئے چھ ماہ سے زائد ہوچکے ہیں، ان کی پٹیشنز بھی عدالت میں دائر ہیں ،وہ آج تک واپس نہیں آئے ۔ اسی طرح رابطہ کمیٹی کے کنوینرندیم نصرت کے بہنوئی کوچھ مہینے قبل غائب کیاگیا، ان کاکچھ پتہ نہیں چل سکا، اسی طرح رابطہ کمیٹی کے سابق رکن واسع جلیل کے سالہ کوگھر سے اٹھایا گیا ،چھ مہینے سے ان کاکچھ پتہ نہیں ہے، اسی طرح رابطہ کمیٹی کے رکن اورشعبہ اطلاعات کے انچارج سیدمصطفےٰ عزیزآبادی کے بڑے بھائی کو اغوا کیا گیا لیکن چھ ماہ گزر جانے کے باوجود آج تک کچھ پتہ نہیں چکا،ہائیکورٹ ان کے بارے میں کچھ بتانے میں ناکام ہیں۔سندھ ہائیکورٹ ہو، لاہور ہائیکورٹ ہو 
، بلوچستان ہائیکورٹ یاپشاورہائیکورٹ، جج صاحبان لاپتہ افرادکے اہل خانہ کو اکیلے میں بلاکرکہتے ہیں کہ ہم مجبورہیں، ہم پر دباؤہے، نہ ہم مظلوموں کو انصاف فراہم کرسکتے ہیں اورنہ حقیقت بیان کرسکتے ہیں لیکن سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جھوٹ کہتے ہیں کہ ان پر کوئی دباؤ نہیں ہے ۔ روز محشر اللہ تعالیٰ کے سامنے الطاف حسین کوہی جواب نہیں دیناہے بلکہ چیف جسٹس اور سپریم کورٹ تمام ہائیکورٹس کے ججوں کوبھی اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دینا ہے ۔اسی طرح آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ، تمام کورکمانڈروں،تمام جرنیلوں اورمسلح افواج کے تمام سربراہوناوراعلیٰ افسران کوبھی اللہ تعالیٰ کے آگے جواب دیناہے۔
ہماراملک پہلے ہی دولخت ہوچکاہے ، اگراب بھی ہم نے اپنی اصلاح نہیں کی اورمعاملات کودرست نہیں کیاتواس سے ملک کونقصان پہنچے گااوراس کا سارا عذاب تمام سول اورعسکری قیادت اور ان کی ترجمانی کرنے والے اینکرزاورتجزیہ نگاروں اورعدلیہ کے ججوں پر بھی آئے گا۔انہوں نے سوال کیاکہ جنرل قمر باجوہ لاپتہ افرادکی بازیابی کیلئے سپریم کورٹ ، سندھ ہائیکورٹ اوردیگرہائیکورٹ کے ججوں سے کب بات کریں گے۔ 
(16) جیلوں میں ایم کیوایم کے اسیرکارکنوں کواذیتیں کیوں دی جارہی ہیں اورجب اس سلسلے میں جیل انتظامیہ سے بات کی جاتی ہے تووہ صاف کہتے ہیں کہ ہمیں آئی ایس آئی کے حکام کی جانب سے ایساکرنے کیلئے کہاگیاہے، آخریہ سلسلہ بند کیوں نہیں کیاجاتا؟جنرل قمرباجوہ چاہیں توان باتوں کی تصدیق کے لئے خودجیلوں کادورہ کرکے ایم کیوایم کے اسیرکارکنوں، بلوچ اسیروں اوردیگراسیروں سے خود مل کرمعلوم کرلیں۔ 
جنرل قمر باجوہ اس وقت عہدے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے طاقتورشخص ہیں ، اللہ تعالیٰ نے جنرل قمر باجوہ کوآرمی چیف بنایاہے، انہیں چاہیے کہ وہ فوج اورایجنسیوں کوصحیح کردیں، عدالتوں اورسیاسی معاملات میں ان کی مداخلت بندکرادیں ، پاکستان ٹھیک ہوجائے گا، پاکستان بچ جائے گا اورملک میں انصاف کانظام قائم ہوجائے گا، پاکستان مضبوط ومستحکم ہوجائے گالیکن آپ کوایکشن لینا ہوگا۔ اس کیلئے آپ فوج کے ایماندارکورکمانڈر، جرنیلوں اورآئی ایس آئی کے اچھے افسروں کواپنے ساتھ ملائیے اورملک کوٹھیک کیجئے اورقوم کوکھل کربتائیے ۔ یہ سوالات پورے ملک کے عوام کو پریشان کررہے ہیں، وہ شدید ذہنی الجھنوں میں مبتلاہوتے جارہے ہیں، آرمی چیف کوچاہیے کہ وہ قوم کی اس الجھن اورپریشانی کودورکریں۔

*****

1/16/2018 1:54:50 AM